دیواریں نہیں، کردار مضبوط کیجیے!
شیئر کریں
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ قوموں کی حفاظت صرف بلند و بالا عمارتوں، مضبوط قلعوں، جدید ٹیکنالوجی اور طاقتور ہتھیاروں سے نہیں ہوتی، بلکہ اصل تحفظ ان انسانوں سے پیدا ہوتا ہے جو ان وسائل کو دیانت، شعور، ذمہ داری اور کردار کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ ایک مشہور حکایت میں بیان کیا جاتا ہے کہ قدیم چینیوں نے محفوظ زندگی گزارنے کے لیے عظیم دیوارِ چین تعمیر کی۔ انہیں یقین تھا کہ اس دیوار کی بلندی دشمن کو روکنے کے لیے کافی ہوگی۔ لیکن روایت کے مطابق دیوار کی تعمیر کے ابتدائی عرصے میں چین کئی مرتبہ حملوں کا شکار ہوا۔ حملہ آوروں نے دیوار کو توڑنے یا اس پر چڑھنے کے بجائے دربانوں کو رشوت دی اور دروازوں سے اندر داخل ہوگئے ۔ اس حکایت کا اصل سبق دیوار کی مضبوطی نہیں بلکہ دربان کے کردار کی کمزوری ہے ۔ اگر دربان ایماندار، باشعور اور ذمہ دار ہو تو ایک دروازہ بھی مضبوط حصار بن سکتا ہے ، لیکن اگر دربان کمزور ہو تو بلند ترین دیوار بھی قوم کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔یہی اصول آج ہماری قومی، تعلیمی اور معاشرتی زندگی پر بھی پوری طرح لاگو ہوتا ہے ۔ ہم نے اپنے معاشرے کی حفاظت کے لیے بہت سی دیواریں تو تعمیر کرلی ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ ان دیواروں کے دربان کیسے ہیں؟
ہم نے جدید تعلیمی ادارے بنائے ، بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کیں، یونیورسٹیاں قائم کیں، جدید ٹیکنالوجی حاصل کی اور معلومات کے بے شمار ذرائع پیدا کیے ، لیکن اگر انسان کے اندر دیانت، احساسِ ذمہ داری، برداشت، احترام، سچائی اور خدمت کا جذبہ پیدا نہ ہو تو یہ تمام ترقی ادھوری رہ جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تعمیر، ہر دوسری تعمیر سے پہلے ضروری ہے ۔ عمارتیں بعد میں بنتی ہیں، کردار پہلے تشکیل پاتا ہے ؛ ادارے بعد میں مضبوط ہوتے ہیں، انسان پہلے مضبوط ہوتا ہے ؛ اور قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے افراد علم کے
ساتھ کردار بھی رکھتے ہوں۔
آج ہمارے طلبہ کو صرف کتابی علم کی ضرورت نہیں بلکہ کردار سازی کی بھی ضرورت ہے ۔ ایک طالب علم اگر اعلیٰ ڈگری حاصل کرلے لیکن جھوٹ بولنے ، دھوکا دینے ، دوسروں کی حق تلفی کرنے یا ذمہ داری سے فرار ہونے کو معمول سمجھتا ہو تو اس کی تعلیم معاشرے کے لیے مطلوبہ نتائج پیدا نہیں کرسکتی۔ تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا یا امتحان پاس کرنا نہیں، بلکہ انسان کو بہتر انسان بنانا بھی ہے ۔ ایسا انسان جو اپنے والدین کا احترام کرے ، استاد کی قدر کرے ، قانون کی پاسداری کرے ، اختلافِ رائے کو برداشت کرے ، کمزور کے حقوق کا خیال رکھے اور اپنے علم کو معاشرے کی بہتری کے لیے استعمال کرے ۔ اگر ہماری درس گاہیں صرف ڈگریاں پیدا کریں اور کردار نہ بنائیں تو ہمیں اپنی تعلیمی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں خاندان کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی اسباق کسی کتاب سے نہیں بلکہ اپنے گھر سے سیکھتا ہے ۔ وہ والدین کے رویوں کو دیکھتا ہے ، ان کے الفاظ سنتا ہے اور ان کے عمل سے اثر قبول کرتا ہے ۔ گھر میں سچائی، محبت، احترام، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا ماحول ہو تو بچے کے اندر یہی اوصاف پروان چڑھتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر گھر میں جھوٹ، بدتمیزی، نفرت، عدم برداشت اور بے راہ روی عام ہو تو بچے کے کردار پر اس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اسی لیے باشعور ماں اور ذمہ دار باپ دراصل قوم کے پہلے تربیت کار ہوتے ہیں۔ ماں کے کردار کو معمولی سمجھنا یا گھر کی تربیت کو غیر اہم تصور کرنا معاشرتی تعمیر کے ایک بنیادی ستون کو کمزور کرنا ہے ۔
خاندان کے بعد تعلیم انسان کی شخصیت کی تعمیر کا سب سے اہم ذریعہ ہے ، اور یہاں استاد کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے ۔ استاد محض کتاب پڑھانے والا شخص نہیں بلکہ نسلوں کی فکری اور اخلاقی تربیت کرنے والا رہنما ہے ۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ کیا پڑھنا ہے ، بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ صحیح اور غلط میں فرق کیسے کیا جائے ، اختلاف کو کیسے برداشت کیا جائے ، سوال کیسے اٹھایا جائے اور علم کو ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے ۔ بدقسمتی سے جب معاشرے میں استاد کی عزت کم ہوتی ہے ، اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے اور طلبہ کے سامنے اس کے مقام کو مجروح کیا جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف ایک استاد کو نہیں بلکہ پوری نسل کو پہنچتا ہے ۔ جس معاشرے میں استاد بے وقعت ہوجائے ، وہاں تعلیم کی روح بھی کمزور ہونے لگتی ہے ۔ اسی طرح علماء، محققین، دانشوروں اور اہلِ فکر کا کردار بھی کسی معاشرے کے فکری استحکام کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے ۔
قوموں کو ایسے رہنماؤں کی ضرورت ہوتی ہے جو جذبات کے بجائے دلیل، تحقیق اور بصیرت کی بنیاد پر رہنمائی کریں۔ جب اہلِ علم کو مسلسل شک کی نگاہ سے دیکھا جائے ، ان کی علمی خدمات کو نظر انداز کیا جائے یا اختلاف کی بنیاد پر ان کی کردار کشی کی جائے تو معاشرے میں علمی قیادت کا خلا پیدا ہوتا ہے ۔ یہ خلا پھر افواہوں، سطحی معلومات، غیر ذمہ دارانہ سوشل میڈیا مواد اور جذباتی نعروں سے پُر ہونے لگتا ہے ۔ نتیجتاً نوجوانوں کے سامنے معتبر رہنمائی کے بجائے غیر مصدقہ معلومات اور مصنوعی شہرت رکھنے والے کردار نمایاں ہوجاتے ہیں۔
آج ڈیجیٹل دور نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے ۔ نوجوانوں کے ہاتھ میں دنیا بھر کی معلومات چند سیکنڈ میں پہنچ جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کے بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں، لیکن اس کے ساتھ غلط معلومات، نفرت انگیز مواد، افواہوں اور سطحی فکری رجحانات کے پھیلاؤ کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔ اس صورتِ حال میں نوجوانوں کو صرف انٹرنیٹ استعمال کرنا سکھانا کافی نہیں؛ انہیں یہ بھی سکھانا ضروری ہے کہ کون سی معلومات قابلِ اعتماد ہے ، خبر اور پروپیگنڈے میں کیا فرق ہے ، اختلافِ رائے کو دشمنی میں کیسے تبدیل ہونے سے روکا جائے اور آزادیِ اظہار کو ذمہ داری کے ساتھ کیسے استعمال کیا جائے ۔ ڈیجیٹل دنیا کی دیواریں جتنی بھی مضبوط ہوں، اگر ان کے دربان یعنی ہمارے نوجوان فکری طور پر کمزور ہوں تو بیرونی اثرات آسانی سے اندر داخل ہوسکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ کسی قوم کی تہذیب کو کمزور کرنے کے لیے ہمیشہ اس کی عمارتیں گرانا ضروری نہیں ہوتا؛ اس کے اقدار، خاندان، تعلیمی نظام اور علمی قیادت کو کمزور کرنا بھی اس کے اجتماعی مستقبل کو متاثر کرسکتا ہے ۔ بعض تحریروں میں ایک مستشرق سے منسوب یہ خیال بیان کیا جاتا ہے کہ کسی قوم کو کمزور کرنے کے لیے خاندان، تعلیم اور قیادت کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ ایسی نسبتوں کی تاریخی صحت ہر صورت میں الگ سے جانچنے کی ضرورت ہے ، لیکن اس خیال کا بنیادی نکتہ قابلِ غور ہے :قومیں اپنے مادی وسائل سے زیادہ اپنی اقدار، تعلیم اور انسانی کردار سے مضبوط ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ہماری دیواریں کتنی بلند ہیں؛ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے دربان کتنے مضبوط ہیں۔ ہمارا اصل دربان ہمارا کردار ہے ۔ ہماری پہلی دیوار خاندان ہے ، دوسری تعلیم اور تیسری علمی و اخلاقی قیادت۔ اگر خاندان محبت اور تربیت سے مضبوط ہو، استاد عزت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے ، اور اہلِ علم تحقیق، دیانت اور بصیرت کے ساتھ رہنمائی کریں تو نوجوان نسل مضبوط بنیادوں پر کھڑی ہوسکتی ہے ۔ہمیں اپنے طلبہ کو صرف کامیاب نہیں بلکہ صالح، باکردار، باشعور اور ذمہ دار بنانا ہوگا۔ انہیں یہ احساس دینا ہوگا کہ ڈگری انسان کی قابلیت کا ثبوت ہوسکتی ہے ، مگر کردار اس کی اصل پہچان ہے ۔ ایک قوم کے پاس بہترین یونیورسٹیاں، جدید ٹیکنالوجی اور مضبوط ادارے ہوسکتے ہیں، لیکن اگر وہاں انسانیت، دیانت اور ذمہ داری کمزور ہوجائے تو ترقی کا یہ پورا نظام اندر سے کھوکھلا ہوسکتا ہے ۔
آخر میں سوال یہی ہے کہ اگر باشعور ماں کمزور پڑ جائے ، اگر مخلص استاد اپنی قدر کھو دے ، اگر عالم، محقق اور دانشور اعتماد سے محروم
ہوجائیں، اور اگر نوجوانوں کو سچ اور جھوٹ، علم اور جہالت، آزادی اور ذمہ داری میں فرق سمجھانے والا کوئی مؤثر نظام باقی نہ رہے تو نئی نسل
کی اخلاقی رہنمائی کون کرے گا؟ اس سوال کا جواب آج ہمیں دینا ہوگا۔ ہمیں دیواریں ضرور تعمیر کرنی چاہییں، مگر ان سے پہلے دربان تعمیر
کرنے ہوں گے ۔ ہمیں ادارے ضرور بنانے چاہییں، مگر ان سے پہلے انسان بنانا ہوگا۔ کیونکہ مضبوط قومیں مضبوط عمارتوں سے نہیں،
مضبوط کردار رکھنے والے انسانوں سے وجود میں آتی ہیں۔
٭٭٭


