میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ ہائیکورٹ، طلبہ یونین انتخابات نہ کرانے پر رجسٹرار جامعہ کراچی

سندھ ہائیکورٹ، طلبہ یونین انتخابات نہ کرانے پر رجسٹرار جامعہ کراچی

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

2019ء میں قانون بننے کے باوجود انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے؟ عدالت کا استفسار

رجسٹرار کو آئندہ سماعت پر پیش ہوکر وضاحت دینے کا حکم،  مزید سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی

 

سندھ ہائیکورٹ نے جامعہ کراچی میں طلبہ یونینز کے انتخابات نہ کرانے کے خلاف دائر درخواست پر رجسٹرار جامعہ کراچی کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

عدالت نے استفسار کیا ہے کہ جب 2019ء میں طلبہ یونینز سے متعلق قانون منظور ہوچکا تھا تو اب تک انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے۔جسٹس علی حیدر پر مشتمل سندھ ہائیکورٹ کے بینچ نے درخواست کی سماعت کے دوران رجسٹرار جامعہ کراچی کو ہدایت کی کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوکر وضاحت دیں کہ 2019ء کے قانون پر اب تک عمل درآمد کیوں نہیں کیا گیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار کے بارے میں بھی استفسار کیا، جس پر درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے بتایا کہ درخواست گزار قانون کے طلبہ ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ طلبہ یونینز جمہوری اقدار کے فروغ اور نوجوانوں میں قیادت کی صلاحیتیں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

ان کے مطابق طلبہ یونینز تعلیمی اداروں میں جمہوری شعور پیدا کرنے اور طلبہ کو نمائندگی کے مواقع فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ عدالت نے جامعہ کراچی میں طلبہ یونینز کے انتخابات نہ ہونے سے متعلق معاملے پر رجسٹرار سے وضاحت طلب کرتے ہوئے درخواست کی مزید سماعت نومبر کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ درخواست میں جامعہ کراچی میں طلبہ یونینز کے انتخابات نہ کرانے کے معاملے کو چیلنج کیا گیا ہے، جبکہ عدالت نے قانون پر عمل درآمد اور انتخابات میں تاخیر سے متعلق وضاحت کے لیے جامعہ کراچی کے رجسٹرار کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں