میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
 حکمراں عوام کا اعتماد کھوتے جارہے ہیں!

 حکمراں عوام کا اعتماد کھوتے جارہے ہیں!

جرات ڈیسک
اتوار, ۲۶ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

باب المندب کے راستے گزرنے کی کوشش کرنے والے سعودی جہازوں پر سعودی ملیشیا کے حملوں کے واقعے کے بعد وزیراعظم شہباز
شریف نے سعودی عرب کو یقین دلایاہے کہ پاکستان ہر طرح کی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔اس امر میں کوئی شبہ
نہیں کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے حوالے سے خارجہ محاذ پر نمایاں کامیابیاں
حاصل کی ہیں ،پاکستان کی ان کامیابیوں کا اعتراف ایران اور امریکہ کے علاوہ پوری دنیا خاص طور پر یورپی ممالک نے بھی کیاہے۔خارجہ
محاذ پر دنیاکے امریکہ جیسے ملک کا اعتماد حاصل کرنے کے باوجود ایسا معلوم ہوتاہے کہ موجودہ حکمراں خود اپنے ملک کے عوام کا اعتماد کھوتے
جارہے ہیں،جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کے عوام اور اس کی اندرونی مضبوطی ہوتی ہے ،اگر کسی حکومت کو
اپنے عوام کا اعتماد حاصل نہ ہو اگر گھر کے اندر ہی بے چینی ،بے اطمینانی اور عدم استحکام ہو اگر حکمرانوں پر عوام کا اعتماد، بداعتمادی میں تبدیل
ہوتا محسوس ہو تو دنیا میں خارجہ محاذ پر حاصل ہونے والی بڑی سے بڑی سفارتی کامیابیاں بھی دیر پا ثابت نہیں ہوتیں۔ موجودہ حکومت کی
جانب سے عوام کے مسائل سے مبینہ چشم پوشی یا انھیں فوقیت نہ دینے کی پالیسیوں کے نتیجے میں فی الوقت پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا
نظر آتاہے جہاں حکومت خارجہ محاذ پر کامیابیوں کے دعوے تو کررہی ہیں لیکن ملک کے اندر سیاسی ،معاشی اور سیکورٹی کا بحران گہرا ہوتا جا رہا
ہے۔

عالمی سطح پر تسلیم کیاجاتاہے بلکہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کی مضبوطی کو جانچنے کا طریقہ تصور کیا جاتاہے کہ خارجہ پالیسی کی بنیاد داخلی
استحکام پر ہوتی ہے ،جس ملک میں جتنا استحکام ہوگا اس کی خارجہ پالیسی اتنی ہی مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی نظر آتی ہے ۔اس حقیقت سے
انکار نہیں کیاجاسکتاکہ اگر بلوچستان،خیبر پختونخوا ،آزاد کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں میں عوام خود کو غیر محفوظ تصور کریں اگر وہ یہ محسوس کرنے لگیں کہ وہ ان کے بچے اور اہل خانہ غیر محفوظ ہیں،وہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور حکمراں انھیں نظر انداز کررہے ہیں تو مقبوضہ کشمیر اور
دنیا کے دیگر خطوں کے عوام کو حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے پاکستان کا موقف پوری دنیا کے سامنے کمزور پڑجاتاہے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وقت دنیا کے نقشے پر پاکستان کے سب سے زیادہ پسماندہ لیکن معدنیات سے مالامال صوبے
بلوچستان کو پاکستان کی معیشت کیلئے سب سے اہم صوبہ تصور کیاجاتاہے ،ملکی معیشت کیلئے اپنی اسی اہمیت کی وجہ سے ملک کی سلامتی کیلئے بھی
اس کی اہمیت دوچند ہے کیونکہ ملکی معیشت کے متعدد بڑے منصوبوں کا تعلق اسی صوبے سے ہے، سی پیک، گوادر پورٹ، ریکوڈک
دیگر اسٹریٹجک منصوبے اور معدنی وسائل کا بڑا حصہ اس صوبے سے وابستہ ہے ، یہی صوبہ آج سیاسی بے اعتمادی کی وجہ سے احساس محرومی کا
شکارہے اور نوجوانوں کے اسی احساس محرومی کو ہتھیار بنا کر دشمن اس صوبے کے ان نوجوانوں کو جو اس ملک کا مستقبل ثابت ہوسکتے تھے
دہشت گردی کے گڑھے میں دھکیل رہاہے،یہ درست ہے کہ ہماری مسلح افواج کے دلیر جوان اس دہشت گردی کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کررہے اور روزانہ کی بنیادوں پر دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں، لیکن اس صوبے کے نوجوانوں کو دہشت گردی پر آمادہ یاتیار کرنے کی وجوہات دور کرنے پر ابھی تک کوئی مثبت قدم اٹھتا نظر نہیں آرہاہے ،جبکہ یہ بات واضح  ہے کہ اس صوبے سے بدامنی اور دہشت گردی کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ صوبے سے سیاسی بے اعتمادی کو ختم کرنے اور اس صوبے کے  نوجوانوں کو احساس محرومی سے نجات دلانے اور حکومت اور عوام کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو پاٹنے کیلئے ایسے مثبت اقدام کئے جائیں جن  کیلئے حکمرانوں کو اعلان نہ کرنا پڑے بلکہ وہ عام آدمی کو نظر آسکیں۔ حکمرانوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ عوام کی بے اعتمادی اور سیاسی بے چینی کو ختم  کئے بغیر شروع کئے گئے بڑے سے بڑے ترقیاتی منصوبے بھی مثبت نتائج نہیں دے سکتے بلکہ عوام کی بے اعتمادی ان منصوبوں کیلئے خطرہ  بن سکتی ہے۔

حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ پورے ملک کے عوام میں یہ بداعتمادی پیداہونے کا سبب کیا ہے،ایک پرامن خطے آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی کیوں اتنے عروج پر پہنچ گئی کہ آج کوئی سیاسی پارٹی وہاں کھل کر انتخابی جلسے کرنے کی بھی جرات نہیں کرپارہی ہے اور امیدوار جلسے کرنے کے بجائے گھرگھر جاکر رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کرنے پر مجبور ہیں۔حکمرانوں کو سمجھنا چاہئے کہ ملک کے مختلف علاقوں  میں سر اٹھانے والے یہ مسائل محض انتظامی یا ایک ایس ایچ او کی مار نہیں ہیں بلکہ یہ مسائل سیاسی نوعیت کے ہیں اور ان کو افہام وتفہیم کے ماحول میں سیاسی انداز میں ہی حل کیاجاسکتا ہے ،ان کا حل طاقت کے استعمال سے زیادہ سیاسی بات چیت ،گفت وشنید ،بہتر حکمرانی اور عوام  کے اعتماد کی بحالی میں پوشیدہ ہے ۔

اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور آزاد کشمیرمیں پیداہونے والے موجودہ حالات عوام کی بے اعتمادی اور
تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات کی پشت پر بھارت اور افغان حکومت کا ہاتھ ہے جو اس وقت بھارت کی پراکسی کا کردار ادا کر
رہی ہے ،لیکن حکمرانوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ ہر ملک اپنے مفادات کے مطابق مخالف کو نیچا دکھانے یا دبانے کیلئے مخالف کی کمزوریوں
سے فائدہ اٹھا کر کھلی جنگ کئے بغیر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ صورت حال کی ذمہ داری
بھارت یا افغانستان یا کسی اور ملک ڈال دینے کیا مسائل حل ہوسکتے ہیں ،ہم اپنے داخلی مسائل کا ذمہ دار بیرونی قوتوں کو قرار دے کر اپنی
ذمہ داریوں سے برالذمہ نہیں ہوسکتے ۔اگر بھارت پاکستان کے خلاف سرگرم ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں وہ ہمارا کھلا دشمن ہے وہ تو
ہماری کمزوریوں سے اسی طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتاہی رہے گا جس کامظاہرہ وہ مشرقی پاکستان میں کرچکاہے ،ہمارے پاس اس
کھلے دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے انٹیلی جنس کا ایک مضبوط انتظام ہے اور عوام اپنا پیٹ کاٹ کر اس کیلئے مطلوبہ فنڈز فراہم کرتے ہیں ،اصل
مسئلہ سیاسی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ان کی رائے اور ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں رہی تمام فیصلے فارم 45 اور فارم 47
کی بنیاد پر ہونے ہیں تو عوام اور حکمرانوں کے درمیان فاصلے بڑھنے لگتے ہیں،جب ملک کے نوجوان یہ دیکھتے ہیں کہ ان کی قابلیت اور
صلاحیت کو نظر انداز کرکے اہم عہدوں پر رشتہ داروں اور جی حضوریوں ہی کو فائز کیا جائے گا تو ان کے خواب بکھرنے لگتے ہیں اور آگے
بڑھنے اور کچھ کر گزرنے کی لگن اور تڑپ کی جگہ احساس محرومی لے لیتی ہے اور دشمن کو تو احساس محرومی میں مبتلا ایسے ٹیلنٹیڈ ہونہار اور کچھ کر گزرنے کی تڑپ رکھنے والے نوجوانوں ہی کی ضرورت ہوتی ہے ،دشمن انھیں مستقبل کے سنہرے سپنے دکھا کر استعمال کر لیتا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو یہ صورت حال تبدیل کرنے اور ایسی صورت حال سے ہر قیمت پر بچنے کی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے۔ہمارے حکمرانوں اور ارباب اختیار کو اس وقت الزام تراشی اور بے سروپا بیانات دے کر اپنی کامیابیوں کا چرچا کرنے کے بجائے خود احتسابی کی ضرورت ہے ، حکمرانوں کو دیکھنا چاہئے کہ ہماری وہ کون سے خامیاں یا کمزوریاں ہیں جن سے ہمارے مخالفین خاص طورپر بھارت فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتاہے،یہ کام راہ چلتے نوجوانوں کو اٹھاکر غائب کردینے کی حکمت عملی کے ذریعے نہیں ہوسکتا کیونکہ اس طرح کی حکمت نوجوانوں میں احساس محرومی کو فزوں تر کرنے کا سبب بنتی ہے ،حکمرانوں کو سمجھنا چاہئے کہ اگر ہم اپنے گھر کو منظم،مضبوط بنالیں ،انصاف کی فراہمی آسان بنادیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی قانون کی پوری طرح پابندی کرنے پر مجبور کردیں۔ اگر کسی کو اپنے ساتھ زیادتی کا احساس نہ رہے تو بیرونی سازشیں خود بخود ناکام ہوجائیں گی۔حکمرانوں کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ریاست کی طاقت صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے کسی صوبے کے مسائل کو ایک ایس ایچ او کی مار قرار دینے والے معزز وزرا کی  کابینہ میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہئے ،عوام کسی ایس ایچ او کی مار سے قابو میں نہیں آتے بلکہ ایس ایچ او کی مار ایک شریف آدمی کو بھی دہشت  گردی پر مجبور کرسکتی ہے ،آج حکومت کو ایک ایسی قومی حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں ملک کے داخلی استحکام ،آئین کی بالادستی ،سیاسی  مفاہمت اور عوام کے اعتماد کی بحالی کو اولین ترجیح دی جائے،کیونکہ پاکستان کی مضبوط بنیاد سفارتی ایوانوں میں نہیں بلکہ بلوچستان ،خیبر  پختونخوا، سندھ ،پنجاب ،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے دلوں ہونی چاہئے،حکمرانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ حکومت کسی مقتدر  ادارے کی حمایت یا ایک صفحے پر ہونے سے مضبوط نہیں ہوتی بلکہ عوام کی طاقت سے مضبوط ہوتی ہے اگر عوام اور حکمراں ایک صفحے پر ہوں تو  دنیا کی کوئی طاقت کوئی مقتدر قوت نہ حکومت کو گراسکتی ہے نہ پاکستان کو کوئی نقصان پہنچاسکتی ہے،لیکن اگر داخلی تقسیم ،سیاسی کشیدگی اور احساس محرومی بڑھتارہے تو دنیا بھر کے حکمرانوں کا حشر شہنشاہ ایران اور حسینہ واجد کی طرح ہوتا ہے۔
٭٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں