میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
طبی سہولیات کا بحران اور عوام کی بے بسی

طبی سہولیات کا بحران اور عوام کی بے بسی

جرات ڈیسک
جمعه, ۳۰ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان کے سرکاری ہسپتالوں میں صفائی کی ناقص صورتِ حال، ادویات کی قلت، ڈاکٹروں کی غفلت، پرانی مشینری اور جدید طبی
سہولتوں کے فقدان نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے ۔ غریب مریض علاج کے لیے ہسپتال پہنچتے ہیں، مگر بنیادی سہولتوں کی عدم
دستیابی انہیں مزید پریشانیوں میں مبتلا کر دیتی ہے ۔

سرکاری ہسپتال کسی بھی ملک کے نظامِ صحت کی بنیاد ہوتے ہیں۔ ان کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو معیاری علاج فراہم کریں، لیکن
جب ہسپتالوں میں بنیادی ضروریات ہی پوری نہ ہوں تو مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کی مشکلات کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ پاکستان میں صحت
کے شعبے کو درپیش مسائل فوری توجہ اور عملی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ہسپتالوں میں صفائی کا ناقص نظام ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ وارڈوں میں گندگی، بدبودار بیت الخلا، آلودہ فرش، کوڑے کے ڈھیر اور طبی فضلے کو مناسب طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے کی شکایات مریضوں کی صحت کے لیے خطرات پیدا کرتی ہیں۔ ہسپتال وہ مقام ہے جہاں صفائی اور جراثیم سے تحفظ کے انتظامات مثالی ہونے چاہییں۔ اگر مریض کو صاف بستر، صاف پانی اور جراثیم سے پاک ماحول میسر نہ ہو تو علاج کے باوجود اس کی صحت متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے ۔صفائی کے لیے مختص عملے کی کمی، غیرحاضری، ناقص نگرانی اور وسائل کی عدم دستیابی جیسے مسائل پر قابو پانا ضروری ہے ۔ ہسپتال انتظامیہ کو صفائی کے روزانہ معائنے ، طبی فضلے کی محفوظ تلفی اور بیت الخلا کی باقاعدہ صفائی یقینی بنانی چاہیے ۔ غفلت کے ذمہ دار افراد کا تعین اور جواب دہی بھی ضروری ہے ۔

ادویات کی قلت غریب مریضوں کے لیے ایک بڑا عذاب ہے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں علاج کی امید لے کر آنے والے افراد کو جب
ضروری ادویات باہر سے خریدنے کا کہا جاتا ہے تو ان کے لیے علاج جاری رکھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ مہنگائی کے باعث پہلے ہی پریشان
خاندانوں کے لیے دواؤں، ٹیسٹوں اور سفر کے اخراجات برداشت کرنا آسان نہیں۔ کئی مریض مالی مشکلات کے باعث مکمل علاج نہیں
کروا پاتے ، جس سے بیماری بڑھنے اور پیچیدگیاں پیدا ہونے کا خطرہ رہتا ہے ۔

ہسپتالوں میں ادویات کی دستیابی کے لیے شفاف خریداری، مناسب ذخیرہ، بروقت فراہمی اور مؤثر نگرانی کا نظام ہونا چاہیے ۔ ادویات
کی قلت کی وجوہات معلوم کی جائیں اور یہ یقینی بنایا جائے کہ مریضوں کو ضروری دوائیں بلاوجہ بازار سے خریدنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
خاص طور پر ہنگامی مریضوں، بچوں، بزرگوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کے لیے ضروری ادویات کی فراہمی کو ترجیح دی جانی چاہیے ۔

 

ڈاکٹروں کی عدم دستیابی، طویل انتظار اور مریضوں کے ساتھ نامناسب رویے کی شکایات بھی قابلِ توجہ ہیں۔ بعض اوقات مریض کئی گھنٹے
انتظار کرتے ہیں، مگر انہیں بروقت طبی معائنہ نہیں ملتا۔ ہنگامی شعبوں میں تاخیر سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے ۔ اگر کسی مریض کو فوری علاج درکار ہو تو اسے انتظامی پیچیدگیوں یا عملے کی عدم موجودگی کے باعث انتظار نہیں کرنا چاہیے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ بہت سے ڈاکٹر اور طبی کارکن محدود وسائل اور مریضوں کے غیرمعمولی دباؤ کے باوجود خدمات انجام دیتے ہیں۔

اس لیے مسئلے کا حل تمام ڈاکٹروں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں، بلکہ عملے کی مناسب تعداد، ڈیوٹی کی پابندی، پیشہ ورانہ تربیت اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنانا ہے ۔ جان بوجھ کر غفلت برتنے یا مریضوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرنے والوں کے خلاف غیرجانب دارانہ کارروائی ہونی چاہیے ۔ مریض کو عزت، توجہ اور بروقت علاج فراہم کرنا طبی اخلاقیات کا بنیادی تقاضا ہے ۔

طبی آلات اور مشینری کی خرابی بھی صحت کے نظام کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے ۔ ایکسرے ، الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکین، ایم آر آئی،
لیبارٹری اور آپریشن تھیٹر کے آلات جدید علاج کے لیے ضروری ہیں۔ جب یہ مشینیں خراب ہو جائیں یا طویل عرصے تک مرمت نہ ہوں تو
مریضوں کو نجی مراکز سے مہنگے ٹیسٹ کروانے پڑتے ہیں۔ اس سے علاج میں تاخیر اور غریب خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے ۔

عوامی وسائل سے خریدی جانے والی مشینری کی باقاعدہ دیکھ بھال اور بروقت مرمت ضروری ہے ۔ مشینیں خریدنے کے لیے بجٹ مختص کرنا کافی نہیں؛ ان کی تنصیب، تربیت یافتہ عملے کی دستیابی، پرزوں کی فراہمی اور مستقل فعالیت بھی یقینی بنائی جانی چاہیے ۔

بجلی کا بحران ہسپتالوں کے لیے مزید مشکلات پیدا کرتا ہے ۔ ہسپتالوں میں بجلی کی مسلسل فراہمی محض پنکھے اور روشنیاں چلانے کے لیے نہیں، بلکہ وینٹی لیٹرز، آکسیجن کے نظام، آپریشن تھیٹروں، انتہائی نگہداشت کے یونٹوں، لیبارٹریوں اور دیگر اہم آلات کے لیے ناگزیر ہے ۔ بجلی کی بندش کے دوران متبادل انتظامات ناکافی ہوں تو مریضوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ہر سرکاری ہسپتال میں جنریٹرز، متبادل بجلی اور ہنگامی نظام کی باقاعدہ جانچ ہونی چاہیے ۔ بجلی کے آلات کی دیکھ بھال میں غفلت اور ہنگامی انتظامات کی ناکامی پر متعلقہ حکام کو جواب دہ ہونا چاہیے ۔ زندگی بچانے والی سہولتوں کی فراہمی میں کسی قسم کی لاپروائی قابلِ قبول نہیں۔

جدید طریقہ علاج کا فقدان بھی ایک اہم مسئلہ ہے ۔ دنیا میں طبی تحقیق تیزی سے ترقی کر رہی ہے ، لیکن اگر ہمارے ہسپتال جدید تشخیصی
آلات، تربیت یافتہ ماہرین اور جدید علاج کی سہولتوں سے محروم رہیں تو مریضوں کو بہتر علاج کے لیے بڑے شہروں یا مہنگے نجی ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے ۔ دل کی بیماریوں، گردوں کے امراض اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کے مریضوں کو تشخیص سے لے کر علاج تک متعدد مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے ۔

بے دم ہوئے بیمار دوا کیوں نہیں دیتے
تم اچھے مسیحا ہو شفا کیوں نہیں دیتے

جدید طبی سہولتوں کی فراہمی کے لیے حکومت کو طویل مدتی منصوبہ بندی کرنا ہوگی۔ بڑے ہسپتالوں میں جدید مشینری، تربیت یافتہ
ماہرین، معیاری لیبارٹریوں اور ضروری طبی سامان کی دستیابی یقینی بنائی جائے ۔ ضلعی اور تحصیل سطح کے ہسپتالوں کو بھی اس قابل بنایا جائے کہ وہ عام بیماریوں کا مؤثر علاج کر سکیں اور ہنگامی حالات میں مریضوں کو فوری مدد فراہم کر سکیں۔
ہسپتالوں میں بستروں کی کمی، مریضوں کا غیرمعمولی رش، نرسنگ عملے کی قلت اور ہنگامی شعبوں پر بڑھتا ہوا دباؤ بھی علاج کے معیار کو متاثر کرتا ہے ۔ بعض مقامات پر مریضوں کو مناسب جگہ نہیں ملتی اور لواحقین کو علاج کے انتظامات کے لیے خود بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے ۔

دیہی علاقوں سے آنے والے مریضوں کے لیے یہ صورتِ حال مزید مشکل ہو جاتی ہے ، کیونکہ انہیں سفر اور رہائش کے اخراجات بھی
برداشت کرنا پڑتے ہیں۔صحت کے شعبے میں بہتری کے لیے بنیادی مراکزِ صحت کو فعال بنانا بھی ضروری ہے ۔ اگر مقامی سطح پر ابتدائی
تشخیص، زچہ و بچہ کی نگہداشت، حفاظتی ٹیکوں اور عام بیماریوں کا مناسب علاج دستیاب ہو تو بڑے ہسپتالوں پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے ۔ اس مقصد کے لیے طبی عملے کی تعیناتی، ادویات کی فراہمی اور بنیادی آلات کی دستیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔

حکومت کو سرکاری ہسپتالوں کے بجٹ، خریداری اور انتظامی کارکردگی کی شفاف نگرانی کرنی چاہیے ۔ صفائی، ادویات، مشینری، بجلی،
پانی اور عملے کی دستیابی کے واضح معیار مقرر کیے جائیں۔ مریضوں کی شکایات کے ازالے کے لیے مؤثر نظام بنایا جائے اور ہسپتالوں کی
کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے ۔ طبی آلات کی مرمت اور ادویات کی فراہمی میں تاخیر کی وجوہات سامنے لائی جائیں تاکہ انتظامی
کمزوریوں کو دور کیا جا سکے ۔

صحت کے شعبے کی بہتری محض بجٹ بڑھانے سے ممکن نہیں؛ دستیاب وسائل کا درست استعمال، بدعنوانی کی روک تھام، اہل افراد کی
تعیناتی اور مسلسل نگرانی بھی ضروری ہے ۔ حکومت کو اس شعبے کو ترجیحات میں نمایاں مقام دینا ہوگا، کیونکہ بیمار شہریوں کو علاج فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔ہسپتالوں کی حالتِ زار صرف انتظامی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانی زندگی، معاشرتی انصاف اور عوامی اعتماد کا معاملہ ہے ۔ غریب شہری کے لیے سرکاری ہسپتال ہی علاج کی سب سے بڑی امید ہوتے ہیں۔ اگر وہاں دوا، صفائی، بجلی، جدید مشینری اور بروقت طبی امداد میسر نہ ہو تو اس کا سب سے زیادہ نقصان انہی لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو مہنگا نجی علاج برداشت نہیں کر سکتے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ صحت کے شعبے میں اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں۔ سرکاری ہسپتالوں کو صاف ستھرا، فعال اور
جدید طبی سہولتوں سے آراستہ بنایا جائے ، ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور غفلت کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جائے ۔ ایک مہذب
معاشرے کی پہچان یہی ہے کہ وہاں مریض کو علاج کے لیے دربدر نہ ہونا پڑے اور کسی غریب کی زندگی محض وسائل کی کمی کے باعث خطرے میں نہ پڑے ۔ انسانی زندگی سے بڑھ کر کوئی ترجیح نہیں ہونی چاہیے ۔

حکومت کو چاہیے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غفلت، بدعنوانی اور بدانتظامی کے خلاف سخت اقدامات کرے اور ذمہ دار افراد کا احتساب یقینی
بنائے ۔ سرکاری ہسپتالوں میں بھی نجی ہسپتالوں کی طرح جدید مشینری، صاف ستھرا ماحول، تربیت یافتہ عملہ اور معیاری علاج فراہم کیا جائے ، لیکن علاج غریب عوام کی پہنچ میں رہے ۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر نئے سرکاری ہسپتال تعمیر کیے جائیں، موجودہ ہسپتالوں میں بستروں اور وارڈوں کی تعداد بڑھائی جائے اور دیہی علاقوں میں بھی طبی سہولتیں بہتر بنائی جائیں۔ صحت ہر شہری کا بنیادی حق ہے ، اس لیے عوام کو علاج کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جانی چاہیے ۔

جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی
کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی
کیا کیا میں مفلسی کی خرابی کہوں نظیرؔ
وہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں