آبنائے ہرمز سے جوہری مذاکرات تک۔۔مفاہمت کا دروازہ کھل سکتا ہے یا نہیں؟
شیئر کریں
٭ واشنگٹن اگر ایران کی بنیادی شرائط پوری کرے تو تہران سات دن کے اختتام پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے اور اس کے بعد جامع مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں، ایرانی تجویز
٭جون کی یادداشت کی سب سے بڑی کمزوری اس کی ‘ابہام زدہ زبان’ تھی، بالخصوص آبنائے ہرمز کے انتظام، پابندیوں، ایرانی تیل، منجمد اثاثوں اور جوہری مسئلے کی تشریح پر واشنگٹن اور تہران کی تعبیر مختلف ہوگئی
٭ایران ایسے مذاکرات میں داخل نہیں ہونا چاہتا جس کے دوران امریکی فوجی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیاں بدستور برقرار رہیں، تہران پہلے دیکھنا چاہتا ہے کہ واشنگٹن واقعی دباؤمیں کمی کے لیے تیار ہے
٭اگر امریکہ پہلے ناکہ بندی ختم، پابندیاں نرم اور اثاثے جاری کر دے تو اس کے بعد ایران سے ہرمز، جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر مطلوبہ رعایتیں حاصل کرنے کا امریکی دباؤ کم ہو سکتا ہے
٭لبنان اور یمن کو معاہدے میں کیسے شامل کیا جائے ؟اگر امریکہ اور ایران آپس میں جنگ بندی کرلیں مگر لبنان، یمن یا باب المندب میں لڑائی جاری رہے تو علاقائی بحران ختم نہیں ہوگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ اب صرف ایک عسکری تصادم نہیں رہی۔ سات ماہ سے زیادہ عرصے میں یہ بحران آبنائے ہرمز، عالمی توانائی کی رسد، ایران کی معیشت، امریکی پابندیوں، جوہری پروگرام، لبنان، یمن، سعودی عرب اور بحیرۂ احمر تک پھیل چکا ہے ۔ اس لیے اب دونوں ملکوں کے درمیان کسی ممکنہ مفاہمت کو صرف واشنگٹن اور تہران کے باہمی اختلاف کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔
ستمبر کے آخری ہفتے میں بیک وقت آنے والے بعض متضاد بیانات نے صورت حال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک طرف ایران کی سات روزہ تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہیں، دوسری طرف کہتے ہیں کہ مذاکرات اسی ہفتے دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کہتے ہیں کہ تہران جنگ دوبارہ شروع ہونے کے لیے بھی تیار ہے اور سفارت کاری کے لیے بھی، جبکہ ثالثوں سے امریکی جواب کا انتظار بھی جاری رکھتے ہیں۔ اسی دوران ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ثالث امریکہ اور ایران کے درمیان ایک ایسی ترمیم شدہ تجویز پر کام کر رہے ہیں جس میں ہرمز کھولنے ، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور بعد میں پابندیوں میں نرمی کا سلسلہ شامل ہے ۔چنانچہ موجودہ مرحلے کو نہ تو ‘‘مذاکرات ناکام’’ کہنا درست ہے اور نہ ‘‘معاہدہ قریب ہے ’’۔ زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ مذاکراتی راستہ ابھی کھلا ہے ، مگر فریقین ابھی معاہدے کی شرائط پر متفق نہیں ہوئے ۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکا کو تجویز پہنچنے کی تصدیق کی
سات روزہ منصوبہ:اصل میں پیش کیا کیا گیا؟
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر امریکہ تک ایک ایسی تجویز پہنچنے کی تصدیق کی جس کے مطابق واشنگٹن اگر ایران کی بنیادی شرائط پوری کرے تو تہران سات دن کے اختتام پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول سکتا ہے اور اس کے بعد جامع مذاکرات شروع کیے جا سکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ سات دن مذاکرات کے لیے مقرر نہیں تھے ،یہ اعتماد سازی اور ابتدائی عملی اقدامات کے لیے مقررہ مدت تھی۔عراقچی کے مطابق یہ مدت امریکی قبولیت کے ساتھ شروع ہونی تھی۔ایرانی تجویز کے مختلف حصوں کی جو تفصیلات سامنے آئی ہیں، ان میں بنیادی طور پر یہ عناصر شامل ہیں:
٭امریکی بحری ناکہ بندی میں کمی یا اس کا خاتمہ
٭ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں رعایت
٭منجمد ایرانی اثاثوں تک رسائی
٭ تمام محاذوں، بشمول لبنان، میں جنگ بندی
٭سات روز کے اندر آبنائے ہرمز کی بحالی
٭اس کے بعد جوہری پروگرام اور پابندیوں سمیت باقی اختلافات پر جامع مذاکرات۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ایرانی منصوبہ جون کی مفاہمتی یادداشت سے مکمل طور پر مختلف نہیں،بلکہ اسی کے ایک مختصر، تیز رفتار اور نئے ترتیب دیے گئے ورژن کے طور پر سامنے آتا ہے ۔سی بی ایس نیوزکے مطابق عراقچی نے خود کہا کہ نئی تجویز میں جون کی 14نکاتی مفاہمتی یادداشت کے بڑے حصے موجود ہیں۔
جون کی مفاہمتی یادداشت: اصل میں کیا طے ہوا تھا؟
موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے جون کی یادداشت کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔17؍جون کو سامنے آنے والے 14نکاتی اسلام آباد مفاہمتی فریم ورک میں دونوں فریقوں نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں ختم کرنے ، ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کرنے اور زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا تھا۔اس کے تحت امریکہ کو اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا عمل فوراً شروع کرنا اور اسے زیادہ سے زیادہ 30دن میں مکمل کرنا تھا۔ ایران کو بھی تجارتی جہازوں کی محفوظ اور بلا معاوضہ آمدورفت بحال کرنے کے لیے اقدامات کرنا تھے ، جبکہ آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظام کے لیے عمان اور دوسرے خلیجی ممالک کے ساتھ بات چیت کا تصور موجود تھا۔ امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمد کے لیے پابندیوں میں عارضی رعایتیں دینے اور ایرانی منجمد اثاثوں کے استعمال کو ممکن بنانے کا بھی وعدہ کیا تھا۔ جوہری پروگرام کے انتہائی مشکل معاملات کو حتمی مذاکرات کے لیے آگے رکھا گیا تھا۔یہاں ایک بنیادی بات قابلِ توجہ ہے ،جون کا معاہدہ حتمی جوہری معاہدہ نہیں تھا۔ یہ جنگ روکنے اور پھر مشکل مسائل پر مذاکرات شروع کرنے کا عبوری فریم ورک تھا۔
پھر جون کا فریم ورک کیوں ٹوٹا؟
یہ سوال موجودہ مذاکرات کے مستقبل سے کہیں زیادہ اہم ہے ۔کیونکہ اگر وہی بنیادی فریم ورک چند ہفتوں میں ناکام ہوگیا تو ستمبر کا نیا منصوبہ اسی ڈھانچے کو کس طرح کامیاب بنا سکتا ہے؟ رائٹرزکی جولائی کی تفصیلی جائزہ رپورٹ کے مطابق جون کی یادداشت کی سب سے بڑی کمزوری اس کی ‘ابہام زدہ زبان’تھی۔ بالخصوص آبنائے ہرمز کے انتظام، پابندیوں، ایرانی تیل، منجمد اثاثوں اور جوہری مسئلے کی تشریح پر واشنگٹن اور تہران کی تعبیر مختلف ہوگئی۔مثلاً یادداشت میں ایران سے تجارتی جہازوں کے لیے 60دن تک محفوظ اور بلا معاوضہ گزرنے کے لیے ‘‘بہترین کوشش’’ کا تقاضا تھا، جبکہ ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر عمان اور دوسرے ساحلی ممالک سے مذاکرات کا ذکر تھا۔ایران نے اس زبان کو اپنے انتظامی کردار کی ایک خاص حد تک تسلیم کیے جانے کے طور پر دیکھا، جبکہ امریکہ اور خلیجی ممالک نے اسے صرف محفوظ اور آزاد آمدورفت یقینی بنانے کی ذمہ داری سمجھا۔پھر امریکی جانب سے ایرانی تیل کی برآمد کے لیے دی گئی ایک رعایت واپس لی گئی۔ ایران نے اسے مفاہمت کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسی دوران لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کو تہران نے معاہدے کے خلاف ورزی کے طور پر دیکھا۔ نتیجتاً جنگ بندی کا بنیادی ڈھانچہ قائم رہنے کے باوجود اس پر عمل درآمد کا سیاسی اعتماد ختم ہونے لگا۔یہ تجربہ موجودہ مرحلے کے لیے ایک اہم سبق فراہم کرتا ہے ۔صرف اصولی اتفاق کافی نہیں،کسی بھی نئے معاہدے میں ہر قدم، اس کی ترتیب، نگرانی اور خلاف ورزی کی صورت میں اگلا قدم پہلے سے واضح کرنا ہوگا۔
ستمبر کا منصوبہ:اصل تبدیلی "رفتار”نہیں، "ترتیب”ہے
ایرانی سات روزہ منصوبے کی سب سے اہم خصوصیت یہ نہیں کہ مدت سات دن ہے ۔اصل تبدیلی ترتیب ِاقدامات میں ہے ۔جون کے فریم ورک میں ایک نسبتاً طویل عبوری مرحلہ تھا۔ اب ایران کہتا ہے پہلے امریکہ عملی قدم اٹھائے ، پھر سات دن کے اندر ہرمز کھلے ، پھر حتمی مذاکرات شروع ہوں۔یعنی تہران نے مذاکرات کی پیشگی شرط کو زیادہ واضح کر دیا ہے ۔اس کی سیاسی منطق بھی واضح ہے ۔ ایران ایسے مذاکرات میں داخل نہیں ہونا چاہتا جس کے دوران امریکی فوجی دباؤ، بحری ناکہ بندی اور اقتصادی پابندیاں بدستور برقرار رہیں۔ تہران پہلے یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ واشنگٹن واقعی دباؤ کم کرنے کے لیے تیار ہے ۔
واشنگٹن کے نقطۂ نظر سے مسئلہ اس کے برعکس ہے ،اگر امریکہ پہلے ناکہ بندی ختم، پابندیاں نرم اور اثاثے جاری کر دے تو اس کے بعد ایران سے ہرمز، جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر مطلوبہ رعایتیں حاصل کرنے کا امریکی دباؤ کم ہو سکتا ہے ۔یہی موجودہ مذاکرات کا بنیادی مسئلہ ہے ،کون پہلے قدم اٹھائے ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی
ٹرمپ کا "انکار”کیا واقعی مذاکرات ختم ہوگئے؟
بظاہر سب سے بڑا تضاد یہی ہے۔ ٹرمپ نے ایرانی سات روزہ منصوبے کو مسترد کرنے کی بات کی۔ لیکن اس کے ایک دن بعد انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو وہ خود نہیں چاہتے ، جبکہ عراقچی نے کہا کہ ایران ثالثوں کے ذریعے امریکی حتمی جواب کا انتظار کرے گا۔28ستمبر کی اے پی رپورٹ نے اس تضاد کو مزید اہم بنا دیا۔تین سفارتی ذرائع نے اے پی کو بتایا کہ ثالث اب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ دو ذرائع کے مطابق زیرِ بحث مسودے میں پہلے ہرمز کھولنے اور امریکی ناکہ بندی ختم کرنے ، پھر پابندیوں میں نرمی کا طریقہ شامل ہے ۔ ایک تیسرے ذریعے کے مطابق واشنگٹن جوہری پروگرام پر مزید رعایتیں، بشمول بین الاقوامی معائنہ کاروں کی رسائی، چاہتا ہے ۔ یہاں سے ایک محتاط مگر اہم نتیجہ نکلتا ہے ،ٹرمپ نے ایرانی تجویز کی موجودہ شکل کو رد کیا ہے ؛ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کے بنیادی عناصر پر مذاکراتی کام بھی ختم ہوگیا ہے ۔بلکہ شواہد بتاتے ہیں کہ ثالث اسی تجویز کو ترمیم کرکے قابلِ قبول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سات روزہ منصوبے کا ممکنہ "ترمیم شدہ”ورژن
یہ موجودہ مرحلے کی شاید سب سے اہم پیش رفت ہے ۔اگر اے پی اور دیگر رپورٹوں کو یکجا کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مذاکرات میں ایک نئی ترتیب زیربحث ہے :
پہلا مرحلہ:ہرمز کے لیے عارضی بحری انتظام
دوسرا مرحلہ:امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ
تیسرا مرحلہ:ایرانی تیل اور پابندیوں میں رعایت
چوتھا مرحلہ:وسیع جنگ بندی
پانچواں مرحلہ:جوہری پروگرام اور بین الاقوامی معائنوں پر مذاکرات۔
یہ ترتیب ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہے ، مگر اے پی کے مطابق اسی قسم کا مسودہ زیر غور ہے ۔یہاں‘ ترمیم شدہ’ لفظ بہت اہم ہے ، کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں جون کا ناکام تجربہ ستمبر کی سفارت کاری میں تبدیل ہوسکتا ہے ۔
عمان:ہرمز کے مسئلے کو امریکہ سے الگ کرنے کی کوشش
موجودہ سفارت کاری میں عمان کا کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے ۔جون کے فریم ورک میں ہی ایران کو عمان کے ساتھ ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر بات چیت کرنے کا کہا گیا تھا۔اگست میں ایران اور عمان نے ایک عارضی بحری راہداری، بارودی سرنگوں کی صفائی، مستقل بحری راہداری اور مستقبل کے انتظام کے بارے میں ایک عملی خاکے پر بات کی تھی۔ عمانی اور ایرانی مذاکرات کاروں کے درمیان تکنیکی مذاکرات جاری رہنے کی تصدیق بھی ہوئی۔اب اے پی کے مطابق زیرِ بحث نئے مسودے میں ہرمز کو ایران اور عمان کے الگ انتظام کے تحت کھولنے اور فوری مرحلے میں کوئی محصول عائد نہ کرنے کی تجویز موجود ہے ۔یہ ایک اہم سفارتی تخلیق ہو سکتی ہے ۔امریکہ اور ایران ہر مسئلہ براہِ راست حل کرنے کے بجائے ہرمز کے عملی انتظام کو ایران اور عمان کے سپرد کریں۔اس سے واشنگٹن-تہران تنازع کا ایک حصہ الگ ہو سکتا ہے ۔لیکن یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ایران کے اندر بعض اعلیٰ فوجی عہدیدار ہرمز پر مستقل ایرانی انتظامی اختیار کی بات کر چکے ہیں، جبکہ امریکہ اور یورپی ممالک آزاد اور بلا معاوضہ عالمی آمدورفت پر زور دے رہے ہیں۔ لہٰذا ‘ہرمز کھولنا’اور ‘ہرمز کے مستقبل کا انتظام’دو الگ سوال ہیں۔
چین:حمایتی، ضامن یا صرف سفارتی شریک؟
ایران نے چین سے اپنے منصوبے پر مشاورت کی ہے ۔لیکن یہاں ایک اہم تحقیقی احتیاط ضروری ہے ۔چینی وزارت خارجہ کے 16؍ستمبر کے سرکاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران اور امریکہ کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی طرف واپس آنے ، مذاکراتی نظام بحال کرنے ، ہرمز جلد کھولنے اور محفوظ بین الاقوامی آمدورفت یقینی بنانے پر زور دیا۔ چین نے خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے مذاکرات کی بھی حمایت کی۔اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ چین سفارتی بحالی اور ہرمز کھولنے کی حمایت کرتا ہے ۔لیکن یہ کہنا زیادہ مضبوط دعویٰ ہوگا کہ چین نے ایران کے سات روزہ منصوبے کی مکمل منظوری دے دی ہے ۔اس کے لیے موجودہ شواہد کافی نہیں۔زیادہ درست تعبیر یہ ہے کہ ایران نے چین سے مشاورت کی اور چین نے عمومی طور پر مذاکرات، اسلام آباد فریم ورک کی بحالی اور ہرمز کھولنے کی حمایت کی ہے ۔یہ فرق معمولی نہیں۔
امریکہ کی اصل ترجیح:ہرمز یا جوہری پروگرام؟
یہاں مذاکرات ایک اور مشکل مرحلے میں داخل ہوتے ہیں۔ایران چاہتا ہے کہ ہرمز، ناکہ بندی اور پابندیوں کا مسئلہ پہلے حل ہو۔ واشنگٹن اب اس کے ساتھ جوہری نگرانی کو جوڑ رہا ہے ۔اے پی کے مطابق امریکی مطالبات میں بین الاقوامی جوہری معائنہ کاروں کو ایران میں دوبارہ رسائی دینا شامل ہے ۔یہ مطالبہ جون میں اس قدر فوری شرط نہیں تھا، کیونکہ جوہری پروگرام کے مشکل پہلوؤں کو بعد کے 60 روزہ مذاکرات کے لیے چھوڑا گیا تھا۔اب صورت حال بدل گئی ہے ۔واشنگٹن غالباً ایک ایسے عبوری معاہدے کی تلاش میں ہے جس میں ایران کو معاشی اور بحری رعایتیں ملیں مگر اس کے بدلے کم از کم قابلِ تصدیق جوہری شفافیت حاصل ہو۔تہران کے لیے یہ خطرہ ہے کہ عبوری قدم مستقل جوہری رعایت کا آغاز بن جائے ۔اسی لیے جوہری معائنہ کاروں کی رسائی محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ اعتماد اور خودمختاری کا سیاسی مسئلہ بھی ہے ۔
باب المندب اور یمن:مذاکرات کا چھپا ہوا دوسرا محاذ
اگر صرف ہرمز کھل بھی جائے تو کیا عالمی بحری تجارت معمول پر آ جائے گی؟ ضروری نہیں۔اس کی وجہ بحیرۂ احمر اور باب المندب ہے ۔
تازہ اے پی رپورٹ کے مطابق ایران کے حمایت یافتہ حوثی گروہ اب جنوبی بحیرۂ احمر کے اس اہم داخلی راستے کے قریب سرگرم ہیں، جس سے عالمی منڈیوں پر مزید دباؤ پڑ رہا ہے ۔ اے پی کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے اپنے مطالبات ہیں، تاہم ایرانی حکام سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان تصفیے میں مدد دینے پر آمادگی ظاہر کر چکے ہیں۔رائٹرزنے بھی ستمبر میں حوثیوں کی سعودی حمایت یافتہ قوتوں کے خلاف پیش قدمی، باب المندب کے خطرات اور سعودی تیل کی متبادل راستوں سے برآمد کی کوششوں کو وسیع تر بحران کا حصہ قرار دیا۔اس لیے کسی جامع مفاہمت کا ممکنہ دائرہ اب صرف واشنگٹن ، تہران ، ہرمزنہیں رہا۔اس میں کم از کم عمان، قطر، پاکستان، سعودی عرب، یمن اور لبنان کے عوامل بھی شامل ہیں۔
توانائی کا دباؤ:سفارت کاری کے پیچھے اصل معاشی محرک
موجودہ بحران میں تیل کی قیمت محض اقتصادی خبر نہیں،یہ مذاکراتی دباؤ کا حصہ ہے ۔اے پی کے مطابق 28؍ستمبر کو برینٹ خام تیل 108 ڈالر فی بیرل سے اوپر تھا۔وال اسٹریٹ جرنل نے ستمبر کے آخر میں رپورٹ کیا کہ سعودی عرب، کئی ماہ تک ہرمز سے بچنے کی کوشش کے باوجود ، بحیرۂ احمر کے متبادل راستوں کو پہنچنے والے نقصان کے بعد دوبارہ ہرمز کے راستے پر انحصار کرنے پر مجبور ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خلیجی ممالک کے لیے ہرمز محض ایران-امریکہ تنازع کا موضوع نہیں بلکہ اپنی بنیادی برآمدی معیشت کا مسئلہ ہے ۔دوسری طرف ایران امریکی بحری ناکہ بندی اور پابندیوں کے باعث اپنی تیل آمدنی کھو رہا ہے ۔یوں دونوں فریقوں کے پاس مذاکرات کی اقتصادی وجوہ بھی ہیں۔لیکن یہی معاشی دباؤ دونوں کو ایک دوسرے کو پہلے جھکانے کی کوشش سے بھی روک رہا ہے ۔
امریکہ کے لیے ایک اور مسئلہ:جنگ کی لاگت
وال اسٹریٹ جرنل نے ستمبر میں امریکی انتظامیہ کی ایک تجویز کی خبر دی جس کے مطابق خلیجی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو اور ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے ایک بڑے سرمایہ کاری فنڈ پر غور ہو رہا تھا۔ اس منصوبے میں امریکہ اور خلیجی ممالک کی مالی شرکت شامل تھی۔اس سے ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے ۔واشنگٹن ایک طرف ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے سفارتی دباؤ ڈال رہا ہے ، دوسری طرف طویل مدت میں اس راستے پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل توانائی اور برآمدی راستوں کی تعمیر کی کوشش بھی کر رہا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکی حکمت عملی میں دو متوازی راستے ہیں:
مختصر مدت:ہرمز بحال کرو۔
طویل مدت:ہرمز کو ایک واحد فیصلہ کن توانائی راستہ رہنے نہ دو۔
پاکستان اور قطر:مذاکرات کے خاموش ستون
موجودہ مرحلے میں پاکستان اور قطر کا کردار خاص طور پر اہم ہے کیونکہ امریکہ اور ایران براہِ راست بات چیت کے بجائے ثالثی کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔جون کے بحران میں پاکستان نے فریقین کو ایک عبوری مفاہمتی ڈھانچے تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا تھا، جبکہ قطر نے بعد کے رابطوں میں بھی اپنا کردار برقرار رکھا۔ستمبر میں ایرانی وفد کی جانب سے ثالثوں کے جواب کا انتظار اور عراقچی کا نیویارک میں قیام اس بات کی علامت ہے کہ پسِ پردہ سفارت کاری ابھی فعال ہے ۔یہاں پاکستان کے لیے بھی ایک اہم پہلو ہے ۔
اگر جون کی مفاہمت ناکام ہونے کے باوجود اسی کے عناصر ستمبر کے نئے منصوبے میں دوبارہ آ رہے ہیں تو پاکستان کی سابقہ ثالثی مکمل طور پر ناکام نہیں سمجھی جا سکتی، بلکہ اس کا تیار کردہ فریم ورک اب نئی شکل میں دوبارہ استعمال ہو رہا ہے ۔
اب اصل رکاوٹیں کیا ہیں؟
تمام دستیاب شواہد کو جمع کیا جائے تو کم از کم چھ بنیادی رکاوٹیں سامنے آتی ہیں:
1۔ پہلا قدم کون اٹھائے ؟ایران چاہتا ہے کہ امریکہ پہلے عملی رعایت دے ۔امریکہ چاہتا ہے کہ ایران پہلے قابلِ تصدیق قدم اٹھائے ۔
2۔ ہرمز کس کے انتظام میں ہوگا؟ایران انتظامی کردار چاہتا ہے ۔ امریکہ اور متعدد مغربی و خلیجی ممالک آزاد آمدورفت چاہتے ہیں۔
3۔ پابندیوں کی واپسی یا معطلی کیسے ہوگی؟ایران کو فوری معاشی ریلیف چاہیے ، جبکہ امریکہ اس ریلیف کو قابلِ واپسی اور مشروط رکھنا چاہے گا۔
4۔ منجمد اثاثوں کا استعمال کون کنٹرول کرے گا؟جون کے فریم ورک میں اثاثوں کی دستیابی کا اصول موجود تھا، مگر عملی طریقہ کار پر اختلاف باقی رہا۔
5۔ جوہری معائنہ کب شروع ہوگا؟ایران اسے حتمی مذاکرات سے جوڑ سکتا ہے ۔امریکہ اسے عبوری اعتماد سازی کا حصہ بنانا چاہتا ہے ۔
6۔ لبنان اور یمن کو معاہدے میں کیسے شامل کیا جائے ؟اگر امریکہ اور ایران آپس میں جنگ بندی کرلیں مگر لبنان، یمن یا باب المندب میں لڑائی جاری رہے تو علاقائی بحران ختم نہیں ہوگا۔
آئندہ کے لیے ممکنہ راستے
موجودہ شواہد کی بنیاد پر مستقبل کو کسی ایک پیش گوئی میں بند کرنا مناسب نہیں۔ البتہ پانچ ممکنہ راستے نمایاں ہیں۔
پہلا راستہ:ترمیم شدہ عبوری معاہدہ۔اس میں فریقین فوری طور پر تمام مسائل حل کرنے کے بجائے ایک محدود پیکیج پر متفق ہوسکتے ہیں۔
عارضی بحری راہداری ، ہرمز کھولنا ، امریکی ناکہ بندی میں کمی ، محدود پابندی رعایت، جوہری نگرانی کا ابتدائی طریقہ کار۔یہ راستہ جون کے تجربے سے زیادہ محتاط ہوگا کیونکہ اس میں عمل درآمد کے مراحل الگ الگ کیے جاسکتے ہیں۔
دوسرا راستہ:ہرمز پہلے ، جامع معاہدہ بعد میں۔ممکن ہے فریقین ہرمز کو فوری بحران سے نکالنے کے لیے ایک الگ ایران-عمان انتظام پر متفق ہوجائیں، جبکہ امریکہ اور ایران باقی معاملات پر بعد میں مذاکرات کریں۔اے پی کی تازہ رپورٹ میں اسی نوعیت کا انتظام زیر بحث بتایا گیا ہے ۔
تیسرا راستہ:محدود سفارتی وقفہ، مگر مکمل امن نہیں۔ایک اور امکان یہ ہے کہ جنگ میں عارضی کمی، ہرمز میں محدود آمدورفت اور مذاکرات کا تسلسل تو قائم ہوجائے ، مگر جوہری پروگرام، پابندیوں اور علاقائی عسکری سرگرمیوں پر بنیادی اختلاف برقرار رہے ۔یہ صورت حال ‘‘جنگ ختم’’ سے زیادہ ‘‘مسلح تعطل کے ساتھ سفارت کاری’’ ہوگی۔
چوتھا راستہ: مذاکرات طویل ہوں مگر نتیجہ مؤخر رہے۔فریقین معاشی دباؤ اور فوجی خطرات کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کو مزید رعایت پر مجبور کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ اس صورت میں ثالثی جاری رہ سکتی ہے لیکن فوری معاہدہ نہیں ہوگا۔
پانچواں راستہ: موجودہ چینل دوبارہ ٹوٹ جائے۔اگر ہرمز میں کوئی بڑا بحری واقعہ، جوہری تنصیبات سے متعلق نئی فوجی کارروائی، لبنان یا یمن میں بڑی کشیدگی، یا کسی فریق کی جانب سے سخت یک طرفہ اقدام سامنے آتا ہے تو جون جیسا بحران دوبارہ پیدا ہوسکتا ہے ۔
یہ امکان اس لیے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ جون کا فریم ورک بھی اصولی اتفاق کے باوجود عمل درآمد کے مرحلے میں ٹوٹ گیا تھا۔
- آنے والے دنوں میں محض بیانات دیکھنے کے بجائے چند قابلِ مشاہدہ اقدامات زیادہ اہم ہوں گے ۔اگر امریکہ ناکہ بندی میں عملی نرمی کرے ،ایرانی تیل کے لیے نئی رعایت دے ،اثاثوں کے استعمال کا واضح طریقہ کار پیش کرے ،اور جوہری معائنوں کے لیے قابلِ قبول مرحلہ وار فارمولا اختیار کرے ،تو یہ مذاکرات میں حقیقی پیش رفت کی علامت ہوگی۔اسی طرح اگر ایران ہرمز میں بلا معاوضہ اور محفوظ آمدورفت کا قابلِ تصدیق طریقہ کار قبول کرے ،تجارتی جہازوں پر حملے روکے ، عمان کے ساتھ عارضی راہداری کو عملی شکل دے ،اور بین الاقوامی جوہری معائنوں کے لیے کوئی عبوری انتظام قبول کرے ،تو یہ بھی عملی پیش رفت ہوگی۔
کون سی علامت بتائے گی کہ مذاکرات واقعی آگے بڑھ رہے ہیں؟
آنے والے دنوں میں محض بیانات دیکھنے کے بجائے چند قابلِ مشاہدہ اقدامات زیادہ اہم ہوں گے ۔اگر امریکہ ناکہ بندی میں عملی نرمی کرے ،ایرانی تیل کے لیے نئی رعایت دے ،اثاثوں کے استعمال کا واضح طریقہ کار پیش کرے ،اور جوہری معائنوں کے لیے قابلِ قبول مرحلہ وار فارمولا اختیار کرے ،تو یہ مذاکرات میں حقیقی پیش رفت کی علامت ہوگی۔
اسی طرح اگر ایران ہرمز میں بلا معاوضہ اور محفوظ آمدورفت کا قابلِ تصدیق طریقہ کار قبول کرے ،تجارتی جہازوں پر حملے روکے ، عمان کے ساتھ عارضی راہداری کو عملی شکل دے ،اور بین الاقوامی جوہری معائنوں کے لیے کوئی عبوری انتظام قبول کرے ،تو یہ بھی عملی پیش رفت ہوگی۔
اس کے برعکس اگر دونوں طرف سے صرف سخت بیانات آتے رہیں اور میدان میں کوئی قابلِ تصدیق تبدیلی نہ آئے تو مذاکراتی سرگرمی محض وقت خریدنے کی سفارت کاری بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔ایک اہم ناقدانہ جائزہ:کیا مذاکرات سے ضرورت سے زیادہ امیدیں وابستہ ہیں؟
موجودہ خبروں میں ‘‘مثبت اشارے ’’، ‘‘معمولی پیش رفت’’ اور ‘‘مذاکرات دوبارہ شروع’’ جیسے الفاظ موجود ہیں، مگر یہ سب گمنام سفارتی ذرائع سے آنے والی اطلاعات ہیں۔ اے پی کے تین ذرائع نے بھی مکمل شناخت ظاہر نہیں کی۔اس لیے ان اطلاعات کو کسی حتمی معاہدے کی علامت سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔اسی طرح ایران کی جانب سے یہ کہنا کہ وہ ہرمز سات دن میں کھول سکتا ہے ، ایک مشروط پیشکش ہے ، نہ کہ کھولنے کا اعلان۔اور ٹرمپ کا کہنا کہ مذاکرات دوبارہ شروع ہوسکتے ہیں، یہ بھی کسی طے شدہ ملاقات یا معاہدے کی تصدیق نہیں۔ چنانچہ اس وقت سب سے مضبوط نتیجہ صرف یہ ہے ،دونوں فریقوں نے مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں کیا، لیکن بنیادی سودے بازی ابھی باقی ہے ۔موجودہ صورتحال کی اصل معنویت
ستمبر کی سفارت کاری کو جون کی ناکامی سے الگ دیکھنا شاید سب سے بڑی تجزیاتی غلطی ہوگی۔جون میں دونوں فریق ایک ایسے فریم ورک تک پہنچے جس میں جنگ بندی ، ہرمز ،پابندیاں ،معاشی ریلیف ، 60روزہ مذاکرات اور جوہری تصفیہ کا خاکہ تھا۔مگر اس میں سب سے مشکل سوال کا مکمل جواب نہیں تھا،اگر ایک فریق دوسرے کے وعدے کو خلاف ورزی سمجھ لے تو اگلا قدم کیا ہوگا؟
ستمبر کا سات روزہ منصوبہ اسی مسئلے کا ایک مختلف جواب دینے کی کوشش ہے ۔پہلے محدود اور قابلِ مشاہدہ اقدامات، پھر ہرمز، پھر بڑے مذاکرات۔
امریکہ اب اس کے جواب میں غالباً ایک اور سوال اٹھا رہا ہے ،اگر ہم معاشی اور بحری رعایتیں دے دیں تو ایران جوہری پروگرام اور علاقائی عسکری سرگرمیوں پر کیا قابلِ تصدیق ضمانت دے گا؟یوں موجودہ بحران کا مرکز اب صرف‘ جنگ یا امن’نہیں۔
اصل سوال ہے ،کیا دونوں فریق ایسا مرحلہ وار معاہدہ بنا سکتے ہیں جس میں ہر اگلا قدم پچھلے قدم کی قابلِ تصدیق تکمیل سے مشروط ہو؟اگر اس سوال کا عملی جواب نکل آیا تو جون کی ناکامی کے باوجود ستمبر کی سفارت کاری ایک نئے راستے میں بدل سکتی ہے ۔اگر جواب نہ نکلا تو سات روزہ منصوبہ بھی جون کی 60 روزہ مفاہمت کی طرح ایک عبوری سیاسی کوشش بن کر رہ سکتا ہے ۔نتیجہ:مذاکرات ختم نہیں ہوئے ، مگر معاہدہ ابھی پیدا نہیں ہوا
28 ؍ستمبر تک دستیاب شواہد ایک عجیب مگر اہم صورت حال دکھاتے ہیں۔ایران کہتا ہے ،ہم جنگ کے لیے بھی تیار ہیں اور سفارت کاری کے لیے بھی۔ٹرمپ کہتے ہیں،ایرانی تجویز وہ معاہدہ نہیں جو امریکہ چاہتا ہے ، مگر مذاکرات دوبارہ ہوسکتے ہیں۔ثالث کہتے ہیں،دونوں طرف کچھ مثبت اشارے موجود ہیں اور ترمیم شدہ تجویز پر کام جاری ہے ۔
چین کہتا ہے ،اسلام آباد مفاہمت کی طرف واپس جائیں اور ہرمز کھولیں۔عمان ہرمز کے لیے عملی راہداری کا انتظام بنانے کی کوشش کر رہا ہے ۔پاکستان اور قطر پیغام رسانی کا چینل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔لیکن دوسری طرف امریکہ جوہری معائنوں کی ضمانت چاہتا ہے ، ایران اپنی بنیادی شرائط سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں، ہرمز کے مستقبل کے انتظام پر اختلاف برقرار ہے ، اور یمن و لبنان کے محاذ بحران کو علاقائی شکل دے رہے ہیں۔اس لیے موجودہ مرحلے کی سب سے درست تصویر شاید یہ ہے، مذاکرات کا دروازہ کھلا ہے ، راستہ ابھی بند ہے ۔اور اس راستے کی کنجی کسی ایک بڑے اعلان میں نہیں بلکہ ترتیبِ اقدامات، قابلِ تصدیق ضمانتوں، ہرمز کے انتظام، جوہری نگرانی اور پہلے قدم کے سوال میں چھپی ہوئی ہے ۔اگر فریقین ان پانچ سوالوں کا ایسا جواب تلاش کرلیتے ہیں جسے دونوں اپنی اپنی داخلی سیاست اور قومی مفاد کے خلاف محسوس نہ کریں، تو جون کا ناکام فریم ورک ستمبر میں ایک نئے ، زیادہ محتاط معاہدے کی بنیاد بن سکتا ہے ۔اگر ایسا نہ ہوا تو موجودہ ثالثی بھی ایک اور عارضی وقفہ ثابت ہوسکتی ہے ایسا وقفہ جس میں جنگ رکی ہوئی ہو، مگر امن ابھی وجود میں نہ آیا ہو۔
٭٭٭


