میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن معاشرت

رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن معاشرت

جرات ڈیسک
جمعه, ۹ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

 

رحمت عالم ﷺ نبیوں کے نبی ہیں آپ ﷺکی زندگی مبارکہ کا ایک ایک لمحہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے اور قیمتی انمول ہے جس کو اپنا کر ہم اپنی زندگی خوشگوار پر امن گزار سکتے ہیں،حضور نبی کریمﷺ کا حسن معاشرت کی بھی کوئی نظیر نہیں آپؐ کا حسن معاشرت بھی تمام دنیا سے اعلیٰ تھا۔جناب رسول اللہ ﷺکی زندگی مبارکہ آپﷺکا بلند اخلاق ہمارے لئے مینارہ نور ہے،جس کو اپنا کر آج ہم اپنا کھویا ہوا مقام پاسکتے ہیں، اللہ عز وجل فرماتے ہیں حقیقت میں تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں نہایت ہی حسین نمونہ حیات ہے،ہر اس شخص کے لئے جو اللہ سے ملنے کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے’’(سورۃ الاحزاب، آیت:21)

قرآن کریم کی اس آیت میں آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ اور آپ ﷺ کے بے مثال اسوہ ٔحسنہ کو بہترین نمونہ قرار دیا گیاہے۔حضرت انس ؓ
سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس جوان نے کسی بوڑھے شخص کی اس کے بڑھاپے کی وجہ سے تعظیم وتکریم کی تو اللہ تعالیٰ اس
کے بڑھاپے کے وقت ایسے شخص کو مقرر کرے گا جو اس کی تعظیم کرے گا (رواہ الترمذی)حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ آپؐ
سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب، گفتگو میں سچے، نرم طبیعت والے تھے۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں دس سال تک
حضور نبی کریمؐ کی خدمت کرتا رہا ہوں۔ حضور نبی کریمﷺ نے ان دس سال میں مجھے کبھی بھی نہ جھڑکا اور نہ کبھی یہ فرمایا کہ تو نے فلاں کام
کیوں کیا ہے اور فلاں کیوں نہیں حضور ﷺ کسی سے بھی نفرت نہیں کرتے تھے۔ ہر قوم کے افراد کا اکرام کرتے اور ایسے ہی افراد کو ان کے
اوپر حاکم مقرر کرتے۔ لوگوں کو خوف خدا سے ڈراتے، عام لوگوں کی صحبت میں نہ بیٹھا کرتے لیکن کسی کے ساتھ بد اخلاقی سے پیش نہیں آتے
تھے۔ اپنے اصحاب کے گھر تشریف لے جاتے اور محفل میں شامل ہونے والوں کو ان کی شان کے مطابق نوازتے۔ لوگوں کے ساتھ ایسا
رویہ رکھتے کہ ہر ایک کو لگتا کہ حضور نبی کریمﷺ میری ہی طرف نظر کرم فرما رہے ہیں۔ جب کسی کو اپنے ساتھ بٹھاتے یا پھر کوئی آپؐ کے
پاس مسئلہ لے کر آتا آپؐ ا س وقت تک بیٹھے رہتے جب تک وہ شخص خود اجازت لے کر نہ چلا جاتا۔ اگر کوئی شخص حاجت لے کر آتا تو کسی کو
بھی خالی ہاتھ نہ بھیجا کرتے تھے۔حضرت ابن ابی ہالہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضورنبی کریم ﷺ ہمیشہ پھول کی طرح کھلے رہتے۔آپؐکا
لہجہ نرم اور خوش اخلاق تھا۔ بد اخلاقی، سنگدلی، بازاروں میں بلند آواز نہیں کرنا، گالی گلوچ، دوسروں میں عیب تلاش کرنا عرب کے لوگوں میں
عام تھا لیکن آپؐ تاحیات ان تمام چیزوں سے پاک رہے۔ جس چیز کی ضرورت نہ ہوتی اس کی طرف نہ دیکھتے۔ کوئی بھی سائل آپؐ کے
پاس آتا تو آپﷺ اسے خالی واپس نہ لوٹاتے، ارشاد باری تعالیٰ ہے ‘تو کیسی کچھ اللہ کی مہربانی ہے کہ اے محبوب تم ان کے لیے نرم دل
ہوئے (سورۃ آل عمران)

حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور نبی کریمﷺ سے بڑھ کر تبسم کا خو گر کسی کو نہیں دیکھا۔ جب کسی کو کسی
پریشانی میں مبتلا پاتے تو فوراً اس کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کرتے۔ آپؐ ہر کسی پر نہایت درجہ مہربان تھے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور
اکرمﷺ کی مدح وثنا بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپﷺ سب لوگوں سے بڑھ کر وسیع القلب گفتگو میں سچے نرم طبیعت والے اور
ذرہ نواز تھے،حضورﷺ کے نزدیک حسن اخلاق کی اتنی اہمیت تھی کہ اپنے لیے حسن اخلاق کی دعائیں کیا کرتے تھے(رواہ احمدفی
المسند1/430) ترجمہ:اے اللہ! تو نے میری بناوٹ کو سنواراہے، تو میرے اخلاق بھی سنوار دے اور بدخلقی سے بچنے کی بھی توفیق مانگتے تھے اور یہ دعا کرتے۔‘ترجمہ:اے اللہ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں برے اخلاق، برے اعمال اور بری خواہشات سے (رواہ الترمذی ، رقم الحدیث:6029)بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپﷺنے فرمایا، ترجمہ:تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں(رواہ البخاری، رقم:6029)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺنے فرمایا:تم سب میں مجھے سب سے زیادہ محبوب اور قیامت کے دن میرے
سب سے قریب وہ لوگ ہوں گے جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں گے(ترمذی، رقم:4798) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی
ہیں کہ میں نے حضور ﷺکو ارشاد فرماتے ہوئے سنا:مومن اپنے اچھے اخلاق کی وجہ سے روزہ رکھنے والے اور رات بھر عبادت کرنے والے
کے درجہ کو حاصل کر لیتاہے۔(رواہ أبوداؤد، باب فی حسن الخلق، رقم:4798)حضر ت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک
مرتبہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے پھر پورا واقعہ بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ جب حضور ﷺنے واپسی کاارادہ فرمایا تو
میرے والد ماجد حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے سواری پر کپڑا بچھایا اور حضورﷺ کے قریب لے آئے، جب حضور ﷺ سوار ہوگئے تو والد
محترم نے فرمایا اے قیس! تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جاؤ۔میں ساتھ ہولیا۔حضرت قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ
سے فرمایا کہ تم بھی میرے ساتھ سوار ہوجاؤ۔ میں نے از راہِ ادب انکار کیاتو پھر فرمایا کہ میرے ساتھ سوار ہوجاؤ یا پھرواپس ہوجاؤ۔ چنانچہ
میں مجبوراً واپس لوٹ گیا۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسو ل اللہﷺسے بہتر کسی کا اخلاق نہیں تھا کبھی آپ ﷺ
کے صحابہ یا اہل بیت میں سے کسی نے بلایا تو فوراً تشریف لے جاتے۔ حضرت جریر بن عبدا للہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جب سے میں
مسلمان ہواہوں کبھی بھی مجھے آپ ﷺنے اپنے پاس آنے سے منع نہیں فرمایا اور جب بھی میں نے حضورﷺ کو دیکھا تو آپ کو تبسم فرماتے
ہوئے دیکھا۔ایک مرتبہ عید کا دن تھا حضوراکرمﷺ اور حضرت عمر فاروقؓ رضی اللہ عنہ تشریف فرماتھے اور سامنے بچے خوشیاں منارہے تھے
حضرت عمررضی اللہ عنہ نے بچوں کو تنبیہ فرمائی کہ یہ کیا ہورہاہے؟ مگرحضوراکرم ﷺ نے فرمایا چھوڑوعمر! ان بچوں کو چھوڑ دو،ہر قوم کی ایک
عید ہوتی ہے آج ہماری عید ہے۔

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص آپ ﷺکے گوش مبارک سے بات کرنے کی خاطر منہ لگاتا تو آپ سر کو ہرگز پیچھے نہیں ہٹاتے یہاں تک کہ وہ شخص خو دہٹ جاتا۔ جب بھی کسی نے آپ کے دست مبارک کو پکڑا تو آپ نے کبھی اپناہاتھ نہ چھڑایا جب تک وہ خود نہ چھوڑ تا۔حضور ﷺ اپنوں سے تو پیار و محبت اور شفقت و ہم دردی کے ساتھ ملتے ہی تھے، جس کی بے شمار مثالیں ہیں، غیر بھی آپ کے رحم وکرم، عفو و درگزر اور خوش خلقی سے محروم نہ رہے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درمیان کبھی اس طرح پاؤں پھیلا کر نہ بیٹھتے کہ جس سے دوسروں کو تنگی ہو، جو بھی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا اس کی عزت فرماتے بعض اوقات کپڑا پھیلادیتے اور اپنا تکیہ عنایت فرمادیتے اگر کوئی احتراماً انکار کرتا تو آپ اصرار کرکے اُسے بٹھاتے اور قسم تک دیتے۔ایک روایت میں ہے کہ کوئی شخص کسی حاجت کے پیش نظر اگر آپ کے قریب آکر بیٹھ جاتا اورآپ اس وقت نماز پڑھ رہے ہوتے تو نماز مختصر فرمادیتے تھے اور اس کی ضرورت معلوم کرکے پہلے اسے فارغ کرتے پھر نماز میں مشغول ہوجاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺسے بڑھ کر تبسم کا خوگر اور کسی کو نہیں دیکھا۔اللہ تعالیٰ ہمیں حضورﷺکے مبارک اسوۂ حسنہ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں