میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کراچی کی مفت شٹل سروس کمرشل بنیادوں پر چلائے جانے کا انکشاف

کراچی کی مفت شٹل سروس کمرشل بنیادوں پر چلائے جانے کا انکشاف

جرات ڈیسک
جمعه, ۲۴ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ٹرمینل تک مسافروں کی سہولت کے لیے شروع کی گئی شٹل سروس کمرشل بنیادوں پر حیدرآباد تک چلنے لگی، روٹ پرمٹ نہ ہونے کابھی انکشاف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کراچی میں انٹر سٹی مسافروں کی سہولت کے لیے دو سال قبل شروع کی گئی مفت شٹل سروس کے مبینہ طور پر اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر کمرشل بنیادوں پر چلائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق شٹل سروس کے لیے مختص گاڑیاں صرف کراچی بس ٹرمینل تک مسافروں کو پہنچانے کے بجائے براہِ راست کراچی سے حیدرآباد تک مسافر منتقل کر رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شہر کے مختلف مقامات پر قائم انٹر سٹی بس اڈوں کو ختم کر کے انہیں کراچی بس ٹرمینل منتقل کیے جانے کے بعد حکومت سندھ نے شہریوں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد مختلف علاقوں سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل تک بلا معاوضہ پہنچانا تھا۔

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کرتے ہوئے بڑی بین الاضلاعی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔

اس موقع پر وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے اعلان کیا تھا کہ مسافروں کی سہولت کے لیے تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جائیں گی تاکہ انہیں شہر کے مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل تک آسان رسائی فراہم کی جا سکے۔

تاہم اب سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق شٹل سروس کی متعدد گاڑیاں اپنے مقررہ مقصد کے برخلاف کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک مسافروں کو لے جا رہی ہیں، جبکہ محکمہ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ اس روٹ پر چلنے کے لیے متعلقہ شٹل سروس کے پاس کوئی باقاعدہ روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

دوسری جانب بین الاضلاعی ٹرانسپورٹرز کا مؤقف ہے کہ وہ اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچانے پر مجبور ہیں، جس کے باعث انہیں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں، جبکہ شٹل سروس کی مبینہ کمرشل سرگرمی سے مسابقت کا غیر مساوی ماحول پیدا ہو رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں