میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
یلو لائن بی آر ٹی، 32؍ارب کے ٹھیکے ٹیکنیکل منظوری کے بغیر ٹھکانے

یلو لائن بی آر ٹی، 32؍ارب کے ٹھیکے ٹیکنیکل منظوری کے بغیر ٹھکانے

جرات ڈیسک
پیر, ۲ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایس ایم کے کنسٹرکشن ،چائنا سول انجینئرنگ کنسٹرکشن ، ظاہر خان اینڈبرادرز پر نوازشیں

پراجیکٹ آفس کوئی منظور شدہ تفصیلی تخمینہ یا ٹیکنیکل منظوری پیش نہ کر سکا، آڈٹ حکام

 

(رپورٹ:اسد آرائیں) کراچی موبلٹی پراجیکٹ کے تحت جاری یلو لائن بی آر ٹی کوریڈور منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں، انتظامی نااہلی اور سرکاری قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25کے دوران 32 ؍ ارب 14کروڑ روپے سے زائد مالیت کے سول ورکس کے ٹھیکے لازمی تفصیلی تخمینوں اور مجاز اتھارٹی کی پیشگی ٹیکنیکل منظوری کے بغیر الاٹ کیے گئے اور ان پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا گیا۔

آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ منصوبے کے ذمہ دار حکام نے پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹل مینول اور سی پی ڈبلیو ڈی کوڈ میں درج لازمی طریقہ کار کو نظرانداز کرتے ہوئے اربوں روپے کے ترقیاتی کاموں کے ٹھیکے دیے۔

قواعد کے مطابق کسی بھی تعمیراتی کام کا آغاز تفصیلی ڈیزائن، تخمینے کی تیاری، مجاز اتھارٹی کی منظوری، فنڈز کی دستیابی اور ٹیکنیکل سینکشن کے حصول کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔

آڈٹ حکام کی جانب سے بار بار مطالبہ کیے جانے کے باوجود پراجیکٹ آفس کوئی منظور شدہ تفصیلی تخمینہ یا ٹیکنیکل سینکشن پیش نہ کر سکا۔

مزید برآں، انجینئرنگ اسٹاف نے انکشاف کیا کہ متعلقہ کاموں کے تخمینے تیار ہی نہیں کیے گئے تھے بلکہ براہِ راست ڈرائنگز کی بنیاد پر بلز آف کوانٹٹیز مرتب کر لیے گئے تھے۔ یہ انکشاف منصوبے میں مالیاتی نظم و ضبط، انجینئرنگ نگرانی، شفافیت اور سرکاری وسائل کے استعمال کے حوالے سے کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے۔

آڈٹ کے مطابق اس طرزِ عمل سے تعمیراتی لاگت کی قانونی و تکنیکی حیثیت، مالیاتی کنٹرول اور منصوبے کی مجموعی گورننس متاثر ہوئی ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ کی عدم دستیابی نے آڈٹ کے عمل کو بھی متاثر کیا۔

آڈٹ رپورٹ میں تین کمپنیوں کو دیے گئے ٹھیکوں کی تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے مطابق ایس ایم کے کنسٹرکشن کمپنی اور میرک انجینئرنگ (جوائنٹ وینچر)کو ڈپو ون کے لیے 2 ارب 64 کروڑ 46 لاکھ روپے سے زائد کا ٹھیکہ دیا گیا۔

چائنا سول انجینئرنگ کنسٹرکشن کمپنی (CCECC)کو ڈپو ٹو کے لیے 16؍ارب 96کروڑ 37لاکھ روپے سے زائد کا ٹھیکہ دیا گیا، جبکہ ظاہر خان اینڈ برادرز کو جام صادق پل پیکیج فور کے لیے 12؍ارب 53کروڑ 16لاکھ روپے سے زائد کا ٹھیکہ دیا گیا۔

ان تینوں ٹھیکوں کی مجموعی مالیت 32 ارب 14 کروڑ روپے سے زائد بنتی ہے۔آڈٹ حکام نے قرار دیا ہے کہ لازمی تکنیکی اور مالیاتی تقاضوں پر عمل نہ کرنے کے باعث اربوں روپے کے سول ورکس کے ٹھیکے غیر مجاز اور ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کے تحت دیے گئے۔

رپورٹ میں اس صورت حال کو منصوبے کی گورننس، لاگت پر کنٹرول اور مالیاتی شفافیت کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس معاملے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب متعلقہ کاموں کے باقاعدہ تخمینے اور ٹیکنیکل سینکشن ہی موجود نہیں تھے تو اربوں روپے کے ٹھیکوں کی منظوری کس بنیاد پر دی گئی؟

اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ بغیر منظور شدہ تخمینوں کے تعمیراتی کاموں کی مقدار، معیار اور اصل لاگت کی جانچ کس طریقہ کار کے تحت کی گئی؟ آڈٹ حکام نے اس معاملے پر انتظامیہ کا نظرثانی شدہ پی سی ون (PC-I) مجاز فورم سے منظور ہونے کا جواب مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پی سی ون کی منظوری، ہر تعمیراتی کام کے تفصیلی تخمینے اور ٹیکنیکل سینکشن کی قانونی شرط کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے سفارش کی ہے کہ ٹیکنیکل سینکشن کے بغیر ٹھیکے دینے اور ان پر عمل درآمد کرنے کے عمل کا مستند دستاویزی شواہد کے ساتھ جواز پیش کیا جائے، بصورت دیگر قواعد کی خلاف ورزی کرنے اور لازمی سرکاری ریکارڈ آڈٹ کو فراہم نہ کرنے کے ذمہ دار افسران کا تعین کرکے ان کے خلاف محکمانہ اور تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ معاملہ اب کئی اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ کراچی کے ایک بڑے شہری ترقیاتی منصوبے میں اربوں روپے کے ٹھیکے لازمی قانونی و تکنیکی منظوریوں کے بغیر کیسے دیے گئے؟ کیا اس تمام عمل میں صرف انتظامی غفلت اور نااہلی کارفرما تھی یا اس کے پیچھے مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور کرپشن کے امکانات بھی موجود ہیں؟

ان سوالات کا جواب شفاف تحقیقات، مکمل ریکارڈ کی جانچ اور ذمہ داران کے تعین سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں