میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
گورنر راج۔۔۔حل نہیں،نیا بحران !

گورنر راج۔۔۔حل نہیں،نیا بحران !

جرات ڈیسک
منگل, ۱۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

حکومت وہی ہے جو عوامی شعور میں بھی تسلیم شدہ ہو۔ حکومت کی طاقت کا اندازا، اس کے جاری حکم سے نہیں ، بلکہ عوام کے شعور میں
اس کے زندہ رہنے کی صلاحیت سے ہوتا ہے۔ اگر اقتدار اپنے فیصلے منوانے کے لیے ایمرجنسی، گورنر راج، فوجی تعیناتی اور متوازی انتظامی
ڈھانچوں کا سہارا لینے پر مجبور رہے تو سوال مخالفین کی‘ ضد’ کا نہیں، اقتدار کی‘ بنیاد’ کا بن جاتا ہے ۔ خیبر پختونخوا میں آج یہی سوال کھڑا ہے !
صوبے کا مسئلہ حل کیا جا رہا ہے یااس پر ایک نیا مسئلہ مسلط کیا جا رہا ہے ؟

11؍کتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورے پر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی۔
آئین کے آرٹیکل 232 اور234کے تحت اس اقدام کے ساتھ سول انتظامیہ کی مدد کے لیے آرٹیکل245 کے تحت فوج کی تعیناتی منظور
ہوئی۔ گیارہ رکنی مشاورتی کونسل اور بارہ اضلاع کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے ماتحت ایک الگ سیکریٹریٹ بھی قائم کیا گیا۔ سرکاری
جواز دہشت گردی کا بڑھتا ہوا خطرہ ہے ۔ سیاسی نتیجہ منتخب صوبائی حکومت کے اختیار میں کمی اور وفاقی مداخلت میں اضافہ ہے ۔حکومت کے
مطابق ڈھائی برس میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے واقعات196فی صد بڑھے ۔ یہ دعویٰ سنگین ہے ، مگر اس کی سنگینی ہی شفاف جانچ
کا تقاضا کرتی ہے ۔ بنیادی مدت کیا تھی، واقعات کی تعریف کیا رکھی گئی اور اعداد کس ادارے نے مرتب کیے ؟ حملوں کی تعداد اور ہلاکتوں کی
تعداد الگ پیمانے ہیں۔ ایک کے عدد سے دوسرے کی صورتِ حال ثابت نہیں ہوتی۔ حکومت کو صرف یہ نہیں بتانا چاہیے کہ خطرہ کتنا بڑھا، یہ
بھی واضح کرنا چاہیے کہ اب اس کے اقدام سے خطرہ کتنا کم ہوگا۔

دہشت گردی کو سیاسی بحث کی نذر کرنا غلط ہے ، مگر قومی سلامتی کو ہر سیاسی فیصلے کی ڈھال بنا دینا بھی اتنا ہی خطرناک ہے ۔ اگر صوبائی
حکومت ناکام تھی تو اس ناکامی کے شواہد اور وفاقی حکمت ِعملی کی سابقہ کارکردگی دونوں سامنے آنی چاہئیں۔واضح کرنا چاہئے کہ بلوچستان
میں زیادہ بدتر حالات کے باوجود خیبر پختونخواہ میں ایک الگ حل کیوں مسلط کیا گیا؟ شہریوں کو محفوظ گلیاں، فعال اسکول اور بے خوف
زندگی درکار ہے ۔ انہیں فیصد کے بڑے اعداد سے تحفظ نہیں ملتا۔کیا وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے کان میں کوئی
سرگوشی کر سکتا ہے کہ ایمرجنسی کا جواز پریس کانفرنس میں پیش کیا جا سکتا ہے، اس کی کامیابی صرف زمینی نتائج سے ثابت ہوگی۔

آئین غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اختیارات دیتا ہے ، لیکن قانونی اختیار اور سیاسی دانش مندی ایک چیز نہیں، اور یہا ں اسی چیز کی کمی
ہے۔ اگرچہ ایمرجنسی، گورنر راج اور مارشل لا مترادف اصطلاحیں نہیں۔ پھر بھی بنیادی سوال اپنی جگہ قائم ہے ۔کیا منتخب صوبائی حکومت کو
بے اثر کرنا امن کے لیے ناگزیر تھا، یا سیاسی اختلاف کو انتظامی مسئلہ بنا کر نمٹانے کا راستہ اختیار کیا گیا؟ آئین کسی اقدام کی گنجائش دے سکتا
ہے ، اس کی کامیابی کی ضمانت نہیں۔

پاکستان میں جب عوامی نمائندگی متنازع ہو جائے تو اقتدار دوسرے سہارے تلاش کرنے لگتا ہے ۔ فارم47 اور انتخابی مینڈیٹ سے
متعلق اعتراضات تحریکِ انصاف کے سیاسی بیانیے کا مرکزی حصہ رہے ، انتخابی عمل پر اعتماد کا بحران ایک زندہ حقیقت ہے۔ بھارت میں
اس پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ طلباء فلک شگاف نعرے لگارہے ہیں۔ جس کی گونج گمک میں کہیں سنائی دیتا ہے، ہماری نمائندگی واپس
لوٹاؤ!پاکستان میں بھی حالات مختلف نہیں، فرق بس اتنا ہے کہ یہاں سڑکیں گرم نہیں۔ فرق یہ بھی ہے کہ یہاں عوامی احتجاج کے ساتھ جو
سلوک ہوتا ہے، بھارت میں مودی ایسے سفاک حکمران بھی یہ ہمت نہیں کر سکتے۔

پاکستان میں جمہور دشمن بندوبست کی اس فضا میں گورنر راج انتظامی تبدیلی نہیں ایک عریاں پیغام ہے۔جہاں منتخب اختیار سے مطلوبہ
نتیجہ نہیں ملے گا ، وہاں اختیار کی تقسیم ہی بدل دی جائے گی۔جمہوریت کی لیلیٰ پہلے انتخابی تنازعات میں اپنے حسن کو گہنابیٹھی، اب اس کی
بدصورتی چھپانے کے لیے انتظامی دیواریں اٹھائی جا رہی ہیں۔ سب جمہوریت کے دعوے دار ہیں، مگر اس کی مرضی جب اقتدار کے لیے دشوار ہو جائے تو اس کے گرد سرپرستوں کا حلقہ وسیع ہونے لگتا ہے ۔ مسئلہ طاقت کی موجودگی نہیں، اس کا عوامی نمائندگی کی جگہ لے لینا ہے۔

بارہ اضلاع کے لیے الگ سیکریٹریٹ اس بندوبست کی اہم ترین کڑی ہے ۔ اگر مقصد متاثرہ علاقوں میں فنڈز کی فراہمی، تعمیر نو اور انتظامی
فیصلوں کو تیز کرنا ہے تو اس کے اختیارات، بجٹ اور جواب دہی کی تفصیل سامنے آنی چاہیے ۔ فیصلے کون کرے گا، رقم کس کے اختیار سے
جاری ہوگی، اور منتخب نمائندوں کا کردار کیا ہوگا؟ یہ سوالات کسی سازش کا ثبوت نہیں، شفاف حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہیں۔ لیکن اگر ایک ہی
صوبے میں اختیار کے دو مراکز قائم ہو جائیں اور ایک مرکز عوامی ووٹ کے بجائے وفاقی انتظام سے قوت حاصل کرے تو یہ محض دفتری تنظیمِ
نو نہیں رہتی، اس سے صوبائی خودمختاری اور عملی اقتدار کے درمیان نئی لکیر کھنچ جاتی ہے ۔

تحریکِ انصاف اس اقدام کو صوبائی خودمختاری پر حملہ اور سیاسی انتقام قرار دیتی ہے ۔ اس الزام کو محض شور سمجھ کر رد کرنا سیاسی کوتاہی
ہوگی۔ ریاستی دباؤ کسی تحریک کو منتشر کر سکتا ہے ، مگر اسے مظلومیت کا بیانیہ اور نئی توانائی بھی دے سکتا ہے ۔ سہیل آفریدی کی عمران خان کے
ساتھ وفاداری تحریک کے کارکنوں کے لیے حوصلے کی علامت بنی ہے ، تاہم علامت کو سیاسی کامیابی میں بدلنے کے لیے تحریکِ انصاف کو
احتجاج سے آگے بڑھ کر امن، حکمرانی اور جواب دہی کا قابلِ عمل تصور بھی دینا ہوگا۔ حکومت کی ناکامی خودبخود مخالف کی اہلیت کا ثبوت نہیں
بنتی۔

اصل امتحان نتائج کا ہے ۔ اگر گورنر راج کے بعد حملے کم ہوتے ہیں، پولیس مضبوط ہوتی ہے اور متاثرہ علاقوں میں معمول کی زندگی بحال
ہوتی ہے تو حکومت اپنے فیصلے کے حق میں دلیل دے سکے گی۔ اگر سیاسی محاذ آرائی بڑھے ، منتخب ادارے کمزور ہوں اور دہشت گردی برقرار
رہے تو سوال اٹھے گا کہ ریاست نے مسئلے کی جڑ پر ہاتھ رکھا تھا یا صرف اقتدار کی ایک نئی باڑ کھڑی کی تھی۔یہی ‘‘مستعار طاقت’’ کا بنیادی
تضاد ہے ۔ حکم نامے سے اختیار منتقل ہو سکتا ہے، افسر بدلے جا سکتے ہیں اور انتظامی ڈھانچے نئے سرے سے بنائے جا سکتے ہیں، عوامی
قبولیت نوٹیفکیشن سے پیدا نہیں ہوتی۔ اقتدار حاصل کرنا اور اسے نتیجے میں بدلنا دو مختلف چیزیں ہیں۔ حکومت نے اختیار بڑھانے کا فیصلہ کر
لیا، اب اسے اس فیصلے سے امن اور اعتماد پیدا کرکے دکھانا ہے ۔اگر منتخب حکومت کو ہٹا کر بھی امن قائم نہ ہو، اگر اختیار بڑھا کر بھی خوف کم
نہ ہو، تو پھر ناکام کون ہوا،صوبائی حکومت یا وہ طاقت کا ماڈل جو عوامی مینڈیٹ سے بے نیاز ہو کر ہر بحران کا جواب مزید اختیار میں تلاش کرتا
ہے ؟ گورنر راج خیبر پختونخوا کا مسئلہ حل کرنے آیا ہے ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کل وہ خود اس بات کا سب سے بڑا ثبوت بن جائے کہ مسئلہ صوبے
کی حکومت نہیں، اسے چلانے کا غیر نمائندہ طریقہ ٔ اقتدار تھا۔یاد رکھیں!اقتدار عوام کے مینڈیٹ سے خالی ہو جائے تو اسے بچانے کے لیے
آئین کے سہارے تو بہت مل جاتے ہیں، جواز نہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں