میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ویپنگ سے نوجوانوں میں دل کی بیماریوں، فالج کے خطرات

ویپنگ سے نوجوانوں میں دل کی بیماریوں، فالج کے خطرات

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۲ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ای سگریٹ دل اور خون کی شریانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے

ویپنگ کی تشہیر وفروخت پر پابندی عائد کی جائے ، ماہر امراض قلب ڈاکٹر جاوید جلبانی کی جرات سے گفتگو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ماہرینِ امراضِ قلب نے خبردار کیا ہے کہ ویپنگ نوجوانوں میں دل کی بیماریوں، فالج اور دیگر سنگین طبی پیچیدگیوں کے خطرات بڑھا رہی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ویپنگ مصنوعات کی تشہیر اور فروخت پر مؤثر پابندیاں عائد کر کے نوجوانوں کو اس بڑھتے ہوئے خطرے سے محفوظ بنایا جائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے روزنامہ جُرأت سے گفتگو کے دوران کیا،ماہر امراض قلب ڈاکٹر جاوید جلبانی نے کہا کہ ویپنگ کے مضر اثرات صرف نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ہر عمر کے افراد کو متاثر کرتی ہے۔

تاہم اس کا رجحان خصوصاً 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں، بالخصوص کالجوں اور جامعات کے طلبہ میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث یہ طبقہ زیادہ خطرے سے دوچار ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں ویپنگ سے دل کے دورے کے کیسز بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے ابھی مکمل اور مستند اعداد و شمار دستیاب نہیں، کیونکہ یہ رجحان نسبتاً نیا ہے،

تاہم مختلف کیس رپورٹس خصوصاً ایشیائی ممالک سے سامنے آئی ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ویپنگ سنگین قلبی پیچیدگیوں کا باعث بن سکتی ہے۔

ماہر امراض قلب ڈاکٹر جاوید جلبانی نے کہا ہے کہ ویپنگ (ای سگریٹ) دل اور خون کی شریانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے فلپائن کے ایک نوجوان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ویپنگ کرنے کے بعد اسے دل کا دورہ پڑا، جبکہ ایشیائی ممالک میں ایسے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ویپنگ میں موجود نیکوٹین دل کی دھڑکن تیز کرتی ہے اور خون کی شریانوں کو اچانک سکیڑ دیتی ہے ۔ جب دل اور دماغ کی شریانیں سکڑتی ہیں تو بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے ، جس سے دل کا دورہ، فالج اور تھرومبوسس (خون کے لوتھڑے بننے ) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر جاوید جلبانی کے مطابق آج کل ویپنگ مصنوعات میں مصنوعی (Synthetic)نیکوٹین بھی استعمال کی جا رہی ہے ، جو روایتی نیکوٹین سے زیادہ خطرناک سمجھی جاتی ہے ۔

مختلف ذائقے (Flavours)پیدا کرنے کے لیے زہریلے کیمیکلز (Toxins)اور بعض اوقات صنعتی سالوینٹس (Industrial Solvents)شامل کیے جاتے ہیں، جن کے مضر اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیکوٹین عملی طور پر خون جمنے کے امکانات میں اضافہ کرتی ہے ، جس سے دل اور دماغ کی خون کی نالیوں میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر جاوید جلبانی نے مختلف بین الاقوامی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کلوز (CLUES) اسٹڈی کے دوسرے تجزیے میں ویپنگ کو دل اور خون کی شریانوں کی صحت پر منفی اثرات سے جوڑا گیا ہے۔ اسی طرح پاتھ (PATH) اسٹڈی کے نتائج بھی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ قلبی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کر سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے "آل آف اَس”نامی تحقیقی پروگرام کے مطابق ویپنگ کرنے والے افراد میں ہارٹ فیلیئر (دل کی ناکامی) کا خطرہ تقریباً 19 فیصد زیادہ پایا گیا۔

ڈاکٹر جاوید جلبانی نے کہا کہ ویپنگ کو معاشرے میں سگریٹ جیسا منفی تاثر (اسٹیگما) حاصل نہیں، جبکہ اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر بھی کی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوانوں میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس کے باعث وہ دل کے دورے اور فالج جیسے خطرات کی زد میں آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زندگی کے مختلف مسائل اور ذہنی دباؤ سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں بھی بہت سے نوجوان ویپنگ کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ یہ عادت ان کی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر جاوید جلبانی کے مطابق ویپنگ کے اثرات پھیپھڑوں پر نسبتاً جلد ظاہر ہو سکتے ہیں، جبکہ دل پر اس کے مضر اثرات ظاہر ہونے کا دورانیہ ہر فرد میں مختلف ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض افراد ویپنگ کو سگریٹ سے کم نقصان دہ سمجھتے ہیں، مگر یہ ایک غلط فہمی ہے۔ دستیاب شواہد کے مطابق طویل عرصے، خصوصاً دو سال یا اس سے زیادہ عرصہ ویپنگ کرنے والوں میں صحت کو پہنچنے والا نقصان بعض صورتوں میں سگریٹ نوشی سے بھی زیادہ سنگین ہو سکتا ہے،

اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق اور جامع اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ویپنگ کا ایک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعے منشیات اور خصوصاً کینابس کا استعمال بھی نسبتاً آسانی سے کیا جا سکتا ہے، جس کی بروقت تشخیص مشکل ہوتی ہے اور یہ صحت و معاشرے دونوں کے لیے مزید سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔ اس کی تشہیر ،فروخت اور فلیورز پر پابندی عائد کی جائے اور انہیں تمباکو کے قوانین میں شامل کیا جائے ۔
(رپورٹ:دعا عباس)

 


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں