بھارت کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبا نہیں سکتا
شیئر کریں
بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ پر زور دیا ہے کہ وہ علاقے کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کرے کیونکہ بھارت کا ریاستی جبر او تنازعہ کشمیرکا حل نہ ہونا جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے کہا کہ عالمی برادری کومقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی طرف سے جاری ریاستی دہشت گردی سے لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ایک تنازعہ اور جنوبی ایشیا میں ممکنہ ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے۔ تنازعہ کشمیر ایک ایسی چنگاری ہے جو جنوبی ایشیامیں جوہری جنگ بھڑکاسکتا ہے جس کے خطے اورپوری دنیا کے لیے تباہ کن نتائج ہوں گے۔
مسئلہ کشمیر ایک خطرناک بحران ہے اوراس کے حل میں مسلسل تاخیر کے علاقائی اور عالمی امن کے لیے سنگین اثرات ہوں گے۔ بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کے جائز مطالبے کو پورا کرنے سے انکار کرکے منصفانہ حل کی کوششوں میں مسلسل رکاوٹیں کھڑی کررہا ہے۔ ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اپنی خاموشی ترک کرے، بھارت کو مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے پر مجبورکرے اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل میں سہولت فراہم کرے۔حریت کانفرنس نے بھارتی فوج کی مسلسل پرتشدد کارروائیوں اور حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ سمیت حریت رہنماؤں محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی اور دیگر کی مسلسل غیر قانونی نظربندیوں کی شدید مذمت کی۔کشمیری انسانی حقوق کے کارکنوں کو مودی حکومت کی جانب سے مسلسل دھمکیوں اورخوف و دہشت کا نشانہ بنایا جارہاہے۔
بھارتی ظلم وتشدد کے خلاف آواز بلند کرنے پر خرم پرویز، عرفان معراج اورانسانی حقوق کے دیگر کارکن جھوٹے مقدمات میں غیر قانونی طورپرنظربند ہیں۔
مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے کارکنوں اور صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی سے روکنے کیلئے دھمکیاں دینے کے علاوہ ہراساں کیاجارہاہے۔ بی جے پی حکومت انسداد دہشت گردی کے قوانین کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے کارکنوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔حریت ترجمان نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی سنگینی صورتحال کا جائزہ لیں اور کشمیر ی عوام پر ظلم و تشدد کو رکوانے کیلئے بھارت پر دباؤ بڑھائیں۔ مودی حکومت اور مقبوضہ علاقے میں اسکی قابض انتظامیہ اپنے ظالمانہ ہتھکنڈوں کے ذریعے کشمیریوں کو اپنی حق پر مبنی جدوجہد آزادی جاری رکھنے سے روک نہیں سکتی۔
بھارتی قبضے میں کشمیری جہنم جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ بھارت کشمیریوں کی آزادی کی آواز کو فوجی طاقت کے بل پر دبانے کی اپنی مذموم پالیسی پر بدستور عمل پیرا ہے۔ قابض بھارتی فورسز نے مقبوضہ علاقے کے اطراف واکناف میں جاری محاصرے اور تلاشی کی اپنی بلاجواز کارروائیوں، چھاپوں اور غیر قانونی گرفتاریوں کے زریعے علاقے میں خوف ودہشت کا ماحول قائم کررکھا ہے۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت کشمیریوں کو اپنے ہی وطن میں اجنبی بنانے کیلئے ان کے گھروں ، زمینوں اور دیگر املاک پر قبضے کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بھارتی حکومت مقبوضہ جموں وکشمیر میں بالکل اسی منصوبے پر عمل پیرا ہے جو اسرائیل نے فلسطین میں اپنا رکھا ہے ، مقبوضہ علاقے میں بھارتی ہندوؤں کیلئے کالونیوں کی تعمیر اور اس طرح کے دیگر منصوبے اسرائیل ماڈل کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بھارت کے تمام تر ظلم و ستم اور مذموم منصوبوں کے باوجود کشمیریوں کے حوصلے بلندہیں ، بھارتی چیرہ دستیاں انکے جذبہ آزادی کو مزید توانا کر رہی ہیں اور وہ شہداء کے مقدس لہو سے سچی ہوئی تحریک کواسکے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری مقبوضہ علاقے میں جاری انسانیت کے خلاف جاری جاری سنگین بھارتی جرائم کا نوٹس لیں اور تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے نئی دلی پر دباؤ ڈالیں۔ بھارت کے غیر قانونی زیرقبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنما ایڈووکیٹ دیویندر سنگھ بہل نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرائے۔ تصفیہ طلب تنازعہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا امن خطرے میں ہے۔کشمیر کا تنازعہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کی بنیادی وجہ ہے اور جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیائی خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔ 1947 سے پاکستان تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے جدوجہد کر رہا ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اس کے حل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان ہر فورم پر تنازعہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل کرنے کی بات کر رہا ہے جبکہ بھارت کشمیری عوام سے کیے گئے وعدے سے انحراف کر رہا ہے۔
٭٭٭


