امریکا کے ایران پر مسلسل گیارہویں رات بھی فضائی حملے
شیئر کریں
امریکی فوج کی جانب سے ایران کے آپریشنز کے مراکز کو نشانہ بنانے کا دعوی
ایرانی پاسداران انقلاب کا کویت کے علی السالم ائیر بیس کے اطراف نصب ریڈار سسٹم کو تباہ کرنے کا دعوی
حملوں سے ایران کے موقف میں تبدیلی کا امکان بہت کم ہے، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ
اربیل شہر میں امریکی قونصل خانے کے قریب 3 ڈرون مار گرائے گئے، عراقی سکیورٹی ذرائع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ فوج نے ایران پر مسلسل گیارہویں رات فضائی حملے مکمل کر لیے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سینٹکام کے بیان میں کہا گیا کہ امریکی افواج نے ایرانی فوجی آپریشنز مراکز، بحری صلاحیتوں، طیاروں کے ہینگرز، ڈرون ذخیرہ گاہوں اور فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔
بیان کے مطابق گزشتہ تین ماہ کے دوران ایران نے علاقائی اور عالمی تجارت کے لیے اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے گزرنے والے 30 سے زائد تجارتی جہازوں پر حملے کیے۔
سینٹکام نے دعوی کیا کہ ان بلاجواز حملوںسے سیکڑوں بے گناہ ملاحوں کی جانیں خطرے میں پڑیں اور بین الاقوامی آبی راستوں میں آزادانہ جہاز رانی متاثر ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلی ہوئی ہے، جبکہ مئی کے آغاز سے اب تک امریکی افواج نے تقریبا 900 تجارتی جہازوں اور 450 ملین بیرل خام تیل کی محفوظ نقل و حمل میں مدد فراہم کی ہے۔
ادھرایرانی پاسداران انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ اس نے کویت کے علی السالم ائیر بیس کے اطراف نصب ابتدائی انتباہی ریڈار اور ٹیکٹیکل ریڈار کمپلیکس کو تباہ کردیا ہے۔
اس کے علاوہ بوبیان جزیرے پر موجود ایک اور ریڈار نظام کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب کے مطابق اس کی کارروائی میں ان ریڈار نظاموں کو تباہ کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔بیان میں مزید کہا گیا کہ جارحیت کرنے والے کو سزا دینے کا آپریشن جاری رہے گا۔
دوسری جانب عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایاکہ اربیل شہر میں امریکی قونصل خانے کے قریب 3 ڈرون مار گرائیگئے، اربیل کے ائیر پورٹ پر پروازیں عارضی طور پر روک دی گئیں۔
دریں اثناء امریکی اخبار نے بتایاکہ امریکی انٹیلیجنس اداروں کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق ایران پر جاری امریکی فوجی حملوں سے ایرانی حکومت پر کوئی بڑا اثر پڑنے یا اس کے مذاکراتی مقف میں نرمی آنیکا امکان بہت کم ہے۔
نئی انٹیلیجنس رپورٹ جو بنیادی طور پر سی آئی اے نے تیار کی ہے، اس میں کہا گیا ہیکہ اگرچہ امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران کی اعلی قیادت اور اس کے فوجی سازوسامان کو نقصان پہنچا ہے، لیکن ایرانی حکومت اب بھی اپنی بقا برقرار رکھنیکی صلاحیت رکھتی ہے۔
مئی میں سی آئی اے کی ایک الگ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا تھا کہ اگر امریکا ایران کا بحری محاصرہ بھی کرے تو بھی ایران کم از کم تین سے چار ماہ تک اس کا مقابلہ کرسکتا ہے، اس کے بعد ہی اسے شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہوگا۔
اخبار کے مطابق وسیع جنگ کے خدشات کے باوجود ایران اور امریکا دونوں نے نئے مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم اب تک کسی پیشرفت کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق امریکا اب بھی ایران کے ساتھ سفارتی حل چاہتا ہے، اور ایران کی حکومت کے بعض حلقے بھی اس کے لیے تیار ہیں، لیکن سخت گیر عناصر اس میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
امریکا کو ایرانی حکومتی شخصیات کی جانب سے براہ راست یہ پیغام ملا ہے کہ وہ سفارتی معاہدہ چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ سخت گیر عناصر اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران مسلسل یہ اشارے دے رہا ہے کہ وہ بات چیت اور مذاکرات چاہتا ہے، لیکن دوسری طرف اس کا طرزِ عمل مختلف ہے۔ وہ بحری جہازوں پر میزائل اور ڈرون حملے کر رہا ہے، جن کا ہمیں جواب دینا پڑ رہا ہے۔


