میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جب انسان کے اندر کی دنیا بنجر ہو جائے!

جب انسان کے اندر کی دنیا بنجر ہو جائے!

جرات ڈیسک
بدھ, ۱۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کبھی کبھی ایک شاعر پوری تہذیب کا پوسٹ مارٹم صرف چند صفحات میں کر دیتا ہے۔ ٹی ایس ایلیٹ کی نظم ‘دی ویسٹ لینڈ’ ایسی ہی ایک تخلیق ہے۔ یہ محض ایک نظم نہیں، پہلی جنگِ عظیم کے بعد زخمی ہو جانے والی انسانی روح کی ایک ایسی ایکسرے رپورٹ ہے جس میں جسم سے زیادہ انسان کا اندر دکھائی دیتا ہے۔1922 میں شائع ہونے والی‘دی ویسٹ لینڈ’ ایک ایسی دنیا کی تصویر ہے جہاں عمارتیں کھڑی ہیں مگر روحیں گر چکی ہیں، لوگ زندہ ہیں مگر زندگی سے محروم ہیں، شہر آباد ہیں مگر انسان اندر سے ویران ہیں۔ ایلیٹ نے جنگ، جدیدیت، مذہبی زوال، جنسی بے معنویت، تنہائی، یادداشت اور تہذیبی شکست کو ایک ایسے شعری آئینے میں جمع کیا جس میں صرف یورپ نہیں بلکہ پوری انسانی تاریخ اپنا چہرہ دیکھ سکتی ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ زمین بنجر کیوں ہوتی ہے؟اصل سوال یہ ہے کہ انسان کے اندر کی زمین کب بنجر ہوتی ہے؟انسانی تاریخ دراصل اسی
سوال کا ایک طویل جواب ہے۔قدیم انسان نے جب پہلی مرتبہ آسمان کی طرف دیکھا تو اسے صرف ستارے نظر نہیں آئے، اسے اپنے
وجود کا سوال دکھائی دیا۔ اس نے دیوتا بنائے، عبادت گاہیں بنائیں، داستانیں لکھیں، مردوں کو دفن کیا، بادشاہ بنائے، قوانین مرتب کیے اور
تہذیبیں تعمیر کیں۔ ان تمام کوششوں کے پیچھے ایک ہی خوف تھا: بے معنویت کا خوف۔انسان صرف روٹی سے نہیں جیتا؛ وہ معنی سے جیتا
ہے۔اسی لیے جب معنی ٹوٹتے ہیں تو محل باقی رہتے ہوئے بھی تہذیبیں ویران ہو جاتی ہیں۔رومی سلطنت کے زوال کو دیکھیں۔ سلطنت
کے پاس فوج تھی، سڑکیں تھیں، قانون تھا، دولت تھی، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ صرف طاقت کسی تہذیب کو زندہ نہیں رکھ سکتی۔ جب اجتماعی
اخلاق، سیاسی اعتماد اور مشترکہ معنی کمزور پڑتے ہیں تو طاقت ایک ایسے مکان میں تبدیل ہو جاتی ہے جس کی بنیاد اندر سے کھوکھلی ہو چکی
ہو۔یونان کے المیوں میں بھی یہی خوف موجود ہے۔ سوفوکلیز کا اوڈیپس صرف ایک بادشاہ کی داستان نہیں؛ وہ اس انسان کی علامت ہے جو
اپنے بارے میں سچ جاننے کی قیمت ادا کرتا ہے۔ شیکسپئر کا ہیملٹ صرف ڈنمارک کا شہزادہ نہیں؛ وہ ایک ایسی روح ہے جو فیصلہ، شک اور
وجودی بے معنویت کے درمیان پھنس گئی ہے۔اور پھر جدید انسان آیا۔اس نے خدا کے بارے میں سوال اٹھایا، بادشاہت کو چیلنج کیا،
سائنس دریافت کی، صنعتی انقلاب برپا کیا، شہروں کو بلند کیا اور کائنات کو سمجھنے کے لیے دوربینیں بنائیں۔ لیکن جتنا اس نے بیرونی دنیا کو فتح
کیا، اتنا ہی اس کے اندر ایک نیا خلا پیدا ہوتا گیا۔فریڈرک نطشے نے جب خدا کی موت کا اعلان کیا تو وہ صرف مذہب کے خلاف ایک جملہ
نہیں کہہ رہا تھا؛ وہ جدید انسان کے سامنے ایک خوفناک سوال رکھ رہا تھا:اگر پرانے معنی ختم ہو گئے تو نئے معنی کون پیدا کرے گا؟یہ سوال آج
بھی ہمارے سامنے کھڑا ہے۔فرائیڈ نے انسانی ذہن کے اندر اتر کر بتایا کہ انسان ہمیشہ اپنے اعمال کا مکمل مالک نہیں۔ اس کے اندر دبے
ہوئے خوف، خواہشیں، صدمے اور نامکمل تجربات اس کے رویوں کو تشکیل دیتے ہیں۔ یعنی باہر کا انسان جتنا باشعور دکھائی دیتا ہے، اندر
سے اتنا ہی پیچیدہ اور بعض اوقات ٹوٹا ہوا ہو سکتا ہے۔کارل یونگ نے انسانی نفسیات میں ایک اور تاریکی دکھائی: انسان کے اندر ایک ایسا سایہ بھی موجود ہے جسے وہ خود تسلیم نہیں کرنا چاہتا۔ جب فرد یا معاشرہ اپنے سائے کو دیکھنے سے انکار کرتا ہے تو وہ سایہ کہیں نہ کہیں تباہی کی
صورت میں واپس آتا ہے۔

‘دی ویسٹ لینڈ’ اسی اجتماعی سائے کی شاعری ہے۔اس نظم میں مختلف تہذیبوں، زبانوں، مذہبی روایتوں اور ادبی حوالوں کے ٹکڑے
بکھرے ہوئے ہیں۔ ایلیٹ نے جان بوجھ کر ایک مربوط اور آرام دہ دنیا نہیں بنائی۔ اس نے ایک ٹوٹا ہوا آئینہ بنایا۔کیوں؟کیونکہ پہلی
جنگِ عظیم کے بعد انسان کا تجربہ بھی ٹوٹا ہوا تھا۔لاکھوں انسان جنگ میں مر چکے تھے۔ یورپ کا پرانا سیاسی اعتماد بکھر گیا تھا۔ مشین، جو انسان
کی خدمت کے لیے بنائی گئی تھی، انسان کو قتل کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن چکی تھی۔ ترقی کا خواب اچانک توپوں، خندقوں اور اجتماعی
قبروں کے سامنے کھڑا تھا۔یہاں انسانی تاریخ کا ایک خوفناک تضاد سامنے آتا ہے:انسان جتنا ترقی یافتہ ہوا، اس کے پاس تباہی کے اتنے
ہی طاقتور ذرائع بھی آتے گئے۔پتھر کا زمانہ انسان کو محدود فاصلے تک قتل کرنے دیتا تھا؛ جدید سائنس نے اسے پورے شہر تباہ کرنے کی صلاحیت دے دی۔

یہی وجہ ہے کہ‘دی ویسٹ لینڈ’ کی بنجر زمین صرف جنگ کے بعد کی زمین نہیں۔ یہ انسانی شعور کی زمین ہے۔وہ زمین جہاں یادیں ہیں مگر امید نہیں، خواہش ہے مگر محبت نہیں، گفتگو ہے مگر رابطہ نہیں، جسم ہیں مگر روحانی قربت نہیں۔ایلیٹ کا لندن بھیڑ سے بھرا ہوا ہے مگر انسان تنہا ہے۔یہ جدید شہری زندگی کا ایک بنیادی المیہ ہے۔آج انسان کے پاس ہزاروں رابطے ہیں مگر حقیقی تعلق کم ہے۔ اس کے پاس معلومات کا سمندر ہے مگر حکمت کا فقدان۔ اس کے پاس اظہار کے بے شمار ذرائع ہیں مگر اپنے اندر کی آواز سننے کا وقت نہیں۔ انسان پہلے غار میں اکیلا تھا، آج وہ ہجوم میں اکیلا ہے۔یہ تنہائی صرف فرد کی نہیں، اجتماعی بھی ہے۔

ہنّا آرنٹ نے جدید سیاسی انسان کے تنہائی کے تجربے پر غور کرتے ہوئے دکھایا کہ جب انسان اجتماعی دنیا سے حقیقی تعلق کھو دیتا ہے تو وہ آسانی سے بڑے سیاسی نعروں، خوف اور مطلق طاقت کے سامنے کمزور پڑ سکتا ہے۔یہیں سے تاریخ میں آمریتیں پیدا ہوتی ہیں۔جب انسان کے پاس معنی نہیں رہتے تو اسے کوئی دوسرا معنی فراہم کرنے والا آ جاتا ہے۔جب انسان سوال کرنا چھوڑ دیتا ہے تو طاقت اس کے لیے جواب لکھ دیتی ہے۔جارج آرویل کا 1984 بھی اسی خوف کی اگلی منزل ہے۔ وہاں حکومت صرف جسم پر حکومت نہیں کرتی؛ وہ انسان کی یادداشت، زبان اور سچ پر قبضہ کر لیتی ہے۔کیونکہ حکمران جانتے ہیں کہ جس انسان کی یادداشت چھین لی جائے، اس کا مستقبل بھی چھینا جا سکتا ہے۔

‘دی ویسٹ لینڈ’ میں بھی ماضی کے ٹکڑے مسلسل واپس آتے ہیں۔ تہذیب اپنے ماضی سے بات کر رہی ہے، مگر اسے مکمل طور پر سمجھ نہیں پا رہی۔شاید یہی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے:ہم تاریخ پڑھتے ہیں، مگر تاریخ سے سیکھتے نہیں۔ہم سلطنتوں کے زوال دیکھتے ہیں، جنگوں کے قبرستان دیکھتے ہیں، آمریتوں کے انجام پڑھتے ہیں، نسلوں کی تباہی کی داستانیں سنتے ہیں، پھر بھی ہر نئی نسل انہی غلطیوں کو نئے ناموں کے ساتھ دہراتی ہے۔اسی لیے ‘دی ویسٹ لینڈ’آج بھی زندہ ہے۔کیونکہ اس کی بنجر زمین صرف 1922 کی نہیں۔یہ ہر اس معاشرے کی زمین ہے جہاں انسان کی عزت کم ہو جائے، سچ خوف زدہ ہو جائے، محبت مفاد بن جائے، سیاست نفرت بن جائے اور تعلیم سوال پیدا کرنے کے بجائے خاموشی پیدا کرنے لگے۔

یہاں سے ہمیں پاکستان کی تاریخ کی طرف آنا پڑتا ہے۔پاکستان کی تاریخ بھی صرف حکومتوں، انتخابات، مارشل لاؤں اور آئینی
ترامیم کی تاریخ نہیں، یہ ایک ایسی اجتماعی نفسیات کی تاریخ بھی ہے جس نے بار بار امید پیدا کی اور بار بار مایوسی دیکھی۔1947 میں ایک
نئی ریاست وجود میں آئی تو اس کے ساتھ ایک خواب بھی پیدا ہوا۔ یہ خواب صرف جغرافیہ کا نہیں تھا؛ یہ ایک ایسے معاشرے کا خواب تھا
جہاں انسان کو انصاف، عزت، تعلیم اور بہتر زندگی مل سکے۔لیکن وقت کے ساتھ سیاسی عدم استحکام، آمریت، ادارہ جاتی کمزوری، معاشی
ناہمواری، کرپشن، خوف اور مسلسل تقسیم نے اجتماعی اعتماد کو زخمی کیا۔پاکستانی انسان کی سب سے بڑی محرومی شاید صرف غربت نہیں؛ اعتماد کا
بحران بھی ہے۔جب شہری کو بار بار یہ محسوس ہو کہ قانون طاقتور اور کمزور کے لیے مختلف ہے، محنت اور سفارش کے نتائج مختلف ہیں، سچ
بولنے اور خاموش رہنے کی قیمت مختلف ہے، تو معاشرے کے اندر ایک نفسیاتی بنجر پن پیدا ہوتا ہے۔پھر نوجوان مستقبل کے بجائے راستہ
تلاش کرتا ہے۔پھر تعلیم خواب نہیں، صرف ملازمت کا ذریعہ رہ جاتی ہے۔پھر سیاست خدمت نہیں، اقتدار کا کھیل دکھائی دیتی ہے۔اور پھر
معاشرہ اپنے ہی لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کر دیتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں صوبائی، لسانی، طبقاتی اور سیاسی تقسیموں نے بھی
اجتماعی شعور کو زخمی کیا۔ سندھ ہو، بلوچستان ہو، خیبر پختونخوا ہو، پنجاب ہو یا شہری و دیہی پاکستان-97ہر جگہ عام انسان نے طاقت کے بڑے
کھیلوں کے نتائج بھگتے ہیں۔لیکن ‘دی ویسٹ لینڈ’ہمیں صرف شکایت نہیں سکھاتی؛ یہ ایک اور سوال بھی دیتی ہے،کیا بنجر زمین دوبارہ زرخیز
ہو سکتی ہے؟جواب شاید ہاں ہے۔مگر بارش آسمان سے اکیلی نہیں آتی۔اس کے لیے انسان کو اپنی زمین تیار کرنا پڑتی ہے۔پاکستان کو بھی نئی
عمارتوں سے پہلے نئی نفسیات کی ضرورت ہے، ایسی نفسیات جو نفرت کے بجائے مکالمہ، خوف کے بجائے آزادی، تعصب کے بجائے
برابری اور شخصیت پرستی کے بجائے اداروں پر یقین پیدا کرے۔قومیں صرف سڑکوں، پلوں اور بلند عمارتوں سے نہیں بنتیں۔ قومیں اس
وقت بنتی ہیں جب عام انسان کو یقین ہو کہ اس کی زندگی کی قدر ہے۔‘دی ویسٹ لینڈ’کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تہذیب باہر سے
نہیں، اندر سے مرتی ہے۔پہلے انسان کے اندر کا چشمہ خشک ہوتا ہے، پھر شہر ویران ہوتے ہیں۔اور شاید اسی لیے آج ہمیں صرف پاکستان
کی سڑکوں، دریاؤں اور شہروں کو آباد کرنے کی ضرورت نہیں؛ ہمیں انسان کے اندر کی زمین کو بھی آباد کرنا ہے۔کیونکہ جس دن انسان کے
اندر امید، انصاف، محبت اور معنی دوبارہ جنم لے لیں،اسی دن بنجر زمین پر پہلی بارش اترے گی۔اور شاید تب ہمیں ایلیٹ کے سوال کا جواب
بھی مل جائے گا:بنجر زمین کا مسئلہ بارش کی کمی نہیں؛انسان کے اندر امید کے ختم ہو جانے کا نام ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں