میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نقیب اللہ قتل کیس، عدالت نے ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

نقیب اللہ قتل کیس، عدالت نے ملزمان کی بریت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

جرات ڈیسک
پیر, ۲۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

استغاثہ الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ شک کا فائدہ ملزمان کو دیا جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی بریت کے فیصلے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ موجودہ سات ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت پیش نہیں کرسکا۔

گواہان نے عدالت میں موجود ملزمان کو اغوا کاروں کے طور پر شناخت نہیں کیا۔ دونوں گواہان نے تاوان کی رقم کے مطالبے یا ادائیگی کا بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ تفتیشی افسر کے سامنے ملزمان کے مبینہ اعترافی بیانات بھی قابل اعتماد قانونی شہادت نہیں۔

قانون کے تحت پولیس افسر کے سامنے اعتراف جرم قابل قبول نہیں ہے۔ ملزمان کے خلاف براہ راست عینی شہادت موجود نہیں ہے۔ استغاثہ الزامات کو شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

شک کا فائدہ ملزمان کو دیا جاتا ہے۔ استغاثہ کے اہم گواہان کی شہادت ملزمان کو جرائم سے جوڑنے کے لیے کافی نہیں۔ موجودہ ملزمان کے خلاف سابقہ مجرمانہ ریکارڈ بھی پیش نہیں کیا گیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں