‘‘ پاکستان ’’ کا علاج
شیئر کریں
کلینک کے دروازے پرہلکی سی دستک ہوئی۔
اندرآ جائیے ۔
دروازہ آہستہ سے کھلا۔
ایک ادھیڑعمرآدمی اندرداخل ہوا۔ چہرہ تھکا ہوا،آنکھوں کے نیچے گہرے حلقے ، کندھے جھکے ہوئے ، کپڑوں پرجگہ جگہ گرد جمی ہوئی تھی، ایسا لگتا تھا جیسے برسوں سے مسلسل سفرمیں ہو۔
ڈاکٹرنے کرسی کی طرف اشارہ کیا، تشریف رکھیے ۔ وہ خاموشی سے بیٹھ گیا۔
ڈاکٹرنے رجسٹرکھولا، قلم سنبھالا اورمعمول کے مطابق پہلا سوال کیا۔
نام؟
چند لمحے خاموشی رہی، پھردھیمی آوازسنائی دی۔۔ ‘‘ پاکستان ’’۔۔
ڈاکٹرکا قلم وہیں رک گیا۔۔ اس نے پہلی بارغور سے مریض کو دیکھا، پھررجسٹر بند کردیا۔
آپ کی فائل رجسٹرمیں نہیں سما سکتی۔
مریض پہلی بارہلکا سا مسکرایا۔۔ اسی لیے تو آپ کے پاس آیا ہوں، ڈاکٹر صاحب !! جن کے پاس میری فائل تھی، وہ برسوں سے صرف اس پرنئی نئی پرچیاں چپکاتے رہے ہیں۔
ڈاکٹرنے کرسی کی پشت سے ٹیک ہٹا لی۔۔ اچھا!! بتائیے ، تکلیف کیا ہے ؟
‘‘ پاکستان ’’ نے ایک گہرا سانس لیا۔ڈاکٹر صاحب!! مجھے خود بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ میں بیمارہوں یا صرف تھک گیا ہوں۔ کبھی دل ڈوبنے لگتا ہے ، کبھی سانس پھولنے لگتی ہے ، کبھی امید جاگتی ہے ، پھراچانک مرجاتی ہے ،عجیب بات یہ ہے کہ ہرآنے والا کہتا ہے کہ وہ مجھے بچا لے گا، لیکن ہرعلاج کے بعد میں پہلے سے زیادہ کمزورہوجاتا ہوں ۔
ڈاکٹرخاموشی سے سنتا رہا، پھراس نے میز پررکھا اسٹیتھو اسکوپ ایک طرف رکھ دیا۔ مجھے نہیں لگتا آج اس کی ضرورت پڑے گی۔
‘‘ پاکستان ’’ نے حیرت سے پوچھا:کیوں ؟
ڈاکٹرنے دھیرے سے جواب دیا: کیونکہ، مجھے آپ کے سینے کی نہیں، آپ کی سوچ کی دھڑکن سننی ہے ۔ ڈاکٹرنے میز پررکھی فائل کھولی، مگراس میں کچھ لکھنے کے بجائے خاموشی سے ‘‘پاکستان ’’ کو دیکھتا رہا۔ پھربولا!! چلئے معمول کا معائنہ شروع کرتے ہیں۔ ‘‘پاکستان’’ نے اثبات میں سرہلا دیا۔
سب سے پہلے یادداشت کا امتحان لیتے ہیں ۔
جی!!
اپنی سب سے بڑی غلطی بتائیے ۔
‘‘ پاکستان ’’ خاموش ہوگیا۔ کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ چند لمحوں بعد اس نے دھیمی آواز میں کہا، ڈاکٹر صاحب!! مجھے اپنی غلطیاں یاد نہیں آ رہیں۔
ڈاکٹرنے سرہلایا۔اچھا!! دوسروں کی غلطیاں بتائیے ۔
‘‘پاکستان ’’ جیسے برسوں سے اسی سوال کا منتظرتھا۔بہت ہیں۔ فلاں نے مجھے لوٹا، فلاں نے مجھے توڑا، فلاں نے مجھے دھوکا دیا، فلاں نے میرے خواب چھین لیے ، فلاں نے میری بنیادیں ہلا دیں۔
ڈاکٹر نے ہاتھ اٹھا کراسے روک دیا۔ بس۔ میں سمجھ گیا۔ ڈاکٹر نے فائل پرایک سطرلکھی اورقلم بند کردیا۔
‘‘پاکستان ’’ بے اختیار پوچھ بیٹھا!! کیا لکھا ہے ؟
ڈاکٹر نے فائل بند کرتے ہوئے کہا!! آپ اپنی غلطیاں جلد بھول جاتے ہیں، دوسروں کی کبھی نہیں۔‘‘ پاکستان’’ خاموش ہوگیا۔
ڈاکٹرنے دوسرا سوال کیا۔ غصہ کب آتا ہے ؟
جب کوئی مجھ پر تنقید کرے ۔
اورتعریف؟
بہت اچھی لگتی ہے ۔
چاہے جھوٹی ہی کیوں نہ ہو؟
‘‘ پاکستان ’’ نے نظریں چرا لیں۔
ڈاکٹرنے میزپرانگلیوں سے ہلکی سی دستک دی۔
آخری سوال۔
جی۔
آپ کوآئینہ دیکھنے کی عادت ہے ؟
‘‘پاکستان ’’نے فوراً جواب دیا۔روز دیکھتا ہوں۔
اس میں کیا نظرآتا ہے ؟
میرے دشمن۔
یہ سن کرڈاکٹر نے پہلی مرتبہ گہرا سانس لیا، کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی اورچھت کی طرف دیکھنے لگا، جیسے اسے بیماری کا نام مل گیا ہو۔
ڈاکٹرنے فائل بند کی اورمیز کے دراز سے ایک چھوٹی سی ٹارچ نکال لی ۔ ‘‘ پاکستان ’’نے حیرت سے پوچھا!! کیا آپ میری آنکھوں کا معائنہ کریں گے ؟
ڈاکٹرمسکرایا۔ ہاں۔ مگرنظرکا نہیں، بصیرت کا۔ ڈاکٹرنے ٹارچ کی روشنی پاکستان کی آنکھوں پرڈالی۔ بتایئے ، کیا نظرآ رہا ہے ؟
‘‘ پاکستان ’’ نے فوراً جواب دیا: اندھیرا ۔
ڈاکٹرنے ٹارچ بند کردی۔ بولے ، میں نے تو روشنی ڈالی تھی۔‘‘پاکستان ’’ خاموش رہا۔
ڈاکٹرنے پوچھا۔ اچھا، یہ بتائیے ۔ آپ کو سب سے زیادہ کس چیز سے خوف آتا ہے ؟
پاکستان نے کچھ دیرسوچا۔ تبدیلی سے ۔
اورکس چیز سے ؟
سچ سے ۔
اور؟
آئینے سے ۔
ڈاکٹر نے حیرت کا اظہار نہیں کیا، جیسے وہ یہی جواب سننے کی توقع کررہا ہو۔
اس نے فائل پرایک اورسطرلکھی ۔‘‘ پاکستان ’’نے پھر بے اختیا رپوچھ لیا۔اس بارکیا لکھاہے ؟
ڈاکٹر نے جواب دیا۔
آپ بیماری سے کم، تشخیص سے زیادہ خوفزدہ ہیں ۔‘‘ پاکستان’’ نے پہلی بار ڈاکٹرکی آنکھوں میں جھانک کردیکھا۔کیا واقعی میری بیماری اتنی سنگین ہے ؟
ڈاکٹرکرسی سے اٹھا، دیوار پرلگی ایک بڑی تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا،تصویر میں ایک شخص ٹوٹی ہوئی ہڈی کے ساتھ مسکرا رہا تھا۔۔۔۔ ڈاکٹر نے تصویرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، اس آدمی کو دیکھ رہے ہو؟
جی۔
اس کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، مگروہ ماننے کوتیارنہیں تھا۔ ہرروزدرد کی گولی کھا لیتا، مسکرا دیتا اورکہتا، میں بالکل ٹھیک ہوں۔ڈاکٹرچند لمحے رکا، پھر آہستہ سے بولا!! چھ ماہ بعد ہڈی غلط جگہ سے جڑ گئی۔‘‘ پاکستان ’’خاموشی سے تصویرکودیکھتا رہا۔اوردھیمی آواز میں پوچھا!! پھرآپ نے اسے کون سی دوا دی؟
ڈاکٹر نے سرہلایا۔ دوا نہیں دی ۔
تو؟
میں نے کہا۔۔ پہلے ہڈی دوبارہ توڑنی پڑے گی۔
کمرے میں اچانک خاموشی چھا گئی۔
‘‘پاکستان’’ نے بے اختیار اپنے دونوں ہاتھ کرسی کے بازوؤں پرجما دیے ۔
کیا۔ کوئی اورراستہ نہیں تھا؟
ڈاکٹر نے صرف ایک لفظ کہا: نہیں۔
پاکستان نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد دھیرے سے سوال کیا۔
ڈاکٹرصاحب!! ایک بات پوچھوں؟ جی پوچھیں!! میری بیماری کب ختم ہو گی؟
ڈاکٹر نے فائل آہستہ سے بند کی۔ اور بولے !! ہوجائے گی۔
کب؟
جس دن آپ ہرنئے درد کے لیے نیا ڈاکٹرڈھونڈنا چھوڑ دیں گے ۔
‘‘ پاکستان ’’ خاموش رہا۔
ڈاکٹر نے نسخے کا ایک پرچہ کھینچا۔ قلم اٹھایا۔ کافی دیرتک کچھ لکھتا رہا۔‘‘پاکستان’’ بے چین ہو گیا۔ کون سی دوائیں لکھی ہیں؟ ڈاکٹر نے پرچہ اس کی طرف بڑھا دیا۔ ‘‘ پاکستان’’ نے نظر دوڑائی۔ پرچے پرصرف ایک سطر لکھی تھی۔‘‘ مریض کا علاج ممکن ہے ۔ اگرمریض اپنی بیماری تسلیم کر لے ’’۔
‘‘ پاکستان ’’ نے دوبارہ پرچے کو دیکھا۔ بس؟
جی۔۔بس
کوئی دوا نہیں؟ نہیں ۔ کوئی انجکشن؟نہیں۔ کوئی آپریشن ؟ ڈاکٹر نے مسکرا کرکہا۔۔!!
وہ آپ کو خود کرنا ہوگا؟
‘‘ پاکستان ’’ نے خاموشی سے نسخہ تہہ کیا، جیب میں رکھا، کرسی سے اٹھا اوردروازے تک پہنچ گیا۔ ہاتھ دروازے کے ہینڈل پررکھا، پیچھے سے ڈاکٹر نے آوازدی۔ ‘‘پاکستان ’’!! ‘‘پاکستان’’ رک گیا،پیچھے دیکھا۔ بولے ۔ جی ڈاکٹرصاحب !! اگلی بارعلاج کروانے آنا، دوائیں بدلوانے نہیں،پاکستان خاموشی سے ڈاکٹر کو دیکھتا رہا۔ پھرآہستہ سے دروازہ کھولا۔اورباہرنکل گیا۔
٭٭٭


