میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پاکستان ملک ہے یا لیب؟

پاکستان ملک ہے یا لیب؟

جرات ڈیسک
هفته, ۳ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

یہ ہے پہلی کہانی ۔ رات کے آخری پہرایک لیبارٹری میں عجیب خاموشی تھی ۔ میزپرشیشیاں قطارمیں رکھی تھیں، کچھ میں بے رنگ محلول تھا، کچھ میں سرخ، کچھ میں نیلا۔ ایک سائنس دان سفید کوٹ پہنے ایک ٹیسٹ ٹیوب میں چند قطرے ڈال کرغور سے دیکھ رہا تھا۔ چند لمحے انتظار کیا، محلول کا رنگ بدلا، پھر اس نے سرہلایا اورٹیسٹ ٹیوب ایک طرف رکھ دی ۔ تجربہ ناکام ہوگیا تھا،اس نے دوسرا فارمولا اٹھایا، نئی مقدار ناپی، چند قطرے ڈالے ، شیشی کو ہلایا اورپھر انتظارکرنے لگا۔ اس باربھی نتیجہ توقع کے مطابق نہ آیا۔ سائنس دان نے کچھ لکھا، پرانا محلول پھینکا اور تیسرا تجربہ شروع کردیا۔یہ لیبارٹری کا معمول ہے ۔ سائنس میں ناکامی کوئی جرم نہیں۔ ایک تجربہ ناکام ہو تو دوسرا کیا جاتا ہے ، دوسرا ناکام ہو تو تیسرا۔ فارمولہ بدلا جاتا ہے ، مقدار بدلی جاتی ہے ، طریقہ بدلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ مطلوبہ نتیجہ حاصل ہوجائے ۔

اب دوسری کہانی پڑھیں!

ایک ایسا ملک ہے ، جس کی عمرپچھتر برس ہوچکی،یہاں کبھی ایک نظام آزمایا گیا، کبھی دوسرا۔ کبھی ایک راستہ درست قرارپایا، کبھی دوسرا۔ کبھی اقتدارکا مرکز بدلا، کبھی نظام کی شکل۔ کبھی جمہوریت کو نجات کا راستہ بتایا گیا، کبھی آمریت کو۔ کبھی احتساب کا نعرہ لگا، کبھی انقلاب کا۔ کبھی نیا پاکستان بنانے کی بات ہوئی، کبھی پرانے پاکستان کو بچانے کی۔ کبھی ملک کو مضبوط مرکز کی ضرورت محسوس ہوئی، کبھی صوبائی خودمختاری کو نجات سمجھا گیا۔

کبھی قومیانے سے معیشت سنوارنے کی کوشش ہوئی، پھرنجکاری کوعلاج قراردیا گیا۔ کبھی احتساب کو سب سے بڑا مسئلہ سمجھا گیا، کبھی معاشی ترقی کو، کبھی سیاسی استحکام کو۔‘‘سائنسدان’’ ہرتجربے پرقوم کو خوشخبری سناتے رہے ، اس بارہم کامیاب ہونگے ۔ یہی خوشخبریاں سنتے کچھ دن برسوں میں بدل گئے ، برس دہائیوں میں بدل گئے ۔ اورایک پوری نسل جوان ہوکر بوڑھی ہوگئی، مگر اسے وہ دن دیکھنے کو نہ ملا جس کا وعدہ ہرنئے تجربے کے آغاز پرکیا گیا تھا۔۔

اس منظرمیں ایک سوال چھپا ہے ۔

اگرکسی لیبارٹری میں تجربہ ناکام ہو جائے تو نقصان چند شیشیوں، چند قطروں اورکچھ وقت کا ہوتا ہے ۔ مگراگرتجربہ انسانوں پرہو؟ اگر فارمولہ کسی قوم کی زندگی ہو؟ اگر ٹیسٹ ٹیوب میں کوئی محلول نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کا مستقبل رکھا ہو؟ اگرہرنئے تجربے کے ساتھ ایک نسل کی امیدیں، خواب اور زندگیاں داؤ پرلگ رہی ہوں تو کیا سائنس کا یہی اصول وہاں بھی لاگو ہوگا؟

چلتے ہیں تیسری کہانی کی طرف!!

ناکام تجربے پرسائنس دان نتیجہ لکھتا ہے ، وجہ تلاش کرتا ہے اوراگلی بار وہی غلطی نہ دہرانے کی کوشش کرتا ہے ۔ یہی تحقیق کا اصول ہے ۔ تجربہ اس لیے نہیں کیا جاتا کہ اسے ہمیشہ دہراتے رہیں، بلکہ اس لیے کیا جاتا ہے کہ کسی حتمی نتیجے تک پہنچا جا سکے ۔۔مگراگر ایک ہی تجربہ بار بار کیا جائے ، ہر بار نتیجہ ناکام آئے ، پھر بھی نہ فارمولہ بدلے ، نہ طریقہ اور نہ ہی تجربہ کرنے والا اپنی غلطی تسلیم کرے تو معاملہ خطرناک ہوجاتا ہے ۔ کیونکہ مسلسل ناکام تجربات صرف وقت ضائع نہیں کرتے ، وہ پورے نظام کو کمزور کرنا شروع کردیتے ہیں۔تاریخ کا اصول بڑا سادہ ہے ۔ غلطی ایک بارہو توغلطی ہوتی ہے ، دوسری بارہو توغفلت، لیکن وہی غلطی بار بار دہرائی جائے تو پھریہ غلطی،غلطی نہیں رہتی۔ پھر ملک تجربات سے نہیں، تجربہ کرنے والوں کی ضد سے ٹوٹنے لگتا ہے ۔

تجربہ ناکام ہوجائے تو سائنس دان شیشی بدل دیتا ہے ، فارمولہ بدل دیتا ہے ، طریقہ بدل دیتا ہے ۔ لیکن وہ یہ نہیں کرتا کہ ناکام تجربے کو
نسلوں تک جاری رکھے اورہربار نئی نسل کو اس کے نتائج بھگتنے کیلئے چھوڑ دے ۔قومیں تجربہ گاہیں نہیں ہوتیں،ان کے شہری ٹیسٹ ٹیوب میں موجود محلول نہیں ہوتے کہ جب چاہا نیا فارمولا ڈال دیا، جب چاہا پرانا نکال دیا اور جب نتیجہ خراب آیا تو کہا گیا کہ دوبارہ کوشش کریں گے۔ پاکستان کے پچھتربرس ہمیں ایک لمحے کے لیے رک کر سوچنے پرمجبور کرتے ہیں۔ ہم نے راستے بدلے ، نظام آزمائے ، پالیسیاں تبدیل کیں، حکومتیں آئیں اور گئیں، تجربات ہوتے رہے ۔ مگر کیا کبھی ہم نے اس بنیادی سوال پر سنجیدگی سے غور کیا کہ ایک ملک کو آخر کب تک تجربہ گاہ بنا کررکھا جا سکتا ہے ؟ تجربہ ایک حد تک امید ہوتا ہے ، لیکن تجربہ جب مستقل معمول بن جائے تو امید خطرے میں پڑجاتی ہے ۔ ایک بچہ جس ملک میں پیدا ہوتا ہے ، وہ صرف کتابوں سے اپنے ملک کو نہیں سمجھتا۔ وہ اپنے گھر کے حالات سے ملک کو پہچانتا ہے ۔ باپ کی پریشانی، ماں کی بچت، بجلی کا بل، آٹے کی قیمت، روزگار کی تلاش اور مستقبل کی غیر یقینی۔یہی اس کی پہلی سیاسی اور معاشی تعلیم بن جاتی ہے۔ اگراسے مسلسل یہی دکھائی دے کہ نظام بدلتا ہے مگر زندگی نہیں بدلتی، چہرے بدلتے ہیں مگر مسائل نہیں بدلتے ، وعدے بدلتے ہیں مگر حالات نہیں بدلتے ، تو اس کے دل میں ایک خطرناک احساس جنم لیتا ہے۔ ‘‘ بے یقینی ’’۔اور بے یقینی سے بڑی کوئی معاشی بیماری نہیں، کیونکہ سرمایہ وہاں جاتا ہے جہاں مستقبل نظرآتا ہو، نوجوان وہاں خواب دیکھتے ہیں جہاں راستہ دکھائی دیتا ہو، اور قومیں وہاں ترقی کرتی ہیں جہاں انہیں یقین ہو کہ آج کی محنت کل بھی قائم رہے گی۔ مسلسل تجربات کا آخری نقصان یہ ہوتا ہے کہ قوم تجربہ بن جاتی ہے ۔پھرہرنئی پالیسی کا بوجھ اسی کے کندھوں پر آتا ہے ، ہرناکامی کا حساب بھی وہی دیتا ہے ، اور ہر نئے وعدے کے ساتھ امید بھی وہی باندھتا ہے ۔لیکن امید بھی ایک زندہ چیز ہے ۔اسے بار بار توڑا جائے تو ایک وقت آتا ہے جب انسان امید رکھنا نہیں چھوڑتا۔ امید پر یقین کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ اورشاید کسی ملک کیلئے اصل خطرہ یہی ہوتا ہے ۔ پچھتر سال کسی لیبارٹری کے تجربے کیلئے بہت طویل عرصہ ہے ۔ بنتا تو ہے اب ‘‘نتیجے’’ کی طرف جائیں،لیبارٹری سے باہرنکل کرآئین، اداروں، تعلیم، انصاف، معیشت اورعام آدمی کی زندگی کو مستقل بنیادوں پر استوار کریں۔ ورنہ تاریخ ایک دن ہم سے صرف یہ نہیں پوچھے گی کہ ہم نے کیا کیا؟ وہ یہ بھی پوچھے گی کہ پچھتر برس تک آخر ہم کس چیزپرتجربات کرتے رہے ؟ اورپھر شاید سب سے تلخ سوال ہمارے سامنے کھڑا ہوگا ‘‘ پاکستان ملک ہے یا لیب’’؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں