حکومت اپوزیشن مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ، فریقین میں گرما گرمی
شیئر کریں
اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت کا اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ
علامہ راجہ ناصر عباس کا عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی سمیت حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار
عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل کروایا جائے گا، رانا ثناء اللہ
اپوزیشن کا اپنے قائدین کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ، بانی سے جب تک ملاقات نہیں ہوتی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا، علامہ ناصر عباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات اب ہفتہ کو دوبجے دوبارہ ہونگے۔ مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس میں اسپیکر چیمبر میں، اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت ہوئے۔
حکومتی وفد میں طلال چوہدری، محسن نقوی، شیری رحمن، رانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری جبکہ اپوزیشن کی جانب سے علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ مذاکرات میں شامل ہوئے۔
اس موقع پر خیبر پختون خوا میں قومی سلامتی اور امن و امان کی صورتِ حال پر وزیرِ داخلہ نے بریفنگ دی۔ حکومت اور اپوزیشن مذاکرات کے درمیان نمازِ جمعہ کا وقفہ لیا گیا،
نمازِ جمعہ میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعا کی گئی، دعا خصوصی طور پر پارلیمنٹ کی مسجد کے امام نے کروائی۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ماحول کئی بار کشیدہ ہوا اور فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے واضح کیا کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی،
حکومت نے اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا، حکومت نے اپوزیشن کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کروائی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے کہا کہ لانگ مارچ، دھمکیاں دینا اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات کرنا درست نہیں، مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی کرنا ہو گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے فریقین پر افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن قیادت اور محمود خان اچکزئی کا مقف بیرسٹر گوہر نے حکومتی ٹیم کے سامنے رکھا، پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو کی جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے۔
عدالتی معاملات پر مشیر سیاسی امور رانا ثنا ء اللہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی سمیت حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل کروایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنمائوں نے اپنے دیگر قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آغاز پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختون خوا حکومت اور وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف نکات پیش کیے اور تحریکِ طالبان پاکستان کے حملوں اور امن و امان کی صورتِ حال کو خیبر پختون خوا حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومتی موقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں، مذاکرات کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے، ارکانِ اسمبلی کی گرفتاریوں کا ذمے دار کون ہے۔
ذرائع کے مطابق علامہ راجہ ناصر عباس نے موقف اختیار کیا کہ تحریکِ انصاف کے رہنما اپنی قیادت کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، بانی چیئرمین سے ملاقات کے بغیر پی ٹی آئی رہنماں سے فیصلوں کی توقع کیوں کی جاتی ہے، مسائل کا حل محمود خان اچکزئی اور ان کی بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد ہی نکل سکتا ہے۔
شیری رحمن نے سوال کیا کہ ملاقات کی کیا ضمانت ہے کہ اس کے بعد مسائل حل ہو جائیں گے؟ علامہ راجہ ناصر عباس نے جواب دیا کہ میں اس کی ذمے داری لیتا ہوں، بانی چیئرمین سے ملاقات ہو گی تو حالات بہتر ہوں گے، جب تک ملاقات نہیں ہوتی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔


