سندھ بلڈنگ حیدرآباد میں سب گول مال نکلا
شیئر کریں
ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی اورماتحت انسپکٹر شہاب الدین سمیت عملہ ملوث
یونٹ نمبر 9میں بے نامی پلازہ، کوہسار، بسم اللہ سٹی میں خلاف ضابطہ تعمیرات
………………………….
لطیف آباد کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات، رہائشی پلاٹوں کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض اہلکاروں کی مبینہ چشم پوشی کے حوالے سے شہریوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو شہر میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ مزید بڑھ سکتا ہے ۔ذرائع کے مطابق لطیف آباد یونٹ نمبر 10 میں خان آرکیڈ، یونٹ نمبر 9میں ایک بے نامی پلازہ، جبکہ کوہسار، بسم اللہ سٹی اور دیگر نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں مبینہ طور پر منظور شدہ نقشوں کے بغیر کثیر المنزلہ عمارتیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے متعدد عمارتوں پر نوٹس تو چسپاں کیے جاتے ہیں، تاہم بعد ازاں مبینہ طور پر معاملات طے ہونے کے بعد انہی عمارتوں پر تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو جاتی ہیں اور مؤثر کارروائی دیکھنے میں نہیں آتی۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کے ماتحت بعض افسران اور انسپکٹروں، جن میں انسپکٹر شہاب الدین کا نام بھی لیا جا رہا ہے ، پر مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے اور سہولت کاری کے الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔
متاثرہ شہریوں، سماجی تنظیموں اور عوامی حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ لطیف آباد کے تمام متنازع تعمیراتی منصوبوں کا فوری ریکارڈ طلب کیا جائے ، منظور شدہ نقشوں اور این او سی کی جانچ کی جائے ، اور اگر کسی بھی سطح پر بے ضابطگیاں ثابت ہوں تو ذمہ دار افسران، اہلکاروں اور بلڈرز کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔ شہریوں نے محکمہ اینٹی کرپشن سندھ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان مبینہ الزامات کا ازخود نوٹس لے ، تمام مالی و انتظامی معاملات کی شفاف تحقیقات کرے ، مبینہ کرپشن اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی مکمل چھان بین کرے ، اور اگر کسی بھی فرد کا کردار قانون کے منافی ثابت ہو تو اس کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے تاکہ سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد بحال ہو اور شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے بڑھتے ہوئے رجحان کا مؤثر سدباب ممکن بنایا جا سکے ۔


