سلیم حبیب یونیورسٹی، ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کا بڑا مقدمہ، اہم شخصیات نامزد
شیئر کریں
ارم آفاق، محمد عباس، ڈاکٹر حسن تھرانی، طارق محمد امین اور محمد فیروز عالم پر سنگین الزامات
اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس اینڈ انوسٹی گیشن (ان لینڈ ریونیو) کی جانب سے دائر مقدمے میں بیریٹ ہاڈسن پرائیوٹ لمیٹڈ سمیت ڈاکٹر ارم آفاق، محمد عباس، ڈاکٹر حسن تھرانی، طارق محمد امین اور محمد فیروز عالم کو مبینہ ٹیکس چوری، غلط بیانی اور منی لانڈرنگ سے متعلق سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ 23اپریل 2026کو درج دستاویز کے مطابق مقدمہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 اور انکم ٹیکس آرڈیننس 2001کی مختلف دفعات کے تحت قائم کیا گیا۔ سرکاری دستاویز میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ تقریباً 7.5ارب روپے کی سیٹلمنٹ ادائیگی کو کمپنی کے کاروباری خرچ کے طور پر ظاہر کرکے قابلِ ٹیکس آمدن میں کمی کی گئی، جس کے نتیجے میں مبینہ طور پر تقریباً 2.625ارب روپے ٹیکس سے بچنے کی کوشش کی گئی۔ سپر ٹیکس، ڈیفالٹ سرچارج اور دیگر واجبات سمیت سرکاری دستاویز میں مجموعی مبینہ ٹیکس اثر اس سے بھی زیادہ بیان کیا گیا ہے ۔دستاویز کے مطابق ارم آفاق کو بیریٹ ہاڈسن کی ڈپٹی چیئرپرس اینڈ سی ای او جبکہ سلیم حبیب ایجوکیشن فاونڈیشن میں شریک بانی ، ایم ڈی اور سی ای اوکے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ اسی طرح محمد عباس، ڈاکٹر حسن تھرانی، طارق محمد امین اور محمد فیروز عالم کے بی ایچ پی اور ایس ایچ ای ایف میں مختلف انتظامی عہدوں کا ذکر بھی موجود ہے ۔تحقیقاتی دستاویز میں ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سلیم حبیب ایجوکیشن فاونڈیشن،بیریٹ ہاڈسن کے تقریباً 96فیصد حصص کی مالک بتائی گئی ہے ۔ اس پس منظر میں تحقیقاتی حکام نے کمپنی اور فاؤنڈیشن کے درمیان مالی معاملات، سیٹلمنٹ کی ادائیگی اور متعلقہ افراد کے کردار کو تحقیقات کا حصہ بنایا ہے ۔سرکاری رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ 7.5ارب روپے کی سیٹلمنٹ رقم بی ایچ پی نے ادا کی جبکہ اس ادائیگی سے متعلق بعض افراد پر ذاتی فائدہ حاصل کرنے اور کمپنی کے کھاتوں میں اسے کاروباری خرچ ظاہر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں اسے مبینہ منی لانڈرنگ کے مختلف مراحل پلیسمنٹ، لیئرنگ اور انٹیگریشن سے بھی جوڑا گیا ہے ۔رپورٹ کے مطابق متعلقہ افراد کے اثاثوں، بینک اکاؤنٹس، سرمایہ کاری، گاڑیوں اور جائیدادوں کی تفصیلات بھی تحقیقات میں شامل کی گئی ہیں۔ دستاویز میں ملزمان سے منسوب اثاثوں اور بی ایچ پی کے اثاثوں کی تفصیلی فہرستیں بھی دی گئی ہیں۔تحقیقاتی حکام کا مؤقف ہے کہ مبینہ اقدامات سے قومی خزانے کو بھاری ٹیکس نقصان پہنچا اور معاملات اینٹی منی لانڈرنگ اور انکم ٹیکس آرڈیننس کی متعلقہ دفعات کے تحت قابلِ کارروائی ہیں۔واضح رہے کہ رپورٹ میں شامل حقائق مستند دستاویزات سے اخذ ہیں تاہم اس پر متعلقہ افراد کا موقف ملنے پر شائع کردیا جائے گا۔


