پاکستان کی معاشی ترقی سست، مہنگائی 9.9 فیصد تک پہنچنے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی پیش گوئی
شیئر کریں
شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا خدشہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4.5 ارب ڈالر تک بڑھ سکتا ہے،عالمی مالیاتی ادارے کی رپورٹ
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار سست رہنے، مہنگائی میں اضافے اور بیرونی مالی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا ہے۔
آئی ایم ایف کی مڈل ایسٹ اینڈ سینٹرل ایشیا ریجن سے متعلق رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جبکہ مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4.5 ارب ڈالر تک بڑھنے اور ملک کی بیرونی مالی ضروریات میں اضافے کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کو رواں مالی سال کے دوران معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے، مہنگائی پر قابو پانے اور بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم رکھنے جیسے اہم چیلنجز کا سامنا رہے گا۔
حکومت نے رواں مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا ہے، تاہم آئی ایم ایف کی پیش گوئی اس ہدف سے کم ہے۔مہنگائی میں اضافے کا خدشہ، شرح سود بڑھانے کی ضرورت پڑسکتی ہے، آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح 9.9 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ رپورٹ میں اگست کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد بتائی گئی ہے۔
مہنگائی میں اضافے کے خدشات کے پیش نظر قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے مالیاتی پالیسی مزید سخت کرنے اور شرح سود میں اضافے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ مہنگائی میں مسلسل اضافے سے عوام کی قوتِ خرید متاثر ہونے اور گھریلو اخراجات میں دباؤ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ بالخصوص اشیائے ضروریہ، توانائی اور دیگر بنیادی اخراجات میں اضافہ عام شہریوں کے لیے معاشی مشکلات بڑھا سکتا ہے۔
رپورٹ میں پاکستان کی بیرونی مالی صورتحال کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ آئی ایم ایف کے مطابق درآمدات میں اضافے اور ترسیلاتِ زر کی رفتار میں سست روی کے باعث ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ حکومت نے اس خسارے کا تخمینہ تقریباً 2.5 ارب ڈالر لگایا ہے۔
رپورٹ کے تخمینوں کے مطابق رواں مالی سال پاکستان کی درآمدات 70 ارب ڈالر جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر 45.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ درآمدات اور بیرونی ادائیگیوں میں اضافے کی صورت میں زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی مالی ضروریات مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ اس صورت حال میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں، درآمدی ضروریات اور زرمبادلہ کے ذخائر کو مناسب سطح پر برقرار رکھنے کے لیے مالی وسائل کی دستیابی اہم ہوگی۔
رپورٹ میں برآمدی شعبے کی کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ برآمدات میں خاطر خواہ بہتری نہ آنے کی صورت میں بیرونی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔آئی ایم ایف نے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے اور بیرونی مالی دباؤ سے نمٹنے کے لیے شرح مبادلہ میں لچک کو ضروری قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے، ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے اور زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ معاشی ماہرین کے لیے یہ صورت حال اس امر کی اہمیت اجاگر کرتی ہے کہ معاشی استحکام کے ساتھ پیداواری شعبوں کی ترقی، برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔
آئی ایم ایف کی پیش گوئیاں پاکستان کی معیشت کو درپیش ممکنہ چیلنجز کی نشاندہی کرتی ہیں۔ آئندہ مہینوں میں معاشی ترقی، مہنگائی، درآمدات، ترسیلاتِ زر اور زرمبادلہ کے ذخائر کی صورت حال اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی کہ ملک بیرونی مالی دباؤ سے کس حد تک نمٹ پاتا ہے۔


