میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شفا کے حکم سے آئینی عدالت تک، 16؍ستمبر کا پاکستان کے عدالتی نظام سے اصل سوال

شفا کے حکم سے آئینی عدالت تک، 16؍ستمبر کا پاکستان کے عدالتی نظام سے اصل سوال

جرات ڈیسک
هفته, ۱۹ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

نجم انوار

 

٭16؍ستمبر کو سپریم کورٹ کے سامنے صرف ایک قیدی کی صحت، ایک اسپتال اور ایک عدالتی حکم کا معاملہ نہیں تھا؛ اس کے سامنے ‘‘اپنے ہی اختیار کی حدود کا سوال’’کھڑا تھا

٭۔18؍اگست کو سپریم کورٹ نے عمران خان کی نبض، صحت اور علاج کے بارے میں حکم دیا تھا۔16؍ستمبر کو اسی مقدمے نے سپریم کورٹ کی اپنی آئینی نبض چیک کردی

٭کم از کم ایک بات واضح ہے ،18؍اگست کو عمران خان کے لیے شفا انٹرنیشنل کا دروازہ کھولنے والا حکم 16ستمبر تک پہنچتے پہنچتے پاکستان کے پورے عدالتی نظام کا دروازہ کھول چکا تھا

٭ 16؍ستمبر کی کارروائی میں سپریم کورٹ نے فوری نفاذی اختیار استعمال کرنے کے بجائے آئینی دائرۂ اختیار کی وضاحت کا راستہ اختیار کیا،یہی وہ چیز ہے جسے عوامی سطح پر بے بسی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے

٭16؍ستمبر کے حکم میں 18؍اگست کے حکم کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا، بلکہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر درج کیا کہ اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا ہے کہ 18؍اگست کا حکم اب بھی نافذ العمل ہے

٭اگر معاشرے کے ایک بڑے حصے میں یہ تاثر پیدا ہوجائے کہ نئی عدالت سیاسی یا طاقتور ریاستی حلقوں کے قریب ہے تو اس کے وسیع آئینی اختیار کی قبولیت متاثر ہوسکتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

16 ؍ستمبر 2026کا دن پاکستان کی عدالتی تاریخ میں شاید اس لیے یاد رکھا جائے گا کہ اس روز سپریم کورٹ کے سامنے صرف ایک قیدی کی صحت، ایک اسپتال اور ایک عدالتی حکم کا معاملہ نہیں تھا؛ اس کے سامنے ‘‘اپنے ہی اختیار کی حدود کا سوال’’کھڑا تھا۔اور اس سے زیادہ تلخ بات شاید یہ تھی کہ جس عدالت نے 18؍اگست کو ایک واضح حکم جاری کیا تھاعمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے ، خصوصی طبی بورڈ تشکیل دینے ، ذاتی معالج کو علاج میں شریک رکھنے ، ہفتہ وار خاندانی ملاقاتیں کرانے اور بیٹوں سے ہفتے میں دو مرتبہ ٹیلی فونک رابطہ یقینی بنانے کا،وہی عدالت 16ستمبر کو اس حکم کے عملی نفاذ پر زور دینے کے بجائے ایک نئی آئینی عدالت کے اختیار کی تشریح پر غور کر رہی تھی۔یہ منظر اپنے اندر ایک بڑا سوال لیے ہوئے تھا:کیا پاکستان کی سپریم کورٹ اپنے حکم پر عمل کرا رہی تھی، یا اپنے اختیار کا مقدمہ لڑ رہی تھی؟یہ سوال شاید 16 ستمبر کی پوری کارروائی کا سب سے بڑا خلاصہ ہے ۔

16 ؍ستمبر:عدالت میں سوال کچھ اور تھا، بے بسی کچھ اور
سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تھا۔ عدالت کے سامنے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق حکومت کی عدم تعمیل پر توہینِ عدالت کی درخواست بھی تھی اور 15؍ستمبر کو وفاقی آئینی عدالت کی طرف سے سپریم کورٹ کے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرنے کا نیا حکم بھی۔بظاہر معاملہ سادہ تھا۔18؍اگست کو سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا:عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے ۔حکومت نے ایسا نہیں کیا۔پھر سوال ہونا چاہیے تھا:حکم پر عمل کیوں نہیں ہوا؟مگر 16 ستمبر کو سوال بدل گیا:کیا وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے زیرِ سماعت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے انہیں اپنے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرسکتی ہے ؟
یہ تبدیلی معمولی نہیں تھی۔ایک ماہ پہلے سپریم کورٹ حکومت کو حکم دے رہی تھی۔ایک ماہ بعد وہ خود یہ پوچھ رہی تھی کہ دوسری عدالت کے حکم کا اس پر کیا اثر ہوگا۔یہی وہ لمحہ تھا جہاں عدالتی اختیار کی طاقت اور عملی بے بسی ایک ہی منظر میں دکھائی دیں۔

  • 27؍ویں ترمیم نے وفاقی آئینی عدالت کو وجود بخشا اور آئینی معاملات کے لیے اسے مخصوص اختیارات دیے ۔ آرٹیکل 175-E(5)کی زبان خاصی وسیع ہے ۔ اسی بنیاد پر وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کسی بھی مقدمے اور کسی بھی عدالت کی تعبیر بھی وسیع انداز میں کی ہے ۔لیکن اس سے یہ خود بخود ثابت نہیں ہوجاتا کہ وفاقی آئینی عدالت ہر معاملے میں سپریم کورٹ کے اوپرہے ۔بلکہ معاملہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے ۔

18؍اگست کا حکم کہاں گیا؟
یہاں ایک دلچسپ اور اہم قانونی حقیقت ہے ۔16؍ستمبر کے حکم میں 18؍اگست کے حکم کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا۔ بلکہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر درج کیا کہ اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا ہے کہ 18؍اگست کا حکم اب بھی نافذ العمل ہے ۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ اس حکم پر عمل درآمد کا معاملہ زیرِ بحث ہے ۔لیکن اصل سوال یہ ہے :اگر حکم نافذ العمل تھا تو اس پر عمل درآمد کیوں نہیں کرایا گیا؟
18 ؍اگست کے حکم میں شفا انٹرنیشنل کی منتقلی صرف ایک مشورہ نہیں تھی۔ عدالت نے حکومت کو دو دن کے اندر منتقلی کی ہدایت دی تھی۔ طبی بورڈ کی تشکیل، ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمٰی کی شمولیت، مکمل طبی ریکارڈ، ہفتہ وار ملاقات اور بیٹوں سے ٹیلی فونک رابطے بھی اسی حکم کا حصہ تھے ۔مگر 16 ستمبر کو، یعنی تقریباً چار ہفتے بعد، عدالت کے سامنے بنیادی سوال یہ نہیں رہا کہ:حکومت نے ہمارے حکم پر عمل کیوں نہیں کیا؟بلکہ عدالت اس سوال میں الجھ گئی:وفاقی آئینی عدالت کا حکم ہمارے لیے کس حد تک لازم ہے ؟یہی وہ مقام ہے جہاں بے بسی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔

حکم دینے والی عدالت، حکم پر عمل کرانے سے کیوں پیچھے ہٹی؟
16 ؍ستمبر کی کارروائی کا سب سے معنی خیز حصہ شاید وہ لمحہ تھا جب جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ فی الحال عمران خان کو نجی اسپتال سے سرکاری اسپتال منتقل کرنے کے معاملے کو ایک طرف رکھا جائے ۔ انہوں نے توجہ اس طرف موڑ دی کہ ملاقاتوں اور ٹیلی فونک رابطوں کے بارے میں کیا ہوا۔یہ سوال اپنی جگہ اہم تھا۔لیکن اس سے بڑا سوال یہ تھا:جس حکم میں شفا انٹرنیشنل کی منتقلی بنیادی ہدایت تھی، اسی حکم کی تعمیل کا مرکزی سوال فی الحال ایک طرف کیوں رکھ دیا گیا؟عدالت نے جیل حکام کی عدم حاضری پر بھی سوال اٹھایا۔ یہاں تک کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف وارنٹ جاری کرنے کا سوال بھی سامنے آیا۔ لیکن آخرکار عدالت نے اصل تنازع کو فوری طور پر نمٹانے کے بجائے اٹارنی جنرل سے معاونت لینے اور سماعت تین ہفتے مؤخر کرنے کا راستہ اختیار کیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک سخت سوال پیدا ہوتا ہے :اگر سپریم کورٹ اپنے حکم کی تعمیل نہیں کراسکتی تو اس کے حکم کی ریاستی طاقت کیا رہ جاتی ہے ؟اور اگر وہ کراسکتی ہے تو:16؍ستمبر کو اس نے یہ اختیار استعمال کیوں نہیں کیا؟

تین جج، مگر ایک ہی آواز نمایاں
یہ بھی 16 ستمبر کی کارروائی کا ایک قابلِ توجہ پہلو ہے ۔بینچ تین ججوں پر مشتمل تھا، مگر عدالتی کارروائی میں سب سے زیادہ نمایاں قانونی سوالات جسٹس شاہد وحید کی طرف سے آئے ۔ انہوں نے پوچھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی پابندی سپریم کورٹ پر کس حد تک ہے ، آرٹیکل 175-E(5)کا دائرہ کہاں تک ہے ، بنیادی حقوق اگر ہر مقدمے میں موجود ہیں تو پھر آئینی عدالت کا اختیار کس حد تک پھیلے گا، اور قرآن و سنت کی روشنی میں تشریح کا اختیار کس عدالت کے پاس ہے ۔جسٹس نعیم اختر افغان نے البتہ یہ ضرور کہا کہ دونوں عدالتیں اعلیٰ عدالتی ادارے ہیں، دونوں موجود رہیں گی اور دونوں کے اپنے اپنے دائرۂ اختیار ہیں۔ اس منظر کی علامتی اہمیت اپنی جگہ ہے :ایک جج سوال اٹھا رہا تھا کہ اختیار کس کا ہے ؛ باقی بینچ اس تصادم کو روکنے اور دونوں اداروں کے وجود کو تسلیم کرنے کی سمت میں تھا۔یہ کسی عدالتی فتح کا منظر نہیں تھا۔یہ ‘اختیار کی حد تلاش کرنے کا منظر’ تھا۔

اور پھر وہ جملہ:حکم میدان میں موجود ہے
اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے واضح کیا کہ 18؍اگست کا سپریم کورٹ کا حکم اب بھی نافذ العمل ہے ۔یہ جملہ بظاہر سپریم کورٹ کے حق میں تھا۔لیکن اس میں ایک عجیب ستم ظریفی چھپی تھی۔اگر حکم نافذ العمل ہے تو:اس پر عمل کہاں ہے ؟اگر حکومت نے حکم کے مطابق عمران خان کو شفا منتقل نہیں کیا توعدالت نے کیا کارروائی کی؟اگر ملاقاتوں اور ٹیلی فونک رابطوں کے تمام تقاضے پورے نہیں ہوئے توحکم کی خلاف ورزی پر کیا نتیجہ نکلا؟اور اگر ان سوالات کے جواب اگلی سماعت تک مؤخر ہوگئے توپھر عدالت کے حکم کی فوری حیثیت کہاں گئی؟یوں 18 اگست کا حکم کاغذ پر میدان میں ضرور موجود رہا، مگر عملی میدان میں اس کی طاقت کا امتحان ابھی تک ٹل گیا۔

  • سپریم کورٹ کے سامنے اب صرف یہ سوال نہیں کہ اس کا حکم مانا جائے گا یا نہیں۔ اس کے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ اس کا حکم کس حد تک اس کا اپنا رہ گیا ہے ۔اور 27ویں ترمیم کے بعد شاید پاکستان کے عدالتی نظام کا سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے ۔کیا ہم نے دو اعلیٰ عدالتیں بنائی ہیں، یا ایک ایسی عدالتی کشمکش کو جنم دیا ہے جس میں ایک عدالت اپنے سابقہ اختیار کی حفاظت کر رہی ہے اور دوسری اپنے نئے آئینی اختیار کی حدود آزما رہی ہے ؟

سپریم کورٹ کے سامنے اصل خطرہ: وفاقی آئینی عدالت
یہ سب کچھ 15 ؍ستمبر کے وفاقی آئینی عدالت کے حکم کے بغیر سمجھا ہی نہیں جاسکتا۔وفاقی آئینی عدالت نے تین اڈیالہ قیدیوں کی درخواست پر سپریم کورٹ سے عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق مقدمات کا مکمل ریکارڈ طلب کیا اور متعلقہ مقدمات کو اپنے سامنے مقرر کرنے کی ہدایت کی۔ ساتھ ہی ہائی کورٹس میں موجود اسی نوعیت کے مقدمات کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا۔یہی وہ مقام ہے جہاں 27ویں آئینی ترمیم کا اصل امتحان شروع ہوا۔آرٹیکل 175-E(5)وفاقی آئینی عدالت کو اختیار دیتا ہے کہ اگر کسی زیرِ سماعت مقدمے میں آئین کی تشریح سے متعلق اہم قانونی سوال موجود ہو تو وہ کسی بھی عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے ۔لیکن سپریم کورٹ کا اعتراض یہ تھا کہ ریکارڈ طلب کرنا ایک بات ہے ، اور اس مقدمے کو اپنے سامنے سماعت کے لیے مقرر کرنا دوسری۔جسٹس شاہد وحید نے اسی نکتے پر سوال اٹھایا کہ 175-E(5)میں مقدمہ وفاقی آئینی عدالت کے سامنے مقرر کرنے کا اختیار کہاں سے آتا ہے ۔یہ ایک چھوٹا سا قانونی فرق نہیں۔یہ دراصل پورا سوال ہے :کیا وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے مقدمے کو اپنے دائرے میں کھینچ سکتی ہے ؟اگر جواب ہاں ہے تو سپریم کورٹ کی سابقہ مرکزیت کہاں رہ جاتی ہے ؟اگر جواب نہیں ہے تو آرٹیکل 175-E(5)میں موجود کسی بھی عدالت میں زیرِ سماعت کسی بھی مقدمے کی زبان کا عملی مطلب کیا ہے ؟

27؍ویں ترمیم:سپریم کورٹ کے اوپر کوئی عدالت یا ایک نیا آئینی مرکز؟
یہاں جذبات سے ہٹ کر آئین کی طرف دیکھنا ہوگا۔27؍ویں ترمیم نے وفاقی آئینی عدالت کو وجود بخشا اور آئینی معاملات کے لیے اسے مخصوص اختیارات دیے ۔ آرٹیکل 175-E(5)کی زبان خاصی وسیع ہے ۔ اسی بنیاد پر وفاقی آئینی عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں کسی بھی مقدمے اور کسی بھی عدالت کی تعبیر بھی وسیع انداز میں کی ہے ۔لیکن اس سے یہ خود بخود ثابت نہیں ہوجاتا کہ وفاقی آئینی عدالت ہر معاملے میں سپریم کورٹ کے اوپرہے ۔بلکہ معاملہ اس سے زیادہ پیچیدہ ہے ۔مئی 2026میں سپریم کورٹ کی طرف سے یہ مؤقف سامنے آچکا ہے کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت باہمی طور پر ہم مرتبہ عدالتیں ہیں، ایک دوسری کی اپیلیٹ عدالت نہیں۔تو پھر سوال اور زیادہ خطرناک ہوگیا:دو ہم مرتبہ عدالتوں میں سے ایک اگر دوسری کے زیرِ سماعت مقدمے کا ریکارڈ طلب کرے ، اسے اپنے سامنے مقرر کرے اور اس میں آئینی حکم دینے کی تیاری کرے تو پھر ان دونوں کی برابری عملی طور پر کیسے قائم رہے گی؟یہی 16؍ستمبر کا اصل سوال تھا۔

سپریم کورٹ نے اختیار مانگا، تعمیل نہیں
یہاں مضمون کا سب سے سخت سوال سامنے آتا ہے ۔16؍ستمبر کو سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے یہ مدد طلب کی کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی اس کارروائی پر کیا قانونی حیثیت ہے ۔عدالت نے تین ہفتے کا وقت دیا۔اس نے کہا کہ دونوں اعلیٰ عدالتی اداروں کے مناسب کام کو متضاد صورتِ حال سے بچانا اور عدالتی باہمی احترام برقرار رکھنا ضروری ہے ۔یہ ایک شائستہ، آئینی اور محتاط راستہ تھا۔مگر سیاسی و ادارہ جاتی زاویے سے سوال زیادہ سخت ہے :کیا یہ احتیاط تھی یا بے بسی؟کیا یہ ادارہ جاتی دانش مندی تھی یا اختیار کے سکڑنے کی علامت؟کیا سپریم کورٹ اپنے حکم کی طاقت استعمال کررہی تھی یا اپنے ہی اختیار کی آئینی تشریح کے لیے دوسری طرف دیکھ رہی تھی؟ان سوالات کا جواب تاریخ دے گی۔مگر منظر سامنے ہے ۔

18 ؍اگست کو سپریم کورٹ حکم دیتی ہے ، 16 ستمبر کو اپنی حدود پوچھتی ہے
یہ ایک ماہ کی داستان کو صرف دو تاریخوں میں سمیٹ دیتا ہے :
18 ؍اگست
سپریم کورٹ:عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرو۔طبی بورڈ بناؤ۔ذاتی معالج کو شریک کرو۔ہفتہ وار ملاقات کراؤ۔بیٹوں سے رابطہ کراؤ۔ طبی ریکارڈ عدالت کے سامنے لاؤ۔
16 ؍ستمبر
سپریم کورٹ:وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی ہمارے اوپر کیا حیثیت ہے ؟کیا وہ ہمارے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے ؟کیا وہ انہیں اپنے سامنے مقرر کرسکتی ہے ؟ہمیں تین ہفتے دے کر اٹارنی جنرل اس بارے میں معاونت کریں۔یہی وہ تبدیلی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ایک ماہ میں مقدمہ اسپتال سے نکل کر عدالتوں کی حدود تک پہنچ گیا۔اور عدالت کا حکم خود ایک نئے آئینی سوال کے نیچے آکھڑا ہوا۔

کیا یہ سپریم کورٹ کی بے بسی ہے؟
کیا ہمیں مان لینا چاہئے کہ سپریم کورٹ بے بس تھی۔ ایک تجزیاتی نتیجے کے باوجود ابھی اسے عدالتی حقیقت تسلیم کرنے میں کچھ انتظار کرنا ہوگا۔ لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ 16؍ستمبر کی کارروائی میں سپریم کورٹ نے فوری نفاذی اختیار استعمال کرنے کے بجائے آئینی دائرۂ اختیار کی وضاحت کا راستہ اختیار کیا۔اور یہی وہ چیز ہے جسے عوامی سطح پر بے بسی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔کیونکہ ریاستی اختیار کی بنیادی علامت یہ ہوتی ہے کہ عدالت حکم دے تو انتظامیہ عمل کرے ۔اگر عدالت حکم دے ، انتظامیہ مختلف راستہ اختیار کرے ، عدالت دوبارہ بیٹھے ، پھر کسی دوسری عدالت کا حکم درمیان میں آجائے ، اور پہلی عدالت اپنی کارروائی تین ہفتے کے لیے روک کر یہ پوچھنے لگے کہ دوسری عدالت کا حکم اس پر کتنا لازم ہے ۔تو عام شہری کے ذہن میں سوال پیدا ہونا فطری ہے ۔آخر حکم کس کا چلے گا؟

کیا سپریم کورٹ اپنے اختیارات سرنڈر کرچکی ہے ؟
یہ سوال بھی اب ٹالا نہیں جاسکتا۔لیکن اس کا جواب ابھی ہاں یا نہیں میں دینا قبل از وقت ہوگا۔27ویں ترمیم نے یقینی طور پر عدالتی نقشہ بدل دیا ہے ۔وفاقی آئینی عدالت اب محض ایک معمولی اضافی عدالت نہیں۔اسے آئینی تشریح اور بنیادی حقوق سے متعلق اہم اختیارات حاصل ہیں۔لیکن سپریم کورٹ ختم نہیں ہوئی۔اس کے پاس اب بھی اپنا دائرۂ اختیار ہے ۔خود 16؍ستمبر کے حکم میں سپریم کورٹ نے کہا کہ موجودہ مقدمات اس کے سامنے دو الگ قانونی راستوں فوجداری طریقہ کار اور توہینِ عدالت کے قانون کے تحت آئے ہیں، اور ان مقدمات میں قانونی سوالات کا فیصلہ کرنے کا اختیار اسی عدالت کو حاصل ہے ۔ تو پھر اصل بات یہ ہے :سپریم کورٹ بے اختیار نہیں ہوئی، مگر اس کی سابقہ تنہا بالادستی ضرور ختم ہوئی ہے ۔اور یہی فرق 27ویں ترمیم کی اصل سیاسی و آئینی اہمیت ہے ۔

دو عدالتیں، ایک آئین، اور آخری لفظ
اب پاکستان کے سامنے شاید سب سے مشکل سوال یہ ہے ۔اگر سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت دونوں اعلیٰ عدالتیں ہیں تو آخری آئینی لفظ کس کا ہوگا؟اگر وفاقی آئینی عدالت کہتی ہے :آئینی سوال میرے دائرے میں ہے ۔سپریم کورٹ کہتی ہے :مقدمہ میرے سامنے ہے ۔تو فیصلہ کون کرے گا؟اگر وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کا ریکارڈ طلب کرے :کیا سپریم کورٹ اسے دے گی؟اگر سپریم کورٹ کہے :175-E(5)ریکارڈ طلب کرنے کی اجازت دیتا ہے ، مقدمہ چھیننے کی نہیں،تو وفاقی آئینی عدالت کیا کرے گی؟اور اگر دونوں عدالتیں اپنے اپنے آئینی اختیار کی الگ تعبیر پر قائم رہیں؟تو پھر ثالث کون ہوگا؟یہ وہ سوال ہے جس کا جواب 27ویں ترمیم نے ابھی عملی طور پر نہیں دیا۔

اور اگر وفاقی آئینی عدالت واقعی طاقتور ہوگئی تو؟
یہاں ایک اور سوال جنم لیتا ہے ، جو شاید اس پوری بحث کا سب سے حساس پہلو ہے ۔وفاقی آئینی عدالت کو جتنا بڑا اختیار دیا جائے گا، اس کی ادارہ جاتی ساکھ اتنی ہی اہم ہوگی۔اگر معاشرے کے ایک بڑے حصے میں یہ تاثر پیدا ہوجائے کہ نئی عدالت سیاسی یا طاقتور ریاستی حلقوں کے قریب ہے تو اس کے وسیع آئینی اختیار کی قبولیت متاثر ہوسکتی ہے ۔وفاقی آئینی عدالت کی تشکیل، ججوں کی تقرری، اس کے فیصلوں اور ریاستی طاقت کے مراکز کے ساتھ اس کے تعلق کے بارے میں جو سوالات اٹھ رہے ہیں،وہ اس کے اختیارات کی حساسیت کو مزید بڑھاتے ہیں۔ کیونکہ طاقت کے بغیر عدالت بے اثر ہوسکتی ہے ۔لیکن ساکھ کے بغیر طاقتور عدالت بھی متنازع ہوسکتی ہے ۔

عمران خان کا اسپتال:اصل میں کس کی نبض چیک ہوئی؟
اس پوری داستان کا سب سے دلچسپ پہلو شاید یہی ہے ۔18؍اگست کو سپریم کورٹ نے عمران خان کی نبض، صحت اور علاج کے بارے میں حکم دیا تھا۔16؍ستمبر کو اسی مقدمے نے سپریم کورٹ کی اپنی آئینی نبض چیک کردی۔اور نتیجہ؟عدالت نے اپنے حکم کو واپس نہیں لیا۔ حکومت نے اسے ختم نہیں کیا۔وفاقی آئینی عدالت نے اسے براہِ راست کالعدم بھی نہیں کیا۔لیکن دونوں عدالتیں اب اس سوال کے سامنے کھڑی ہیں کہ:اس مقدمے پر آخری اختیار کس کا ہے ؟اور اس دوران عمران خان کی اسپتال منتقلی کا بنیادی سوال پس منظر میں چلا گیا۔یہی شاید سب سے بڑی ستم ظریفی ہے ۔جس مقدمے میں سپریم کورٹ نے ریاست کو حکم دیا تھا، اسی مقدمے نے بالآخر سپریم کورٹ کو اپنی ریاستی و آئینی حیثیت کی وضاحت پر مجبور کردیا۔

نواز شریف کا پرانا آئینہ
یہاں 2019کا واقعہ بھی یاد آتا ہے ۔نواز شریف کو جیل میں طبی مسائل کے بعد علاج اور بعد ازاں بیرونِ ملک جانے کی اجازت ملی۔ نومبر 2019میں وہ لندن روانہ ہوئے ۔ اس وقت عمران خان کی حکومت تھی اور نواز شریف قیدی تھے ۔2026میں منظر الٹ چکا ہے ۔ اب عمران خان قیدی ہیں۔نواز شریف کی سیاسی جماعت اقتدار میں ہے ۔اور عمران خان کے علاج اور اسپتال منتقلی کا سوال عدالتوں کے درمیان اختیار کا سوال بن چکا ہے ۔تاریخ کا سبق یہ نہیں کہ 2019میں کون درست تھا اور 2026میں کون غلط۔اصل سبق شاید اس سے کہیں زیادہ بنیادی ہے ۔قیدی بدلتے رہتے ہیں؛ اصول نہیں بدلنے چاہئیں۔اگر نجی علاج ایک قیدی کے لیے بنیادی حق ہے تو قانون اس حق کی حدود سب کے لیے واضح کرے ۔اگر نہیں ہے تو عدالت کے حکم کی بنیاد واضح ہونی چاہیے ۔اور اگر عدالت کا حکم ہے تو حکومت کو اس پر عمل کرنا چاہیے ۔ورنہ ریاست میں قانون کے بجائے شخصیتیں، حالات اور طاقت کے توازن فیصلہ کرنے لگتے ہیں۔ اب اصل مقدمہ عمران خان کا نہیں رہا۔16؍ستمبر نے ایک بنیادی تبدیلی کردی ہے ۔18؍اگست تک مقدمہ تھا۔عمران خان کو شفا منتقل کیا جائے یا نہیں؟ 15 ؍ستمبر کو مقدمہ بنا،کیا وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے ؟16؍ستمبر کو سوال ہوگیا:کیا وفاقی آئینی عدالت سپریم کورٹ کے زیرِ سماعت مقدمے کو اپنے سامنے مقرر کرسکتی ہے ؟اور اب اگلا سوال ہے ۔27ویں ترمیم کے بعد پاکستان میں آئین کی آخری تشریح کس عدالت کا اختیار ہے ؟یہ سوال عمران خان سے بڑا ہے ۔یہ شہباز شریف سے بڑا ہے ۔یہ نواز شریف سے بڑا ہے ۔یہ تحریکِ انصاف، مسلم لیگ نون، پیپلز پارٹی اور کسی بھی دوسری جماعت سے بڑا ہے ۔یہ سوال ریاست کے عدالتی ڈھانچے کا ہے ۔

16 ؍ستمبر کا اصل سبق
16 ؍ستمبر کو سپریم کورٹ نے ایک چیز ضرور بچانے کی کوشش کی،ادارہ جاتی تصادم سے گریز۔مگر اس کے بدلے اسے تین ہفتے انتظار کرنا پڑا۔وفاقی آئینی عدالت کا حکم اپنی جگہ موجود ہے ۔18؍اگست کا سپریم کورٹ کا حکم بھی اپنی جگہ موجود ہے ۔حکومت کے خلاف عدم تعمیل کا سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے ۔اور عمران خان کی ملاقاتوں اور طبی سہولتوں کا سوال بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ عدالت نے خود تسلیم کیا کہ 18 اگست کا حکم نافذ العمل ہے ۔یوں اس وقت پاکستان کے سامنے ایک عجیب آئینی منظر ہے ۔ایک عدالت کا حکم نافذ ہے ۔دوسری عدالت اس حکم سے متعلق مقدمے کا ریکارڈ طلب کرچکی ہے ۔پہلی عدالت دوسری عدالت کے حکم کی قانونی حیثیت پر غور کر رہی ہے ۔اور انتظامیہ دونوں کے درمیان کھڑی ہے ۔یہی وہ لمحہ ہے جسے تاریخ شاید ایک سوال کے طور پر یاد رکھے :جب عدالتیں خود اپنے اختیار کی حد تلاش کرنے لگیں تو آئین کا آخری محافظ کون رہ جاتا ہے ؟

آخری بات
16 ؍ستمبر کو سپریم کورٹ کی سب سے بڑی کمزوری شاید یہ نہیں تھی کہ اس کے سامنے ایک نئی عدالت کھڑی ہوگئی۔اس سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ اس کے سامنے اس کا اپنا 18؍اگست کا حکم موجود تھااور اس کے باوجود کارروائی کا مرکزی سوال حکم کی تعمیل سے زیادہ اپنے دائرۂ اختیار کی حفاظت بن گیا۔یہ کہنا درست نہیں کہ عدالت نے اپنے حکم کو بھلا دیا۔حکم کا حوالہ موجود تھا اور عدالت نے یہ بھی ریکارڈ کیا کہ وہ نافذ العمل ہے ۔مگر سوال اپنی جگہ ہے ۔اگر حکم نافذ العمل ہے تو اس کا نفاذ کہاں ہے ؟اگر ملاقاتیں حکم کا حصہ ہیں توان کی مکمل تعمیل کہاں ہے ؟اگر اسپتال منتقلی حکم کا حصہ ہے تواس پر فیصلہ کن کارروائی کہاں ہے ؟اور اگر حکومت نے حکم پر عمل نہیں کیا توریاست کے سامنے عدالت کے حکم کی حقیقی طاقت کیا رہ جاتی ہے ؟شاید یہی 16 ستمبر کا سب سے تلخ آئینہ ہے ۔سپریم کورٹ کے سامنے اب صرف یہ سوال نہیں کہ اس کا حکم مانا جائے گا یا نہیں۔ اس کے سامنے یہ سوال بھی ہے کہ اس کا حکم کس حد تک اس کا اپنا رہ گیا ہے ۔اور 27ویں ترمیم کے بعد شاید پاکستان کے عدالتی نظام کا سب سے بڑا سوال بھی یہی ہے ۔کیا ہم نے دو اعلیٰ عدالتیں بنائی ہیں، یا ایک ایسی عدالتی کشمکش کو جنم دیا ہے جس میں ایک عدالت اپنے سابقہ اختیار کی حفاظت کر رہی ہے اور دوسری اپنے نئے آئینی اختیار کی حدود آزما رہی ہے ؟اگر جواب ابھی واضح نہیں تو کم از کم ایک بات واضح ہے ۔18؍اگست کو عمران خان کے لیے شفا انٹرنیشنل کا دروازہ کھولنے والا حکم 16ستمبر تک پہنچتے پہنچتے پاکستان کے پورے عدالتی نظام کا دروازہ کھول چکا تھا۔اب اس دروازے کے دوسری طرف صرف عمران خان نہیں کھڑے ۔وہاں آئین کھڑا ہے ۔اور اس کے سامنے دو عدالتیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں