میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گردوں کی صحت کے لیے 7 غذائیں مفید، نمک کا کم استعمال بھی ضروری

گردوں کی صحت کے لیے 7 غذائیں مفید، نمک کا کم استعمال بھی ضروری

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

سیب، اسٹرابیری، ترش پھل اور مختلف سبزیاں متوازن غذا کا اہم حصہ

ماہرین کا بلڈ پریشر اور ذیابیطس قابو میں رکھنے پر زور

 

گردے انسانی جسم سے فاضل مادوں کے اخراج، خون کی صفائی اور پانی و نمکیات کا توازن برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جبکہ متوازن غذا اور صحت مند طرزِ زندگی گردوں کی صحت برقرار رکھنے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق روزمرہ خوراک میں نمک کا استعمال محدود رکھنے کے ساتھ پھلوں اور سبزیوں کو مناسب مقدار میں شامل کرنا مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔

ماہرین کے مطابق سوڈیم کا زیادہ استعمال بلڈ پریشر میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، جس سے گردوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے متوازن غذا کے ساتھ بلڈ پریشر اور ذیابیطس کو قابو میں رکھنا بھی ضروری ہے۔

غذائی ماہرین کے مطابق سیب میں پیکٹین نامی حل پذیر فائبر پایا جاتا ہے، جو نظامِ ہاضمہ اور مجموعی صحت کے لیے مفید ہے۔ اسی طرح اسٹرابیری، بلیو بیری اور دیگر بیریز اینٹی آکسیڈنٹس، وٹامنز اور فائبر فراہم کرتی ہیں، جنہیں روزمرہ خوراک کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

کینو، مالٹا اور لیموں وٹامن سی کے اچھے ذرائع ہیں۔ لیموں کا رس پانی میں ملا کر پینے سے بعض افراد میں گردوں کی مخصوص اقسام کی پتھری بننے کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کا فائدہ ہر شخص کے لیے یکساں نہیں اور یہ طبی علاج کا متبادل نہیں۔

ماہرین کے مطابق بند گوبھی میں سوڈیم نسبتاً کم ہوتا ہے، جبکہ اس میں مختلف وٹامنز اور فائبر بھی پائے جاتے ہیں۔ اسے مناسب طریقے سے پکا کر یا سلاد کی صورت میں خوراک میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

شکر قندی فائبر، وٹامنز اور معدنیات فراہم کرتی ہے، تاہم اس میں پوٹاشیم بھی موجود ہوتا ہے۔ گردوں کی بیماری میں مبتلا افراد کو شکر قندی سمیت پوٹاشیم سے بھرپور غذاؤں کا استعمال اپنے معالج کے مشورے سے کرنا چاہیے۔

اسی طرح کیل نامی پتوں والی سبزی وٹامنز، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس کا ذریعہ ہے، جبکہ پھول گوبھی میں وٹامن سی، فولیٹ اور فائبر پایا جاتا ہے۔

یہ سبزیاں متوازن خوراک کا حصہ بن سکتی ہیں، تاہم گردوں کے مریضوں کے لیے ان کا انتخاب بیماری کی نوعیت اور جسم میں پوٹاشیم کی سطح کے مطابق کیا جانا چاہیے۔

طبی ماہرین کے مطابق گردوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے کسی ایک غذا پر انحصار کرنے کے بجائے متوازن خوراک، مناسب مقدار میں پانی کا استعمال، نمک میں کمی اور صحت مند طرزِ زندگی اپنانا ضروری ہے۔

جن افراد کو گردوں کی بیماری لاحق ہو یا پانی کے استعمال میں پابندی ہو، انہیں اپنے معالج کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں