میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپ کے مسائل اور اُن کا حل

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

جرات ڈیسک
جمعه, ۲ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

 

اپنی بہن کے سوتیلے بیٹے سے نکاح کرنے کا حکم:
سوال: 1۔میری بہن کا ایک سوتیلا بیٹا ہے،جو اس کے شوہر کی پہلی بیوی سے ہے،عمر میں مجھ سے دس سال چھوٹا ہے،ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں،میری بہن کہتی ہے،کہ یہ رشتہ ناجائز ہے،،جب کہ بہنوئی اس رشتہ پر راضی ہے۔ کیا مذکورہ لڑکے سے میر ا نکاح درست ہے یا نہیں ہے؟
2۔میرے بھائی نے وعدہ کیا تھا کہ پندرہ دن کے اندر اندر آپ کا نکاح ا س لڑکے (میری بہن کے سوتیلے بیٹے)سے کروائیں گے۔ابھی ایک دوسرا رشتہ آیا ہے جو کہ پہلے سے شادی شدہ ہے۔اولاد کے لیے وہ دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ تو میرے بھائی وغیر ہ اس دوسری جگہ میر ارشتہ کروانا چاہتے ہیں،اگر دوسری جگہ میر ا نکاح ہوگیا تو تو اس لڑکے کی بدعا تو مجھے نہیں لگے گی؟
جواب: 1۔صورت مسؤلہ سائلہ کا نکاح مذکورہ لڑکے (سائلہ کی بہن کے سوتیلے بیٹے) سے جائز ہے۔
2۔ اگرسائلہ اس دوسری جگہ نکاح کرنے پر راضی ہو،تو سائلہ نکاح کرنے میں آزاد ہے، اس میں مذکورہ لڑکے (سائلہ کی بہن کے سوتیلے بیٹے)کی رضامندی ضروری نہیں ہے، اور نہ ہی ایسی صورت میں اس کی بدعا کا کوئی اثر ہوگا۔الغرض اپنی خوشی و رضامندی سے جہاں چاہو دونوں میں سے کسی ایک سے نکاح کرسکتی ہو۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم( البحر الرائق شرح کنز الدقائق )

بچوں کی کپڑے کی گیند کنویں میں گر جائے تو کنواں ناپاک ہوا یانہیں؟
سوال:کپڑے کی گیند سے جو بچے کھیلتے ہیں وہ اکثر پلیدی میں مثل نالی وغیرہ کے گرتی رہتی ہے جو نجس بھی ہوجاتی ہے اگر وہ کنویں میں گر پڑی اور ڈوب گئی اور نیچے جا بیٹھی تو کنواں کس طرح پاک ہوگا؟
جواب: جب تک اس گیند کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو اور نجاست لگنا اس کو خاص دیکھا نہ گیا ہو اس وقت تک کنویں کے پانی کو ناپاک نہ کہا جائے گا جیساکہ کتب فقہ میں تصریح ہے الیقین لایزول بالشک پس شک سے حکم نجاست کا نہ کیا جائے گا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم (شرح الحموی: ص ۵۷)

ایمازون کمپنی میں کام کرنے کا حکم:
سوال: ایمازون کمپنی میں کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ کام سے مراد یہ ہے کہ ان کی پروڈکٹ وغیرہ کی تصاویر ہمارے پاس ہوتی ہیں ہم ان کے لیے خریدار تلاش کر کے یہ پروڈکٹ فروخت کرواتے ہیں جتنے ہم آرڈر بک کروا دیں گے اتنی ہی ہمیں اس کی اجرت مل جائے گی، مذکورہ معاملہ درست ہے یا نہیں؟جب کہ ہر طرح کی چیز فروخت ہوتی ہے جائز اور ناجائز۔
جواب: مذکورہ طریقہ سے کمائی کرنا جائز ہے بشرطیکہ صرف جائز چیزوں کی تشہیر کر کے خریداری کراوئیں۔ اوراشتہار لگانے والے کی حیثیت دلال کی بنے گی اور چونکہ آجکل ان طریقوں سے کمائی کرنے کا عرف ہے اور اس کو باقاعدہ کام سمجھا جاتا ہے،نیز جو لوگ اس طرح مختلف لنک سے جاکر کچھ خریداری کرتے ہیں ان کو بھی عام طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو اجرت ملے گی اور جن کو نہ بھی پتہ ہو تو وہ بھی اس اشتہار والے کو ایسا خیر خواہ نہیں سمجھتے کہ اگر بعد میں انہیں معلوم ہوجائے کہ اس کو بھی کمیشن ملی ہے تو انہیں ناگوار ہو اس لیے اس طرح کمائی کرنا جائز ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم( فتاویٰ شامی: ج۶ص ۶۳)

کھانا تقسیم کرتے وقت دیگ وغیرہ ڈھکنے کی شرعی حیثیت:
سوال: کیا کھانے کی دیگ یا جو بھی جس میں کھانا پکایا گیا ہو تو کیا اس کو کھانا تقسیم کرتے وقت ڈھکا رہنا ضروری ہے تاکہ کھانے میں برکت ہو؟
جواب: ایسا کرنا ضروری تو نہیں البتہ بلا ضرورت ڈھکن کھلا رکھنا مروت کے خلاف ہے، کھانے کی چیز بلا ضرورت کھول کر نہیں رکھنی چاہیے، فقہائے کرام نے بازاروں میں لوگوں کے سامنے کھانے سے اسی لیے منع لکھا ہے کہ کھانے پر ہر طرح کے لوگوں کی نظر پڑے گی۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

وسوسہ کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے؟
سوال: میں جب چھوٹی تھی تو ایک مرتبہ سب بات کر رہے تھے کہ جو شخص غلط کام اسلام کے خلاف کام کرتا ہے جیسے جادو وغیرہ وہ سب پاخانہ کھاتے ہیں اور میرا دماغ ایسا ہے کہ کوئی چیز ایک بار گھس جائے نکلتی نہیں اور ابھی ایسا خیال آرہا ہے پاخانے کا تو ایسا کیوں ہے اور یہ حرام ہے؟ اور کوئی جان بوجھ کر کھائیے تو گناہ ہے؟ اسپے تفصیل سے بتائیں۔
جواب: بلاقصد و ارادہ کے اگر کوئی خیال دماغ میں گھس گیا تو وہ وسوسہ ہے ?، یہ حرام نہیں?، اس پر کوئی گناہ نہیں۔ ہاں اگر کوئی حقیقت میں جان بوجھ کر پاخانہ کھائے تو یہ حرام ہے اور اس پر گناہ ہوگا۔ آپ کثرت سے قرآن پاک کی یہ دعا پڑھتی رہیں ان شاء اللہ آپ کا وسوسہ جاتا رہے گا۔ رَبِّ اَعُوْذُبِکَ مِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِیْنِ وَاَعُوْذُبِکَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم

کسی اولاد کا زندگی میں باپ سے مکان میں حصہ مانگنے کا حکم:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں۔ زید نے شادی کی ان سے ایک لڑکا ہوا چھ سال بعد بیوی کا انتقال ہو گیا۔ اب زید نے دوسری شادی کی ان سے چار لڑکے دو لڑکیاں ہوئیں۔ زید کا بیٹا جو پہلی بیوی سے تھا اس کی شادی ہو گئی وہ اپنی بیوی کو لے کے شہر میں رہنے لگا اور اپنی پراپرٹی بنا لیا۔ اور زید کے دوسرے بیٹے جو دوسری بیوی سے تھے اپنی دونوں بہنوں کی شادی کی اور اپنے باپ کے بیمار ہونے پر ان کا علاج بھی کروایا اور انکی دیکھ بھال بھی کر رہے ہیں۔ زید کے پہلی بیوی سے جو بیٹا تھا وہ شادی کے بعد سے نہ تو گھر میں خرچہ بھیجا نہ تو باپ کے علاج میں کچھ ساتھ دیا۔ اب باپ کے ہوتے ہوئے وہ گھر کا بٹوارہ چاہتا ہے۔ تو معلوم یہ کرنا ہے کہ شریعت کے لحاظ سے اب بٹوارہ کیسے کیا جائے گا؟
جواب: آدمی زندگی میں اپنی تمام املاک: گھر، پلاٹ وغیرہ کا تن تنہا (بلاشرکت غیرے) مالک ہوتا ہے ، اس کی کسی ملکیت میں اُس کی بیوی یا اولاد کا مالکانہ کوئی حق وحصہ نہیں ہوتا، پس کسی شخص پر زندگی میں گھر، پلاٹ وغیرہ، اولاد کے درمیان تقسیم کرنا واجب نہیں، اور اگر کوئی اولاد زبردستی کرتی ہے یا باپ پر دباؤ بناتی ہے تو اس کا یہ فعل؛ درست نہیں، اُسے چاہیے کہ باز آئے اور اللہ سے ڈرے؛ بلکہ دیگر اولاد کی طرح وہ بھی باپ کی خدمت اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرے، البتہ باپ کی وفات پر حسب شرع وراثت میں جملہ شرعی وارثین کا حق و حصہ ہوگا۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم (فتاویٰ شامی: ج ۷ ص ۰۱)
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں