میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اگرکچھ خواب باقی ہیں!

اگرکچھ خواب باقی ہیں!

جرات ڈیسک
جمعه, ۷ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

مجھے نہ گرنے کا درد ہوا، نہ فاصلے کی طوالت کا، اور نہ ہی شدید ٹکراؤ کا، جو چیز واقعی مجھے تکلیف دے گئی، وہ یہ تھی کہ میں اس ہاتھ پر بھروسہ
کر رہا تھا جس نے مجھے دھکا دیا۔ اس لئے اپنے جذبات کی کمزوری کے سامنے جھکنے سے بچو، سخت اور مضبوط بنو، خود کو تنہائی اور صدمات کا
عادی بناؤ تاکہ شکست کا احساس نہ ہو، کیونکہ کوئی بھی چیز تمہیں توڑنے کے قابل نہیں۔

میں نے زندگی میں بہت جھوٹ بولے ،کسی سے نہیں،اپنے آپ سے ۔ اس لئے کہ میرا دل کہیں جوان نہ ہوجائے ،صرف بچہ ہی رہے ۔
بچہ رہے گا توجلد بہل جایا کرے گا،وعدوں سے ،خوابوں سے ،خیالوں سے ،جوان ہوگیا تو جلد مر جائے گا۔مرنا موت کو ہی نہیں کہا جاتا،
زندہ انسان بھی مرا ہوا ہوتا ہے ،مرا ہوا انسان بھی زندہ ہوتا ہے ۔جاگتی آنکھیں خواب دیکھو،بڑے خواب،مشکل میں ہوتو اس سے بڑے
خواب دیکھو۔‘‘مصر کی حکمرانی ملنے سے پہلے کنویں میں گرنا پڑتا ہے ’’ ۔ آپ کو بھی تعبیرمل سکتی ہے ،خواب آپکو مرنے نہیں دینگے ،اپنے من کی
دنیا بساؤ اورپھر اس میں شہنشاہ بن کررہو،تمہاری زندگی‘‘ آج ’’ ہے ،کل نہیں،کل کا کس کو پتا؟ جس کا پتا نہیں،اس کیلئے پریشانی کیوں؟
خواہشات کے پیچھے نہ بھاگو،یہ وہ راستہ ہے جہاں سے واپسی ناممکن،بھٹک جاؤگے ،خود کو آسائشات کا عادی نہ بناؤ،آسائشات دنیا کا
سب سے خوفناک نشہ ہے ،قبر تک لے جاتا ہے۔

یونانی فلسفی ڈائیو جینس سخت حالات میں زندگی گزارتے تھے اور سادہ غذا،روٹی اور دال کھا کر گزارہ کرتے تھے ،جب فلسفی ارسٹیپس
نے انہیں دیکھا تو کہا، اگر آپ بادشاہوں کی جی حضوری کرنا سیکھ لیتے تو آپ کو دال کھا کر گزارہ نہ کرنا پڑتا، ڈائیو جینس بولے ، اگر تم نے
دال کھانا سیکھ لیا ہوتا تو تمہیں ہر روز بادشاہوں کی غلامی اور چاپلوسی نہ کرنا پڑتی،انسان کی فطرت اس کے نظریات،اس کے اصول اوراقدار
کا جوہرہی اسے ڈائیو جینس یا ارسٹیپس بناتا ہے ۔دولت آپ کی ضروریات تو پوری کرسکتی ہے ، خوابوں کو تعبیردے سکتی ہے ،لیکن یہ ضروری
نہیں آپ کو خوشی بھی دے سکے ۔میں نے جھگیوں میں ہنستے ہوئے ،جشن مناتے ہوئے ،قہقہے لگاتے ہوئے لوگ دیکھے ہیں،میں نے محلات
میں ایسے لوگ دیکھے ہیں جو ہنسنا بھول گئے ہیں،اس لئے خوشی کو کبھی دولت کے ترازو میں مت تولو، خوشی دل کی کیفیت ہے ، جیب کی نہیں۔

جس دن انسان اپنی ضرورت اور اپنی خواہش میں فرق سمجھ لیتا ہے ، اسی دن اس کی نصف جنگ ختم ہو جاتی ہے ۔ جس دن وہ دوسروں کی
زندگی سے اپنی زندگی کا موازنہ کرنا چھوڑ دیتا ہے ، اسی دن اس کے اندر سکون کا پہلا پودا اگتا ہے ۔لوگ تمہیں تمہاری کامیابی پر داد دیں گے ،
مگر تمہارے زخموں کا حساب کوئی نہیں پوچھے گا۔ دنیا تمہارے نتیجے کو سلام کرتی ہے ، تمہارے سفر کو نہیں۔ اس لئے راستے کی دھول سے دوستی
کرلو، کانٹوں سے شکوہ نہ کرو، جو راستہ کانٹوں سے خالی ہو، وہ اکثر منزل تک نہیں جاتا۔اپنی زندگی میں کچھ دروازے ہمیشہ بند رکھنا، ہر شخص
کو اپنے دل تک رسائی نہ دینا، ہر سوال کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، ہر تعلق نبھانا بھی فرض نہیں ہوتا۔

بعض اوقات خاموشی سب سے بلند آواز ہوتی ہے ، اور بعض اوقات دور ہوجانا سب سے بڑی دانش مندی۔اپنی جنگیں خود لڑنا سیکھو،
کیونکہ دنیا مشورے تو بہت دیتی ہے ، مگر کندھا بہت کم دیتی ہے ۔ جب قسمت تمہیں اندھیری سرنگ میں دھکیل دے تو یہ مت سمجھنا کہ سب
کچھ ختم ہوگیا، ہوسکتا ہے زندگی تمہیں روشنی کی طرف لے جا رہی ہو۔ اندھیرا ہمیشہ روشنی سے پہلے آتا ہے ، جیسے رات کے بعد صبح اورخزاں
کے بعد بہار۔وقت سے کبھی شکایت نہ کرنا، وقت کسی کا دشمن نہیں ہوتا، وہ صرف آئینہ ہوتا ہے ۔ وہ ہمیں ہماری حقیقت دکھاتا ہے ، ہمارے
اپنے فیصلوں کا عکس دکھاتا ہے ۔ جو لوگ وقت کو برا کہتے ہیں، اکثر وہ اپنے فیصلوں کا بوجھ وقت کے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔یاد رکھو،
انسان کو سب سے زیادہ نقصان دشمن نہیں پہنچاتے ، بلکہ وہ توقعات پہنچاتی ہیں جو وہ اپنے ہی لوگوں سے باندھ لیتا ہے ۔ توقع جتنی بڑی
ہوگی، ٹوٹنے کی آواز بھی اتنی ہی بلند ہوگی۔ اس لئے محبت کرو، مگرخود کو مٹا کر نہیں۔ اعتماد کرو، مگر اپنی عقل کو ساتھ رکھ کر۔ معاف ضرورکرو، مگر
ہر بار ایک ہی زخم کھانے کیلئے واپس مت لوٹو۔زندگی کسی کے لئے نہیں رکتی، سورج ہرصبح ان لوگوں کے گھروں پر بھی طلوع ہوتا ہے جنہوں
نے رات بھرروتے ہوئے گزاری ہوتی ہے ۔ اس لئے اپنے آنسوؤں کو اپنی کمزوری نہ سمجھنا، لیکن انہیں اپنی قسمت بھی مت بنانا۔ آنسو اگر
آنکھ صاف کردیں تو نعمت ہیں، اگرراستہ دھندلا دیں تو بوجھ بن جاتے ہیں۔

اورآخرمیں صرف ایک بات۔ اگرتمہارے پاس ابھی بھی کوئی خواب باقی ہے ، اگر تمہارے دل میں ابھی بھی امید کی ایک ننھی سی شمع جل
رہی ہے ، اگر تمہارے اندرابھی بھی دوبارہ کھڑے ہونے کی ہمت باقی ہے ، تو یقین رکھو، تم ابھی ہارے نہیں ہو۔ زندگی شکست سے نہیں
ہارتی، امید کے مر جانے سے ہارتی ہے ۔ اس لئے خواب دیکھتے رہو، سیکھتے رہو، گرتے رہو، سنبھلتے رہو، کیونکہ پہاڑ کی چوٹی تک پہنچنے والے
لوگ اڑ کرنہیں جاتے ، باربار پھسل کر، باربار اٹھ کر، او بار بارچل کروہاں پہنچتے ہیں ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں