کیماڑی، ڈاکس، تھانوں کی حدود میں منشیات و جوا ء سٹے اڈوں کی دھوم
شیئر کریں
عادی افرادمنشیات خریدنے اورجواء کھیلنے کیلئے ریاض نیازی عرف ریاضو کے اڈوں کا رخ کرتے ہیں
مین ماڑی پور روڈ مچھر کالونی کی طرف مخصوص ہوٹل پر منشیات فروشوں اور جواریوں کے اڈے قائم
(رپورٹ؍ ایم جے کے)ضلع کیماڑی’ تھانہ ڈاکس کی حدود میں منشیات و جوا سٹہ کے اڈوں کی دھوم، منشیات و جوا سٹہ کے لیے دور دراز کے علاقوں سے لوگ ریاض نیازی عرف ریاضو کے اڈوں کا رخ کرتے ہیں، مین ماڑی پور روڈ مچھر کالونی کی طرف مخصوص ہوٹل پر منشیات فروشوں اور جواریوں کے اڈے قائم ہیں۔ علاقہ ذرائع کے مطابق ضلع کیماڑی تھانہ ڈاکس کی حدود میں ریاض نیازی عرف ریاضو کے منشیات و جوئے سٹے کے اڈوں کی دھوم، منشیات اور جوئے سٹے کے عادی افراد دور دراز کے علاقوں سے منشیات خریدنے اور جوا کھیلنے کے لیٔے مچھر کالونی میں موجود ریاض نیازی عرف ریاضو کے اڈوں کا رخ کرتے ہیں، مین ماڑی پور روڈ سے گزرتے ہوئے اگر مچھر کالونی کی طرف اس مخصوص ہوٹل پر نظر پڑجائے تو ہوٹل میں معمول سے زیادہ رش سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہاں کوئی سرگرمیاں ہورہی ہیں اور یہ سرگرمیاں ریاض نیازی کے جوئے کے جواریوں کی ہے اس کے علاوہ وہیں ہوٹل کے پاس ہی منشیات گٹکا ماوا کی فروخت کھلے عام ہوتی ہے، ریاض نیازی مچھر کالونی میں پچھلے کئی سالوں سے اس گھناؤنے کاروبار سے منسلک ہے کئی بار جیل کی ہوا کھا چکا ہے مگر سدھرنے کا نام نہیں لیتا، اب تو بات یہاں تک پہنچ گئی کہ تھانہ ڈاکس کے ایس ایچ او نے ریاض نیازی کے منشیات و جوئے کے اڈے کے خلاف کاروائیاں ختم کردی، نذرائع کے مطابق بیک ڈور خفیہ دوستی کرلی گئ، ریاض نیازی خود کو سیاسی کارکن نہیں بلکہ رہنما بتاتا ہے اور کیماڑی کی ایک بڑی سیاسی منتخب شخص کے ساتھ تصویریں اور سیلفیاں بھی سوشل میڈیا پر علاقے کے لوگوں اور افسران کو مرعوب اور ڈرانے کے لیے وائرل کرواتا ہے تاکہ کوئی علاقے کا فرد اس کے خلاف شکایت نہ کر سکے اور کوئی افسر اس کے منشیات و جوئے سٹے کے اڈوں کے خلاف کوئی کاروائی نہ کر سکے، صورتحال دلچسپ موڑ اس وقت اختیار کرچکی ہے جب ایک صحافی کی جانب سے ایس ایس پی کیماڑی کو ریاض نیازی کے منشیات و جوئے سٹے کے اڈے کی مکمل نشاندہی کروادی گء ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایس ایس پی کیماڑی ریاض نیازی عرف ریاضو کے اڈے کو مکمل ختم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا صرف نمائشی کاروائی کی روایت برقرار رکھتے ہیں، علاقہ مکینوں کی نظریں ایس ایس پی کی ماڑی پر مکمل طور جمائے رکھی ہیں اور بلا تفریق کاروائی کے انتظار میں ہیں۔


