میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نامزد جمہوریت

نامزد جمہوریت

جرات ڈیسک
پیر, ۳ اگست ۲۰۲۶

شیئر کریں

اقتدار کی بقا، طاقت کی ہوس نے ہمیشہ اس ملک کے حقیقی اثاثوں کو قربانی کا بکرا بنایا ۔ جب اقتدار کی کرسی کو ریاست کے مستقبل پر فوقیت دی جانے لگے تو فیصلوں کی تمام تر منطق ختم ہو جاتی ہے اور پورا ملک غیر یقینی کی تاریک گھاٹیوں میں اترنے لگتا ہے۔آخر یہ کون سا ایجنڈا ہے جو اپنوں کو ہی غیر بنانے پر تلا ہوا ہے؟ کون لوگ ہیں جو اقتدار کو طول دینے کی خاطر ملک کے وقار، یکجہتی اور اپنے ہی لوگوں کے خون کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔ ضمیر کی موت ہو جائے تو چلتے پھرتے ڈھانچے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی ۔ کیونکہ کوئی سمجھے یا ناں سمجھے دنیا اسے مردہ ہی سمجھتی ہے۔کشمیر میں خون کی ہولی، لاشیں اور ہوس پرستوں کا الیکشن جشن، لوگ مرتے رہے، دُم ہلاتا میڈیا مالک کی ہڈی چوستا رہا انقلاب لائیں گے، خون رنگ لائے گا، یہ نعرہ جیت گیا،اگر ہم سیاسی حل پر یقین رکھتے تو سانحہ مشرقی پاکستان بھی نہ ہوتا اور 1972 میں کے پی کے اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کی برطرفی بھی نہ ہوتی اور سیاسی حل پر یقین ہوتا تو جنرل ضیاء الحق بھی نہ آتا۔ سیاسی حل برداشت اور مکالمے میں مضمر ہے اور ہم اس سے کوسوں دور رہے ۔ ایسا تو حقیقی جمہوریت میں ہوتا ہے نامزد جمہوریت میں نہیں؟

پریس کانفرنس میں وزیر داخلہ کا استدلال کہ ملک کا موجودہ نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے، اسے ری سیٹ کرنے کی ضرورت ہے، بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں، نئے انتظامی یونٹس بننے چاہئیں، اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے چاہئیں اور نوجوانوں کو محض چند ہزار روپے یا ٹیبلیٹس نہیں بلکہ انصاف، میرٹ اور روزگار چاہیے۔ بظاہر یہ باتیں بہت دلکش ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ یہ ساری دانش ہمیں اُس وقت سنائی جا رہی ہے جب آپ خود اسی نظام کے ایک نہایت طاقتور اور فیصلہ کن حصے کے طور پر اقتدار کے مرکز میں موجود ہیں۔ سوال بہت سادہ ہے: اگر نظام واقعی اتنا ہی ناکارہ اور بوسیدہ ہے تو اسے اس مقام تک پہنچانے والوں میں آپ اور آپ کے رفقائے اقتدار کا حصہ کتنا ہے؟

آپ کہتے ہیں نظام کو ری سیٹ کرنا ہوگا۔ واہ! مگر یہ ری سیٹ کس چیز کا ہوگا؟ صرف نقشے کا؟ صرف نئے انتظامی یونٹس کا؟ یا اس سیاسی کلچر کا بھی جس میں عوامی مینڈیٹ سے زیادہ طاقتور حلقوں کی مرضی اہم سمجھی جاتی ہے؟ اگر نئے صوبے بنا دینے سے مسئلہ حل ہونا ہے تو پھر یہ بھی بتائیے کہ کیا نئے صوبوں میں وہی پرانا طرزِ حکمرانی، وہی سیاسی انجینئرنگ، وہی غیر مساوی قانون، وہی طاقت کا ارتکاز اور وہی عوامی آواز سے بے اعتنائی بھی منتقل ہوگی؟ اگر ایسا ہی ہونا ہے تو نئے صوبے نہیں، صرف نئے نقشے بنیں گے۔

آپ نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک میز پر بیٹھیں اور قومی مسائل کا حل نکالیں۔ اس تجویز سے اختلاف نہیں؛ اختلاف اس بات سے ہے کہ جب سیاسی قوتوں کو واقعی ایک میز پر بیٹھنے، اختلاف کرنے اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کی ضرورت تھی، تب ماحول کس نے بنایا؟ ایک بڑی سیاسی جماعت سے انتخابی نشان چھیننے سے لے کر اسے انتخابی عمل میں محدود کرنے تک جو کچھ ہوا، کیا وہ اسی جمہوری اصلاحاتی سوچ کا حصہ تھا؟ سیاسی کارکنوں کے خلاف مقدمات، سیاسی قیادت کی گرفتاری، اختلافِ رائے پر ریاستی سختی۔۔کیا یہ سب اسی ”نظام کی بہتری” کے نمونے تھے؟
آپ جمہوریت کے حامی ہونے کا اعلان بھی کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔ ضرور کرے؛ آئینی مدت پوری کرنا ہر منتخب حکومت کا حق ہے۔ مگر جمہوریت صرف حکومت کی مدت پوری ہونے کا نام نہیں۔ جمہوریت میں ووٹر کا ووٹ بھی اہم ہے، اپوزیشن کا وجود بھی، اختلافِ رائے بھی، احتجاج کا حق بھی اور ریاستی طاقت کے استعمال کی حدود بھی۔ اگر عوام اپنے جمہوری حق کے تحت سڑک پر نکلیں اور ان کے مطالبات کا جواب سیاسی مذاکرات کے بجائے طاقت سے دیا جائے تو پھر آپ جس جمہوریت کی بات کر رہے ہیں وہ صرف اقتدار کے تسلسل کی جمہوریت رہ جاتی ہے، عوامی اختیار کی نہیں۔

بلوچستان کے معاملے میں جب عوامی اضطراب کو سنجیدہ سیاسی مسئلے کے بجائے طاقت کے ذریعے قابو پانے والی سوچ غالب ہو، اور پھر کشمیر میں بھی احتجاج، غصے اور محرومی کو اسی عینک سے دیکھا جائے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ عوام کا ہے یا حکمرانی کے انداز کا؟ بلوچستان ہو یا کشمیر، ریاستی طاقت کسی سیاسی مسئلے کا مستقل متبادل نہیں ہو سکتی۔ بندوق خاموشی پیدا کر سکتی ہے، اعتماد نہیں۔اور پھر حکومتی وزراء کے وہ بیانات بھی دیکھیے جو پہلے سے کشیدہ ماحول میں مزید اشتعال پیدا کرتے ہیں۔ اگر واقعی نظام کو اصلاح کی ضرورت ہے تو سب سے پہلی اصلاح زبان اور رویے کی ہونی چاہیے۔ حکومت کا کام اپنے شہریوں کو طعنے دینا، ان کے احتجاج کا تمسخر اڑانا یا انہیں سیاسی دشمن سمجھنا نہیں؛ حکومت کا کام ان کے غصے کی وجوہات تلاش کرنا ہے۔

آپ نوجوانوں کی بات کرتے ہیں اور درست کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو چند ہزار روپے، ٹیبلیٹس یا وقتی امداد نہیں چاہیے۔ مگر یہی نوجوان جب میرٹ، انصاف، روزگار اور اپنے ووٹ کے احترام کا مطالبہ کرتا ہے تو کیا اسے بھی سننے کے لیے وہی دروازہ کھلے گا؟ یا اسے پھر ”مسئلہ”، ”شرپسند” اور ”ریاست مخالف” جیسے خانوں میں ڈال دیا جائے گا؟ نوجوان کو خیرات نہیں، نظام میں اپنا جائز مقام چاہیے۔
آپ نے کاروباری طبقے کو معیشت کا انجن قرار دیا، برآمدات کی صلاحیت کا ذکر کیا اور بجٹ کے خسارے پر تشویش ظاہر کی۔ مگر معیشت صرف اعداد کا کھیل نہیں؛ معیشت اعتماد کا نام بھی ہے۔ جس ملک میں پالیسی کا تسلسل غیر یقینی ہو، سیاسی استحکام کمزور ہو اور قانون کی بالادستی پر سوالات اٹھتے رہیں، وہاں سرمایہ کاری کے لیے صرف تقریریں کافی نہیں ہوتیں۔

اور اب آتے ہیں اصل تضاد کی طرف۔

آپ فرماتے ہیں کہ نظام ناکارہ ہو چکا ہے، اسے ری سیٹ کرنا ہوگا، بنیادی اصلاحات کے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ یہ حق گوئی آج کیوں جاگی؟ جب یہی نظام عوامی رائے کو دیوار سے لگانے، سیاسی انجینئرنگ کرنے اور منتخب نمائندوں کے راستے بند کرنے میں استعمال ہو رہا تھا، تب آپ کہاں تھے؟ جب ایک بڑی جمہوری جماعت سے اس کا انتخابی نشان چھینا گیا، اسے انتخابی میدان سے باہر دھکیلنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، سیاسی کارکنوں پر مقدمات قائم ہوئے اور اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا گیا، تب یہی نظام آپ کو بالکل قابلِ قبول نظر آتا تھا۔
بلوچستان کے نہایت سنگین مسئلے کو سرسری انداز میں ایک معمولی انتظامی معاملہ قرار دینا، پھر کشمیر جیسے حساس خطے میں طاقت، ضد اور ہٹ دھرمی کو سیاسی حکمتِ عملی سمجھنا، اور اس پر مستزاد بعض حکومتی وزراء کے اشتعال انگیز بیانات جن سے معاشرے میں مزید تقسیم اور نفرت جنم لیتی ہے، یہ سب اسی طرزِ حکمرانی کی علامات ہیں جسے آج آپ خود ناکام قرار دے رہے ہیں۔ اگر واقعی نظام اتنا ہی بوسیدہ ہے تو اس کی بنیادیں کمزور کرنے والوں میں اپنا کردار بھی دیانت داری سے تسلیم کیجیے۔

اور سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ آپ خود کسی عوامی انتخاب کے نتیجے میں اس منصب تک نہیں پہنچے، کسی سیاسی جماعت کی باقاعدہ عوامی جدوجہد کا حصہ بھی نہیں، مگر ایوانِ اقتدار کے اہم ترین چہروں میں شمار ہوتے ہیں۔ پھر آپ کس اخلاقی برتری کے ساتھ پورے نظام پر خطِ تنسیخ پھیر رہے ہیں؟ اگر آج کی حکومت بھی انہی طاقتور سہاروں کے بل بوتے پر کھڑی ہے جن پر اس کے ناقدین برسوں سے سوال اٹھاتے آئے ہیں، تو پھر اس سے نظام کی اصلاح کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ جو لوگ خود اقتدار کے موجودہ ڈھانچے کے سب سے بڑے مستفید ہوں، ان کے منہ سے نظام کی ناکامی کا نوحہ کم اور سیاسی تضاد زیادہ محسوس ہوتا ہے۔

آپ نے خود کہا کہ ملک کے موجودہ حالات کے ذمہ دار صرف ایک فریق نہیں؛ سیاسی جماعتیں، کاروباری طبقہ، ادارے اور معاشرہ سب ذمہ دار ہیں۔ تو پھر اس فہرست میں اقتدار کے موجودہ مراکز کو بھی شامل کیجیے۔ اصلاح کا آغاز ہمیشہ وہاں سے ہوتا ہے جہاں اختیار موجود ہو۔ عام آدمی کے پاس نہ ریاستی طاقت ہے، نہ پالیسی بنانے کا اختیار، نہ بجٹ تقسیم کرنے کی قوت۔ اس کے پاس صرف ووٹ، آواز اور احتجاج کا حق ہے۔ اگر اس کے یہ تینوں راستے بھی محدود کر دیے جائیں تو پھر اسے نظام کی خرابی کا ذمہ دار قرار دینا تاریخ کے ساتھ بدترین ناانصافی ہوگی۔

قوم کو اب تقریروں، اعترافات اور تاخیر سے آنے والی دانش نہیں چاہیے۔ اگر واقعی اصلاح کا عزم ہے تو اس کا آغاز اپنی صفوں سے، اپنے فیصلوں سے اور اقتدار کے ان تمام غیر جمہوری رویوں سے ہونا چاہیے جنہوں نے عوام کے اعتماد کو مجروح کیا۔ ورنہ نظام کی خرابی پر ہر نئی تقریر عوام کے نزدیک حق گوئی نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سے فرار کا ایک اور بیانیہ ہی سمجھی جائے گی۔ کیونکہ اصل سوال یہ نہیں کہ نظام ناکام ہو چکا ہے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ جب نظام ناکام ہو رہا تھا تو اس کے اسٹیئرنگ پر کون بیٹھا تھا؟ اور آج جب وہی لوگ ہمیں نظام کی خرابی سمجھا رہے ہیں تو قوم ان کی بات پر اعتبار کیوں کرے؟
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں