میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ ریاستی اختیار، بے اثر ادارے اور تحریک انصاف کی ناکام حکمت ِعملی

سہیل آفریدی کہاں ہیں؟ ریاستی اختیار، بے اثر ادارے اور تحریک انصاف کی ناکام حکمت ِعملی

جرات ڈیسک
منگل, ۲۷ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

باسط علی
۔۔۔۔۔۔

٭ریاست ایک شخص کو اپنی تحویل میں رکھنے کا اعتراف کرتی ہے ، لیکن اس کی آزادی محدود کرنے کی قانونی بنیاد اور اس کے مقام کے بارے میں واضح، قابلِ تصدیق جواب سامنے نہیں آتا

٭جب وزارت اعلیٰ کے عہدے پر فائز شخص کی حراست کے بارے میں بھی اتنا ابہام پیدا ہو سکتا ہے تو عام شہری کے لیے قانونی تحفظ کی عملی حیثیت پر سوال اٹھنا ناگزیر ہے

٭آئین کا آرٹیکل 199 ہائیکورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ زیرِ حراست شخص کو پیش کرنے کا حکم دے تاکہ حراست کی قانونی حیثیت جانچی جا سکے ۔ یہ اختیار شخصی آزادی کے تحفظ کا ایک بنیادی ذریعہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ایک غیر معمولی صورتِ حال پیدا ہوئی ہے ۔ صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے
انتظامی اختیارات غیر فعال ہوئے ، وہ منظرِ عام سے اوجھل ہو گئے ، وفاقی حکومت نے ان کی حفاظتی تحویل کی تصدیق کی، اہلِ خانہ نے
عدالت سے رجوع کیا، اور پشاور ہائیکورٹ نے حکام سے ان کے مقام اور حراست کی قانونی حیثیت کے بارے میں جواب طلب کر لیا۔
بظاہر یہ چند دنوں کی سیاسی اور عدالتی پیش رفت ہے ، مگر اس کے اندر پاکستان کے نظامِ حکمرانی کا ایک بنیادی تضاد پوشیدہ ہے ،ریاست
ایک شخص کو اپنی تحویل میں رکھنے کا اعتراف کرتی ہے ، لیکن اس کی آزادی محدود کرنے کی قانونی بنیاد اور اس کے مقام کے بارے میں واضح، قابلِ تصدیق جواب سامنے نہیں آتا۔
یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ متعلقہ شخص ایک منتخب صوبائی وزیراعلیٰ ہے ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سہیل آفریدی قانون سے بالاتر ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب منتخب عہدے پر فائز شخص کی حراست کے بارے میں بھی اتنا ابہام پیدا ہو سکتا ہے تو عام شہری کے لیے قانونی تحفظ کی عملی حیثیت پر سوال اٹھنا ناگزیر ہے ۔اس بحران کے تین بڑے فریق ہیں۔ حکومت، جسے اپنے اقدامات کا آئینی اور قانونی جواز پیش کرنا ہے ۔عدالتیں اور پارلیمنٹ، جنہیں ریاستی اختیار کو جواب دہ بنانا ہے اور تحریک انصاف، جسے اپنی سیاسی حکمت ِعملی اور اس کے نتائج کا حساب دینا ہے ۔ان تینوں کی ذمہ داریاں مختلف ہیں۔ انہیں ایک دوسرے کے برابر رکھنا بھی غلط ہوگا اور کسی ایک کو تنقید سے مستثنیٰ کرنا بھی۔

تحویل کا اعتراف، مگر جواب نامکمل
11 ؍اکتوبر 2026کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سہیل آفریدی منظرِ عام سے غائب ہو گئے ۔ اگلے روز
وفاقی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ انہیں اور صوبائی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا ہے ۔یہاں سے معاملے کی نوعیت بدل گئی۔اگر حکومت حراست سے لاعلمی ظاہر کرتی تو پہلا سوال یہ ہوتا کہ سہیل آفریدی کو کون لے گیا اور ان کی تلاش کی ذمہ داری کس پر ہے۔ لیکن جب حکومت خود تحویل تسلیم کر رہی ہے تو بنیادی سوال مختلف ہے ۔کس قانون کے تحت، کس مجاز افسر کے حکم سے ، کس مقام پر اور کتنی مدت کے لیے ؟
13 ؍اکتوبر کو سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر نے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔ ان کا الزام تھا کہ مسلح اور نقاب پوش افراد
سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ ہاؤس سے لے گئے اور اس کے بعد اہلِ خانہ کو ان کے مقام کے بارے میں واضح معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ سہیل آفریدی کو پیش کر کے حراست کی قانونی حیثیت جانچی جائے ۔اس الزام کو ابھی ثابت شدہ واقعہ
قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن اسے محض سیاسی بیان کہہ کر نظرانداز کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ حکومت نے سہیل آفریدی کی تحویل کا اعتراف کیا ہے ۔ اب اختلاف بنیادی طور پر تحویل کی نوعیت، طریقہ کار اور قانونی جواز پر ہے۔
20 ؍اکتوبر کی عدالتی کارروائی کے بعد سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق پشاور ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام سے جواب طلب کیا۔
بعد میں تحریری حکم سے متعلق خبروں میں آئی جی پولیس، سی سی پی او، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری داخلہ کو رپورٹ جمع کرانے کے لیے دس روز دینے اور 3؍نومبر کی آئندہ سماعت مقرر ہونے کا ذکر آیا۔ عدالت نے ابھی سہیل آفریدی کی حراست کو حتمی طور پر غیر قانونی قرار نہیں دیا۔ اس نے وہ معلومات طلب کی ہیں جن کی بنیاد پر قانونی فیصلہ کیا جا سکے گا۔ تاہم یہی صورتِ حال ایک سخت سوال پیدا کرتی ہے ۔جب ریاست تحویل تسلیم کر چکی ہو تو اس کی بنیادی قانونی تفصیلات عدالت تک پہنچنے میں اتنا وقت کیوں لگنا چاہیے ؟

شاہی مہمان خانہ:مقام سے زیادہ اہم سوال
سہیل آفریدی کے وکیل نے عدالت میں دستیاب اطلاعات کی بنیاد پر پشاور کے تاریخی شاہی مہمان کا ذکر کیا،‘‘بی بی سی اردو ’’کی
رپورٹ میں بھی اس مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ جبکہ تحریک انصاف کے ایک صوبائی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر دعویٰ کیا کہ انہیں
وہاں رکھا گیا تھا۔بی بی سی نے اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہ ہونے کی وضاحت کی۔ لہٰذا یہ کہنا کہ سہیل آفریدی یقینی طور پر شاہی مہمان
خانے میں موجود ہیں، شواہد سے آگے بڑھنا ہوگا۔لیکن اس مقام کے گرد پیدا ہونے والی بحث ایک زیادہ سنجیدہ سوال کی طرف اشارہ کرتی
ہے ۔اگر کسی سرکاری مہمان خانے کو عملاً حراست کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو اس کا قانونی اختیار کیا ہے ؟ وہاں رکھے گئے شخص کا اندراج کس ریکارڈ میں ہوتا ہے ؟ اس کی نگرانی کون کرتا ہے ؟ اسے وکیل، اہلِ خانہ اور طبی سہولت تک رسائی کیسے دی جاتی ہے ؟اور اگر سہیل آفریدی وہاں موجود نہیں تو حکومت ان کے اصل مقام کی قانونی طور پر مناسب وضاحت کر کے قیاس آرائی ختم کیوں نہیں کرتی؟اس معاملے میں شاہی مہمان خانہ ایک علامت بن گیا ہے ۔ اصل مسئلہ کسی تاریخی عمارت کا نام نہیں بلکہ ‘‘سرکاری تحویل کی شفافیت’’ہے ۔
ریاست کے لیے کسی شخص کی حفاظت کا دعویٰ کرنا کافی نہیں۔ اسے یہ بھی دکھانا ہوتا ہے کہ اس شخص کے حقوق محفوظ ہیں اور اس کی آزادی محدود کرنے کا اختیار قانونی نگرانی کے تابع ہے ۔

  • مسئلہ یہ ہے کہ حراست اور بنیادی حقوق جیسے معاملات میں عدالتی مداخلت کتنی تیز، مستقل اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے ۔پاکستان میں انصاف کی کمزوری صرف فیصلے نہ ہونے کا مسئلہ نہیں، یہ فیصلے تک پہنچنے کی رفتار، احکامات کے نفاذ اور طاقتور انتظامی اداروں سے جواب حاصل کرنے کی صلاحیت کا بھی مسئلہ ہے ۔سہیل آفریدی کا مقدمہ اسی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے ۔جب عدالت یہ پوچھنے پر مجبور ہو کہ ریاست کی تحویل میں موجود شخص کہاں ہے ، تو سوال صرف اس شخص کے حقوق کا نہیں رہتا۔ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ انتظامی اختیار پر عدالتی نگرانی کتنی مؤثر ہے ۔

حفاظتی تحویل:اصطلاح قانون کا متبادل نہیں
حکومتی نمائندوں نے سہیل آفریدی کی تحویل کو امن ِعامہ اور ممکنہ خطرات سے بچاؤ کے تناظر میں بیان کیا ہے ۔ ایڈوائزری کونسل کی رکن ثمر ہارون بلور کے مطابق سہیل آفریدی اور جنید اکبر محفوظ ہیں اور ان کا اہلِ خانہ سے رابطہ بھی ہے ۔یہ بیان کئی سوالات کو حل کرنے کے بجائے مزید واضح کرتا ہے ۔اگر اہلِ خانہ سے رابطہ موجود ہے تو اس کی تازہ اور آزادانہ تصدیق کیا ہے ؟ اگر حراست احتیاطی ہے تو تحریری حکم کہاں ہے ؟ اگر ان کے خلاف کوئی فوجداری مقدمہ ہے تو کیا موجودہ حراست اسی مقدمے کے تحت ہے یا کسی الگ انتظامی حکم کے ذریعے عمل میں آئی؟تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ سہیل آفریدی کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر، یعنی ایم پی او، کی دفعہ 3کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے ۔ تاہم ایک رپورٹ کے مطابق متعلقہ حکومت نے اس مخصوص قانونی بنیاد کی تصدیق نہیں کی تھی۔یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ایم پی او کے تحت احتیاطی حراست کے اختیارات موجود ہیں، مگر ان کے استعمال کے لیے قانونی شرائط، مجاز اتھارٹی اور عدالتی جانچ کے تقاضے بھی ہیں۔ آئین کا آرٹیکل 10گرفتاری اور حراست سے متعلق تحفظات فراہم کرتا ہے ۔ احتیاطی حراست اور عام فوجداری گرفتاری کے قواعد ایک جیسے نہیں، لیکن احتیاطی حراست بھی آئینی نگرانی سے آزاد نہیں۔اسی لیے حکومت سے محض یہ نہیں پوچھا جانا چاہیے کہ سہیل آفریدی محفوظ ہیں یا نہیں۔ اسے حراست کا حکم، تاریخ، مجاز افسر، قانونی بنیاد، مدت اور متعلقہ حقوق کی تفصیلات واضح کرنا ہوں گی۔ایک اور امتیاز بھی ضروری ہے ۔ سہیل آفریدی کے خلاف پہلے سے کسی مقدمے یا وارنٹ کی موجودگی اس بات کا خودکار ثبوت نہیں کہ 11؍اکتوبر کے بعد کی تحویل اسی کے تحت عمل میں آئی۔ پرانا مقدمہ، موجودہ گرفتاری اور احتیاطی حراست الگ قانونی معاملات ہیں۔ انہیں جوڑنے کے لیے دستاویزی ریکارڈ چاہیے ۔گورنر راج کا نفاذ بھی کسی فرد کی حراست کا خودکار اجازت نامہ نہیں۔صوبائی انتظامیہ کے اختیارات کی تبدیلی اور شخصی آزادی پر پابندی دو مختلف آئینی سوالات ہیں۔ ایک اقدام کا جواز دوسرے کی قانونی خامیوں کو درست نہیں کر سکتا۔

عدالت کے دروازے کھلے ہیں، مگر انصاف کہاں تک پہنچا؟
سہیل آفریدی کے معاملے نے عدلیہ کے سامنے ایک غیر معمولی امتحان رکھ دیا ہے ۔پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 199 ہائیکورٹ کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ زیرِ حراست شخص کو پیش کرنے کا حکم دے تاکہ حراست کی قانونی حیثیت جانچی جا سکے ۔ یہ اختیار محض کارروائی کا ضابطہ نہیں،شخصی آزادی کے تحفظ کا ایک بنیادی ذریعہ ہے ۔پشاور ہائیکورٹ نے درخواست سنی، سوالات اٹھائے اور حکام سے جواب طلب کیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ عدالت نے کچھ نہیں کیا۔ لیکن عدالتی کارروائی کی موجودگی اور مؤثر داد رسی کے حصول میں فرق ہے۔اگر ریاست کسی شخص کو اپنی تحویل میں رکھنے کی تصدیق کرے اور اس کے باوجود مقام اور قانونی بنیاد واضح ہونے میں کئی دن لگ جائیں تو شہری بجا طور پر پوچھ سکتا ہے کہ فوری آئینی تحفظ کا عملی مطلب کیا رہ جاتا ہے ۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں نظامِ انصاف پر تنقید محض سیاسی نعرہ نہیں رہتی۔

انصاف کا معیار صرف یہ نہیں کہ درخواست سماعت کے لیے مقرر ہوئی یا متعلقہ حکام کو نوٹس جاری ہوا۔ اصل معیار یہ ہے کہ قانونی تحفظ بروقت ملا یا نہیں، حکومت نے جواب دیا یا نہیں، اور عدالتی حکم کا قابلِ عمل نتیجہ نکلا یا نہیں۔بعض متعلقہ مقدمات میں عدالتوں نے فوری نوعیت کے احکامات دیے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ حراست اور بنیادی حقوق جیسے معاملات میں عدالتی مداخلت کتنی تیز، مستقل اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہے۔ پاکستان میں انصاف کی کمزوری صرف فیصلے نہ ہونے کا مسئلہ نہیں، یہ فیصلے تک پہنچنے کی رفتار، احکامات کے نفاذ اور طاقتور انتظامی اداروں سے جواب حاصل کرنے کی صلاحیت کا بھی مسئلہ ہے ۔سہیل آفریدی کا مقدمہ اسی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے ۔جب عدالت یہ پوچھنے پر مجبور ہو کہ ریاست کی تحویل میں موجود شخص کہاں ہے ، تو سوال صرف اس شخص کے حقوق کا نہیں رہتا۔ سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ انتظامی اختیار پر عدالتی نگرانی کتنی مؤثر ہے ۔

پارلیمنٹ:سوال اٹھانے کی طاقت، جواب حاصل کرنے کی کمزوری
اس بحران کی دوسری بڑی تصویر پارلیمنٹ میں نظر آتی ہے ۔اپوزیشن نے سہیل آفریدی اور دوسرے منتخب نمائندوں کی موجودگی کے بارے میں سوالات اٹھائے ۔ قومی اسمبلی میں پروڈکشن آرڈرز کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہوگا کہ پارلیمنٹ مکمل خاموش رہی۔لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا پارلیمنٹ کے سوالات انتظامیہ سے قابلِ اعتماد جواب حاصل کر سکے ؟یہاں پاکستان کے پارلیمانی نظام کی ایک پرانی کمزوری سامنے آتی ہے ۔ ایوان میں تقریریں ہوتی ہیں، احتجاج ہوتا ہے ، واک آؤٹ ہوتے ہیں، مگر جواب دہی کا عملی نتیجہ اکثر غیر واضح رہتا ہے ۔پارلیمنٹ محض سیاسی مؤقف کے اظہار کا فورم نہیں۔ اس کا بنیادی کردار حکومت کی نگرانی اور انتظامی اختیار کو جواب دہ بنانا ہے ۔ اگر منتخب نمائندوں کے مقام، حراست اور قانونی حیثیت پر بھی ایوان میں واضح جواب حاصل کرنا دشوار ہو تو اس کی نگرانی کی صلاحیت پر سنجیدہ سوال اٹھتا ہے ۔
حکومتی اتحادی جماعتوں کے لیے یہ معاملہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے ۔ سیاسی جماعتیں جب اپوزیشن میں ہوتی ہیں تو شخصی آزادی، عدالتی انصاف اور پارلیمانی بالادستی کے اصولوں کو اپنی سیاست کا مرکز بناتی ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہی اصولوں کا اطلاق سیاسی مخالفین پر بھی ہونا چاہیے ۔اگر بنیادی حقوق صرف اپنے کارکنوں اور رہنماؤں کے لیے اہم ہوں تو وہ آئینی اصول نہیں رہتے ، جماعتی سہولت بن جاتے ہیں۔اس بحران میں پارلیمنٹ کی بے بسی کا درست مفہوم یہ نہیں کہ اس کے پاس کوئی اختیار نہیں۔ زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ اختیارات کی موجودگی کے باوجود ان کا مؤثر استعمال کمزور دکھائی دیتا ہے ۔ اداروں کی ناکامی ہمیشہ اختیار نہ ہونے سے پیدا نہیں ہوتی۔ کبھی ناکامی اختیار استعمال کرنے کے سیاسی عزم کی کمی سے بھی جنم لیتی ہے ۔

ایک وزیراعلیٰ سے آگے :نمائندگی کا بحران
سہیل آفریدی کی غیر موجودگی کو دوسرے سیاسی رہنماؤں اور منتخب نمائندوں سے متعلق شکایات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔تحریک انصاف کے مختلف رہنماؤں نے متعدد ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا غیر واضح موجودگی کے دعوے کیے ہیں۔ اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی اور دیگر شخصیات کے حوالے سے بھی عدالتی درخواستوں کا ذکر سامنے آیا ہے ۔ان تمام دعووں کو یکساں طور پر ثابت شدہ نہیں سمجھنا چاہیے ۔ ہر فرد کے بارے میں الگ معلومات درکار ہیں،وہ کہاں ہے ، کیا گرفتار ہوا، کس مقدمے میں نامزد ہے ، کیا حراستی حکم جاری ہوا اور کیا اسے قانونی مدد میسر ہے ؟لیکن اگر منتخب نمائندوں کی قابلِ ذکر تعداد واقعی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہے تو مسئلہ صرف انفرادی آزادی تک محدود نہیں رہتا۔ اس سے اسمبلی کی کارروائی، سیاسی نمائندگی اور عوامی مینڈیٹ کے عملی استعمال پر اثر پڑ سکتا ہے ۔یہاں اصول سادہ ہے ،منتخب نمائندہ قانون سے بالاتر نہیں، مگر قانون کے تحفظ سے محروم بھی نہیں۔کسی شخص کے خلاف مقدمہ ہو تو اسے قانون کے مطابق چلایا جائے ۔ احتیاطی حراست ہو تو اس کی قانونی جانچ ممکن بنائی جائے ۔ اور اگر کسی کی موجودگی غیر واضح ہے تو اس کا سراغ لگانے کی ذمہ داری پوری کی جائے ۔اس اصول کے بغیر انتخابات کا عمل اپنی عملی معنویت کھونے لگتا ہے ۔ عوام نمائندے منتخب کرتے ہیں، لیکن ان نمائندوں کی قانونی حیثیت اور سیاسی فعالیت انتظامی فیصلوں کے سامنے غیر یقینی ہو جائے تو جمہوری نمائندگی کمزور پڑتی ہے ۔

تحریک انصاف:ریاستی دباؤ کا شکار یا اپنی حکمت عملی کی اسیر؟
یہاں تک ریاست اور آئینی اداروں کی ذمہ داری کا جائزہ لیا گیا۔ مگر تصویر کا دوسرا حصہ تحریک انصاف ہے ،جسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔تحریک انصاف کے پاس خیبر پختونخوا میں صوبائی حکومت تھی۔ سہیل آفریدی وزیراعلیٰ تھے ۔ جماعت کے پاس اسمبلی، انتظامی وسائل، عوامی حمایت اور ایک منظم سیاسی شناخت موجود تھی۔اس کے باوجود اکتوبر کا لانگ مارچ اپنے اعلان کردہ بڑے مقصد، عمران خان کی رہائی، کو حاصل نہ کر سکا۔ گورنر راج نافذ ہوا، صوبائی حکومت کے اختیارات غیر فعال ہوئے اور خود وزیراعلیٰ تحویل میں چلے گئے ۔ان نتائج کا سارا بوجھ تحریک انصاف پر ڈالنا غلط ہوگا، کیونکہ ریاستی اقدامات کی ذمہ داری ریاست ہی پر عائد ہوتی ہے ۔ لیکن یہ پوچھنا بالکل جائز ہے کہ جماعت نے ایسے ‘‘خدشات’’ کے لیے کیا تیاری کی تھی۔کیا لانگ مارچ کے لیے واضح سیاسی ہدف، مذاکراتی حکمتِ عملی اور متبادل منصوبہ موجود تھا؟ کیا قیادت نے یہ سوچا تھا کہ اگر صوبائی انتظامیہ کے اختیارات محدود کر دیے گئے تو جماعت کا اگلا قدم کیا ہوگا؟ کیا وزیراعلیٰ کی احتجاجی قیادت اور صوبے کی روزمرہ حکمرانی کے درمیان مناسب توازن قائم رکھا گیا؟
یہ سوال تحریک انصاف کی سیاسی صلاحیت سے متعلق ہیں، اس کے احتجاج کے حق سے نہیں۔ایک وزیراعلیٰ کا قومی سیاسی تحریک میں کردار ادا کرنا بذاتِ خود غیر قانونی نہیں۔ مگر وزیراعلیٰ کی ذمہ داریاں صرف جماعتی مطالبات تک محدود بھی نہیں ہوتیں۔ صوبے میں دہشت گردی، امن و امان، پولیس کی استعداد، مالی مسائل اور عوامی خدمات کے تقاضے اپنی جگہ موجود رہتے ہیں۔اگر صوبائی حکومت کا سیاسی چہرہ مسلسل احتجاجی محاذ آرائی کا بن جائے تو مخالفین کو یہ سوال اٹھانے کا موقع ملتا ہے کہ حکمرانی اور جماعتی تحریک میں ترجیح کس کو دی جا رہی تھی۔اس سوال کا جواب محض یہ نہیں ہو سکتا کہ وفاق سیاسی انتقام لے رہا تھا۔ وفاقی اقدامات کے قانونی جواز کا امتحان الگ ہے ؛ صوبائی قیادت کی سیاسی کارکردگی کا امتحان الگ۔

لانگ مارچ کی ناکامی:کارکنوں کی کمی یا قیادت کا بحران؟
تحریک انصاف کے اندر سے سامنے آنے والی اطلاعات اس بحث کو مزید اہم بنا دیتی ہیں۔انگریزی روزنامہ ڈان کی 21؍اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق جماعت کی کور کمیٹی مستقبل کی حکمت عملی پر اتفاق کرنے میں مشکلات کا شکار رہی۔ مارچ کی منصوبہ بندی، کارکنوں کی تعداد، تنظیمی انتظامات اور فیصلہ سازی کے طریقے پر اختلافات سامنے آئے ۔ بعض شرکا نے سہیل آفریدی کے کردار پر سوال اٹھایا، جبکہ دوسروں نے مرکزی قیادت اور جماعتی کمیٹیوں کی کارکردگی کو موضوع بنایا۔یہ داخلی آراء ہیں، کسی مکمل آزادانہ تحقیق کے نتائج نہیں۔ مگر ان کی سیاسی اہمیت کم نہیں۔تحریک انصاف کی ایک بڑی کمزوری یہ دکھائی دیتی ہے کہ اس کی احتجاجی سیاست میں عوامی جذبات کو متحرک کرنے کی صلاحیت تو موجود ہے ، لیکن ان جذبات کو واضح سیاسی نتائج میں تبدیل کرنے کا طریقہ اکثر غیر متعین رہتا ہے ۔جلسہ کامیاب ہونا، قافلہ نکلنا اور کارکنوں کا جمع ہونا سیاسی قوت کی علامتیں ہو سکتی ہیں۔ مگر کامیابی کا اصل معیار یہ ہے کہ اس قوت سے حاصل کیا ہوا۔اگر کسی تحریک کا مقصد مذاکرات پر مجبور کرنا ہے تو مذاکراتی راستہ اور قابلِ قبول شرائط واضح ہونی چاہئیں۔ اگر مقصد عوامی دباؤ بڑھانا ہے تو دباؤ کو برقرار رکھنے کے وسائل اور تنظیمی صلاحیت کا حقیقت پسندانہ اندازہ ضروری ہے ۔ اور اگر تصادم کا امکان موجود ہے تو کارکنوں، قیادت اور صوبائی اداروں کے تحفظ کے لیے متبادل منصوبہ ناگزیر ہے ۔تحریک انصاف کی مشکل یہ ہے کہ وہ کئی بار احتجاج کو حکمتِ عملی سمجھ لیتی ہے ، حالانکہ احتجاج حکمتِ عملی کا صرف ایک ذریعہ ہے ۔اس جماعت کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فیصلہ سازی کتنی ادارہ جاتی ہے ۔ اگر اہم فیصلے چند شخصیات یا غیر رسمی حلقوں تک محدود رہیں اور ناکامی کے بعد ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالی جائے تو بڑی عوامی حمایت بھی پائیدار سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔اس معاملے میں سہیل آفریدی کی حراست جماعت کے لیے ایک سنگین سیاسی اور قانونی مسئلہ ہے ، لیکن اس سے پہلے کیے گئے فیصلوں کے احتساب کی ضرورت ختم نہیں ہوتی۔

ذمہ داری برابر نہیں، مگر جواب دہی سب کی
اس بحران کے تجزیے میں سب سے اہم فرق یہی ہے ۔ریاست کے پاس قانونی اور انتظامی طاقت ہے ۔ وہ کسی شخص کی آزادی محدود کرتی ہے تو اسے اس اقدام کا قانونی جواز ثابت کرنا ہوتا ہے ۔ اس ذمہ داری کو تحریک انصاف کی سیاسی غلطیوں کے ذریعے کم نہیں کیا جا سکتا۔دوسری طرف تحریک انصاف کے پاس عوامی حمایت، سیاسی قیادت اور صوبائی اقتدار کے مواقع تھے ۔ اسے یہ بتانا ہوگا کہ اس نے ان وسائل کو کس حکمتِ عملی کے تحت استعمال کیا اور اس کے فیصلوں سے کیا نتائج نکلے ۔سیاسی غلطی اور آئینی خلاف ورزی کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔اگر تحریک انصاف نے ناقص منصوبہ بندی کی تو اس کی سیاسی قیمت ہو سکتی ہے ۔ لیکن ناقص منصوبہ بندی کسی شخص کی غیر قانونی حراست کا جواز نہیں بن سکتی۔اسی طرح اگر سہیل آفریدی کی حراست میں قانونی خامیاں ثابت ہو جائیں تو اس سے تحریک انصاف کی احتجاجی حکمتِ عملی خودبخود کامیاب یا درست قرار نہیں پائے گی۔ریاست سے قانون کا حساب لیا جائے گا؛ تحریک انصاف سے سیاسی بصیرت اور نتائج کا۔یہی ایک منصفانہ مگر سخت تجزیے کی بنیاد ہے ۔

یوٹیوب کی بحث:خبر، تشریح اور سنسنی میں فرق
سہیل آفریدی کی غیر موجودگی کے گرد یوٹیوب اور سوشل میڈیا پر مختلف بیانیے سامنے آئے ہیں۔ بعض حلقے اسے تحریک انصاف کی قیادت کو غیر مؤثر بنانے کی منظم کارروائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ بعض حکومت کے سلامتی سے متعلق مؤقف کو اہمیت دیتے ہیں۔ کچھ تبصرے خفیہ مقامات، ممکنہ معاہدوں یا اچانک رہائی کی پیش گوئیوں کے گرد گھومتے ہیں۔ان بیانیوں کی موجودگی بذاتِ خود ثبوت نہیں۔گورنر راج، لانگ مارچ کا خاتمہ اور سیاسی رہنماؤں کی حراست ایک دوسرے سے جڑے واقعات ہیں۔ ان کے درمیان سیاسی تعلق کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے ، لیکن کسی خفیہ منصوبے یا مخصوص نیت کو ثابت کرنے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد درکار ہوں گے ۔اسی طرح حکومت کی جانب سے سلامتی کے خدشات کا اظہار ایک مؤقف ہے ،اس سے ہر انتظامی اقدام کا قانونی جواز خودبخود ثابت نہیں ہوتا۔
ڈیجیٹل بحث کا ایک فائدہ ضرور ہے ،وہ ایسے سوالات اٹھا سکتی ہے جو سرکاری بیانات میں نظرانداز ہو جائیں۔ مگر اس کا نقصان تب شروع ہوتا ہے جب قیاس آرائی کو خبر، امکان کو فیصلہ اور سیاسی خواہش کو حقیقت بنا کر پیش کیا جائے۔سہیل آفریدی کے معاملے میں سب سے معتبر راستہ اب بھی وہی ہے ،تحریری سرکاری ریکارڈ، عدالتی کارروائی، اہلِ خانہ اور وکلا کی قابلِ تصدیق معلومات، اور آزادانہ صحافتی تحقیق۔

گورنر راج کے بعد اصل کامیابی کس کی ہوگی؟
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ خیبر پختونخوا میں سلامتی کے حالات اور صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی غیر معمولی اقدامات کا تقاضا کرتی تھی۔ اس مؤقف کی جانچ صرف سیاسی بیانات سے نہیں ہو سکتی۔اگر گورنر راج کا مقصد امن و امان بہتر بنانا ہے تو اس کی کامیابی دہشت گردی کے واقعات، پولیس کی کارکردگی، انتظامی تعاون، عوامی خدمات اور شہری اعتماد جیسے قابلِ پیمائش نتائج سے جانچی جانی چاہیے ۔محض انتظامی اختیار اپنے ہاتھ میں لے لینا کامیابی نہیں۔ کامیابی تب ہوگی جب اس اختیار کے استعمال سے حالات بہتر ہوں اور آئینی تقاضے بھی پورے کیے جائیں۔دوسری طرف تحریک انصاف کو بھی اپنے مقاصد کی وضاحت کرنا ہوگی۔ اگر اس کی سیاست صرف احتجاج، گرفتاریوں کی مذمت اور اگلی تحریک کے اعلان تک محدود رہی تو وہ اپنی عوامی حمایت کو مؤثر سیاسی نتیجے میں تبدیل کرنے کی مشکل سے دوچار رہے گی۔
پاکستان کے لیے خطرہ یہ ہے کہ وفاق انتظامی طاقت کو سیاسی حل سمجھ لے اور اپوزیشن احتجاج کو مکمل حکمتِ عملی۔ اس صورت میں دونوں فریق اپنی اپنی طاقت استعمال کرتے رہیں گے ، مگر بنیادی بحران حل نہیں ہوگا۔حکومت کے پاس اختیار ہوگا، مگر اعتماد نہیں۔ اپوزیشن کے پاس احتجاج ہوگا، مگر نتیجہ نہیں۔ عدالتوں میں درخواستیں ہوں گی، مگر بروقت داد رسی پر سوال باقی رہے گا۔ پارلیمنٹ میں تقاریر ہوں گی، مگر جواب دہی کا عملی اثر محدود رہے گا۔یہی وہ سیاسی بند گلی ہے جس سے نکلنے کے لیے طاقت سے زیادہ آئینی ضبط، شفافیت اور مؤثر مکالمہ درکار ہے ۔

  • وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف پہلے سے کسی مقدمے یا وارنٹ کی موجودگی اس بات کا خودکار ثبوت نہیں کہ 11؍اکتوبر کے بعد کی تحویل اسی کے تحت عمل میں آئی۔ پرانا مقدمہ، موجودہ گرفتاری اور احتیاطی حراست الگ قانونی معاملات ہیں۔ انہیں جوڑنے کے لیے دستاویزی ریکارڈ چاہیے ۔گورنر راج کا نفاذ بھی کسی فرد کی حراست کا خودکار اجازت نامہ نہیں۔صوبائی انتظامیہ کے اختیارات کی تبدیلی اور شخصی آزادی پر پابندی دو مختلف آئینی سوالات ہیں۔ ایک اقدام کا جواز دوسرے کی قانونی خامیوں کو درست نہیں کر سکتا۔

 

آخری سوال:سہیل آفریدی کہاں ہیں، اور جواب دینے والا کون ہے ؟
اس پوری کہانی کا سب سے غیر معمولی پہلو یہ ہے کہ بنیادی سوال اب بھی نہایت سادہ ہے ۔سہیل آفریدی کہاں ہیں؟اگر وہ ریاست کی تحویل میں ہیں تو کس قانون کے تحت؟ اگر ان کے خلاف مقدمہ ہے تو متعلقہ عدالتی ریکارڈ کیا ہے ؟ اگر احتیاطی حراست کا حکم موجود ہے تو اس کی قانونی بنیاد کیا ہے ؟ اور اگر حکومت کے مطابق وہ محفوظ ہیں تو ان کے وکیل اور اہلِ خانہ کی قابلِ تصدیق رسائی کیوں نہ یقینی بنائی جائے ؟ان سوالات کا جواب دینا کسی سیاسی جماعت پر احسان نہیں۔ یہ آئینی حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے ۔لیکن اس بحران کا دوسرا سوال بھی اتنا ہی اہم ہے ،تحریک انصاف نے اپنی عوامی حمایت، صوبائی اقتدار اور احتجاجی قوت سے کیا حاصل کیا؟ کیا اس کے پاس کسی واضح سیاسی نتیجے تک پہنچنے کی حکمت ِعملی تھی، یا وہ مسلسل ایسے تصادم کی طرف بڑھتی رہی جس کے ممکنہ نتائج کے لیے تیار نہیں تھی؟ان دونوں سوالات کو ساتھ رکھنا ضروری ہے ، مگر انہیں ایک دوسرے کی تردید نہیں بنانا چاہیے ۔ریاستی اختیار کی قانونی جواب دہی اپنی جگہ لازم ہے ۔ تحریک انصاف کی سیاسی ناکامی کا احتساب اپنی جگہ ضروری ہے ۔عدالتوں کی ساکھ اس بات سے بنے گی کہ وہ بنیادی حقوق کا بروقت اور مؤثر تحفظ کر سکیں۔ پارلیمنٹ کی ساکھ اس سے بنے گی کہ وہ حکومت سے جواب حاصل کر سکے ۔ وفاقی حکومت کی ساکھ اس سے بنے گی کہ وہ سلامتی کے نام پر کیے گئے اقدامات کا قانونی جواز اور عملی فائدہ ثابت کر سکے ۔ اور تحریک انصاف کی ساکھ اس سے بنے گی کہ وہ احتجاجی قوت کو سیاسی بصیرت، تنظیمی نظم اور قابلِ حصول نتائج میں بدل سکے۔پاکستان کا اصل بحران صرف یہ نہیں کہ اختیار کس کے پاس ہے ۔ بحران یہ ہے کہ اختیار استعمال کرنے والا کس کے سامنے جواب دہ ہے ، اور جواب طلب کرنے والے ادارے اپنے سوالات کو مؤثر نتائج میں بدلنے کی کتنی صلاحیت رکھتے ہیں۔سہیل آفریدی کی غیر موجودگی اسی بحران کی ایک نمایاں علامت بن گئی ہے ۔جب ایک منتخب وزیراعلیٰ کی تحویل کا اعتراف موجود ہو، مگر اس کی مکمل قانونی حیثیت کے لیے عدالت کو جواب طلب کرنا پڑے ، تو سوال صرف ایک فرد کے مقام کا نہیں رہتا۔یہ سوال پورے نظام سے ہوتا ہے ،کیا پاکستان میں قانون واقعی اختیار کو پابند کرتا ہے ، یا اختیار رکھنے والے ہی طے کرتے ہیں کہ قانون کب اور کس حد تک نافذ ہوگا؟
اس سوال کا جواب کسی سیاسی تقریر، پریس کانفرنس یا یوٹیوب ویڈیو میں نہیں ملے گا۔ اسے حکومت کے ریکارڈ، عدالت کے فیصلے ، پارلیمنٹ کی مؤثر نگرانی اور سیاسی جماعتوں کے عملی احتساب سے سامنے آنا ہوگا۔اور جب تک ایسا نہیں ہوتا، سہیل آفریدی کی غیر موجودگی محض ایک خبر نہیں رہے گی، یہ آئینی جواب دہی کے ادھورے وعدے کی یاد دہانی بنی رہے گی۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں