گھر واپسی مہم، آر ایس ایس کا نظریہ اور مذہبی اقلیتیں
شیئر کریں
بھارت میں مذہب، سیاست اور قومی شناخت کا باہمی تعلق ایک عرصے سے بحث کا موضوع ہے ۔ بالخصوص ہندو قوم پرستی اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے نظریاتی اثر و رسوخ نے مذہبی اقلیتوں کے مستقبل، مذہبی آزادی اور سیکولر ریاست کے تصور سے متعلق کئی سوالات پیدا کیے ہیں۔ اسی تناظر میں ‘‘گھر واپسی’’ کی مہم ایک اہم اور متنازع موضوع ہے ۔ اس کے حامی اسے آباؤ اجداد کے مذہب کی طرف واپسی قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ مذہبی تبدیلی کو مخصوص نظریاتی اور سیاسی مفہوم دینے کی کوشش ہے ۔اس مہم کے تحت ایسے مسلمانوں اور عیسائیوں کو دوبارہ ہندو مذہب اختیار کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے جن کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد ماضی میں ہندو تھے اور انہوں نے کسی دور میں مذہب تبدیل کیا تھا۔ آر ایس ایس اور اس سے وابستہ تنظیمیں اسے تبدیلی مذہب کے بجائے آبائی مذہب میں واپسی قرار دیتی ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کسی شخص کے کئی نسل پہلے کے آباؤ اجداد کا مذہب اس کی موجودہ مذہبی شناخت کا فیصلہ کیسے کرسکتا ہے ؟
آر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ) کا قیام 27 ستمبر 1925ء کو بھارتی شہر ناگپور میں ڈاکٹر کیشو بلی رام ہیڈگیوارنے عمل میں لایا تھا۔ تنظیم کے نام ’’راشٹریہ سویم سیوک سنگھ‘‘ کا باضابطہ انتخاب 17 اپریل 1926ء کو عمل میں آیا۔ اس کا بنیادی مقصد ہندو معاشرے کو منظم کرنا اور ہندو شناخت کو مضبوط بنانا تھا۔ وقت کے ساتھ تنظیم نے سماجی، تعلیمی، ثقافتی اور سیاسی میدانوں میں اثر و رسوخ بڑھایا۔ اس کے نظریاتی پس منظر میں ہندوتوا کا تصور بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ ونائک دامودر ساورکر نے 1923ء میں اپنی تحریر ‘‘ہندوتوا:کون ہندو ہے ’’؟ کے ذریعے اس تصور کو نظریاتی شکل دی۔ ہندوتوا محض مذہبی عقیدے کا نام نہیں بلکہ ہندوستان کی قومی شناخت کو ہندو تہذیبی ورثے کے گرد مرتب کرنے کا سیاسی اور ثقافتی نظریہ بھی ہے ۔ ناقدین کے مطابق اس تصور میں غیر ہندو مذہبی شناختوں کے مساوی قومی مقام کا سوال پیدا ہوتا ہے ۔
آر ایس ایس کے نظریاتی دائرے میں متعدد تنظیمیں کام کرتی ہیں جنہیں مجموعی طور پر سنگھ پریوار کہا جاتا ہے ۔ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور بجرنگ دل بھی اس نیٹ ورک سے وابستہ ہیں۔ گھر واپسی کی تقریبات میں وشو ہندو پریشد کا کردار نمایاں رہا ہے ۔ اس مہم کی جڑیں انیسویں صدی کی مذہبی تحریکوں سے بھی ملتی ہیں۔ آریہ سماج نے شدھی تحریک کے ذریعے ان افراد کو دوبارہ ہندو مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی جنہوں نے اسلام یا عیسائیت اختیار کرلی تھی۔ بعد کے ادوار میں ایسی سرگرمیاں مختلف شکلوں میں جاری رہیں۔گھر واپسی کی مہم کو 2014ء میں زیادہ قومی اور بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی، جب نریندر مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔
اسی سال دسمبر میں اتر پردیش کے شہر آگرہ میں مسلمانوں کی متعدد خاندانوں کو ہندو مذہب میں واپس لانے کی تقریب پر تنازع پیدا ہوا۔
اس واقعے پر بھارتی پارلیمنٹ میں بھی بحث اور احتجاج ہوا۔ تقریب کے منتظمین نے اسے آبائی مذہب میں واپسی قرار دیا، جبکہ متاثرہ خاندانوں کی جانب سے مبینہ لالچ اور دباؤ کے الزامات بھی سامنے آئے ۔ اس واقعے نے مذہبی آزادی اور رضاکارانہ تبدیلی مذہب کے حوالے سے ملک گیر بحث چھیڑ دی۔آر ایس ایس کے جنرل سیکریٹری دتاتریہ ہوسابالے نے 19 نومبر 2025ء کو اڑیسہ کے دورے کے دوران گھر واپسی کو تبدیلی مذہب کے بجائے اصلاحی عمل قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل رضاکارانہ ہونا چاہیے ۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ
واپس ہندو مذہب اختیار کرنے والوں کو بعض اوقات اپنی ہی برادریوں میں قبولیت اور مندروں میں داخلے جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ مذہبی شناخت کی تبدیلی محض ایک تقریب نہیں بلکہ اس کے گہرے سماجی اثرات بھی ہوتے ہیں۔یہاں مذہبی آزادی کا بنیادی سوال سامنے آتا ہے ۔ اگر کسی مسلمان یا عیسائی کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے تو ہندو مذہب اختیار کرنے والے شخص کے فیصلے کو بھی اسی اصول کے تحت دیکھا جانا چاہیے ۔ مذہبی آزادی کسی ایک برادری کے لیے مخصوص نہیں ہوسکتی۔ کسی شخص کے عقیدے کا تعلق اس کے ضمیر اور ذاتی انتخاب سے ہے ۔ مذہب کی تبدیلی یا واپسی کا فیصلہ دباؤ، دھمکی، لالچ اور خوف سے آزاد ہونا ضروری ہے ۔
بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ گھر واپسی کی مہم کے ساتھ بعض اوقات مذہبی شناخت اور قومی وفاداری کو جوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ مسلمانوں اور عیسائیوں کے بارے میں یہ تصور پیش کرنا کہ ان کے آباؤ اجداد کبھی ہندو تھے اور اس بنیاد پر ان کی موجودہ مذہبی شناخت کو عارضی قرار دینا معاشرتی مسائل پیدا کرتا ہے ۔ کسی شخص کے آباؤ اجداد کا مذہب کچھ بھی رہا ہو، اس کی موجودہ شناخت اور آئینی حقوق کا احترام ضروری ہے ۔ مذہبی اختلاف کو قومی وفاداری کا پیمانہ بنانا معاشرتی تقسیم کو گہرا کرسکتا ہے ۔
بھارتی آئین کا آرٹیکل 25ہر شخص کو آزادئ ضمیر اور اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے ، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے ، تاہم یہ حقوق امنِ عامہ، اخلاقیات اور صحتِ عامہ کی آئینی پابندیوں کے تابع ہیں۔بھارت ایک سیکولر جمہوری ریاست ہے ، جہاں تمام مذاہب کے ماننے والوں کے حقوق کا تحفظ ریاستی ذمہ داری ہے ۔ اگر مذہبی آزادی صرف اکثریتی مذہب کے پیروکاروں تک محدود ہوجائے تو سیکولر ریاست کا بنیادی تصور کمزور پڑ جاتا ہے ۔اس معاملے کا ایک اہم پہلو بھارت کی مختلف ریاستوں میں نافذ جبری تبدیلی مذہب روکنے کے قوانین ہیں۔ ان کے تحت طاقت، دھوکے یا لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کو جرم قرار دیا گیا ہے ۔ ان کا مقصد افراد کو زبردستی مذہب تبدیل کرانے سے تحفظ دینا ہے ، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقلیتوں کے نمائندوں نے ان قوانین کے بعض پہلوؤں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق مبہم تشریحات اور انتظامی طریقہ کار بعض اوقات عیسائی مبلغین، مذہبی اجتماعات اور بین المذاہب شادیوں کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔
امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے اکتوبر 2024ء کی بھارت سے متعلق رپورٹ میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، ہجوم کے حملوں، مذہبی رہنماؤں کی گرفتاریوں اور عبادت گاہوں و گھروں کی مسماری پر تشویش ظاہر کی۔ ہیومن رائٹس واچ کی 2025ء کی عالمی رپورٹ میں بھی عیسائی برادریوں کے خلاف حملوں اور مذہب کی تبدیلی کے الزامات کے تحت ہراساں کیے جانے کے واقعات کا ذکر کیا گیا۔ یہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ مذہبی آزادی کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانتوں کے ساتھ قانون کی غیر جانب دار عمل داری بھی ضروری ہے ۔
گھر واپسی کی مہم کا ایک اہم سوال ہندو معاشرے میں ذات پات کے نظام سے بھی جڑا ہے ۔ ذات پات کی تقسیم، دلتوں اور قبائلی برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور سماجی ناہمواری طویل عرصے سے اہم مسائل رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اگر ہندو قوم پرستی کا مقصد تمام ہندوؤں کو ایک شناخت کے تحت متحد کرنا ہے تو پہلے ذات پات کی تفریق اور سماجی ناانصافی کا خاتمہ ضروری ہے ۔ دلت اور قبائلی برادریوں کے بعض افراد نے تاریخی طور پر امتیازی سلوک سے نجات اور مساوی حیثیت کے حصول کے لیے دوسرے مذاہب اختیار کیے ۔
ایسے حالات میں ان کی مذہبی واپسی کی مہم کے بجائے ان بنیادی مسائل کا حل زیادہ اہم ہے جنہوں نے انہیں مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا تھا۔بھارت ایک کثیرالمذہبی، کثیراللسانی اور کثیرالثقافتی معاشرہ ہے ۔ یہاں مسلمان، عیسائی، سکھ، بدھ مت کے پیروکار اور جین سمیت مختلف مذہبی برادریاں آباد ہیں۔ ان کی زبانیں، تہذیبیں، عبادت گاہیں اور تاریخی ورثہ بھارتی معاشرت کا حصہ ہیں۔ کسی ایک مذہبی شناخت کو قومی شناخت کا واحد معیار بنانے سے اس تنوع کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ جمہوریت کی مضبوطی اسی میں ہے کہ اکثریت کے ساتھ اقلیتوں کو بھی اپنی مذہبی شناخت، عبادت اور ثقافت کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہو۔
آر ایس ایس اپنے آپ کو سماجی اور ثقافتی تنظیم قرار دیتی ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ گھر واپسی رضاکارانہ عمل ہے ۔ اصولی طور پر کسی بھی شخص کو اپنی مرضی سے مذہب اختیار کرنے یا تبدیل کرنے کا حق ہونا چاہیے ۔ مذہبی آزادی کا یکساں اصول تمام شہریوں پر لاگو ہونا چاہیے۔بھارت کا مستقبل اس بات سے وابستہ ہے کہ وہاں مذہب کو سیاسی طاقت کے حصول کا ذریعہ بنانے کے بجائے شہری حقوق، معاشرتی ہم آہنگی اور آئینی مساوات کو ترجیح دی جائے ۔ گھر واپسی کی مہم محض مذہبی تقریب نہیں بلکہ قومی شناخت، اقلیتوں کے حقوق اور ریاست کے سیکولر تشخص سے جڑے بنیادی سوالات اٹھاتی ہے ۔ کسی بھی جمہوری معاشرے میں مذہب کا انتخاب فرد کا حق ہونا چاہیے ، کسی تنظیم یا اکثریتی گروہ کا فیصلہ نہیں۔ بھارت کی جمہوری ساکھ کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ کس حد تک یقینی بناتا ہے ۔ اکھنڈ بھارت آر ایس ایس ہندوتوا کا سیاسی و تہذیبی تصور ہے ، جس کے تحت پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ہمسایہ خطوں کو ایک وسیع بھارتی وحدت میں شامل کرنے کا نظریہ پیش کیا جاتا ہے ، یہ نظریہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر آزاد ممالک کی قومی خودمختاری اور جغرافیائی شناخت سے متصادم ہے ۔ اسی تناظر میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف جنگی جارحیت کے خدشات پیدا ہوتے ہیں، تاہم پاکستان ماضی میں بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور اور دلیری سے جواب دے چکا ہے ۔
٭٭٭


