میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
لطیف آباد عرشیان پرائیڈ عباس پر اضافی تعمیرات

لطیف آباد عرشیان پرائیڈ عباس پر اضافی تعمیرات

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۰ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

گراؤنڈ پلس فور کے بعد تین منزلیں اور پینٹ ہاؤس کی جگہ بھی بھر دی گئی

ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی تعمیراتی لاقانونیت میں ملوث، تحقیقات کا مطالبہ

…………………………..

حیدرآباد کے علاقے لطیف آباد یونٹ نمبر 10 میں واقع عرشیان پرائیڈ عباس نامی کثیرالمنزلہ پلازہ میں مبینہ طور پر منظور شدہ نقشے اور تعمیراتی قواعد و ضوابط سے ہٹ کر اضافی تعمیرات کیے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع اور علاقہ مکینوں کے مطابق 2018 میں گراؤنڈ پلس فور کی حیثیت سے تعمیر ہونے والے پلازہ پر مزید تین منزلیں تعمیر کر دی گئی ہیں، جبکہ پینٹ ہاؤس کے لیے مختص جگہ پر بھی مبینہ طور پر اضافی تعمیرات کر دی گئی ہیں، جس کے بعد سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کے کردار پر سنگین سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ پلازہ کی اصل تعمیر گراؤنڈ پلس فور کے طور پر کی گئی تھی، تاہم بعد ازاں اس پر مزید تین منزلہ عمارت تعمیر کی گئی۔ الزام ہے کہ اضافی منزلوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ پلازہ کی چھت پر پینٹ ہاؤس کے لیے مختص جگہ پر بھی مبینہ طور پر تعمیرات کر دی گئی ہیں۔ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اس بات کی مکمل تحقیقات کی جائیں کہ مذکورہ اضافی تعمیرات کس منظوری، نقشے اور قانونی اجازت کے تحت کی گئیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اضافی منزلیں، پینٹ ہاؤس کے لیے مختص جگہ اور پارکنگ کے علاقے میں تعمیرات بغیر منظوری یا قواعد و ضوابط کے برخلاف کی گئی ہیں تو یہ معاملہ نہایت سنگین ہے ، کیونکہ اس سے بلڈنگ بائی لاز، شہری سہولیات اور عمارت کی مجموعی حفاظتی صورتحال متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔شہری حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اتنی بڑی اور نمایاں تعمیراتی سرگرمی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی۔ اس سلسلے میں متعلقہ علاقے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے کردار، نگرانی اور مبینہ غفلت یا ملی بھگت کے الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ذرائع کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے دائرۂ اختیار میں آنے والے علاقوں میں مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے حوالے سے پہلے بھی شکایات سامنے آتی رہی ہیں، تاہم ان تمام الزامات کی آزادانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ علاقہ مکینوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیں اور عرشیان پرائیڈ عباس کا اصل منظور شدہ نقشہ، تعمیراتی اجازت نامے ، گراؤنڈ پلس فور کے بعد تعمیر کی جانے والی تین اضافی منزلوں کی منظوری، پینٹ ہاؤس کے لیے مختص جگہ کی قانونی حیثیت اور پارکنگ کے علاقے کا مکمل ریکارڈ طلب کیا جائے ۔علاقہ مکینوں اور شہری حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی وسیم شمشاد اور محکمہ اینٹی کرپشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرائی جائیں اور یہ تعین کیا جائے کہ 2018 کے بعد پلازہ
میں ہونے والی اضافی تعمیرات کس کی منظوری سے کی گئیں۔ اگر تحقیقات میں کسی سرکاری افسر، اہلکار، بلڈر یا دیگر ذمہ دار فرد کی غفلت، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مبینہ ملی بھگت ثابت ہو تو قانون کے مطابق سخت محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ عرشیان پرائیڈ عباس کی تکنیکی، قانونی اور تعمیراتی جانچ کرائی جائے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ گراؤنڈ پلس فور کے بعد تعمیر کی جانے والی مزید تین منزلیں، پینٹ ہاؤس کے لیے مختص جگہ پر مبینہ اضافی تعمیرات اور پارکنگ کے حوالے سے تعمیراتی تبدیلیاں منظور شدہ نقشے اور قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ غیر جانبدارانہ انکوائری کے ذریعے حقائق سامنے لائے جائیں اور اگر کسی قسم کی خلاف ورزی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے ۔
لطیف آباد


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں