محسن نقوی کی تقریرحقیقت یا افسانہ؟
شیئر کریں
پاکستان کی سیاست میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ حکومت بدل جائے تو حالات بدل جائیں گے لیکن گزشتہ تقریباً چار دہائیوں کی تاریخ اس
تصور کی نفی کرتی ہے حکومتیں بدلتی رہیں، وزرائے اعظم بدلتے رہے، نعرے بدلتے رہے مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہ آسکی ۔
یہی وجہ ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یہ مؤقف کہ پاکستان کا موجودہ حکومتی نظام اپنی افادیت کھو چکا ہے اور ملک کو انتظامی اصلاحات، مضبوط بلدیاتی نظام اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے محض ایک سیاسی بیان نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جسے اب نظر انداز کرنا ممکن نہیں۔
اگر ہم 1988ء سے آج تک کا سیاسی سفر دیکھیں تو اقتدار زیادہ تر پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان گردش کرتا رہا۔ ان دونوں جماعتوں نے جمہوریت کے استحکام میں کردار ادا کیا، بڑے ترقیاتی منصوبے بھی شروع کیے، مگر ان کے ادوارِ حکومت پر بدعنوانی، اقربا پروری، کمزور احتساب، سیاسی مداخلت اور سرکاری وسائل کے غیر مؤثر استعمال پر شدید تنقید بھی ہوتی رہی۔ مختلف ادوار میں ان جماعتوں کے رہنماؤں کے خلاف احتسابی مقدمات بھی قائم ہوئے جبکہ متعلقہ جماعتوں نے انہیں سیاسی انتقام قرار دیا۔ ان متنازع سیاسی مباحث سے قطع نظر ایک حقیقت یہ ہے کہ عوام آج بھی مہنگائی، بے روزگاری، ناقص تعلیم، کمزور صحت کے نظام اور انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔یہ سوال ہر پاکستانی کے ذہن میں ہونا چاہیے کہ اگر ہر آنے والی حکومت پچھلی حکومت کو ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتی ہے تو آخر کامیابی کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟ اگر ہر پانچ سال بعد وہی مسائل موجود ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خرابی صرف حکمرانوں میں نہیں بلکہ اس نظام میں بھی ہے جو اچھی حکمرانی پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ آج پاکستان کا قرضہ مسلسل بڑھتا رہا ہے، سرکاری اداروں کی بڑی تعداد خسارے میں ہے، توانائی، پانی، زراعت اور صنعت جیسے شعبے بارہا بحرانوں سے دوچار ہوئے جبکہ عام شہری کی آمدنی اور قوتِ خرید پر مسلسل دباؤ بڑھا۔ عوام کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ قرض اور ٹیکس کہاں خرچ ہوتے ہیں ۔
ترقی کے ثمرات عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچتے اور ہر حکومت کو خزانہ خالی کیوں ملتا ہے؟
اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ملک میں احتساب کا نظام ہمیشہ متنازع رہا جب ایک جماعت اقتدار میں ہوتی ہے تو دوسری جماعت احتساب کا مطالبہ کرتی ہے اور اقتدار بدلتے ہی مؤقف بھی بدل جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل نے عوام کا اعتماد متاثر کیا۔ پاکستان کو ایسے احتساب کی ضرورت ہے جو کسی حکومت یا اپوزیشن کا نہیں بلکہ صرف قانون کا تابع ہو۔محسن نقوی کی بات کا اصل نکتہ یہی ہے کہ جب تک انتظامی ڈھانچہ تبدیل نہیں ہوگا، صرف حکومتیں بدلنے سے نتائج نہیں بدلیں گے۔ پاکستان جیسے بڑے ملک کو مضبوط، بااختیار اور مالی وسائل رکھنے والے بلدیاتی اداروں کی ضرورت ہے ۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شہریوں کے بیشتر مسائل مقامی حکومتیں حل کرتی ہیں جبکہ ہمارے ہاں اختیارات اوپر کی سطح پر مرتکز رہتے ہیں جس کے باعث عوام کو معمولی کاموں کے لیے بھی اعلیٰ حکام کے دفاتر کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔نئے صوبوں کی بحث بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے اگر انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس قائم کیے جائیں، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو اور آئین کے مطابق قومی اتفاقِ رائے سے فیصلے کیے جائیں تو اس سے دور دراز علاقوں کے عوام کو بہتر نمائندگی اور بہتر خدمات مل سکتی ہیں ۔اس معاملے کو سیاسی مخالفت یا حمایت کے بجائے قومی مفاد کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ پاکستان کے مسائل کسی ایک جماعت نے پیدا نہیں کیے اور نہ ہی کوئی ایک جماعت اکیلے انہیں حل کر سکتی ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور دیگر تمام سیاسی قوتوں کو اپنی اپنی کارکردگی کا دیانت داری سے جائزہ لینا ہوگا ۔عوام اب صرف نعروں، جلسوں اور ایک دوسرے پر الزامات سے مطمئن نہیں ہوں گے، انہیں نتائج چاہیے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ میں ایک قومی مکالمہ شروع ہو جس میں انتخابی اصلاحات، عدالتی اصلاحات، پولیس اصلاحات، ٹیکس نظام، بلدیاتی ڈھانچے، سول سروس، صحت، تعلیم اور احتساب کے نظام پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ اگر یہی فرسودہ نظام برقرار رہا تو آنے والی نسلیں بھی انہی مسائل کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی۔پاکستان اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے مالا مال ملک ہے یہاں نوجوان آبادی ہے، زرخیز زمین ہے، قدرتی وسائل ہیں، باصلاحیت افرادی قوت ہے، مگر ان سب کے باوجود ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ کمزور حکمرانی اور غیر مؤثر نظام ہے۔ محسن نقوی کے بیان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر اس سوال سے فرار ممکن نہیں کہ کیا موجودہ نظام واقعی عوام کو انصاف، سہولت اور خوشحالی دے سکا ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اصلاحات پر بحث ہونی چاہیے ،نہ کہ بحث کرنے والوں پر۔ کیونکہ اس وقت پاکستان کو نئے نعروں سے زیادہ نئے نظام کی ضرورت ہے۔ ایسے نظام کی جس میں قانون سب کے لیے برابر ہو، احتساب بلاامتیاز ہو، ادارے مضبوط ہوں، اختیارات عوام کے قریب ہوں اور حکمرانی کا معیار افراد کے بجائے اداروں سے متعین ہو ۔یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو سیاسی استحکام، معاشی ترقی اور حقیقی عوامی خوشحالی کی طرف لے جا سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج بھی اصلاحات کا راستہ اختیار نہ کیا تو تاریخ ہمیں ایک اور ضائع شدہ موقع کے طور پر یاد رکھے گی، اور آنے والاوقت بتائے گا کہ محسن نقوی نے جو کہا وہ ایک حقیقت تھی یا افسانہ؟
٭٭٭


