میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

کشمیر میں یکساں جمعہ خطبہ کی تجویز مسترد

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۸ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مقبوضہ جموں و کشمیر میں نریندر مودی کی سرکار کے زیر اثر وقف بورڈ کی جانب سے مساجد اور خانقاہوں میں جمعے کے یکساں خطبات اور مشترکہ موضوعات مقرر کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے، جسے مقامی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔متحدہ مجلس علماء (جس کی قیادت میر واعظ عمر فاروق کر رہے ہیں) نے کہا ہے کہ مذہبی گفتگو اور خطابت کو کسی قانونی یا انتظامی ادارے کے ذریعے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، اور منبر ایک امانت ہے۔جموں و کشمیر کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس اقدام کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں بی جے پی کی ناقابلِ قبول مداخلت قرار دیا ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اس اقدام کو تجویز کردہ یکساں سول کوڈ سے تشبیہ دیتے ہوئے مقبوضہ وادی کو بی جے پی کی تجربہ گاہ قرار دیا ہے۔ یہ تجویز جموں و کشمیر وقف بورڈ کی جانب سے سامنے آئی جس کی سربراہ بی جے پی رہنما سیدہ درخشاں اندرابی ہیں۔

مسلم اکثریتی وادی میں مساجد کے خطبات کو یکساں (سرکاری سانچے میں ڈھالنے) کی تجویز، دراصل مذہبی آزادیوں کو سلب کرنے، اختلافی آوازوں کو دبانے اور اسلام کو ریاستی و سیاسی مفادات کے تابع کرنے کی خاطر دہائیوں سے جاری مسلسل کوششوں کی ہی ایک تازہ کڑی ہے۔اس ہفتے جموں و کشمیر وقف بورڈ نے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنی زیرِ نگرانی مساجد اور خانقاہوں میں جمعے کے خطبات کو یکساں بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔اس بورڈ کی سربراہ سیدہ درخشاں اندراپی ہیں، جو حکمراں ہندو قوم پرست جماعت ‘بھارتیہ جنتا پارٹی’ (بی جے پی) کی سینئر رہنما ہیں، جبکہ بورڈ کے دیگر بنیادی ارکان کو بھی اسی جماعت نے نامزد کیا ہے۔ اس تجویز کو وادی بھر کے افراد اور تنظیموں کی طرف سے شدیدتنقید کا نشانہ بنایا گیا، جنہوں نے اسے "کشمیری مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت ” قرار دیا۔
مظلوموں کی جدوجہد کی داستان بھی عجیب ہے۔ 2023 کے اس حکومتی فرمان کو ہی دیکھ لیجیے جس کے تحت جمعہ کے خطبات میں فلسطین کا ذکر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی، اور یہ شرط رکھی گئی کہ فلسطین کے حق میں کی جانے والی دعائیں صرف عربی زبان میں ہوں گی، کشمیری میں نہیں۔ آخر کسی دعا کی زبان سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اکثر کشمیری عربی زبان پڑھ تو سکتے ہیں، لیکن اسے سمجھنے سے قاصر ہیں۔ کشمیری ایک طویل عرصے سے فلسطین کو اپنے ہی حالات کا آئینہ دار سمجھتے آئے ہیں، اور ریاست کو اصل خوف یہی تھا کہ اگر فلسطین کے حق میں کشمیری زبان میں دعا کی گئی-97جسے لوگ سنیں اور سمجھیں بھی-97تو وہ خود کشمیر کے حالات پر ایک احتجاجی بیانیے کی شکل اختیار کر جائے گی۔ یہاں دعا اور احتجاج ایک دوسرے میں پیوست ہیں۔سرینگر میں محرم الحرام کے جلوس کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ امن و امان کا بہانہ بنا کر 1989 میں اس جلوس پر پابندی لگائی گئی تھی، جسے طویل عرصے بعد بالاخر 2023 میں بحال کیا گیا۔ اس پابندی کے پیچھے بھی حکومت کا یہی خوف کارفرما تھا کہ محرم کا یہ جلوس کہیں قبضے کے خلاف ایک بڑے مظاہرے میں تبدیل نہ ہو جائے۔ تاہم، سب سے زیادہ قابلِ غور وہ شرائط ہیں جو اس جلوس کی بحالی پر عائد کی گئیں۔ شرکاء کو کسی بھی ایسی بات سے روک دیا گیا جسے ‘‘ملک دشمن’’ یا ‘‘اشتعال انگیز’’ سمجھا جائے، یا جس میں ‘‘کالعدم تنظیموں’’ اور ‘‘دہشت گردوں’’ کی علامتیں ظاہر ہوتی ہوں۔

یہ دراصل ریاست کی اصطلاح میں وہ مبہم الفاظ ہیں جو وہ حقِ خودارادیت کی کشمیری جدوجہد سے وابستہ عوام، نظریات اور تنظیموں کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ماضی میں اس جلوس میں ان نوجوانوں کی تصاویر اٹھائی جاتی تھیں جنہوں نے بھارتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی یا جو بھارتی افواج کے ہاتھوں مارے گئے۔ محرم دراصل معرکہ کربلا کی یاد دلاتا ہے، جو مسلمانوں کی نظر میں ظالم کے خلاف مظلوم کی ابدی جدوجہد کا استعارہ ہے۔ کشمیریوں نے ہمیشہ کربلا کے اس آئینے میں اپنے ہی دکھوں کا عکس دیکھا ہے۔ چنانچہ، جلوس کو دوبارہ سڑکوں پر آنے کی اجازت اسی شرط پر ملی کہ کشمیری اپنے احوال کو کربلا سے تشبیہ دینا بند کر دیں۔وقف بورڈ بذاتِ خود اختیارات کی تدریجی مرکزیت کا شاخسانہ ہے۔ ڈوگرا راج میں اس کا آغاز ‘مسلم اوقاف ٹرسٹ’کے طور پر ہوا تھا، جسے شیخ عبداللہ کی تحریک نے مابھی مذہبی اوقاف کے انتظام و انعام کے لیے قائم کیا تھا، اور بعد میں یہ عملاً ان کی نیشنل کانفرنس پارٹی کا ایک اثاثہ بن کر رہ گیا۔ 2003ء میں، پی ڈی پی اور کانگریس کی مخلوط حکومت نے اس بورڈ کا کنٹرول سنبھال لیا اور وزیر اعلیٰ کو اس کا چیئرمین بنا دیا۔ پھر 2019ء کے ری آرگنائزیشن ایکٹ (قانونِ نو تشکیل) نے کشمیر کے اپنے وقف قانون کو مرکزی قانون سے بدل دیا، جبکہ ہندو اور سکھ عبادت گاہوں کے قوانین کو جوں کا توں برقرار رکھا گیا۔ ایک صدی سے بھی کم عرصے میں، کشمیر کی خانقاہیں اور درگاہیں پہلے ایک عوامی ٹرسٹ سے سیاسی جماعت، پھر مقامی حکومت اور بالآخر نئی دہلی کے براہِ راست قبضے میں چلی گئیں۔
اس بورڈ کے اثرات عقیدت کی معیشت تک بھی پھیل چکے ہیں۔ اگست 2022 میں، بورڈ نے درگاہوں پر نام نہاد ‘‘غیر اخلاقی رسومات’’ پر پابندی عائد کر دی۔ بورڈ کے اہلکاروں نے، پولیس کی معیت میں، نسل در نسل چلے آ رہے متولیوں اور گدی نشینوں کے چندہ بکسے ہٹا دیے۔

بورڈ نے اس اقدام کو شفافیت کا نام دے کر پیش کیا، لیکن حقیقت میں یہ اقتدار کو ایک مرکز پر سمیٹنے کی جانب ایک اور قدم تھا۔ پھر جبر و استبداد کی وہ بدترین اور واشگاف شکلیں بھی ہیں، جیسے سرینگر کی سب سے اہم مساجد میں سے ایک، جامع مسجد کی بار بار تالہ بندی۔ اس کے دروازے مقفل کر دیے جاتے ہیں اور نماز پڑھنے والوں کو مایوس لوٹا دیا جاتا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں