معاملہ دھمکیوں اور انتباہات سے نہیں سلجھ سکتا!
شیئر کریں
امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے اور پس پردہ مذاکرات جاری رہنے کے دعووں کے باوجود ایران پر امریکہ کے وحشیانہ حملے جاری ہیں ۔
اگرچہ امریکہ کے پاس ایران میں نشانہ بنانے کیلئے کوئی واضح اہداف نہیں ہیں لیکن وہ محض خوف پھیلاکر ایران کو جھکنے پر مجبور کرنے کیلئے فوجی طاقت کے بے محابا مظاہرہ کررہاہے، امریکہ کے اس جارحانہ بلکہ وحشیانہ طرز عمل کے باوجود ایران کے پایۂ استقلال میں ابھی تک لعزش کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے، اس کے برعکس ایران نے امریکہ اور اس کے حامیوں کے خلاف زندگی مزید تنگ کرنے کی حکمت عملی پر عمل شروع کردیا ہے۔
اس حکمت عملی کے تحت ایران نے یمن میں اپنی حامی حوثی قبائل کو باب المندب سے جہازوں کی آمدورفت روکنے کا اشارہ دے دیاہے اور ایران کا اشارہ ملتے ہی حوثیوں نے اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز سعودی عرب کے کم از کم 2 آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا ،اگرچہ ان ٹینکرز کا پاکستان سے کوئی تعلق سامنے نہیں آیا ہے لیکن سعودی عرب کے اتحادی اور دفاعی معاہدے کے شریک کے طورپر حوثیوں کو سخت تنبیہ جاری کی جس میں حوثیوں کو جوابی سخت کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے،پاکستان نے حوثی گروپ کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا پاکستان کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ کارروائی کو پاکستان کی قومی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ تصور کیاجائے گا، پاکستان کے دفتر خارجہ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہاہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے بحری مقامات کے دفاع کیلئے طاقت کے استعمال سمیت تمام ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھتاہے ،بیان میں حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کی تجارتی جہاز رانی کے خلاف دھمکیوں کی مذمت بھی کی گئی ہے اور
کہاگیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی ،آزادانہ جہاز رانی اور عالمی تجارت کیلئے خطرہ ہیں۔بیان میں سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کیلئے پاکستان کی حمایت کااعادہ کیا گیاہے اور تمام فریقوں پر زور دیاگیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں اور جہاز رانی کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔جبکہ حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیاہے کہ حوثیوں نے یہ قدم سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی ناکہ بندی کے جواب میں کیاگیاہے ،تاہم سعودی عرب نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ سعودی عرب اپنے جہازوں کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام ضروری اقدام کرے گا۔
اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آبنائے ہرمز کے تنازع کے سبب خلیج فارس سے بحری جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے اور اب شمالی یمن پر قابض ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف کارروائیوں بحیرہ احمر کے اہم راستے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کے خلاف دی گئی دھمکیوں اور سعودی جہازوں کے خلاف کارروائیوں نے عالمی تجارت پر مزید منفی اثرات کے خدشات میں اضافہ کردیاہے۔ باب المندب آبنائے ہرمز کی طرح ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جو خلیج عدن کو بحیرہ احمر سے ملاتی ہے یہ راستہ نہر سوئز تک جاتاہے اور پوری دنیا میں سمندری راستے سے منتقل ہونے والے تیل کا کم وبیش 12 فیصد کی ترسیل اسی راستے کے ذریعے ہوتی ہے۔ اگر حوثیوں نے اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ ڈالی جو وہ آسانی سے ڈال سکتے ہیں تو اس کے پوری دنیا پرمنفی اثرات مرتب ہوں گے خاص طورپر پاکستان بھی اس سے متاثر ہوسکتاہے کیونکہ پاکستان کی تیل کی ضروریات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک سے حاصل کیاجاتاہے ،اس کے علاوہ پاکستان کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ بھی اسی بحری راستے سے یورپ اور دیگر ممالک کی منڈیوں تک پہنچتاہے۔ آبنائے ہرمز کی طرح باب المندب سے گزرنے والے جہازوں میں رکاوٹیں ڈالی گئیں تو کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور نہ صرف بحری جہازوں کے کرائے بلکہ انشورنس کی پریمیم اور جہازوں کے تحفظ کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر اخراجات میں بھی اضافہ ہوگا جس سے برآمدی اور درآمدی دونوں تجارت متاثر ہوگی۔حوثیوں کی جانب سے امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک سے تعلق رکھنے والے جہازوں کے خلاف کارروائیوں کی صورت میں پاکستانی پرچم بردار یاپاکستان سے منسلک دیگر تجارتی جہاز بھی خطرات کی زد میں آسکتے ہیں۔حوثیوں کی حالیہ دھمکیوں کے بعد پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ موجود دفاعی معاہدے کے تحت بحیرہ احمر میں اپنی بحری موجودگی بڑھانے اور مسلسل گشت کو یقینی بنانے کی ضرورت پیش آسکتی ہے اور پاک بحریہ کی ان مصروفیات سے بھارت کو فائدہ اٹھانے کا مل سکتاہے۔اس خطرے کو مول لینے کے باوجود بحیرہ احمر میں جہاز رانی کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ کیونکہ ماہر تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال میں ممکنہ طورپر 2 خطرات سامنے آسکتے ہیں، اول یہ کہ حوثی پاکستان کی واضح تنبیہ پر پاکستان کو بھی اپنے مخالف ممالک کی صف میں شمار کرتے ہوئے کسی بھی پاکستانی تجارتی جہاز کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں ،اس کے علاوہ سعودی عرب سے جو کہ حوثیوں کا سخت مخالف ہے خام تیل لے کر نکلنے والے آئل ٹینکر کو اسی طرح حملے کا نشانہ بنایاجاسکتاہے، گزشتہ دنوں حوثیوں نے جس طرح سعودی جہازوں کو نشانہ بنایاہے ، اگر مستقبل میں پاکستانی پرچم تلے مزید جہاز چلانا شروع ہوجاتے ہیں تو وہ بھی اسی طرح ان ہی خطرات یعنی حوثیوں کے حملوں کانشانہ بن سکتے ہیں۔باب المندب کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے حوالے سے حوثیوں کا موقف بظاہر ایک وسیع پیغام ہے جس میں انھوں نے واضح کردیاہے باب المندب کے راستے سعودی خام تیل لے جانے والے جہاز خاص طورپر ان کا نشانہ بن سکتے ہیں ،حوثیوں نے گزشتہ دنوں کے دوران باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر حملہ کرکے یہ ثابت کردیاہے کہ ان کے پاس جہازوں پر میزائل یا ڈرون حملے کرنے کے علاوہ انھیں روک کر ان کو قبضے میں لینے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور حوثی ایران کی پراکسی ہیں اس لئے دنیا میں ایران ہی وہ واحد ملک ہے جو اس وقت حوثیوں کو اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے پر رضامند کرسکتاہے لیکن یہاں صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے ایران کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ بھی نہ صرف برادرانہ تعلقات ہیں بلکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ دفاع کا معاہدہ بھی موجود ہے اور اس وقت حوثی سعودی عرب کو اپن دشمن نمبر ایک تصور کرتے ہیں کیونکہ سعودی عرب شمالی یمن سے ان کا قبضہ ختم کرنے کیلئے ان پر بمباری بھی کرتا رہاہے اور ایران کے ساتھ بھی سعودی عرب کے تعلقات کو دوستانہ نہیں کہاجاسکتا ،اس صورت حال میں اگر پاکستان ایران سے حوثیوں کے خلاف مدد مانگتاہے تو ایران کی جانب سے اس کا مثبت جواب ملنے کا امکان نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ حوثیوں کو اس محاذ پر سرگرمی دکھانے کا اشارہ خود ایران نے ہی کیاہے۔موجودہ صورت حال میں اگر پاکستان اپنے دئے گئے انتباہ کے مطابق حوثیوں کے خلاف کوئی کارروائی کرتاہے یا حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں معاونت کرتاہے تو اس سے پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کیونکہ یہ ایک واضح امر ہے اور پاکستان کے تازہ ترین موقف سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اگر مستقبل میں حوثی دوبارہ سعودی عرب کو نشانہ بناتے ہیں توپاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے تحت حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی میں شریک ہوسکتاہے، اور یہ ایک فطری امر ہے کہایران حوثیوں کے خلاف کسی بھی طرح کی کارروائی کو اپنے اسٹریٹیجک اتحادیوں کے خلاف کارروائی اور اپنے مخالفین کی مدد اور پاکستان کو امریکی اتحاد کے قریب تر یا ہمدردتصورکرے گا۔
باب المندب جہاں تک بند کرنے کے حوالے سے حوثیوں کی صلاحیت اور طاقت کا سوال ہے تو لندن میں قائم تھنک ٹینک چیتھم
ہاؤس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حوثیوں کے پاس باب المندب میں جہاز رانی کو مکمل طور پر بند کردینے کی عسکری صلاحیت موجود
ہے حوثیوں کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ اس راستے سے جہاز رانی میں خلل ڈال سکتے ہیں۔چیتھم ہاؤس سے وابستہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے
کہ حوثیوں کے پاس ایران کے دئے ہوئے میزائلوں کے علاوہ سمندری بارودی سرنگیں بھی موجود ہیں ،اور گزشتہ چند برسوں کے دوران
انھوں نے ڈرونز ٹیکنالوجی میں بھی اپنی صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ کیاہے ۔اس طرح حوثی چاہیں تو باب المندب کی مکمل ناکہ بندی کئے
بغیر بھی اس راستے پر آزادانہ جہاز رانی میں خلل خال سکتے ہیں اور مسائل پیدا کرسکتے ہیں اس کیلئے انھیں صرف ایک علامتی ہدف کو نشانہ بنانا
ہوگا جس سے انشورنس کمپنیوں، جہاز رانی کمپنیوں اور تیل فراہم کرنے والے اور خریدنے والے ممالک کے خدشات میں اضافہ ہوجائے گا ،
ایران کی اب تک کی حکمت عملی سے واضح یہی ہوتاہے کہ امریکہ اور اس کے ساتھ کھڑے ہونے والے علاقائی ان اتحادیوں کو ان کے تصور
سے زیادہ نقصان پہنچایا جائے جو ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو فوجی اڈے دے کر اس کی مدد کررہے ہیں اور جنگ کو زیادہ سے زیادہ
طول دیاجائے تاکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی سپلائی لائن اتنی بڑی ہوجائے کہ اسے سنبھالنا مشکل ہوجائے اور ایران خلیجی ممالک میں
موجود اپنے پراکسیوں کے ذریعے یہ کام بہت آسانی سے کرسکتا ہے اور کررہاہے۔کیونکہ امریکی جارحیت کے سامنے کھڑے رہنے کا ایران
کے پاس یہی واحد راستہ ہے ،ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف گزشتہ روز اپنے بیان میں یہ واضح کرچکے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ
اس جنگ میں ایران کا اصول واضح ہے کہ یا سب یاکوئی نہیں۔اگرہم تیل نہیں بیچیں گے تو کوئی اور بھی تیل نہیں بیچ سکے گا ،جس خطے میں ہم
تیل فروخت نہیں کرسکیں گے وہاں کوئی اور بھی تیل فروخت نہیں کرسکے گا اور اگر ہماری سلامتی یقینی نہیں بنائی جاتی تو کسی کی بھی سلامتی محفوظ نہیں رہے گی۔ موجودہ صورت حال میں دانشمندی کا تقاضہ یہ ہے کہ پاکستان اس جنگ میں امریکہ یا اس کے کسی بھی علاقائی اتحادی کی براہ
راست مدد کرنے سے پہلے اس کے مضمرات کا باریک بینی سے جائزہ لے اور کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کرے جس سے کسی بھی
صورت میں پاکستان کے قومی مفادات پر ضرب پڑنے کا اندیشہ ہو۔ ارباب حکومت کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ یہ
معاملہ انتباہات اور دھمکیوں سے حل نہیں ہوسکتا۔
٭٭٭


