میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انسانیت کسی کی میراث نہیں!

انسانیت کسی کی میراث نہیں!

جرات ڈیسک
هفته, ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایک محبت سو افسانے ، ایک جذبہ اور کئی فسانے ، اس کا ایک مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ ایک محبت کی سو کہانیاں ،سو کہانیاں نہ بھی ہوں اورہو بھی سکتی ہیں۔ ایک محبت کا قصہ بیان کرتے ہیں اور اس سے وابستہ کہانیوں کو گننا شروع کرتے ہیں۔

ایک گھرانہ ، ذات کا قصائی ، کھاتے پیتے اور ایسے کہ خاندان یہ خواہش کریں کہ ان کی بیٹی وہاں بیاہی جائے ۔اس گھرانے کی بہو ، ایک بیٹی کی ماں گھر سے کسی کی محبت میں مبتلا ہو کر بھاگ جاتی ہے۔ یہ بہو جس گھر کی بیٹی تھی اس کی ماں قصائیوں کے خاندان کی اور باپ افغانی پٹھان۔ایک کہانی اس عورت کے شوہر اور اس کے باپ کی کہ شوہر نے وفورِ جذبات کے تحت اس کو ڈھونڈ کر قتل جیسے عمل کا ارتکاب کرنے کا سوچابھی نہیں بلکہ اس کے برعکس شوہرکے باپ نے انسانیت کی عملی مثال ایسے قائم کی کہ اس نے بیٹے سے کہا کہ تو اُسے طلاق دے دے اور فوراً ہی اس کا نکاح دوسری لڑکی سے پڑھوادیا۔اُس عورت کے لیے کتنے قانونی و شرعی مسائل بن سکتے تھے جو ان کے اس عمل سے ختم ہوگئے ۔

دوسری طرف اس عورت کا باپ اور بھائی ،انہوں نے بھی اسے غیرت کا مسئلہ نہیں بنایا کیوں کہ بعد میں وہ عورت ان سے ملنے آئی لیکن قتل نہ ہوئی ۔ ان دونوں خاندانوں تک انسانیت کیسے پہنچی ؟ وہ معاشرہ جہاں نکاح کے باوجود ،عورت کو اس کے شوہر بلکہ بچوں سمیت قتل کردیا جاتا ہے وہاں عورت کے اس فعل کو قبول کرلینا ، اس ذات اور نسل کے لوگوں نے کہ جنہیں کم ذات اور جھگڑالو سمجھا جاتا ہے ، عورت کا باپ افغانی پٹھان اس نے یا اس کے بیٹوں چچا وغیرہ نے کسی قبائیلی سوچ کا مظاہرہ نہیں کیا ،دونوں خاندانوں میں اسے عزت و غیرت کا مسئلہ نہیں بنایاگیا؛ یہ انسانیت کی اعلیٰ مثال ہے جو انہوں نے اس معاشرے میں قائم کی ۔

اخلاقیات کے مروجہ پیمانے اس عورت کے حق میں نہیں جاتے جو اپنی بیٹی کوبھی چھوڑ گئی تھی۔ لیکن غضب اس عورت نے یہ ڈھایا کہ ایک دن گھر سے باہر کھیلتی اپنی بیٹی کو اپنے ساتھ لے گئی ۔ اب دادا نے اپنی پوتی کے لیے قانونی رستہ اختیار کیا اور عدالت سے رجوع کیا۔شرافت کے اپنے امتحان کٹھن ہوتے ہیں۔عورت کی ماں نے عدالت میں جھوٹا بیان دیا کہ ان کا اپنی بیٹی سے کوئی رابطہ نہیں اور وہ نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہے ،حالاں کہ وہ ان سے ملنے آتی رہی ہے ، بیٹی کو لے جانے کے بعد بھی بیٹی اور نومولود بیٹے کے ساتھ بھی ماں کے گھر آئی اور رہی بھی۔

اس سارے قصے میں جس کی زندگی سب سے زیادہ متاثر ہوئی وہ اس عورت کی بیٹی ہے جو اب اپنے باپ کے گھر میں نہیں بلکہ اپنی ماں کے دوسرے شوہر اور سوتیلے باپ کے گھر میں ہے ۔اس کا ذہن اس سب کو کیسے اور کتنا سمجھ رہا ہوگا اور وہ معصوم کیا محسوس کررہی ہوگی ؟ وہ گم صم ہو گئی ہے ،یہ امر دل کو سوگوار کر دیتا ہے ۔تو یہ محبت تھی جو اس عورت ،ایک بیٹی کی ماں کو گھر سے بھگا کر لے گئی ؟ غیر مرد اور اس کی محبت یا اپنی محبت پر اتنا اعتماد۔ اب تک تو اس کا اعتماد سلامت ہے وہ اس مرد کے ساتھ بسی ہوئی ہے۔

پھر اس سوال پر آتی ہوں کہ یہ محبت تھی یا جنس کی طاقت؟ جنسی آسودگی میں کمی ؟ یا کیا؟
ہم قبائلی رواجوں کی مذمت کرتے ہیں ،اس کو مسترد کرتے ہیں۔اس طرح کے واقعات کی خبریں بھی آتی ہیں کہ عورت کو بچے اپنے
رستے کی رکاوٹ لگنے لگتے ہیں اور وہ انہیں خود مار دیتی ہے یا مروا دیتی ہے ۔ یہاں محبت جیسے عظیم جذبے کا نام نہیں لینا بھی گناہ ہے جہاں
جنسی خواہش خونی حدیں پار کرلے اور انسانیت حیوانیت کا روپ دھار لے۔یہ تسکین کا کون سا درجہ ہے جس میں اپنے ہی بچوں کا قتل جیسا
اقدام کیا جاتاہے ؟ جب پولیس پکڑتی ہے تب روتے ہیں،تو اب یہ رونا بھی کس لیے ہے؟ پکڑے گئے اس لیے۔

صد ہا شکر کہ یہ کہانی خونی نہیں۔ عزت و غیرت کے نام پر قتل کو سمجھنے کے لیے ڈاکٹر طاہر ہ ایس خان کی کتاب ‘‘عزت کے نام پر’’ مترجم صبیح
محسن پڑھ ڈالی ۔ وہ بہت زبر دست تحقیق ہے جس میں اس جذبے کے تاریخی ،قانونی ،بین الاقوامی ،مذہبی،جنس سے متعلق سماجی روّیے ،
انتظامی ؛غرض کون سا پہلو ہے کہ جس زاویے سے تحقیق نہیں کی گئی سوائے فرد کی ذاتی محبت و جنسی نفسیات کے۔یہاں ہم نفسیات کی گرہوں
کو کھولنے کی کوشش کررہے ہیں اس اعتراف کے ساتھ کہ فی الحال علم نفسیات کا کوئی نظریہ مدّ ِ نظر نہیں۔ ہم کیا اس عورت کی جرات کو سلام
کریں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی ،اسے جس سے بعد میں محبت ہوئی (اب اس کا ذریعہ اگر سوشل میڈیا بنا تو اس کا یہ
مطلب تو نہیں کہ ہم سوشل میڈیا کو لتاڑنے لگیں)، تو ٹھیک ہے کہ وہ عورت اس کے ساتھ ہے جس سے شادی کے بعد اسے محبت ہوگئی ،جیسی
شاید اسے اپنے شوہر سے نہیں ہوئی یا نہیں ملی ۔تو ہم نفسیات کی گتھیوں میں الجھے بغیر سادہ انفرادی آزادی کے اصول پر اس اقدام کو درست
سمجھ لیتے ہیں۔گھر سے بھاگنے کے لیے بڑا دل گردہ چاہیے پربیٹی کو چھوڑ کر جانے کے لیے سخت دل چاہیے۔ اس عورت نے جوراہ چُنی ، اس کی منصوبہ بندی کے بعد میں بیٹی کو لے جائے گی ،اور وہ لے گئی۔ وہ بیٹی کا سوتیلا باپ ، ممکن ہے کہ وہ اچھا انسان ہو ، اس کو ایک شادی
شدہ عورت سے محبت ہوگئی ، باقاعدہ طلاق میں تودونوں خاندان در آتے تو انہوں نے بھاگنے کا رستہ اختیار کیا،مشہور ضرب المثل ہے کہ
جنگ اور محبت میں سب جائز ہے ،یہ ہم نہیں کہہ رہے واقعہ بھی یہی ثابت کررہا ہے،اور کہاوتیں بھی صدیوں کے انسانی تجربات و مشاہدات
کا نچوڑ ہوتی ہیں تو انفرادی آزادی کے نظریے کے مطابق یہ سب صحیح ہے ۔فلسفے کی کسی کتاب میں صحیح کی تعریف یہ پڑھی تھی کہ ‘جو آپ کو صحیح
لگے وہ آپ کے لیے صحیح ہے ’، ہر شخص کا صحیح خواہ وہ دنیا کے مروجہ معیارات ،قانون و اخلاقیات سب کو روند ڈالے ؛اس شخص کے لیے وہی صحیح
ہے جس کو اس نے اپنے لیے صحیح سمجھا۔ان دونوں کے لیے سماج اور لوگ گئے بھاڑ میں۔ تو کیا اب وہ عورت اور وہ مرد اپنی ذات کی سچائی
کے ساتھ ،سچے تعلق کے ساتھ بندھے ہیں جو محض قانونی ،شرعی ، حلال اور جائز ہی نہیں ہے بلکہ سچا بھی ہے جو سیکڑوں ہزاروں صورتوں میں
سب کچھ ہوتا ہے پرسچا نہیں ہوتا۔سچ اور حقیقتوں کاٹاکرہ بڑا کٹھن ہوتا ہے ۔ زندگی کی حقیقتوں کے سامنے ذات کی سچائی کوئی چیز نہیں ،سماجی
حقیقتیں اتنی دیو ہیکل ہوتی ہیں کہ ذات کی سچائیاں ہڑپ کر جاتی ہیں۔ وجودیت کے فلسفے کا قائل انسان سچائی کا انتخاب کرے یا حقیقت کا ،
وہ اس انتخاب کی ذمہ داری قبول کرتا ہے ۔اس عورت نے غالباََ اپنی ذات کی سچائی کا انتخاب کیااور اس کو نہیں چاہیے کہ کسی بھی مرحلے پر
اپنے انتخاب کی ذمہ داری کسی دوسرے شخص یا صورت حال پر ڈالے بلکہ اسے چاہیے کہ ہر صورت میں اس کی ذمہ داری قبول کرے۔

مجھے یہاں اس عورت کی بیٹی کی فکر ہے۔کہتے ہیں کہ شاعری زندگی گزارنے کے نظریات سکھاتی ہے ۔ زہرہ نگاہ کی مشہور نظم جو نیرہ نور کی آواز میں امر ہوگئی ،کچھ عرصے پہلے میرے اندر اس نظم پر بہت تنقید بلکہ اس نظم کا پہلا بند زندگی گزارنے کا جو نظریہ بناتا ہے اس سے شدید اختلاف پیدا ہوا :
ملائم گرم سمجھوتے کی چادر
یہ چادر میں نے برسوں میں بُنی ہے
کہیں بھی سچ کے گُل بوٹے نہیں ہیں
کسی بھی جھوٹ کا ٹانکا نہیں ہے
مجھے لگا کہ یہ بند لڑکیوں کواس فرسودہ روایت کا امین بناتا ہے جسے بدل جانا چاہیے ، جسے ٹوٹ جانا ختم ہوجانا چاہیے ۔اور اب میں یہ سوچ رہی ہوں کہ کاش اس عورت نے یہ نظم پڑھی سنی ہوتی اور وہ اس کو اپنی زندگی میں عملی طور پر اپناتی ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں