میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جامعہ کراچی کا مالی  بحران، ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم نہ ہونے کا خدشہ

جامعہ کراچی کا مالی بحران، ملازمین کی تنخواہوں کے لیے رقم نہ ہونے کا خدشہ

جرات ڈیسک
اتوار, ۴ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈائریکٹر فنانس کا قائم مقام وائس چانسلر کے فیصلے سے تحریری اختلاف، ہائوس سیلنگ کی مد میں ماہانہ 5 کروڑ روپے خرچ ہونے کا امکان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جامعہ کراچی کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور ڈائریکٹر فنانس نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ مالی صورتحال برقرار رہی تو یونیورسٹی کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے، حتی کہ ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی مطلوبہ رقم دستیاب نہ ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق قائم مقام وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر طفیل جوکھیو نے حکومت سندھ کی جانب سے گرانٹ دینے سے انکار کے باوجود ملازمین کو ہاس سیلنگ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لیے یونیورسٹی کی سینڈیکٹ اور فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی منظوری حاصل کیے جانے سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

جامعہ کراچی انتظامیہ کے مطابق ہاس سیلنگ کی مد میں ماہانہ تقریبا 5 کروڑ روپے جبکہ سالانہ تقریبا 54 کروڑ روپے کے اخراجات متوقع ہیں۔

وائس چانسلر کے فیصلے پر ڈائریکٹر فنانس نے تحریری طور پر اپنے تحفظات سے آگاہ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جامعہ کراچی کے پاس سالانہ کروڑوں روپے کے اضافی اخراجات برداشت کرنے کے لیے مطلوبہ مالی وسائل موجود نہیں۔

ان کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یونیورسٹی کو دیوالیہ ہونے کے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے اور ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے بھی رقم دستیاب نہ رہنے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر فنانس کے تحفظات کے باوجود قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو نے ملازمین کو ہاس سیلنگ دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا اور بعد ازاں بیرون ملک دورے پر روانہ ہوگئے۔

واضح رہے کہ حکومت سندھ بھی ملازمین کی ہاس سیلنگ کے لیے جامعہ کراچی کو اضافی گرانٹ جاری کرنے سے انکار کرچکی ہے، جبکہ سابق وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے بھی فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ملازمین کو ہاس سیلنگ دینے سے انکار کیا تھا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں