میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
یومِ استحصالِ مقبوضہ کشمیر

یومِ استحصالِ مقبوضہ کشمیر

جرات ڈیسک
جمعرات, ۶ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

پانچ اگست جب بندوق نے آواز دبانے کی کوشش کی، مگر جذبۂ آزادی نہ جھکا ۔تاریخِ عالم میں بعض دن ایسے ہوتے ہیں جو محض کیلنڈر کی ایک تاریخ نہیں رہتے بلکہ ظلم، جبر، مزاحمت اور انسانی ضمیر کی آزمائش کی علامت بن جاتے ہیں۔ 5 اگست 2019 بھی برصغیر کی تاریخ کا ایسا ہی ایک سیاہ دن ہے ۔ یہ وہ دن تھا جب بھارت نے یکطرفہ طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آرٹیکل 370 اور35A کو منسوخ کیا، وادی کو مکمل فوجی محاصرے میں لے لیا، مواصلاتی نظام بند کر دیا، سیاسی قیادت کو نظر بند کیا اور بندوق کے سائے میں ایک ایسا فیصلہ نافذ کیا جسے کشمیری عوام نے کبھی قبول نہیں کیا۔ اسی باعث پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری ہر سال 5 اگست کو ‘‘یومِ استحصالِ مقبوضہ کشمیر’’ کے طور پر مناتے ہیں تاکہ عالمی ضمیر کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک سرحدی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور حقِ خود ارادیت کا مسئلہ بھی ہے ۔

پانچ اگست وہ دن ہے جب بندوق کی طاقت سے کشمیریوں کی آواز خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اظہارِ رائے کی آزادی محدود ہوئی، سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں، صحافت اور ابلاغ کے ذرائع سخت دباؤ کا شکار ہوئے اور خوف کی ایسی فضا قائم کی گئی جس میں عام شہری کی روزمرہ زندگی بھی غیر معمولی مشکلات سے دوچار ہو گئی۔ مگر تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بندوق جسموں کو تو زخمی کر سکتی ہے ، مگر آزادی کے جذبے کو ختم نہیں کر سکتی۔ ظلم کی ہر رات کے بعد انصاف کی صبح ضرور طلوع ہوتی ہے ، اگرچہ اس کا انتظار طویل کیوں نہ ہو۔
کشمیر برصغیر کا ایک ایسا خطہ ہے جسے قدرت نے بے مثال حسن سے نوازا ہے ۔ بلند و بالا پہاڑ، بہتے دریا، سرسبز وادیاں اور دلکش جھیلیں اسے جنت نظیر بناتی ہیں، مگر بدقسمتی سے کئی دہائیوں سے یہی سرزمین سیاسی کشمکش، بے یقینی اور انسانی المیوں کی علامت بنی ہوئی ہے ۔ اس عرصے میں ہزاروں خاندان متاثر ہوئے ، بچوں نے غیر یقینی ماحول میں پرورش پائی، نوجوانوں نے خوف اور اضطراب کے سائے میں زندگی گزاری اور بہت سے افراد اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے ۔ یہ صورتحال صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بھی ہے ، جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں طویل عرصے تک انٹرنیٹ اور مواصلاتی سہولیات کی معطلی نے دنیا کو چونکا دیا۔ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، کاروباری زندگی مفلوج ہوئی، مریضوں کو مشکلات پیش آئیں اور عام شہری ایک دوسرے سے رابطے تک سے محروم ہو گئے ۔ جدید دور میں جہاں معلومات تک رسائی بنیادی ضرورت سمجھی جاتی ہے ، وہاں ایک پوری آبادی کا دنیا سے رابطہ منقطع ہونا عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنا۔ متعدد بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس صورتحال پر اپنی رپورٹس میں خدشات کا اظہار کیا اور بنیادی حقوق کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔
کشمیری عوام کی جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط ہے ۔ ان کی خواہش یہ رہی ہے کہ انہیں اپنے مستقبل کے تعین کے حوالے سے ایسا ماحول میسر آئے جہاں وہ آزادانہ اور پرامن انداز میں اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو صرف دو ممالک کے درمیان سیاسی اختلاف کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ اس کے انسانی، قانونی اور سفارتی پہلو بھی نہایت اہم ہیں۔ کسی بھی دیرپا حل کے لیے ضروری ہے کہ کشمیری عوام کی خواہشات، بین الاقوامی قانون اور خطے میں پائیدار امنتینوں کو پیشِ نظر رکھا جائے ۔

دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کے زور پر قائم کیے گئے فیصلے مستقل استحکام پیدا نہیں کرتے ۔ حقیقی امن ہمیشہ انصاف، مکالمے اور
عوامی اعتماد سے جنم لیتا ہے ۔ جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کا خاتمہ ہو، شمالی آئرلینڈ کا امن معاہدہ ہو یا دنیا کے دیگر تنازعات، ہر جگہ بالآخر
مذاکرات اور سیاسی عمل ہی نے آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کیا۔ کشمیر کے معاملے میں بھی یہی اصول زیادہ مؤثر اور پائیدار ثابت ہو سکتا ہے ۔

پاکستان ہر سال یومِ استحصالِ مقبوضہ کشمیر اس عزم کے ساتھ مناتا ہے کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت
جاری رکھی جائے گی۔ ملک بھر میں سیمینار، کانفرنسیں، ریلیاں، انسانی زنجیریں اور دعائیہ تقریبات منعقد کی جاتی ہیں تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے ۔ یہ دن صرف اظہارِ یکجہتی کا نہیں بلکہ عالمی برادری کو اس کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرانے کا دن بھی ہے ۔

اقوام متحدہ، عالمی طاقتوں اور انسانی حقوق کے اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر خطے میں انسانی حقوق کے یکساں معیار کو یقینی بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ جب دنیا کے مختلف علاقوں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر فوری ردِعمل سامنے آتا ہے تو کشمیر کے عوام بھی اسی اصولی توجہ کے مستحق ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کی اصل روح یہی ہے کہ انصاف کا پیمانہ سب کے لیے ایک جیسا ہو اور کسی بھی قوم کے بنیادی حقوق کو نظر انداز نہ کیا جائے ۔

آج کا دور اطلاعات اور ڈیجیٹل میڈیا کا دور ہے ۔ سوشل میڈیا، عالمی صحافت اور آزاد تحقیق نے کشمیر کے مسئلے کو عالمی مباحثے کا حصہ بنایا ہے ۔ اگرچہ معلومات کے مختلف ذرائع بعض اوقات مختلف زاویے پیش کرتے ہیں، لیکن اس بات پر وسیع اتفاق پایا جاتا ہے کہ کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق، عزتِ نفس اور پرامن زندگی کا تحفظ ہر حال میں ضروری ہے ۔ اختلافات کا حل طاقت کے بجائے مکالمے ، اعتماد سازی اور قانون کی حکمرانی میں تلاش کرنا ہی مستقبل کا راستہ ہے ۔

یومِ استحصالِ مقبوضہ کشمیر ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اپنے حوصلے ، شناخت اور امید سے زندہ رہتی ہیں۔ کشمیری عوام نے بے شمار مشکلات کے باوجود اپنی ثقافت، زبان، روایات اور شناخت کو محفوظ رکھا ہے ۔ ان کی ثابت قدمی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آزادی، عزت اور انصاف کی خواہش انسانی فطرت کا حصہ ہے ، جسے جبر سے ہمیشہ کے لیے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ دن ہمیں اپنی اجتماعی ذمہ داری کا بھی احساس دلاتا ہے کہ ہم کشمیر کے مسئلے کو جذبات کے ساتھ ساتھ تدبر، تحقیق اور بین الاقوامی قانون کے تناظر میں بھی سمجھیں۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اس موضوع پر مستند معلومات حاصل کرے ، انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے آگاہی پیدا کرے اور ایسے ہر اقدام کی حمایت کرے جو خطے میں امن، انصاف اور استحکام کو فروغ دے ۔

پانچ اگست ایک تاریخ نہیں، ایک احساس ہے ؛ ایک یاد دہانی ہے کہ جب طاقت نے آواز کو دبانے کی کوشش کی تو انسانی وقار اور آزادی کی خواہش مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی۔ یومِ استحصالِ مقبوضہ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ پائیدار امن کی بنیاد انصاف، مکالمے ، انسانی حقوق کے احترام اور عوامی امنگوں کو اہمیت دینے میں مضمر ہے ۔ دعا ہے کہ وہ دن جلد آئے جب کشمیر کے عوام خوف، بے یقینی اور کشیدگی سے آزاد ہو کر امن، ترقی، باہمی احترام اور انسانی وقار کے ساتھ اپنی زندگی بسر کر سکیں، اور جنوبی ایشیا کا یہ خوبصورت خطہ امن و استحکام کی علامت بن جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں