این آئی سی وی ڈی، سروس رولز پر بورڈ آف گورنرز کو گمراہ کرنے کا انکشاف
شیئر کریں
سروس رولز 2016کی حکومت ِ سندھ کی مجاز اتھارٹی سے باقاعدہ منظوری مشتبہ
سروس رولز کے نفاذ کا اعلامیہ ، کابینہ منظوری کا مستند ریکارڈ سامنے لانے کا مطالبہ
………………………….
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (این آئی سی وی ڈی) میں 2016کے سروس رولز کو بنیاد بنا کر ملازمین کی ترقیوں کی منظوری حاصل کیے جانے پر سنگین قانونی اور انتظامی سوالات اٹھ گئے ہیں۔
متعلقہ حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان قواعد کی قانونی حیثیت، بورڈ آف گورنرز کو دی گئی بریفنگ اور ان قواعد کے تحت منظور کی جانے والی ترقیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔
1۔ بورڈ آف گورنرز کو مبینہ طور پر گمراہ کرکے منظوری حاصل کرنے کا معاملہ اگر چہ بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں 2016 کے سروس رولز کو بنیاد بنا کر ملازمین کی ترقیوں کی منظوری حاصل کی گئی، لیکن بورڈ کو یہ مکمل حقائق فراہم نہیں کیے گئے کہ ان قواعد کی قانونی حیثیت خود متنازع ہے ، تو یہ معاملہ بورڈ کو مبینہ طور پر گمراہ کرنے کے زمرے میں آ سکتا ہے۔
2۔ 2016 کے سروس رولز کی قانونی حیثیت پہلے واضح کی جائے یہ بنیادی سوال ہے کہ آیا این آئی سی وی ڈی سروس رولز 2016کو متعلقہ قانون کے محکمے ، محکمہ ضوابط یا حکومتِ سندھ کی مجاز اتھارٹی سے باقاعدہ منظوری حاصل ہے یا نہیں۔ اسی طرح ان کے نفاذ کا سرکاری اعلامیہ اور کابینہ کی منظوری کا مستند ریکارڈ بھی سامنے لایا جانا چاہیے ۔ جب تک ان قواعد کی قانونی حیثیت ثابت نہ ہو، ان کی بنیاد پر ترقیاں کرنا شدید قابلِ اعتراض ہوگا۔
3۔ غیر منظور شدہ قواعد کی بنیاد پر من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کا سوال اگر غیر مصدقہ یا غیر منظور شدہ سروس رولز کو استعمال کرکے مخصوص افراد کو ترقیاں یا دیگر مراعات دی گئی ہیں تو یہ محض انتظامی بے ضابطگی نہیں بلکہ ممکنہ طور پر اختیارات کے غلط استعمال، اقرباپروری اور قواعد کی خلاف ورزی کا معاملہ بن سکتا ہے۔
4۔ بورڈ کے سامنے مکمل حقائق رکھنا ضروری تھا،بورڈ آف گورنرز کو صرف یہ بتانا کافی نہیں کہ 2016 کے سروس رولز موجود ہیں۔ بورڈ کے سامنے یہ بھی واضح ہونا چاہیے تھا کہ یہ قواعد کس مجاز اتھارٹی نے منظور کیے ، کب منظور کیے گئے ، کس سرکاری اعلامیے کے ذریعے نافذ ہوئے اور متعلقہ محکموں کی منظوری کا مستند ریکارڈ کہاں موجود ہے ۔ اگر یہ بنیادی معلومات بورڈ کے سامنے نہیں رکھی گئیں تو منظوری کے پورے عمل کی شفافیت اور قانونی حیثیت پر سنگین سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
5۔ تمام متعلقہ ترقیوں کا مکمل قانونی اور انتظامی جائزہ لیا جائے اگر تحقیقات میں ثابت ہوتا ہے کہ 2016 کے قواعد کی قانونی حیثیت موجود نہیں یا وہ مجاز اتھارٹی سے منظور شدہ نہیں تھے ، تو ان قواعد کی بنیاد پر کی گئی تمام ترقیوں کا فوری طور پر قانونی اور انتظامی جائزہ لیا جائے ۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم کیا جائے کہ بورڈ کو کیا بریفنگ دی گئی، کون سی دستاویزات پیش کی گئیں اور کیا کسی فرد کو قواعد سے ہٹ کر فائدہ پہنچایا گیا۔
6۔ حکومتِ سندھ فوری مداخلت کرے متعلقہ حلقوں نے حکومتِ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ این آئی وی ڈی سروس رولز 2016کی قانونی حیثیت، بورڈ آف گورنرز کو فراہم کی گئی معلومات اور ان قواعد کی بنیاد پر منظور یا زیرِ غور ترقیوں کی اعلیٰ سطحی، شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ اگر تحقیقات میں بورڈ کو دانستہ طور پر گمراہ کرنے، حقائق چھپانے یا غیر قانونی قواعد کی بنیاد پر ترقیوں کی منظوری حاصل کرنے کا معاملہ ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت انتظامی اور قانونی کارروائی کی جائے۔
متعلقہ حلقوں کا کہنا ہے کہ معاملے پر خاموشی اختیار کرنے کے بجائے اصل ریکارڈ سامنے لانا ضروری ہے تاکہ ادارے کے انتظامی نظام، بورڈ آف گورنرز کے فیصلوں اور سرکاری وسائل کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔


