میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۹ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی نے مسلم ممالک کی سلامتی، علاقائی تعاون اور سفارتی حکمتِ عملی کو نئے امتحان سے دوچار کر دیا ہے ۔ ایک طرف سعودی عرب کو یمن کی حوثی تحریک کے حملوں کا سامنا ہے ، دوسری طرف ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مشکلات اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں بے یقینی نے خطے کے مستقبل کے بارے میں تشویش بڑھا دی ہے ۔ ایسے حالات میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ اور اس کے بعد تہران میں اعلیٰ سطحی ملاقات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا مسلم ممالک دفاعی تعاون اور مؤثر سفارت کاری سے جنگ کے پھیلاؤ کو روک سکتے ہیں؟

رائٹرز کی 26 اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام نے ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا جب جنگ کے پھیلاؤ، حوثی حملوں اور امریکہ و ایران کے درمیان دوبارہ فوجی تصادم کے خدشات بڑھ رہے تھے ۔ ملاقات کا مقصد علاقائی سلامتی پر مشاورت، سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانا اور کشیدگی کم کرنے کے امکانات تلاش کرنا تھا۔ اس پیش رفت کی اہمیت یہ ہے کہ تینوں ممالک مشترکہ دفاعی تعاون کے ساتھ ایران سے براہِ راست بات چیت کا راستہ بھی کھلا رکھے ہوئے ہیں۔ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، 26 اکتوبر 2026ء کو تہران میں ایران، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے وفود کا اجلاس ہوا، جس میں چاروں ممالک نے علاقائی امن و سلامتی کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
رائٹرز کی 7 اگست 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدہ کیا۔ اس
میں اجتماعی دفاع کا اصول شامل ہے ، جس کے تحت ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے ۔

معاہدے کا مقصد رکن ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون مضبوط بنانا ہے ۔ تاہم اس کا مطلب
یہ نہیں کہ ہر حملے کے جواب میں تینوں ممالک لازماً ایک جیسی فوجی کارروائی کریں گے ۔ عملی اقدامات کا انحصار معاہدے کی شرائط، خطرے کی نوعیت اور متعلقہ ممالک کے فیصلوں پر ہوگا۔اس معاہدے کی اہمیت تینوں ممالک کی مختلف صلاحیتوں سے بھی جڑی ہوئی ہے ۔ سعودی عرب توانائی، سرمایہ کاری اور معاشی اثرورسوخ کے حوالے سے اہم مقام رکھتا ہے ، پاکستان کے پاس دفاعی تجربہ اور فوجی صلاحیتیں ہیں، جبکہ ترکیہ دفاعی صنعت اور فوجی ٹیکنالوجی میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے ۔ ان ممالک کے درمیان دفاعی تربیت، معلومات کے تبادلے ، دفاعی پیداوار اور مشترکہ منصوبوں میں تعاون کے امکانات موجود ہیں۔ تاہم معاہدے کی کامیابی کے لیے واضح ذمہ داریاں، مشترکہ مشاورت، بحران سے نمٹنے کا مؤثر نظام اور سیاسی اعتماد ضروری ہیں۔

معاہدے کے عملی نفاذ کے قانونی اور انتظامی مراحل بھی اہم ہیں۔ رائٹرز کی 26 اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے معاہدے کی منظوری دے دی تھی، جبکہ ترکیہ میں اس کی توثیق کا عمل جاری تھا۔ اجتماعی دفاع اسی وقت مؤثر بن سکتا ہے جب تمام فریق اپنی ذمہ داریوں، اختیارات اور تعاون کے طریقۂ کار پر واضح اتفاق رکھتے ہوں۔تہران میں ہونے والی ملاقات دفاعی تعاون کے ساتھ سفارت کاری کی اہمیت بھی اجاگر کرتی ہے ۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کی 26 اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، چاروں ممالک نے مشترکہ اعلامیے میں علاقائی امن و سلامتی کے لیے تعاون مضبوط بنانے اور مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ سعودی عرب کی نمائندگی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کی نمائندگی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے کی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی بھی ملاقاتوں میں شریک ہوئے ۔ تاہم کسی جامع امن معاہدے یا تمام اختلافات کے حل کا اعلان نہیں کیا گیا۔رائٹرز کے مطابق، تہران مذاکرات میں علاقائی عدم جارحیت کے نظام، امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی، سعودی عرب پر حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت جیسے معاملات زیرِ بحث آئے ۔ پاکستانی حکام کی جانب سے ایسی تجویز پر کام کرنے کی اطلاع بھی دی گئی جس سے واشنگٹن اور تہران کے اختلافات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ رپورٹ میں امکان ظاہر کیا گیا کہ کسی قابلِ قبول سمجھوتے کی صورت میں مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک اور قطر ضمانت فراہم کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم تجویز کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، اس لیے اس کے نتائج کے بارے میں حتمی دعویٰ قبل از وقت ہوگا۔

امریکہ اور ایران کا تنازع خطے کے امن کے لیے بنیادی چیلنج ہے ۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، بحری راستوں کی سلامتی اور علاقائی اثرورسوخ دونوں ممالک کے اختلافات میں شامل ہیں۔ ایران امریکی دباؤ اور پابندیوں کے خاتمے پر زور دیتا ہے ، جبکہ واشنگٹن ایران کے جوہری پروگرام پر پابندیوں اور شرائط کا مطالبہ کرتا ہے ۔ مذاکرات کی بحالی آسان نہیں، لیکن پاکستان اور دوسرے علاقائی ممالک دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور قابلِ قبول حل تلاش کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ثالثی کی کامیابی کا انحصار فریقین کی آمادگی اور کسی بھی سمجھوتے پر عمل درآمد پر ہوگا۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت اس بحران کو عالمی معیشت سے جوڑتی ہے ۔ امریکی ادارۂ توانائی کی معلومات کے مطابق، یہ آبنائے دنیا میں تیل کی ترسیل کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے ۔ یہاں بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے تیل کی قیمتوں، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے قیمتوں میں اضافہ درآمدی بل، بجلی کی لاگت، صنعتی پیداوار اور مہنگائی پر دباؤ بڑھا سکتا ہے ۔ اس لیے آبنائے ہرمز میں امن کی بحالی پاکستان کے معاشی مفاد سے بھی وابستہ ہے ۔

یمن کا تنازع بھی علاقائی سلامتی کا اہم مسئلہ ہے ۔ رائٹرز کی 26 اکتوبر 2026ء کی رپورٹ کے مطابق، حوثی تحریک نے سعودی
عرب کی تیل کی پائپ لائن کے پمپنگ اسٹیشنوں اور ریاض کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے ۔ ان مخصوص دعوؤں کی فوری طور پر آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی تھی۔ سعودی عرب پر حملوں اور یمن میں جاری لڑائی نے سلامتی کے خدشات بڑھائے ہیں۔ دفاعی
تعاون اپنی جگہ اہم ہے ، لیکن تنازعات کے مستقل حل کے لیے سیاسی مذاکرات، شہریوں کا تحفظ اور کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوششیں بھی ضروری ہیں۔پاکستان کے لیے اس معاملے میں توازن برقرار رکھنا خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور قریبی تعلقات ایک طرف ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ ہمسایہ ملک کی حیثیت سے تعلقات، سرحدی سلامتی اور سفارتی رابطے دوسری طرف۔
پاکستان کو اپنے دفاعی وعدوں اور قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ علاقائی تنازعات اس کے داخلی امن، تجارت
اور معیشت کو مزید نقصان نہ پہنچائیں۔ پاکستان اس وقت مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے جب وہ کشیدگی کم کرنے ، فریقین کو مذاکرات کی میز پر
لانے اور قابلِ عمل حل تلاش کرنے میں مدد دے ۔مسلم دنیا کے اتحاد کا سوال بھی اسی تناظر میں اہم ہے ۔ اسلامی ممالک کے سیاسی مفادات، خارجہ پالیسی اور سلامتی کی ترجیحات ہمیشہ یکساں نہیں رہی ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے اختلافات، یمن کی جنگ اور عالمی
طاقتوں کے ساتھ مختلف ممالک کے تعلقات اس حقیقت کی مثالیں ہیں۔ اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ تمام ممالک ہر معاملے پر ایک ہی مؤقف
اختیار کریں، بلکہ اختلافات کے باوجود مشترکہ مفادات کے لیے تعاون کریں۔ دفاعی شعبے کے ساتھ تجارت، توانائی، انسانی امداد، تعلیم اور
علاقائی ترقی میں شراکت داری بھی مسلم ممالک کو قریب لا سکتی ہے ۔ باہمی اعتماد اور عملی تعاون کے بغیر اتحاد محض نعرہ بن کر رہ جاتا ہے ۔

مکہ دفاعی معاہدے اور تہران مذاکرات کی کامیابی کا اصل معیار عملی اقدامات ہوں گے ۔ رکن ممالک کو دفاعی ذمہ داریوں اور مشترکہ
مشاورت کا طریقۂ کار واضح کرنا ہوگا، جبکہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو ایک ملاقات تک محدود رکھنے کے بجائے مسلسل سفارتی رابطوں
میں تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ اگر ان کوششوں سے حملوں میں کمی، بحری آمدورفت کی سلامتی، اعتماد سازی اور تنازعات کے سیاسی حل کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو پورے خطے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔ اس کے برعکس، دفاعی تعاون کے عملی نتائج سامنے نہ آئے اور مذاکرات ناکام رہے تو کشیدگی برقرار رہنے کا خطرہ ہوگا۔مکہ دفاعی معاہدہ، ایران سے مذاکرات اور مسلم دنیا کے اتحاد کا امتحان دراصل سلامتی اور سفارت کاری میں توازن قائم کرنے کا امتحان ہے ۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مشترکہ دفاعی تعاون کا راستہ اختیار کیا ہے ، جبکہ تہران کی ملاقات نے ایران سے بات چیت جاری رکھنے کا امکان بھی برقرار رکھا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دفاعی ذمہ داریاں واضح ہوں، مذاکرات میں تسلسل پیدا کیا جائے اور اختلافات کو ایسے طریقوں سے حل کیا جائے جو جنگ کے پھیلاؤ کو روک سکیں۔ مسلم دنیا کے اتحاد کا حقیقی پیمانہ نعروں سے نہیں بلکہ عملی تعاون، قومی مفادات کے احترام، انسانی جانوں کے تحفظ اور علاقائی امن کے لیے حاصل ہونے والے نتائج سے طے ہوگا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں