سندھ بلڈنگ، وسطی میں ضابطوں کا جنازہ، شہریوں کی جانیں خطرے میں
شیئر کریں
ناظم آباد نمبر 3، پلاٹ D-26/12پر خلافِ ضابطہ بیسمنٹ کے اوپر تیسری منزل تعمیر
تعمیراتی ٹھیکیداروں سے ملی بھگت ،حکام خاموش، ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی سرپرستی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ضلع وسطی میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ضوابط مبینہ طور پر کاغذی کارروائی تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں،
جبکہ غیرقانونی تعمیرات کا سلسلہ کھلے عام جاری ہے ۔
شہر کے گنجان آباد علاقے ناظم آباد نمبر 3میں واقع پلاٹ D-26/12پر مبینہ طور پر منظور شدہ نقشے اور تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بیسمنٹ کے اوپر تیسری منزل تعمیر کی جا رہی ہے، لیکن متعلقہ افسران نے چشم پوشی اختیار کر رکھی ہے۔
حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق مذکورہ عمارت کی تعمیر کے دوران ایس بی سی اے کے قواعد و ضوابط کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے، تاہم کسی بھی مرحلے پر نہ تو تعمیراتی کام رکوایا گیا اور نہ ہی ذمہ داران کے خلاف کوئی مؤثر کاروائی عمل میں لائی گئی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اگر غیرمعیاری یا خلافِ ضابطہ تعمیرات کا یہی سلسلہ جاری رہا تو کسی بھی وقت کوئی بڑا سانحہ جنم لے سکتا ہے، جس کی ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔
باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ضلع وسطی میں تعینات ایک متنازع ڈائریکٹر الطاف کھوکھر کی مبینہ سرپرستی میں بعض تعمیراتی ٹھیکیدار کھلے عام ضابطوں کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
الزام ہے کہ مبینہ ملی بھگت کے باعث غیرقانونی تعمیرات کے خلاف کاروائیاں صرف کاغذوں تک محدود ہیں، جبکہ موقع پر تعمیراتی کام بلاخوف و خطر جاری رہتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ غیرقانونی تعمیرات صرف سرکاری قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہیں۔
ماضی میں کراچی میں متعدد عمارتیں گرنے کے افسوسناک واقعات رونما ہو چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود متعلقہ اداروں نے سبق حاصل نہیں کیا۔
علاقہ مکینوں، سماجی حلقوں اور شہری تنظیموں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ ناظم آباد نمبر 3، پلاٹ D-26/12 پر جاری تعمیرات کی فوری انکوائری کرائی جائے، تعمیراتی ضابطوں کی خلاف ورزی ثابت ہونے پر کام فوری رکوایا جائے، ملوث افسران اور بلڈر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کاروائی کی جائے اور ضلع وسطی میں جاری غیرقانونی تعمیرات کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اب بھی کارروائی نہ کی گئی تو کسی بھی ممکنہ حادثے کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔


