وقت نکلتا جارہا ہے !
شیئر کریں
یقینا جین زی نے سیاست کا ایک نیا چہرہ دیکھا ہے جو پارلیمانی تقریروں کی بجائے میمز، مختصر ویڈیوز اور ٹرینڈنگ ہیش ٹیگز کے ذریعے اپنے موقف کی وضاحت چاہتے ہیں۔
روایتی سیاست دانوں کے نعروں سے متاثر ہونے کی بجائے شفافیت، انسانی حقوق، آزادیِ اظہار اور معاشی انصاف کی بات!
ہم اپنی تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں نصف سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ایک ایساخاص طبقہ ہے جو باقی نسلوں سے بنیادی طور پر مختلف ، یعنی 1997 سے 2012 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد ، وہ نسل جس نے آنکھ کھولتے ہی ہاتھ میں اسمارٹ فون اور سامنے انٹرنیٹ کی اسکرین دیکھی ، جین زی بدلتی ہوئی فکر، اجتماعی سماجی شعور اور غیر روایتی انقلاب کا نام ہے ۔
پاکستان میں جین زی کی پرورش منفرد اور پہلو دار ماحول میں ہوئی ہے، ایک طرف تو ان کا واسطہ پاکستان کے روایتی، مذہبی اور سماجی
اقدار سے رہا تو دوسری طرف ٹک ٹاک، انسٹاگرام، ایکس اور یوٹیوب جیسے عالمی پلیٹ فارمز نے انہیں پوری دنیا کی معلومات اور رجحانات
سے جوڑ دیا ، اس نسل نے بجلی کی لوڈ شیڈنگ، سیاسی عدم استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی باقیات دیکھی ہیں، جس نے انہیں
وقت سے پہلے سمجھدار اور حقیقت پسند بنا دیا ہے۔بزرگوں اور سابقہ نسلوں کے برعکس، پاکستان کی موجودہ نسل کسی ایک بیانیے پر اندھا دھند
یقین نہیں رکھتی، سوال پوچھنے والی نسل ہے ، متجسس ہے کہ اگر کوئی کام ایک خاص طریقے سے ہوتا آیا ہے تو کیوں ہوتا آیا ہے؟ وہ روایتی
نوکریوں، فرسودہ تعلیمی نظام اور غیر منطقی پابندیوں کو چیلنج کر رہی ہے۔
حالیہ برسوں میں ہماری آنکھ نے دیکھا کہ جب بھی ملک میں آزادیِ اظہار یا انٹرنیٹ سروسز پر پابندیاں لگائی گئیں، جین زی نے وی پی
این اور ڈیجیٹل ٹولز کا استعمال کر کے اپنی آواز کو دنیا تک پہنچایا، وہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ وفاداری نبھانے کے بجائے بنیادی حقوق
اور اپنے مستقبل کی بہتری کے لیے زیادہ فکر مند دکھائی دیتے ہیں۔ جین زی نے معاشی طور پر انتہائی سخت دور کے باوجود مزاحمت کو چنا ہے،
مہنگائی، بے روزگاری اور غیر یقینی صورتحال نے انہیں روایتی نو سے پانچ نوکریوں کا آسرا چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ مگر اس کے نتیجے میں
مثبت تبدیلی بھی سامنے آئی ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا کا چوتھا بڑا فری لانسنگ حب بن چکا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہی جین زی
ہے۔
پاکستان کے نوجوان گرافک ڈیزائننگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ، مواد نگاری اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے غیر ملکی زرِ مبادلہ ملک میں
لا رہے ہیں۔ ٹک ٹاک اور یوٹیوب نے گاؤں دیہات کے نوجوانوں کو بھی اپنے اندر کا ہنر دکھانے اور معاشی طور پر خود مختار ہونے کا موقع
دیا ہے۔ یہ نسل صرف ملازمت کی تلاش میں نہیں ہے بلکہ کام فراہم کرنے والی بننا چاہتی ہے۔ ٹیکنالوجی، ای کامرس اور سروسز کے شعبے میں
نئے خیالات لانے میں جین زی سب سے آگے ہے۔
کیا ایسا نہیں کہ آج اس نسل کی ذہنی صحت یا افسردگی پر بات کرنا گناہ یا مذاق سمجھا جاتاہے ، نئی نسل نے اس سوچ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ وہ
کھل کر تھراپی، ذہنی دباؤ اور جذباتی صحت پر بات کرتی ہے ، سوشل میڈیا پر وہ ایک دوسرے کا سہارا بنتی ہے اور ایسے موضوعات کو عام کر رہی
ہے جن پر بات کرنا پہلے ممنوع سمجھا جاتا تھا۔
یہ نسل صنفی مساوات، اقلیتوں کے حقوق اور ماحولیاتی تبدیلیوں جیسے عالمی موضوعات پر بھی انتہائی حساس ہے۔ کلائمیٹ چینج کے خلاف ان
نوجوانوں نے جس طرح آواز اٹھائی ہے، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے مستقبل اور زمین کی حفاظت کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔
بے پناہ صلاحیتوں کی مالک اس نسل کو سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ شہروں کے باوسائل نوجوانوں اور دیہات یا پس ماندہ علاقوں کے
نوجوانوں میں ایک بڑی خلیج جو موجودہ رجیم نے پیدا کی ہے ،اس نسل کی بنیادی سہولیات چھین لی گئی ہیں ، تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید تعلیم تک
رسائی کو ناممکن بنا دیا گیا ہے ، ملکی معاشی ابتری اور مواقع کی کمی کے باعث اس نسل کا ایک بڑا حصہ ملک چھوڑ کر باہر جاچکا ہے، بہترین
دماغوں کا ملک سے جانا مستقبل کے لیے بڑا خطرہ ہے۔ سوشل میڈیا کی مصنوعی دنیا میں ہر وقت جڑے رہنے کی وجہ سے اس نسل میں بے
چینی، موازنہ کرنے کی عادت اور تنہائی کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں،سہیل آفریدی کے ساتھ یہی نسل دہلیز پار کرنے والی ہے اور اس بار شاید یہ
کشتیاں جلا کر نکلے جو کاغذی اور کاہل بیورو کریٹک نظام، پرانے تعلیمی نصاب اور روایتی سوچ رکھنے والے اداروں کو بدلنا چاہتی ہے ،یہ نسل
فائر وال کی قباحت کے باعث جدید ڈیجیٹل رفتار کا مقابلہ نہیں کر پا رہی ، جس سے فرسٹریشن جنم لے رہی ہے ۔اس نسل کو سوشل میڈیا پر
وقت ضائع کرنے والی نسل سمجھنا بہت بڑی غلط فہمی ہے ، یہ وہ نسل ہے جو پاکستان کی تقدیر بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے،مگر ریاست اور
معاشرے نے اس نسل کو صحیح سمت نہیں دی ، جدید تعلیم اور تکنیکی مہارتوں سے آراستہ نہیں کیا ، اس نسل کو فیصلوں میں شامل نہیں کیا ،یہ روشن،
نڈر اور بے باک نسل ہے۔ یہ روایت کی زنجیروں میں جکڑے رہنے کی بجائے اپنے لیے نیا راستہ تراش رہی ہے۔ اس کے پاس علم کی
طاقت ہے، تکنیک کی مہارت ہے اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہے اب بھی وقت ہے اس نسل کو سنیں، سمجھیں اور اس کا ہاتھ پکڑ کر نئے اور روشن
پاکستان کی بنیاد رکھیں ورنہ سب کچھ بہہ جائے گا۔
٭٭٭


