تکبر۔۔ ایک مہلک بیماری ۔۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ عمل
شیئر کریں
مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
تکبر اللہ تعالیٰ کو بالکل پسند نہیں ہے،متکبر شخص اللہ تعالیٰ کو کسی صورت اچھا نہیں لگتا،اور اللہ تعالیٰ کو متکبر انسان کی کوئی بھی چیز اچھی نہیں لگتی یہ ایک بری خصلت و عادت ہے تکبر کی حقیقت یہ ہے کہ انسان خود کو دوسروں سے اعلیٰ و عرفیٰ سمجھے اگلے شخص کو تحقیر کی نگاہ سے دیکھے ،مال، دولت ، حسن جائیداد کا گھمنڈ سے تکبر پیدا ہوتا ہے، جس کی انتہائی سخت وعیدیں آئی ہیں قر آن و سنت میں تکبر کرنے والے شخص کے بارے میں اللہ جل شانہ پسند نہیں کرتے، حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مولا میں تکبر کی ہوا ہے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ جب انسان میں یہ ہوا پیدا ہو جاتی ہے تو وہ دوسروں کو خود سے کمتر سمجھنے لگ جاتا ہے۔ وہ اپنے سے کمترکو اپنا خادم سمجھتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے خادم بھی نہ سمجھے اور کہے کہ یہ اس قابل کہاں جو میری خدمت بجا لائیں۔ یہ بہت بڑاتکبر ہے اللہ تعالی کی کبریائی سے بھی بڑھ کر کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی بندگی قبول فرما لیتا ہے۔ اگر متکبر اور احمق اس درجے تک نہ پہنچے تو پھر وہ چلنے اور بیٹھنے میں تقدم کا چاہتا ہے اور اپنی تعظیم و توقیر کا امیدوارہوتا ہے۔ متکبر شخص اس مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اگر کوئی اس کو نصیحت کر ے تو وہ اس کی نصیحت کو قبول نہیں کرتا۔اور جب خود دوسروں کو نصیحت کرتا ہے تو سخت رویہ اختیار کرتا ہے۔
متکبر شخص لوگوں کو جانوروں کی طرح دیکھتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی یارسول اللہ ﷺ تکبر کیا ہے۔ ‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:تکبر یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی گردن کو نہ جھکائے اور لوگوں کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ارشاد گرامی ہے، ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے پوچھا اے ابلیس! تجھے کیا ہو گیا کہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوا؟ ابلیس نے کہا میں سجدہ نہیں کروں گا ایسے بشرکو جس کو تونے پیدا کیا ہے سڑے ہوئے گارے کی کھنکناتی مٹی سے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر تو یہاں سے نکل جا، یقینا تو مردود ہے اور تجھ پر لعنت ہے قیامت کے دن تک۔ (الحجر:36-35) تکبر ایسا گناہ ہے جو اپنے کرنے والے کو اللہ کی طرف رجوع سے روکتا ہے، چنانچہ اپنے گناہ پر ہمیشگی اختیار کرنے لگتا ہے، یہاں تک کہ ہلاک ہو جاتا ہے، جیسے شیطان نے اپنے تکبر پر اصرار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ترجمہ: اللہ نے کہا کہ ذلیل اور مردود ہو کر تو جنت سے نکل جا، البتہ ان میں سے جو بھی تیرے پیچھے چلے گا، تو میں تم
تمام سے جہنم کو بھر دوں گا۔ (الاعراف:18)
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ‘‘قیامت کے دن متکبرین کو انسانی شکلوں میں چیونٹیوں کی مانند اٹھایا جائے گا، ہر جانب سے ان پر ذلت
طاری ہوگی، انہیں جہنم کے ‘‘بولس’’ نامی قید خانے کی طرف ہانکا جائے گا اور آگ انہیں لپیٹ میں لے کر ان پر غالب آ جائے گی، انہیں
جہنمیوں کی پیپ پلائی جائے گی’’(ترمذی: 2500)حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا ‘‘جس کے دل
میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا، اس پر ایک شخص نے پوچھا: آدمی پسند کرتا ہے کہ لباس بھی اچھا ہو، جوتے بھی عمدہ ہوں، کیا یہ بھی تکبر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ خود جمیل ہے اسے جمال و نفاست پسند ہے یہ کبر نہیں تکبر تو یہ ہے کہ اتراہٹ کے مارے حق ہی کا انکار کر دے اور لوگوں کو ذلیل سمجھنے لگے’’ (مسلم:147)حضرت سلمہ بن اکوع ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ہمیشہ آدمی اپنے آپ کو بڑا سمجھتا رہتا ہے حتیٰ کہ اس کو متکبرین میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس کو متکبرین کا عذاب پہنچتا ہے (سنن الترمذی: 2007)۔حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ‘‘دوزخ اور جنت نے مباحثہ کیا، دوزخ نے کہا: مجھ میں متکبرین اور متجبرین داخل کیے گئے ہیں، جنت نے کہا: مجھ میں صرف کمزور، عاجز اور متواضع لوگ داخل کیے گئے’’ (صحیح بخاری: 4850)
حضرت ثوبانؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ‘‘وہ شخص جنت میں داخل ہو جائیگا جو اس حال میں مرا کہ وہ تکبر، خیانت اور قرض سے بری تھا’’ (سنن الترمذی: 1578)تکبر تمام اچھے اخلاق سے انسان کو روک لیتا ہے۔ تکبر کیوں پیدا ہوتا ہے یا اس کے اسباب کیا ہیں؟تکبر کے اسباب میں سے اہل علم نے حسد، بغض، کینہ، عجب اور ریا کاتذکرہ کیا ہے۔ جب کوئی شخص مال، علم، حسن وجمال یا مقام ومرتبے میں دوسرے سے حسد محسوس کرتا ہے تو عموماً اس پر تکبر کے ذریعے بڑائی حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اسی طرح جب کوئی شخص کسی دوسرے سے اپنے دل میں بغض اور کینہ رکھتا ہے تو یہ بھی اس کے تکبر کا سبب بن جاتے ہیں۔ اپنے نفس کے عشق میں مبتلا ہونا یعنی خود پسندی اور عجب بھی تکبر کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ہے۔ اسی طرح ریاکاری بھی تکبر کے اسباب میں داخل ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو۔(صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عزت میری ازا رہے اوربڑائی میری چادر
ہے تو جو شخص میرے ساتھ ان دونوں میں سے کسی ایک میں مزاحمت کرے گا تو میں اسے عذاب دوں گا۔(صحیح مسلم)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا، مفہوم:تین چیزیں ایسی ہیں جو نجات دینے والی ہیں اور تین چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں۔نجات دینے
والی چیزیں یہ ہیں: نمبر ایک ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ڈرنا خواہ اکیلے ہوں یا لوگوں کے ساتھ۔ نمبر دو ہر حال یعنی خوشی اور غمی میں حق اور سچ بات کہنا۔ نمبر تین ہر حال میں میانہ روی اختیار کرنا خواہ مال و دولت زیادہ ہو یا کم ہو۔ اسی طرح ہلاک کرنے والی چیزیں یہ ہیں، نفسانی خواہشات کی پیروی کرنا، لالچ اور طمع کے پیچھے لگنا اور خود پسندی میں مبتلا ہونا۔ یہ آخری چیز پہلی دو کے مقابلے میں زیادہ ہلاک کرنے والی ہے اور اسی کو عجب کہا جاتا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی)حضرت کعب بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا،دو بھوکے بھیڑیے جو بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ بکریوں کو اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا نقصان مال کا جمع کرنے والا اور عزت و منصب کو حاصل کرنے والا شخص حرص اور لالچ میں اپنے دین کو تباہ و برباد کر کے پہنچاتا ہے (جامع ترمذی)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشادفرمایاتین لوگ ایسے ہیں کہ روز قیامت نہ اللہ ان سے کلام فرمائے گانہ انہیں پاک کرے گانہ ان کی طرف نظر رحمت فرمائے گا، بوڑھا زانی، جھوٹا بادشاہ، اور تکبر کرنے والا فقیر (مسلم شریف)حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا ‘‘اے لوگو! تواضع اختیار کرو، میں نے حضورﷺکو فرماتے سنا ہے کہ جو خدا کی رضا حاصل کرنے کیلئے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند فرمادیتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے مگر لوگوں کی نظروں میں بڑا سمجھا جاتا ہے اور جو گھمنڈ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے پست کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل و خوار ہوتا ہے اور اپنے تئیں خود کو بڑا سمجھتا ہے حالانکہ انجام کار ایک دن وہ لوگوں کی نگاہ میں کتے اور سور سے بھی بد تر ہوجاتا ہے (رواہ البیہقی)حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا: جو تکبر کی وجہ سے اپنا تہبند لٹکائے گا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف رحمت کی نظر نہ فرمائے گا(بخاری شریف)
حضرت ابو ریحانہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں کبر کا معمولی سا حصہ بھی داخل نہیں ہوگا، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ! (ﷺ) میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میری سواری اور جوتے کا تسمہ عمدہ ہو (کیا یہ بھی تکبر ہے؟) نبی ﷺ نے فرمایا یہ تکبر نہیں ہے، اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے تکبر یہ ہے کہ انسان حق بات کو قبول نہ کرے اور اپنی نظروں میں لوگوں کو حقیر سمجھے(مسند احمد)اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب کی اس مہلک و موذی مرض سے حفاظت فرمائے، اور تواضع و انکساری جیسی عادات و محبت و پیار کے ساتھ رہنے کی توفیق نصیب فرمائے ۔آمین یا رب العالمین
٭٭٭


