سندھ بلڈنگ، نقشہ رہائشی، تعمیر کمرشل؟ شاہ فیصل کالونی میں قواعد کی خلاف ورزیاں
شیئر کریں
پلاٹ نمبر 241/2قادری محلہ اور پلاٹ نمبر 866/1پر دکانیں و کمرشل یونٹس کی تعمیر
بلڈنگ انسپکٹر عمران رمضان آرائیں کی فرائض سے غفلت، مکینوں میں تشویش کی لہر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شاہ فیصل کالونی کے مختلف علاقوں میں رہائشی پلاٹوں پر مبینہ طور پر دکانیں اور کمرشل یونٹس تعمیر کیے جانے کے معاملے نے مکینوں میں تشویش پیدا کردی ہے ۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ رہائشی مقاصد کے لیے مختص پلاٹوں پر کمرشل سرگرمیوں کے فروغ سے علاقے کا بنیادی ڈھانچہ، ٹریفک کا نظام، پارکنگ اور ماحول متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے ۔جرأت سروے کے دوران لی گئی زیر نظر تصاویر میں زمینی حقائق مقامی ذرائع اور مکینوں کے مطابق قادری محلہ کے پلاٹ نمبر 241/2 اور پلاٹ نمبر 866/1 پر دکانوں اور دیگر کمرشل یونٹس کی تعمیر نے شہریوں کی توجہ حاصل کرلی ہے۔
مکینوں کا مؤقف ہے کہ رہائشی آبادی میں اس نوعیت کی تعمیرات سے نہ صرف رہائشی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ مستقبل میں ٹریفک کے دباؤ، پارکنگ کی کمی، پیدل آمدورفت میں مشکلات اور دیگر شہری مسائل میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے ۔
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ رہائشی پلاٹوں کے استعمال میں مبینہ تبدیلی اور تعمیراتی سرگرمیوں کی نگرانی مؤثر انداز میں نہ ہونے کے باعث صورتحال پیچیدہ ہوتی جارہی ہے۔
شہریوں کے مطابق اگر تعمیرات کے آغاز ہی پر قواعد و ضوابط کے مطابق نگرانی اور کارروائی کی جائے تو بعد میں پیدا ہونے والے تنازعات اور شہری مشکلات سے بچا جاسکتا ہے۔
مکینوں کی جانب سے بلڈنگ انسپکٹر عمران رمضان آرائیں کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ شہریوں کا الزام ہے کہ متعلقہ افسر کی جانب سے فرائض کی انجام دہی میں مبینہ غفلت کے باعث علاقے میں بنیادی نوعیت کے مسائل میں اضافہ ہورہا ہے اور تعمیراتی سرگرمیوں کی بروقت نگرانی نہ ہونے سے صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے ۔
رہائشیوں کا کہنا ہے کہ اگر کسی پلاٹ کا منظور شدہ استعمال رہائشی نوعیت کا ہو تو اس پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت یا تعمیر سے قبل متعلقہ قواعد، نقشے اور قانونی تقاضوں کی جانچ ضروری ہے ۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 241/2 اور 866/1 سمیت علاقے میں ہونے والی کمرشل نوعیت کی تعمیرات کا ریکارڈ چیک کیا جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ مذکورہ تعمیرات منظور شدہ نقشوں اور متعلقہ قوانین کے مطابق ہیں یا نہیں۔
مکینوں نے متعلقہ بلدیاتی و تعمیراتی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہ فیصل کالونی میں رہائشی پلاٹوں کے کمرشل استعمال کی شکایات کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے ، تعمیرات کی قانونی حیثیت کی جانچ کی جائے اور جہاں خلاف ورزی ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے ۔


