میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آپ کے مسائل اور اُن کا حل

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۸ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

مفتی محمد وقاص رفیع

نماز کی ایک رکعت میں ایک سے زائد سورتیں پڑھنے کا حکم:
سوال: اگر آدمی نماز تنہا پڑھ رہا ہو تو ایک سے زائد دو تین سورتیں ایک رکعت میں پڑھ سکتاہے یا نہیں؟ مثال کے طور پر ایک شخص کو بڑی سورتیں یاد نہیں، وہ اگر فجر کی نماز اکیلا ادا کررہا ہو تو کیا فرض نماز میں وہ ایک ساتھ تین سورتیں پہلی رکعت میں اور تین سورتیں دوسری رکعت میں پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ سائل: شمس الہادی (ڈیرہ غازی خان)
جواب: فرض نماز میں ایک رکعت میں ایک سے زائد دو تین یا ان سے زیادہ سورتیں پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے، البتہ نماز اِس سے ہوجاتی ہے، اورسجدہ سہو بھی لازم نہیں آتا، البتہ سنتوں اور نفلوں میں ایک سے زیادہ سورتیں پڑھنے میں کوئی کراہت نہیں، وہ بلا کراہت جائز ہیں۔ فقط: واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم(فتاوی شامی)

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

طواف کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنے کا حکم:

سوال:جب ہم لوگ عمرہ کا طواف مکمل کرلیتے ہیں تو اس کے بعد دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں، ان دو رکعتوں کا کیا حکم ہے یعنی وہ دو رکعت سنت ہوتی ہیں یا نفل ہوتی ہیں یا واجب ہوتی ہیں؟ نیز کیا دو رکعت ادا نہ کرنے سے طواف ادا نہیں ہوتا، اور عمرے پر کچھ اثر پڑتا ہے یا نہیں؟ سائلہ: بریرہ جبین (کراچی)
جواب:طواف کے ہر سات چکروں کے بعد دو رکعت نماز ادا کرنا واجب ہے،چاہے طواف فرضی ہو یا نفلی۔ اور حرم شریف میں ادا کرنا سنت ہے، اور مقام ابراہیم اور بیت اللہ کے سامنے ادا کرنا افضل ہے۔ اگر وہاں جگہ نہ ملے تو پوری مسجد الحرام میں کہیں بھی ادا کر سکتے ہیں، اگر کسی نے یہ دو رکعت مسجد الحرام میں ادا نہیں کیں تو اس کو جہاں کہیں بھی ادا کرے، ادا کرنا واجب ہے، جب تک ادا نہیں کرے گا ذمہ سے ساقط نہیں ہوں گی، اگر دوگانہ طواف پڑھنا بھول گیا اور اپنے وطن واپس پہنچ گیا تو اپنے وطن میں ہی یہ دو رکعت پڑھ لے، اس پر تاخیر کی وجہ سے دم لازم نہیں آئے گا اور نماز ادا کرنے کا واجب ادا ہوجائے گا۔ باقی اگر یہ دو رکعت نہ پڑھے تو بھی عمرہ ادا ہوجائے گا،لیکن اس عمل کو ترک کرنے کی صورت میں گناہ گارضرور ہوگا۔ فقط: واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

ساس کا داماد کے ساتھ عمرہ پر جانے کا حکم:
سوال: کیا ساس اپنے داماد کے ساتھ عمرہ کرنے جا سکتی ہے؟ سائلہ: یاسمین ارشد (راول پنڈی)
جواب:داماد (سگی بیٹی کا شوہر) اپنی ساس کے لیے محرم ہے، ان میں ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہے، لہٰذا ساس اپنے داماد کے ساتھ حج و عمرہ کرنے کے لیے جاسکتی ہے بہ شرطیکہ فتنہ میں ملوث ہونے کا اندیشہ نہ ہو۔

نچلے ہونٹ کے نیچے کے بال کاٹنے کا حکم:
سوال: ریش بچہ یعنی نچلے ہونٹ کے نیچے جو ڈاڑھی کے بال ہوتے ہیں ان کو کاٹنے کا کیا حکم ہے؟ آیا وہ داڑھی کے حکم میں ہیں یا نہیں؟ اور انہیں بالکل صاف کرنا درست ہے یا نہیں؟ سائل: اعزاز علی (حیدر آباد)
جواب: نچلے ہونٹ سے متصل تھوڑی کے اوپر کے بال اور اس کے دائیں بائیں کا حصہ، جسے عرف میں ”ریش بچہ”یا ”داڑھی بچہ” کہا جاتا ہے، یہ بال بھی داڑھی کا حصہ ہونے کی وجہ سے ڈاڑھی کے حکم میں ہیں، لہٰذا ان کا رکھنا واجب ہے اور ان کو منڈوانا، کاٹنا، ترشوانایانوچنا بدعت و خلافِ سنت ہونے کی وجہ سے مکروہِ تحریمی اور ناجائز ہے، اس لیے اس کے کاٹنے سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے، البتہ دونوں ہونٹوں کے قریب دونوں کناروں سے بال ختم کرنا؛ تاکہ کھانا کھاتے وقت منہ میں نہ جائیں،درست اور جائز ہے۔ فقط: واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

لے پالک باپ سے پردہ کا حکم :
سوال: ایک شخص نے کسی کی بیٹی لے کر پالی ہے اور اس نے تمام سرکاری کاغذات میں حقیقی والدین کے بجائے اپنے نام سے منسوب کردیا ہے،یہاں تک کہ شادی کے معاملات بھی اس نے طے کیے ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ کیا لڑکی بلوغت کے بعد پالنے والے والدین کے ساتھ رہ سکتی ہے؟ اسی طرح لڑکا بھی؟ کیا پالنے والے کا گود لیے ہوئے لڑکا یا لڑکی سے غیر محرم کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے؟سائلہ: گل فرین (اسلام آباد)
جواب: کاغذات وغیرہ میں لے پالک والدین کا نام بطورِ والد لکھنا جائز نہیں ہے، اس کو تبدیل کروانا لازم ہے، نیز اگر بچے /بچی نے لے پالک ماں کا دودھ نہیں پیا تو بلوغت کے بعد نا محرم والے احکامات لاگو ہوں گیں۔اوراگر وہ اپنے لے پلک والدین کے ساتھ رہیں تو مکمل شرعی پردے کا اہتمام کرنا ضروری ہوگا۔فقط: واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم

پلاٹ کی بکنگ کینسل کرنے کی صورت میں پیشگی لی ہوئی رقم واپس کرنے کا حکم:
سوال:جب پلاٹوں کی کٹنگ ہورہی ہوتی ہے تو پلاٹ بک کرانے پر، پراپرٹی والا ایک ٹوکن دیتاہے جس کی مالیت دس ہزار کی ہوتی ہے۔یہ ٹوکن اس بات کی ضمانت ہوتا ہے کہ یہ پلاٹ آپ نے بک کرالیا ہے کوئی اور بک نہیں کراسکتا۔ پھر جب باقاعدہ مکان کی خریداری ہوتی ہے تو وہ دس ہزار اصل قیمت میں شمار کیے جاتے ہیں۔لیکن اگر کسی وجہ سے بکنگ کرانے والے کا ارادہ تبدیل ہوجائے اور وہ مکان خریدنا نہ چاہے تو یہ دس ہزار اس کو واپس نہیں ملتے تو کیا اس طرح کے ٹوکن کے عوض پیسہ لینا جائز ہے؟
جواب: پلاٹ بک کراتے وقت اور ٹوکن دیتے وقت جو پیسے لیے جاتے ہیں وہ پلاٹ کی قیمت کا ہی حصہ ہوتے ہیں۔لہذا ان پیسوں کا لینا جائز ہے۔ البتہ بکنگ کینسل ہونے کی صورت میں ان پیسوں کی واپسی شرعاً ضروری ہوگی، کیوں کہ اس طرح پیشگی دی گئی رقم شرعاً بیعانہ ہے، اور بیعانہ ضبط کرنا شرعاً ناجائز ہے۔ البتہ ایس صورت میں اسکیم کی انتظامیہ پراسسنگ فیس کی مد میں عرف کے مطابق مناسب فیس کی کٹوتی کر سکتی ہے۔ فقط: واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں