میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر مکینوں میں تشویش

سندھ بلڈنگ، لیاقت آباد میں غیر قانونی تعمیرات پر مکینوں میں تشویش

جرات ڈیسک
جمعرات, ۲۰ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

1/220پر پانچویں، 1/333پر چوتھی منزل تعمیر،بنیادی ڈھانچہ متاثر

بلڈنگ انسپکٹر ارسلان کی عدم توجہی سے اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالات

لیاقت آباد میں مبینہ طور پر منظور شدہ تعمیراتی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے عمارتوں کی اضافی منزلیں تعمیر کیے جانے کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرنے لگا، جس پر علاقہ مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ جرأت سروے کے دوران لی گئی تصاویر میں زمینی حقائق اور مکینوں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق لیاقت آباد کے پلاٹ نمبر 1/220 پر پانچویں منزل جبکہ 1/333 پر چوتھی منزل کی تعمیر کا سلسلہ جاری ہے ، تاہم مبینہ خلاف ورزیوں کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مؤثر کارروائی نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گنجان آبادی والے علاقے میں پہلے ہی بنیادی ڈھانچہ متاثر ہو چکا ہے ،سڑکوں، سیوریج، پانی، بجلی اور پارکنگ سمیت بنیادی شہری سہولیات پر شدید دباؤ ہے ، ایسے میں عمارتوں کی اضافی منزلوں کی تعمیر سے آبادی کا بوجھ مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ۔ مکینوں کے مطابق بلند عمارتوں کی تعمیر کے باعث مستقبل میں ہنگامی صورتحال کی صورت میں امدادی سرگرمیوں اور آمدورفت میں بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔مقامی ذرائع کے مطابق مذکورہ تعمیرات کے حوالے سے متعلقہ بلڈنگ انسپکشن حکام کی ذمہ داری اہم ہے ، تاہم بلڈنگ انسپکٹر ارسلان کی مبینہ عدم توجہی کے باعث تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی اور قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کے حوالے سے اتھارٹی کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔علاقہ مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ لیاقت آباد میں جاری تعمیراتی سرگرمیوں کا شفاف ریکارڈ مرتب کیا جائے اور جہاں بھی منظور شدہ نقشے یا بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی ثابت ہو، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ۔ مکینوں کا کہنا ہے کہ کارروائی میں تاخیر سے نہ صرف شہری مسائل میں اضافہ ہوگا بلکہ مستقبل میں کسی ناخوشگوار واقعے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے ۔دوسری جانب متعلقہ حکام کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں