جنگ نہیں امن سے ترقی!
شیئر کریں
امریکہ وایران لڑائی میں توقف کی وجہ صدرٹرمپ کامزیدحملوں کی اجازت نہ دینا ہے، جواب میں ایران نے بھی امریکی اڈوں کو نشانہ
بنانے کا سلسلہ روک دیا ہے ،جو کہ خوش آئند ہے۔ خطے کی ضرورت جنگ نہیں، امن ہے۔ لہٰذا لڑائی میں چاہے عارضی وقفہ سہی لیکن امن قائم ہونے کے قوی آثار ہیں۔ اگرخطے میں مستقل امن ہوتا ہے تونہ صرف معاشی تباہی کے منڈلاتے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرات کم ہوجائیں گے۔
خلیجی لڑائی روکنے کے لیے علاقائی ممالک کے ساتھ اقوامِ عالم متحرک ہیں۔ یو این او کے سفیرنے امریکہ و ایران جاری امن مذاکرات کی تصدیق کردی ہے۔ کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشواپوپ لیو قیامِ امن پرزوردے رہے ہیں، مگر بات تب ہی بنے گی جب مستقل امن قائم کرنے کے لیے امریکہ و ایران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔ امن سے توانائی کی بڑھتی قیمتیں کمی ہوں گی ۔اِس وقت عالمی منڈی میں تیل کے نرخ سوڈالر کے لگ بھگ ہیں آبنائے ہُرمزکی بندش سے تیل کی فراہمی میں رکاوٹ آئی جو توانائی کے بحران کاباعث ہے۔ اِس سے مہنگائی کی نئی طاقتورلہرجنم لے سکتی ہے جس کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔ خلیجی خطے میں لڑائی کاختم ہونا عالمی مفاد میں ہے ۔
ایران پرامریکی حملے رُکنے کی جو بھی وجہ ہو خطے اور اقوامِ عالم کے لیے اطمنان کاباعث ہے وجہ پیٹریاٹ میزائلوں کے ذخیر ے میں ہونے والی کمی یاپھر خطے میں امریکی اتحادیوں کی دوری ہو، لڑائی کے وقفے میں متحارب فریقین امن کی جانب بڑھ سکتے ہیں ۔تنازعات کو طاقت کے بل بوتے پر حل کرنے کی بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنا ہی دانشمندی ہے۔ حملوں کے دوران دونوں کو یہ تو معلوم ہوگیا ہے کہ مزیدلڑنا کسی کے مفادمیں نہیں جنگیں مسائل بڑھاتی ہیں ۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پائیدارامن کی بنیادبن سکتی تھی اگر فریقین سنجیدہ ہوتے مگر طاقت کے مظاہرے پر یقین کرنے سے امن
کوششوں کونقصان پہنچا۔ ایران نے مفاہمتی یادداشت کی پاسداری نہ کی اور سعودی عرب اور قطرکے تیل بردار جہازوں کو نشانہ بنایا جس سے امریکہ کو دوبارہ حملے کرنے کا جوازملا اور اُس نے ایرانی دفاعی تنصیبات کے ساتھ انفراسٹرکچر کوتباہ کرنا شروع کردیا جواب میں ایران بھی
خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے لگا یمنی حوثیوں نے طیش میں آکر آبنائے ہُرمز کی بندش کے بعد بحیرہ احمرکو بند کرنے کا عندیہ دیدیا ہے۔
یہ بندش بظاہرسعودی عرب کی حد تک ہے مگر چنگاری کب شعلہ بن جائے کچھ کہانہیں جا سکتا ۔تیل کی دوگزرگاہوں کی بندش جیسے سنگین
خطرے کی دنیا متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ بات امریکہ اور ایران سمجھ جائیں تو اچھی بات ہے، اگر نہیں سمجھتے تو یاد رکھیں عالمی امن کوداؤپر لگانے کے معاشی اثرات سے خودبھی محفوظ نہیں رہیں گے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کو ابتدامیں دنیانے سخت ناپسندیدگی ظاہرکی، یورپ سمیت ایشیا سے کئی امریکی اتحادیوں نے بھی حمایت کرنے کی بجائے حملے روکنے کامطالبہ کیا ،وجہ یہ تھی کہ دنیانے ایران کو مظلوم سمجھا لیکن ایران نے کچھ ایسے اقدامات کیے کہ مظلوم سے بلیک میلرثابت ہو گیا ۔بار بار آبنائے ہُر مز بندکرنے کی دھمکیاں دنیا کوناگوارگزریں مگر ایرانی قیادت دنیا کی سوچ میں آنے والی تبدیلی سمجھ نہ سکی یوں جسے امریکہ نے غنیمت جانااور حالات سازگار سمجھ کر فائدہ اُٹھا نے کی کوشش کی مگر امریکی شہ دماغ بھول گئے کہ انھوں نے چین کا مقابلہ کرنا ہے ۔اسلحہ ذخائر ختم ہو نے سے تومقابلہ نہیں ہو سکتا ۔جے ڈی وینس اور سینٹ کام جنرل کی طرف سے مزیدحملوں سے اختلاف کرنے کی وجہ بھی یہی پہلو ہے۔ بہتر ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن کی طرف آئیں، پاکستان اور قطر جیسے ثالثوں پر اعتماد کریں تاکہ خطے میں دیرپا امن ممکن ہو سکے۔
خلیجی لڑائی میں حصہ بن کر امریکہ نے بہت کچھ کھودیاہے ۔اپنی ساکھ تک داؤ پر لگادی ہے۔ ماضی میں اسرائیلی وایرانی رفاقت کسی سے ڈھکی چُھپی نہیں ۔عراق سے جنگ کے دوران اسرائیل نے ہی ایران کو اسلحہ اور تربیت دی اِس طرح موساد کو ایران میں قدم جمانے کا موقع ملا جس کی وجہ سے اسرائیل کوایرانی عسکری قیادت اور جوہری سائنسدانوں کو مارنے کے مواقع حاصل ہوئے ۔
اسرائیل نے درج ذیل اہداف کے لیے ایران پر حملہ کیا۔اول: عرب ممالک سے تسلیم کرانا۔دوم:عربوں کو ایران سے لڑانا۔سوم: ایران کو پراکسی سے باز رہنے پر مجبورکرناتاکہ گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار ہو سکے، لیکن تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ نہ صرف عرب ممالک تسلیم کرنے سے بازبلکہ جنگ میں بھی غیرجانبدار رہے۔ میزائل حملوں سے ایران کے کمزورہونے کی نفی ہوئی عارضی فائر بندی کے بعداسرائیل تو لڑائی سے الگ ہوگیا، لیکن امریکہ نے وقفے وقفے سے حملے جاری رکھے۔ عرب ممالک پرامریکی اڈوں کے جواز میں ایران حملے کرتا ہے لیکن جنگ کے اصل موجب اسرائیل کی طرف دیکھتاتک نہیں۔ عراق جہاں سے امریکی طیارے ایران پر حملے کرتے ہیں کے حوالے سے بھی خاموش رہتاہے لیکن قطر،کویت ، اُردن،بحرین،عمان اور یواے ای پر غصہ نکالتا ہے جس سے ظاہر ہے کہ ابھی تک عرب وعجم چپقلش ایران کے ذہن میں ہے ۔ایرانی ہمسایہ آزربائیجان جو اسرائیل کو تیل فراہم کرتا ہے پرحملہ نہ کرنے سے بھی اِس خیال کی تائید ہوتی ہے۔
امریکہ اور ایران دونوں کا ماضی مداخلت سے بھرپورہے۔ 1971 میں متحدہ عرب امارات تشکیل پانے سے صرف دودن قبل ایران نے شارجہ اور راس الخیمہ کے ملکیتی تین جزائرپربزورقبضہ کرلیا ۔1973 میں عمان حکومت کی فوجی مدد کی عراقی کردوں کوحکومت کے خلاف اسلحہ اور مالی مدد دی۔ امریکی صدارتی انتخابات میں سرمائے کی فراہمی کاخود رضا شاہ پہلوی اعتراف کرچکے۔ بات تب زیادہ بگڑی جب 23 دسمبر1973کوایک پریس کانفرنس میں مغربی ممالک کوپاؤں کے مطابق چادرپھیلانے کا مشورہ دے ڈالا۔جس پر فرانس نے امام خمینی پر سرمایہ کاری کے ذریعے انقلاب ایران کی راہ کلیدی ہموارکی ۔کرنل قذافی سے تو شاہ کی نفرت عیاں تھی۔ 1974میں یہ کہہ کر اسلامی کانفرنس میں شریک نہ ہوئے کہ میزبان پاکستان نے عرب ممالک کو مدعوکیا ہے۔ اب بھی غزہ کی حماس قیادت نے ایرانی شہ پر اسرائیل کو نشانہ بنایااور غزہ کو ملیامیٹ کرنے کا جواز فراہم کیا۔لبنان کی حزب اللہ کی صورت میں ایران ہے،بشارالاسد کی حمایت میں ایران نے شامی شہریوں کا خون بہایا اور اب یمنی حوثیوں کی صورت میں سعودی عرب کے لیے مسائل کاموجب ہے۔ امریکہ نے تو ساری دنیا میں مداخلت کاٹھیکہ لے رکھاہے۔ مگر جنگیں وسائل کا خاتمہ کرتی ہیں اور ترقی کے لیے امن ضروری ہے ،جس کا جتنی جلدی ادراک کر لیا جائے بہتر ہے۔
٭٭٭


