میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سب سے بڑا خسارہ

سب سے بڑا خسارہ

جرات ڈیسک
پیر, ۲ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پیسہ کبھی محنت سے نہیں، چالاکی سے آتا ہے ۔ یہ دنیا بھولے لوگوں کی دشمن ہے ۔ بھولے آدمی سے سب کام کروائے جاتے ہیں، اس کے کندھوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ رکھا جاتا ہے ، اس کے خوابوں کو محنت کی تلقین کی جاتی ہے ، مگرفائدہ کوئی اوراٹھاتا ہے ۔ سماج نے سادہ لوح لوگوں کو ایک ہی کہانی سنائی ہے ، محنت کرو، ایمانداری سے کام کرو، ایک دن تمہیں اس کا پھل ضرور ملے گا۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ پھل کسے ملا؟ تمہیں؟ نہیں! پھل ہمیشہ اسے ملا جو تمہاری محنت کا حساب بھی خود لکھتا رہا۔

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو کام کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو کام کرواتے ہیں۔ ایک صبح سویرے اٹھ کر روزی کی تلاش میں نکلتا ہے ، دھوپ میں جلتا ہے ، سردی میں ٹھٹھرتا ہے ، اپنے بچوں کی خواہشیں مار کر گھر کا چولہا جلاتا ہے ۔ دوسرا اسی کی محنت سے اپنا کاروبار بڑھاتا ہے ، نئی گاڑی خریدتا ہے ، بنگلے بناتا ہے اور پھر اسے کامیابی کا نام دیتا ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں کو معاشرہ کامیاب کہتا ہے ، مگر کسی نے کبھی یہ نہیں پوچھا کہ کامیابی کی اس عمارت میں اینٹیں کس نے اٹھائی تھیں؟ سادہ لوح انسان کی سب سے بڑی کمزوری اس کی نیک نیتی ہوتی ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ اگر میں اپنا کام ایمانداری سے کروں گا تو دوسرا بھی میرے ساتھ ایمانداری کرے گا۔ وہ وعدے پر اعتبار کرتا ہے ، تعلق نبھاتا ہے ، کسی کی مشکل میں کام آتا ہے اور بدلے میں بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ کوئی اس کے ساتھ برا نہیں کرے گا۔ مگر دنیا کا بازار توقعات پر نہیں، مفادات پر چلتا ہے ۔

ایمانداری یقینا ناکامی نہیں، لیکن بے وقوفی کو ایمانداری سمجھ لینا ضرور ناکامی ہے ۔ دنیا میں اچھا انسان ہونا کوئی جرم نہیں، مگر ہر شخص کو اچھا سمجھ لینا بہت بڑی غلطی ہے ۔ سادہ لوح آدمی اکثر اسی غلط فہمی میں زندگی گزار دیتا ہے ۔ وہ کسی کے وعدے کو معاہدہ سمجھتا ہے ، کسی کی مسکراہٹ کو خلوص اور کسی کی تعریف کو محبت۔ اسے دیر سے معلوم ہوتا ہے کہ جس شخص کو وہ اپنا خیرخواہ سمجھ رہا تھا، وہ دراصل اس کی سادگی سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔آپ کسی دفتر میں چلے جائیں، کسی دکان پر بیٹھ جائیں، کسی کاروباری مرکز میں جھانک لیں، کہانی زیادہ مختلف نہیں ملے گی۔ ایک ملازم برسوں اپنی وفاداری ثابت کرتا رہتا ہے ، مگر ترقی کا وقت آتا ہے تو کوئی دوسرا آگے نکل جاتا ہے ۔ یہی کہانی سیاست میں بھی ہے ۔ کارکن نعرے لگاتا ہے ، جلسوں میں دھکے کھاتا ہے ، گرفتاریاں برداشت کرتا ہے ، لیکن جب اقتدار کی میز پر کرسیاں لگتی ہیں تو وہاں کارکن نہیں، مفادات کے ماہر بیٹھے ہوتے ہیں۔رشتوں میں بھی سادہ دلی کبھی کبھی انسان کو بہت مہنگی پڑتی ہے ۔ کوئی شخص پوری زندگی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا رہتا ہے ، مگر جب خود اسے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے تو اسے مصروفیات کے بہانے سننے کو ملتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دنیا میں چالاک لوگ موجود ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے سادگی کو ایسی خوبی بنا کر پیش کیا ہے جس میں عقل، شعور اور اپنے حق کیلئے کھڑے ہونے کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔ بچوں کو فرمانبرداری سکھائی جاتی ہے ، سوال کرنا نہیں۔ ملازم کو وفاداری سکھائی جاتی ہے ، اپنا حق مانگنا نہیں۔ شہری کو قربانی کا درس دیا جاتا ہے ، اپنے حصے کا حساب مانگنا نہیں۔ یوں نسل در نسل ایک ایسا انسان تیار ہوتا رہتا ہے جو کام تو سب کیلئے کرتا ہے ، مگر اپنے لیے کچھ مانگتے ہوئے بھی شرماتا ہے ۔لیکن اس کہانی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے ۔ ہر چالاک آدمی کامیاب نہیں ہوتا اور ہر سادہ لوح انسان ناکام نہیں رہتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کامیاب انسان اپنی اچھائی کے ساتھ اپنی حفاظت کرنا بھی جانتا ہے ۔ وہ کسی کا حق نہیں مارتا، مگر اپنا حق بھی نہیں چھوڑتا۔ دنیا میں صرف اچھا ہونا کافی نہیں، اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافی کو پہچاننا بھی ضروری ہے ۔

دنیا میں دولت مند ہونا کامیابی ہوسکتی ہے ، مگر کسی کی محنت پر دولت مند ہونا کامیابی نہیں، استحصال ہے ۔ ذہین ہونا خوبی ہے ، مگر اپنی ذہانت سے دوسروں کو بے وقوف بنانا کوئی کمال نہیں۔ اصل کامیابی وہ ہے جس میں آپ آگے بڑھیں تو کسی دوسرے کے حصے کی روشنی نہ بجھے ۔ سو ہمیں اپنی نسلوں کو صرف محنت کرنا نہیں، محنت کی قدر کروانا بھی سکھانا ہوگا۔ صرف ایماندار بننا نہیں، دوسروں کی بے ایمانی پہچاننا بھی سکھانا ہوگا۔ کیونکہ زندگی کوئی ایسا امتحان نہیں جس میں آپ صرف اچھے نمبر لے کر کامیاب ہوجائیں، یہاں بعض اوقات اپنے حقوق کا شعور بھی ضروری ہوتا ہے ۔آخرمیں بات پھر وہیں آتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی۔ پیسہ کبھی محنت سے نہیں، چالاکی سے آتا ہے ، یہ دنیا بھولے لوگوں کی دشمن ہے ۔ بھولے آدمی سے سب کام کروائے جاتے ہیں، فائدہ کوئی اور اٹھاتا ہے ۔ سماج اسے محنت، ایمانداری اور صبر کا سبق دیتا رہتا ہے ، مگر اس کے حصے کا پھل کوئی اور لے جاتا ہے ۔دنیا میں سب سے بڑا خسارہ غریب ہونا نہیں، اپنی محنت سے دوسروں کو امیر بناتے رہنا ہے اور اسے اپنی نیکی سمجھتے رہنا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں