میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بحیرۂ عرب میں بھارت پاکستان بحری تصادم، حادثہ، اشتعال یا خطرناک عسکری اشارہ؟

بحیرۂ عرب میں بھارت پاکستان بحری تصادم، حادثہ، اشتعال یا خطرناک عسکری اشارہ؟

جرات ڈیسک
جمعه, ۱۸ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

نجم انوار

٭15؍ستمبر کی شام دو بحری یونٹ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے ۔واقعہ بظاہر محدود تھا۔ کسی بڑے بحری معرکے کی اطلاع نہیں۔ کسی میزائل حملے کی تصدیق نہیں۔ لیکن اس کی سیاسی اور عسکری اہمیت معمولی نہیں

٭اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جہاز کہاں ٹکرائے ؟ اصل سوال یہ ہے کہ تصادم سے پہلے کے آخری ساٹھ سیکنڈ میں دونوں بحری جہاز کیا دیکھ رہے تھے ، کیا سمجھ رہے تھے اور کیا حکم پا رہے تھے ؟

٭15؍ستمبر کو صورت حال اس وقت سنگین ہوئی جب پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی جنگی جہاز پاکستانی بحری جہاز کے خطرناک حد تک قریب آیا اور جارحانہ انداز میں سمت تبدیل کی

٭بھارتی جہاز نے ایسی نقل و حرکت کی جس میں پاکستان کے جائز حقوق اور جاری بحری مشق کی حفاظت کا مناسب لحاظ نہیں رکھا گیا، اور یہی وہ مقام ہے جہاں 1991کا معاہدہ اہم ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

15 ؍ستمبر 2026کو شمالی بحیرۂ عرب میں پاکستانی اور بھارتی بحری یونٹوں کے درمیان تصادم نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ دو جوہری حریفوں کی بحری افواج جب ایک دوسرے کے اتنے قریب پہنچ جائیں کہ چند سیکنڈ کی غلط فہمی تصادم میں بدل جائے ، تو حادثہ اور عسکری اشتعال کے درمیان حد کہاں باقی رہ جاتی ہے ؟
اصل سوال صرف یہ نہیں کہ جہاز کہاں ٹکرائے ؟ اصل سوال یہ ہے کہ تصادم سے پہلے کے آخری ساٹھ سیکنڈ میں دونوں بحری جہاز کیا دیکھ رہے تھے ، کیا سمجھ رہے تھے اور کیا حکم پا رہے تھے ؟

اہم حقائق ایک نظر میں

واقعہ:15ستمبر 2026

مقام:شمالی بحیرۂ عرب

پاکستانی مؤقف:واقعہ پاکستان کے خصوصی اقتصادی علاقے میں جاری بحری مشق کے دوران پیش آیا اور بھارتی جنگی جہاز خطرناک انداز میں پاکستانی بحری جہاز کے قریب آیا۔
بھارتی مؤقف:واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں ہوا اور پاکستانی بحری جہاز تیز رفتاری سے بھارتی جنگی جہاز کے قریب آیا اور غیر محفوظ انداز میں سمت تبدیل کی۔
پاکستانی مشق:”سی اسپارک 26″
پاکستانی جہاز:پی این ایس حُنَین

بھارتی جہاز:بھارتی ذرائع اسے ایک پیشِ اول جنگی جہاز قرار دیتے ہیں؛ بعض رپورٹوں میں کولکاتا جماعت کے جہاز کا ذکر ہے ۔
سفارتی ردعمل:دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفارتی نمائندوں کو طلب کرکے احتجاج کیا۔
اہم قانونی حوالہ:1991کا بھارت پاکستان معاہدہ، بالخصوص دفعہ 10، جس میں بین الاقوامی پانیوں میں دونوں ممالک کے بحری جہازوں کے درمیان کم از کم تین بحری میل کا فاصلہ رکھنے کی بات کی گئی ہے۔

سمندر میں چند منٹ، بحران کا خدشہ
بحیرۂ عرب بظاہر خاموش ہے ۔نہ یہاں کسی زمینی سرحد کی لکیر دکھائی دیتی ہے ، نہ کسی پہاڑی چوٹی پر پرچم نصب ہے ۔ لیکن اسی خاموش سمندر میں پاکستان اور بھارت کی بحری افواج ایک دوسرے کی سرگرمیوں پر نظر رکھتی ہیں، اپنی مشقیں کرتی ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔15؍ستمبر کی شام اسی ماحول میں دو بحری یونٹ ایک دوسرے سے ٹکرا گئے ۔واقعہ بظاہر محدود تھا۔ کسی بڑے بحری معرکے کی اطلاع نہیں۔ کسی میزائل حملے کی تصدیق نہیں۔ لیکن اس کی سیاسی اور عسکری اہمیت معمولی نہیں۔کیونکہ یہ پاکستان اور بھارت ہیں۔دو ایٹمی طاقتیں۔دو روایتی حریف۔اور دو ایسی افواج جن کے درمیان ایک چھوٹی سی غلط فہمی بھی بڑے بحران کا آغاز بن سکتی ہے ۔
تازہ اطلاعات کے مطابق تصادم کے بعد دونوں ممالک نے سفارتی احتجاج کیا۔ پاکستان نے بھارتی بحری جہاز کی کارروائی کو اپنے خصوصی اقتصادی علاقے میں خطرناک اور اشتعال انگیز قرار دیا، جبکہ بھارت نے پاکستانی بحری جہاز کے طرزِ عمل کو غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ قرار دیا۔یہی تضاد اس پوری کہانی کا مرکز ہے ۔

پاکستان کا مؤقف:یہ محض ایک حادثہ نہیں تھا
پاکستان کے سرکاری مؤقف کے مطابق پاکستان بحریہ یکم ستمبر سے اپنے خصوصی اقتصادی علاقے میں سی اسپارک 26نامی بحری مشق کر رہی تھی۔پاکستانی وزارتِ خارجہ کے مطابق 7؍ستمبر سے ایک بھارتی بحری جہاز اور اس پر موجود ہیلی کاپٹر نے اس علاقے میں داخل ہونے یا مشقی علاقے کے قریب آنے کی متعدد کوششیں کیں۔15؍ستمبر کو صورت حال اس وقت سنگین ہوئی جب پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارتی جنگی جہاز پاکستانی بحری جہاز کے خطرناک حد تک قریب آیا اور جارحانہ انداز میں سمت تبدیل کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کا باہمی تصادم ہوا۔پاکستان نے اس واقعے پر بھارتی ناظم الامور کو طلب کیا اور باضابطہ احتجاج کیا۔اسلام آباد کے لیے مسئلہ صرف جہازوں کی ٹکر نہیں بلکہ اس سے پہلے کی پوری سرگرمی ہے :اگر ایک بحری مشق جاری تھی تو ایک بھارتی جنگی جہاز وہاں کیا کر رہا تھا؟اور اگر وہ نگرانی کر رہا تھا تو:وہ کس فاصلے سے نگرانی کر رہا تھا؟اور:کیا اس نگرانی کے دوران اس نے ایسا فاصلہ اختیار کیا جس سے پاکستانی بحری جہاز کو خطرہ لاحق ہوا؟
یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب پاکستان کے مؤقف کی اصل بنیاد بن سکتے ہیں۔

لیکن خصوصی اقتصادی علاقہ کیا ہے؟
یہاں ایک اہم قانونی وضاحت ضروری ہے ۔کسی ملک کا خصوصی اقتصادی علاقہ اس ملک کے علاقائی سمندر کے برابر نہیں ہوتا۔سمندری قانون کے تحت ساحلی ریاست کو خصوصی اقتصادی علاقے میں قدرتی وسائل اور بعض معاشی سرگرمیوں سے متعلق خصوصی حقوق حاصل ہوتے ہیں، جبکہ دوسری ریاستوں کے جہاز رانی اور فضائی گزر کے بعض حقوق بھی برقرار رہتے ہیں۔اس لیے صرف یہ کہنا کہ:”بھارتی جنگی جہاز پاکستان کے خصوصی اقتصادی علاقے میں تھا، لہٰذا اس کی موجودگی خود بخود غیر قانونی تھی”قانونی اعتبار سے ایک مکمل دلیل نہیں ہوگی۔
پاکستان کے لیے زیادہ مضبوط سوال اس سے آگے پیدا ہوتا ہے :کیا بھارتی جہاز نے ایسی نقل و حرکت کی جس میں پاکستان کے جائز حقوق اور جاری بحری مشق کی حفاظت کا مناسب لحاظ نہیں رکھا گیا؟اور یہی وہ مقام ہے جہاں 1991 کا معاہدہ اہم ہوجاتا ہے ۔

تین بحری میل پانچ اعشاریہ چھ کلومیٹر کی حفاظتی لکیر
1991 میں بھارت اور پاکستان نے ایک اہم فوجی اعتماد سازی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے ۔اس کا مقصد یہ تھا کہ ایک دوسرے کی فوجی مشقوں اور نقل و حرکت کو غلط انداز میں نہ سمجھا جائے اور اچانک پیدا ہونے والی کشیدگی کو بحران میں تبدیل ہونے سے روکا جاسکے ۔
اس معاہدے کی دفعہ 10میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں دونوں ممالک کے بحری جہاز اور آبدوزیں ایک دوسرے سے تین بحری میل سے کم فاصلے پر نہ آئیں تاکہ حادثات سے بچا جاسکے ۔ تین بحری میل تقریباً 5.56کلومیٹر بنتے ہیں۔یہ فاصلہ کاغذ پر شاید معمولی دکھائی دے ۔لیکن ایک جنگی جہاز کے لیے پانچ کلومیٹر سے کچھ زیادہ فاصلہ ہمیشہ ‘‘دور’’ نہیں ہوتا۔ایک تیز رفتار جنگی جہاز اسے مختصر وقت میں طے کرسکتا ہے ۔اور اگر دونوں جہاز بیک وقت سمت بدل رہے ہوں تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوجاتی ہے ۔

مگر یہاں ایک قانونی گرہ بھی ہے
بھارت کا مؤقف ہے کہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں ہوا اور پاکستان کے بحری جہاز نے تین بحری میل کی حفاظتی حد کی خلاف ورزی کی۔
پاکستان کا مؤقف اس کے برعکس ہے کہ واقعہ اس کے خصوصی اقتصادی علاقے میں پیش آیا اور بھارتی بحری جہاز کی خطرناک قربت اور نقل و حرکت اصل مسئلہ تھی۔یہاں ایک دلچسپ قانونی سوال پیدا ہوتا ہے :اگر مقام خصوصی اقتصادی علاقہ تھا تو 1991کے معاہدے کی دفعہ 10 کس حد تک براہِ راست لاگو ہوتی ہے ؟کیونکہ معاہدے کا متن "بین الاقوامی پانیوں”میں بحری جہازوں کی باہمی قربت کی بات کرتا ہے ۔اس لیے تصادم کے عین مقام کے درست نقاط اس بحث میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔اب تک دونوں حکومتوں نے عوامی سطح پر تصادم کے درست محلِ وقوع کے مکمل اعداد و شمار جاری نہیں کیے ۔اور یہی اس کہانی کی سب سے بڑی کمی ہے ۔

اصل ثبوت کہاں ہے؟
بحری تصادم کے معاملے میں بیانات سے زیادہ اہم اعداد و شمار ہوتے ہیں۔اگر واقعی یہ جاننا ہو کہ غلطی کس سے ہوئی تو تحقیقات میں کم از کم یہ معلومات سامنے آنی چاہئیں:
۱۔دونوں جہازوں کے درست محلِ وقوع
۲۔تصادم سے پہلے کی رفتار
۳۔دونوں کی سمت
۴۔سمت میں ہونے والی تبدیلیاں
۵۔رفتار میں اچانک اضافہ یا کمی
۶۔ایک دوسرے سے باہمی فاصلہ
۷۔ریڈیو پر ہونے والی گفتگو
۸۔دیے گئے انتباہات
۹۔ہیلی کاپٹر کی پرواز کا راستہ
۱۰۔مشقی علاقے کی مقررہ حدود
۱۱۔تصادم کا زاویہ
۱۲۔دونوں جہازوں کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت
ان معلومات کے متعین طور پر سامنے آنے سے قبل شاید یہ تعین نہ ہو سکے کہ ‘‘پہلے خطرہ کس نے پیدا کیا’’؟

آخری ساٹھ سیکنڈسب سے اہم سوال
تصادم سے ایک گھنٹہ پہلے کی سرگرمی اہم ہے ۔دس منٹ پہلے کی سرگرمی بھی اہم ہے ۔لیکن ذمہ داری طے کرنے کے لیے سب سے اہم شاید ‘‘آخری ساٹھ سیکنڈ’’ہوں گے ۔اس ایک منٹ میں:کون کس طرف جا رہا تھا؟کس نے رفتار بدلی؟کس نے سمت تبدیل کی؟کیا پل پر موجود کمانڈر کو خطرے کا اندازہ ہوگیا تھا؟کیا انتباہ دیا گیا؟کیا دوسرے جہاز نے اسے سنا؟کیا راستہ تبدیل کرنے کے لیے کافی وقت موجود تھا؟یہ وہ سوالات ہیں جو کسی بھی غیر جانب دار بحری تحقیق کے مرکز میں ہونے چاہئیں۔

کیا بھارت نگرانی کر رہا تھا؟
پاکستانی مؤقف میں یہ پہلو خاص اہمیت رکھتا ہے ۔پاکستان کا کہنا ہے کہ بھارتی بحری جہاز اور ہیلی کاپٹر 7ستمبر سے مشقی علاقے کے قریب آنے کی کوششیں کر رہے تھے ۔اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو تصادم کو صرف ایک الگ تھلگ واقعہ سمجھنا مشکل ہوگا۔پھر اس کے پس منظر میں ایک مسلسل نگرانی کی سرگرمی بھی موجود ہوگی۔لیکن یہاں بھی احتیاط ضروری ہے ۔کسی دوسرے ملک کی بحری مشق کی نگرانی کرنا بذاتِ خود غیر معمولی بات نہیں۔بحری افواج ایک دوسرے کی مشقوں، جہازوں اور نقل و حرکت پر نظر رکھتی ہیں۔مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب نگرانی اتنی قریب ہوجائے کہ دوسرا فریق اسے دباؤ یا خطرہ سمجھنے لگے ۔

نگرانی اور اشتعال کے درمیان باریک لکیر
ایک بحری جہاز دور سے دوسرے کی نگرانی کرے تو اسے معمول کی فوجی نگرانی کہا جاسکتا ہے ۔لیکن اگر وہ مسلسل قریب آئے ، راستہ کاٹے ، رفتار تبدیل کرے یا دوسرے جہاز کو ردعمل پر مجبور کرے تو صورتحال مختلف ہوجاتی ہے ۔یہاں ارادہ ثابت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔کیونکہ ایک ہی کارروائی کو دو مخالف کمانڈروں کی نظر میں دو بالکل مختلف معنی حاصل ہوسکتے ہیں۔ایک کے لیے :”میں صرف نگرانی کر رہا ہوں”۔ دوسرے کے لیے :”وہ مجھے دباؤ میں ڈال رہا ہے "۔اور اگر دوسرا کمانڈر بھی اسی انداز میں ردعمل دے تو چند سیکنڈ میں دونوں ایک دوسرے کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

کیا یہ دانستہ تصادم تھا؟
اس سوال کا جواب فی الحال نہیں معلوم۔عوامی سطح پر دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی فریق نے جان بوجھ کر اپنا جنگی جہاز دوسرے سے ٹکرایا۔ایسا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے مضبوط شواہد درکار ہوں گے ۔مثلاً:پیشگی احکامات،مسلسل خطرناک سمت اختیار کرنے کے شواہد،بار بار انتباہ کے باوجود راستہ نہ بدلنا،غیر معمولی رفتار،یا جہاز کے اندرونی مواصلاتی ریکارڈ۔ایسا قابلِ اعتماد آزادانہ ثبوت ابھی سامنے نہیں آیا۔لہٰذا ‘دانستہ تصادم ’کو اس مرحلے پر حقیقت کہنا قبل از وقت ہوگا۔

بھارت کا مؤقف کیا ہے؟
بھارت کے مطابق اس کا جنگی جہاز معمول کی نگرانی کی کارروائی پر تھا۔بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحری جہاز تیز رفتاری سے قریب آیا، غیر محفوظ انداز میں سمت بدلی اور اس کے نتیجے میں معمولی تصادم ہوا۔بھارت نے یہ بھی کہا کہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا اور اس نے 1991 کے معاہدے کی دفعہ 10 کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان سے احتجاج کیا۔بھارتی رپورٹنگ کے مطابق بھارتی جہاز کو بڑا نقصان نہیں پہنچا، جبکہ پاکستانی جہاز کو نقصان پہنچا اور وہ بندرگاہ واپس گیا۔ یہ معلومات بنیادی طور پر بھارتی ذرائع سے سامنے آئی ہیں، اس لیے ان کی مکمل آزادانہ تصدیق الگ معاملہ ہے ۔یوں دونوں ممالک کے مؤقف میں بنیادی اختلاف برقرار ہے :
پاکستان:بھارتی جہاز کی خطرناک قربت اور مشقی علاقے میں سرگرمی اصل مسئلہ تھی۔
بھارت:پاکستانی جہاز تیز رفتاری سے خطرناک انداز میں قریب آیا اور اسی سے تصادم ہوا۔
فیصلہ کن ثبوت ابھی عوامی سطح پر موجود نہیں۔

کیا یہ جنگ کی طرف بڑھتا ہوا قدم ہے ؟
فی الحال اس نتیجے تک پہنچنا درست نہیں ہوگا۔اب تک سامنے آنے والی اطلاعات میں بنیادی ردعمل سفارتی احتجاج تک محدود ہے ۔ کسی نئی وسیع بحری یا فضائی جنگی کارروائی کی تصدیق نہیں ہوئی۔لیکن خطرہ ختم بھی نہیں ہوا۔کیونکہ جنگ کا خطرہ ہمیشہ کسی بڑے حملے سے پیدا نہیں ہوتا۔کبھی خطرہ اس ماحول سے پیدا ہوتا ہے جس میں دونوں افواج:ایک دوسرے کو مسلسل دیکھ رہی ہوں،ایک دوسرے کی نیت پر شک کر رہی ہوں،قریب آ رہی ہوں،اور ہر نئی حرکت کو پچھلے واقعے کے تناظر میں دیکھ رہی ہوں۔ایسے ماحول میں اگلا چھوٹا واقعہ پہلے واقعے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے ۔

  • 15 ؍ستمبر کا واقعہ حادثہ تھا؟کسی خطرناک بحری نقل و حرکت کا نتیجہ تھا؟نگرانی کے دوران پیدا ہونے والی غلط فہمی تھی؟یا کسی فریق کی جانب سے طاقت کا اشارہ؟فی الحال ان سوالات میں سے کسی ایک کا قطعی جواب عوامی شواہد کی بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا۔لیکن ایک بات واضح ہے۔ بحیرۂ عرب اب بھارت اور پاکستان کے درمیان صرف تجارتی راستہ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا عسکری میدان بھی ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں، پرکھ رہے ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔

 

پاکستان کے لیے اصل مسئلہ کیا ہے؟
پاکستانی نقطۂ نظر سے اس واقعے کو تین سطحوں پر دیکھا جاسکتا ہے ۔

پہلی سطح:سمندری سلامتی
پاکستان کے لیے بحیرۂ عرب معاشی اور دفاعی اعتبار سے بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔بحری مشق کے دوران کسی غیر ملکی جنگی جہاز کی خطرناک قربت پاکستان کے لیے محض ایک معمولی بحری سرگرمی نہیں ہوگی۔

دوسری سطح: فوجی نگرانی
اگر کسی مشق کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہو تو پاکستان اسے اپنی بحری تیاریوں کے خلاف معلومات جمع کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

تیسری سطح:روک تھام
اگر ایک فریق دوسرے کو یہ احساس دلائے کہ وہ اس کی سرگرمیوں کو قریب سے دیکھ سکتا ہے تو یہ طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن سکتا ہے ۔
لیکن یہی عمل اگر بہت قریب سے کیا جائے تو حادثے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔

ایک اہم فرق: احتجاج اور تصادم
دونوں ممالک نے سفارتی احتجاج کیا ہے ۔یہ اہم ہے ۔کیونکہ احتجاج کا مطلب یہ بھی ہے کہ دونوں حکومتیں فی الحال واقعے کو سفارتی سطح پر سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔لیکن احتجاج کے ساتھ ساتھ اگر بحری سطح پر ایک دوسرے کے خلاف مزید قریبی نگرانی اور زیادہ جارحانہ نقل و حرکت شروع ہوگئی تو صورتحال بدل سکتی ہے ۔اس لیے آنے والے دنوں میں صرف سرکاری بیانات نہیں بلکہ ‘‘بحری تعیناتیوں’’ پر بھی نظر رکھنا ہوگی۔

اب کیا دیکھنا چاہیے؟
آنے والے دنوں میں چند اشارے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔اگر یہ اقدامات سامنے آئیں،اضافی جنگی جہازوں کی تعیناتی،بحری مشقوں کا دائرہ وسیع ہونا،غیر معمولی فضائی نگرانی،ہیلی کاپٹروں اور سمندری گشتی طیاروں کی سرگرمی میں اضافہ،ایک دوسرے کے جہازوں کے قریب آنے کے نئے واقعات،یا سخت عسکری بیانات کا تسلسل۔تو اس سے معلوم ہوگا کہ واقعہ محض ایک حادثے تک محدود نہیں رہا۔
اس کے برعکس اگرسفارتی رابطے بڑھتے ہیں،بحری کمانڈروں کے درمیان رابطہ قائم ہوتا ہے ،حفاظتی فاصلوں کے بارے میں وضاحت ہوتی ہے ،اور دونوں جانب سے بحری نقل و حرکت معمول پر آتی ہے ،تو یہ بحران کو محدود رکھنے کی کوشش کی علامت ہوگی۔

اصل ضرورت: سمندر میں غلط فہمی روکنے کا نیا نظام
1991 کا معاہدہ اس دور میں بنا جب آج کے مقابلے میں سمندری نگرانی کے ذرائع کہیں کم تھے ۔آج بحری افواج کے پاس زیادہ طاقتور ریڈار، دور تک دیکھنے والے آلات، بغیر پائلٹ کے طیارے ، ہیلی کاپٹر، سمندری گشتی طیارے اور جدید مواصلاتی نظام موجود ہیں۔اس لیے شاید ضرورت صرف پرانے معاہدے کو دہرانے کی نہیں بلکہ اس کے حفاظتی طریقۂ کار کو موجودہ حالات کے مطابق مزید واضح کرنے کی بھی ہے ۔خاص طور پربحری مشق کے علاقے کی پیشگی اطلاع، محفوظ فاصلہ، براہِ راست رابطہ، انتباہ کے یکساں طریقے اور خطرناک قربت کی صورت میں فوری رابطے کا طریقہ۔یہ سب انتظامات کسی ایک فریق کے لیے نہیں بلکہ دونوں کے لیے حفاظتی دیوار بن سکتے ہیں۔

آخری فیصلہ ابھی باقی ہے
15 ؍ستمبر کا واقعہ حادثہ تھا؟کسی خطرناک بحری نقل و حرکت کا نتیجہ تھا؟نگرانی کے دوران پیدا ہونے والی غلط فہمی تھی؟یا کسی فریق کی جانب سے طاقت کا اشارہ؟فی الحال ان سوالات میں سے کسی ایک کا قطعی جواب عوامی شواہد کی بنیاد پر نہیں دیا جاسکتا۔لیکن ایک بات واضح ہے ۔
بحیرۂ عرب اب بھارت اور پاکستان کے درمیان صرف تجارتی راستہ نہیں رہا۔ یہ ایک ایسا عسکری میدان بھی ہے جہاں دونوں ممالک ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں، پرکھ رہے ہیں اور اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔اس ماحول میں ایک بحری جہاز کا دوسرے کے قریب آنا محض چند کلومیٹر کا معاملہ نہیں۔یہ ارادے کی تعبیر کا معاملہ بن جاتا ہے ۔ایک کمانڈر جس حرکت کو معمول سمجھتا ہے ، دوسرا اسے خطرہ سمجھ سکتا ہے ۔ایک جہاز کا راستہ بدلنا دوسرے کے لیے حملے کی تیاری محسوس ہوسکتا ہے ۔اور یہی وہ مقام ہے جہاں حادثہ بحران بن سکتا ہے ۔
بحیرۂ عرب کے اس تصادم کا فیصلہ شاید عدالت، سفارت کاری یا بیانات نہیں کریں گے ۔ اصل فیصلہ وہ اعداد و شمار کریں گے جو تصادم سے پہلے کے آخری ساٹھ سیکنڈز کی حقیقت بتائیں گے ۔کس نے رفتار بڑھائی؟کس نے سمت بدلی؟کس نے راستہ نہیں دیا؟اور سب سے بڑھ کرکس لمحے دونوں کمانڈروں نے ایک دوسرے کی نیت کو غلط سمجھا؟یہی وہ سوال ہے جس کا جواب صرف 15 ستمبر کے واقعے کو نہیں، بلکہ بھارت اور پاکستان کے آئندہ بحری تعلقات کو بھی سمجھنے میں مدد دے گا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں