مودی کی تاناشاہی، نوجوانوں کی مزاحمت
شیئر کریں
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اتوار، 11؍اکتوبر 2026ء کو انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں اور احتجاجی نوجوانوں نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے اعلان کیا کہ گیانیش کمار کے استعفے تک تحریک جاری رکھی جائے گی اور اسے نئی دہلی تک محدود رکھنے کے بجائے بھارت کے دوسرے شہروں تک پھیلایا جائے گا۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما سورَو داس نے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ سے سوال کیا کہ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش
کمار کا دفاع کیوں کر رہے ہیں، جبکہ ملک میں انتخابی عمل کی شفافیت پر سنگین اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے 2024ء کے
عام انتخابات کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتے ہوئے انتخابی نظام کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر اعتراض کیا۔ پارٹی رہنماؤں
کا مؤقف ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات ہونی چاہییں اور انتخابی نظام پر عوام کا اعتماد بحال کیا
جانا چاہیے ۔
انڈین ایکسپریس، رائٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)کی 11 اکتوبر 2026ء کی رپورٹس کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے اور دو دیگر رہنماؤں، سورَو داس اور آشوتوش رانکا، کو دہلی پولیس کی حراست سے رہا کر دیا گیا۔ تینوں رہنماؤں کو 10؍اکتوبر کو ممبئی سے دہلی پہنچنے پر طیارے کے اندر سے حراست میں لیا گیا تھا۔ انہیں ایگزیکٹو مجسٹریٹ کی عدالت میں پیشی کے بعد ایک سال تک امن و امان برقرار رکھنے اور اچھے طرزِعمل کی ضمانت دینے پر رہائی ملی۔ رہائی کے بعد انہوں نے واضح کیا کہ چیف الیکشن کمشنر کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج جاری رہے گا۔
پریس کانفرنس کے دوران پارٹی رہنماؤں نے ابھیجیت ڈپکے کی دادی کے انتقال کے معاملے پر بھی دہلی پولیس کے رویے پر اعتراض کیا۔ آشوتوش رانکا کے مطابق، حراست کے دوران ڈپکے کو ان کی دادی کے انتقال کی اطلاع دینے اور اس ذاتی صدمے سے نمٹنے کے معاملے میں پولیس نے حساسیت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے ایک بزرگ فرد کی وفات جیسے افسوس ناک موقع پر بھی ڈپکے کو مناسب انسانی ہمدردی فراہم نہیں کی گئی۔دوسری جانب بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کے دوران دہلی پولیس کی کارروائیوں نے شہری آزادیوں اور پُرامن احتجاج کے حق سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق، پولیس نے نوجوانوں، صحافیوں اور عام شہریوں کو گرفتار کرکے بسوں کے ذریعے نامعلوم مقامات پر منتقل کیا، جبکہ معروف یوٹیوبرز، سیاست دانوں اور عوامی نمائندوں کو گھروں میں نظر بند کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ اتوار کو بھی گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ناقدین کے مطابق، پُرامن احتجاج کے دوران ایسی کارروائیاں بنیادی حقوق اور جمہوری اقدار کے منافی ہیں، کیونکہ جمہوری نظام میں اختلافِ رائے اور پُرامن احتجاج کے حق کا احترام ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔
سپریم کورٹ نے بھی حکومت سے کہا کہ شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت یقینی بنائی جائے اور پُرامن، غیر مسلح مظاہرین کو قانونی طریقہ کار کے بغیر حراست میں نہ لیا جائے ۔ اس تناظر میں پولیس کارروائیوں کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری اور پُرامن احتجاج کے آئینی حق کے درمیان توازن کیسے قائم کیا جاتا ہے ۔ جمہوری نظام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو قانونی حدود، بنیادی حقوق اور عدالتی ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے ۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنماؤں نے موجودہ حالات کا موازنہ بھارت میں 1975ء کے دوران نافذ ہونے والی ایمرجنسی سے بھی کیا۔ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کی حکومت نے 25؍جون 1975ء کو ملک میں ہنگامی حالت نافذ کی تھی۔ اس دور میں شہری آزادیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں، حزبِ اختلاف کے متعدد رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور پریس پر سنسرشپ نافذ کی گئی۔ ایمرجنسی تقریباً 21 ماہ جاری رہی اور 21؍مارچ 1977ء کو ختم ہوئی۔پارٹی رہنماؤں نے موجودہ حالات کو اس تاریخی دور سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پُرامن احتجاج کو دبانے کے بجائے مظاہرین کے مطالبات سنے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق، انتخابی عمل پر اٹھنے والے سوالات کا جواب شفاف تحقیقات، قانونی طریقۂ کار اور جمہوری مکالمے کے ذریعے دیا جانا چاہیے ۔
بھارتی طلبہ رہنما اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر نیہا بورا کو 11؍اکتوبر 2026ء کو نئی دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، پولیس نے ابتدا میں نیہا بورا سے مشابہت رکھنے والی ایک لڑکی کو غلط فہمی کی بنیاد پر حراست میں لے لیا، جبکہ اصل نیہا بورا اس وقت کناٹ پلیس میں موجود تھیں۔ بعد ازاں پولیس نے ان کا تعاقب کیا اور وجے چوک کے قریب انہیں بھی حراست میں لے لیا۔ اس کارروائی میں متعدد دیگر مظاہرین کو بھی گرفتار کیا گیا۔ 11 اکتوبر کی رات تک نیہا بورا کی دوبارہ رہائی اور موجودہ مقام کے بارے میں مصدقہ اطلاعات سامنے نہیں آئی تھیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما سورو داس نے آج نئی دہلی کے پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام
عائد کیا کہ حراست کے دوران دہلی پولیس نے ان کے موبائل فون ضبط کر لیے ، لیکن انہیں ضبطی کی کوئی تحریری رسید فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں
نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس کی تحویل میں رہنے کے دوران ان کے فون ہیک یا کلون کیے گئے ہوں گے اور ان میں دستاویزات یا دیگر مواد
شامل کرکے بعد میں ان کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے ۔ سورو داس کے مطابق، یہ خدشہ اس لیے پیدا ہوا کہ پولیس نے 24
گھنٹے سے زیادہ وقت تک ان کے فون اپنے قبضے میں رکھے ، مگر ضبطی کے قانونی دستاویزات فراہم نہیں کیے ۔
نریندر مودی بزدل وزیر اعظم ہے ۔ نوجوانوں کے مظاہروں پر تشدد کے ذریعے پوری دنیا میں اس کی بدنامی ہوئی ہے ۔ مودی کی تاناشاہی کھل کر سامنے آ گئی ہے ۔ گیانیش کمار کے خلاف لڑائی کو مودی اور امیت شاہ نے اپنے خلاف بنا لیا ہے ۔ گیانیش کمار کو بچانے کے لیے مودی حکومت نے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا ہے ۔ گیانیش کمار نے مودی کی الیکشن میں جعلی ووٹوں سے مدد کی۔ مودی نے ثابت کر دیا کہ راجہ کی جان طوطے میں ہے ۔ مودی الیکشن کمشنر کو پوری طرح سے بچانے کے اقدامات کر رہا ہے ۔
بھارتی نوجوانوں کے احتجاج میں ‘‘جب جب مودی ڈرتا ہے ، پولیس کو آگے کرتا ہے ’’، ‘‘مودی، امیت شاہ مردہ باد’’، ‘‘مودی تیری تاناشاہی نہیں چلے گی’’ اور ‘‘گیانیش کمار کو جانا ہوگا، ورنہ دھرنا ہوگا’’ جیسے نعرے مقبول ہو گئے ہیں۔ ان نعروں کی گونج دارالحکومت نئی دہلی سے نکل کر پورے بھارت میں سنائی دے رہی ہے ۔ یہ نعرے محض احتجاجی الفاظ نہیں بلکہ بھارتی نوجوانوں کے غم و غصے ، سیاسی بے چینی اور جمہوری حقوق کے لیے ان کے مطالبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ نوجوان ان نعروں کے ذریعے مودی حکومت کی پالیسیوں، پولیس کارروائیوں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ ان نعروں نے مظاہرین کے جوش و جذبے کو مزید تقویت دی ہے اور احتجاجی تحریک میں ایک نئی توانائی پیدا کر دی ہے ۔
بسمل عظیم آبادی کا شہرۂ آفاق انقلابی شعر ‘‘سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے ، دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے ’’ بھارتی نوجوانوں کے احتجاج میں ایک مقبول نعرہ بن گیا ہے ۔ آزادی، حوصلے اور مزاحمت کی علامت سمجھے جانے والے اس شعر کے ذریعے نوجوان اپنے عزم، جرأت اور جدوجہد کے جذبات کا اظہار کر رہے ہیں۔ احتجاجی مظاہروں میں اس انقلابی کلام کی گونج نوجوانوں کے جوش و جذبے کو بڑھا رہی ہے اور اسے جمہوری حقوق کی جدوجہد سے وابستہ ایک علامتی آواز بنا رہی ہے ۔
٭٭٭


