سندھ بلڈنگ، شعبہ ڈیمولیشن کرپشن کی زد میں، ڈپٹی ڈائریکٹر شہریار ملوث
شیئر کریں
سرکاری فنڈز، فیول، لیبر اور گیس کے اخراجات کی مد میں بھی بے ضابطگیوں کے الزامات
عبدالعاصم خان کی سفارش پر تعیناتی کا دعویٰ، ڈی جی ایس بی سی اے کی خاموشی پر سوالات
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے ) کا شعبہ ڈیمولیشن مبینہ مالی بے ضابطگیوں، رشوت ستانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات کی زد میں آگیا، شعبہ ڈیمولیشن میں تعینات ڈپٹی ڈائریکٹر شہریار مقصود عرف شیری کے حوالے سے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مبینہ طور پر شعبے کے انتظامی معاملات پر غیرمعمولی اثرورسوخ قائم کر رکھا ہے ، جبکہ سرکاری فنڈز اور مراعات کے استعمال سے لے کر غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں تک متعدد معاملات شفاف تحقیقات کے متقاضی بن چکے ہیں،ذرائع کے مطابق شعبہ ڈیمولیشن سے غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کے لیے روانہ کی جانے والی چار ٹیموں سے مبینہ طور پر فی ٹیم 50ہزار روپے وصول کیے جانے کا الزام ہے ، اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو چاروں ٹیموں سے مجموعی طور پر دو لاکھ روپے کی وصولی بنتی ہے ،جو کہ یومیہ بنیادوں پر وصول کی جا رہی ہے، ذرائع کا مزید دعویٰ ہے کہ ڈیمولیشن کارروائیوں کے دوران استعمال ہونے والی سرکاری گاڑیوں کے فیول، مزدوروں کی اجرت اور گیس کی بھروائی جیسے اخراجات کے نام پر بھی مبینہ طور پر بلڈروں سے رقوم وصول کی جاتی ہیں، حالانکہ ان مدات میں سرکاری وسائل اور فنڈز کی دستیابی اور استعمال کا مکمل ریکارڈ متعلقہ حکام کے پاس ہونا چاہیے ، ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ جن غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری شہریار مقصود عرف شیری کو سونپی گئی، ان میں سے متعدد مقامات پر انہدامی کارروائیاں مبینہ طور پر جزوی حد تک محدود رہیں اور غیرقانونی تعمیرات کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا، ذرائع کے بقول اس مبینہ طرزِ عمل کے پس پردہ بعض بلڈروں کی جانب سے لاکھوں روپے کی رشوت کی ادائیگی کا معاملہ بھی موجود ہے ، تاہم ان دعوؤں کی تصدیق کے لیے متعلقہ عمارتوں کے منظورشدہ نقشوں، انہدامی احکامات، کارروائیوں کی تصاویر اور سرکاری ریکارڈ کا تقابلی جائزہ ناگزیر ہے ،ذرائع نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ شہریار مقصود عرف شیری کی شعبہ ڈیمولیشن میں تعیناتی عبدالعاصم خان کی سفارش پر عمل میں آئی، جس کے بعد شیری مبینہ طور پر شعبے کے اہم انتظامی اور عملی معاملات میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں،شعبہ ڈیمولیشن کے خلاف سامنے آنے والے ان الزامات نے ایس بی سی اے کے اندرونی احتساب اور نگرانی کے نظام پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر ڈی جی ایس بی سی اے گزشتہ ایک ماہ کے دوران کی جانے والی تمام ڈیمولیشن کارروائیوں کا غیرجانبدارانہ سروے اور مالی آڈٹ کرانے کے احکامات جاری کریں تو مبینہ بے ضابطگیوں کی حقیقت سامنے آسکتی ہے ،اس مقصد کے لیے ڈیمولیشن ٹیموں کی روانگی کا ریکارڈ، سرکاری گاڑیوں کے فیول کی تفصیلات، لیبر اور گیس کے اخراجات، متعلقہ بلڈروں کے خلاف جاری احکامات اور کارروائی سے پہلے اور بعد کی تصاویر کا جائزہ لیا جاسکتا ہے ،ذرائع نے ڈی جی ایس بی سی اے کی جانب سے اس معاملے میں مبینہ عدم توجہی پر بھی سوالات اٹھائے ہیں،اہم سوال یہ ہے کہ کیا ایس بی سی اے کی اعلیٰ انتظامیہ اپنے ہی شعبہ ڈیمولیشن کے خلاف سامنے آنے والے ان سنگین الزامات کی شفاف تحقیقات کرائے گی؟ کیا مبینہ وصولیوں اور نامکمل انہدامی کارروائیوں کا ریکارڈ منظرعام پر لایا جائے گا؟ اور اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو ذمہ داروں کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟شہریار مقصود عرف شیری، عبدالعاصم خان اور ایس بی سی اے کی متعلقہ انتظامیہ کا مؤقف لینے کے لئے ان سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ان سے رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔


