میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی سکھوں کا قتل عام

بھارتی سکھوں کا قتل عام

جرات ڈیسک
بدھ, ۲۲ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

1984 سے 1994 کے دوران بھارتی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور حکومت کی سرپرستی میں ہونے والے فسادات میں ہزاروں سکھ ہلاک ہوئے۔

بھارتی حکومت کے مطابق نومبر 1984 کے فسادات میں تقریباً 3,000 سکھ مارے گئے، جبکہ سکھ تنظیموں اور انسانی حقوق کی عالمی رپورٹوں کے مطابق اس پورے عشرے میں ہلاکتوں کی تعداد دسیوں ہزار تک پہنچتی ہے۔

سکھوں کے خلاف ہونے والے آپریشن بلیو سٹار (جون 1984) میں بھارتی فوج کی جانب سے گولڈن ٹیمپل (امرتسر) اور دیگر گردواروں پر فوجی حملہ، جس کے بعد سکھوں اور بھارتی ریاست کے درمیان کشیدگی بڑھی۔

سکھ ذرائع کے مطابق 30,000 تک سکھ ہلاک ہوئے۔اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دلی اور دیگر شہروں میں حکومتی سرپرستی میں پرتشدد ہجوم نے سکھوں کو نشانہ بنایا، ان کے گھر جلائے اور املاک کو نقصان پہنچایا۔ریاست پنجاب میں سکھ نوجوانوں کی ماورائے عدالت ہلاکتیں، حراستی تشدد اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے مطابق، ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا نہیں دی گئی۔ سکھ تنظیموں کا موقف ہے کہ ان دہائیوں پر محیط واقعات میں 30,000 سے زائد سکھوں کو قتل کر کے ان کی نسل کشی کی گئی۔

ذرائع ابلاغ کے معروف بین الاقوامی ادارے الجزیرہ نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت فلم‘ ‘ستلج’’ پر پابندی لگاکر 1984 کے واقعات اور سکھوں کے خلاف تشدد کی سیاہ تاریخ مٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت طویل عرصے سے سکھوں پر تشدد کے واقعات کونظرانداز کرتی رہی ہے۔فلم ‘ستلج’ کی نمائش کو تین سال تک روکا گیا اورتقریباً 130 مناظر حذف کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔فلم انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی، تحقیقات، حراستی تشدد اور 1995 میں ان کے قتل کی کہانی پر مبنی ہے۔ابتدائی طور پر ‘پنجاب 95’ کے نام سے بننے والی فلم کو بھارتی سنسر بورڈ نے تین سال تک روکے رکھا اور اس میں تقریباً 130 ترامیم کا مطالبہ کیا۔فلم سازوں نے اسے 3 جولائی کو‘‘ زی فائیو’’ پر جاری کیا لیکن صرف 48 گھنٹوں بعد اسے سیکیورٹی خدشات کی آڑ میں ہٹا دیا گیا۔ جسونت سنگھ کھالڑا نے شمشان گھاٹوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر کہاتھا کہ ہزاروں لاپتہ افراد کی لاشیں ان کے اہلخانہ کو مطلع کئے بغیر خفیہ طور پر نذرآتش کی گئیں۔ مسلسل دھمکیوں کے باوجود تحقیقات جاری رکھنے پر کھالڑا کو 6 ستمبر 1995 کو گھر کے باہر سے گرفتارکیا گیا جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔

جسونت سنگھ کھالڑا کی اہلیہ پرمجیت کور کی قانونی جدوجہد کے نتیجے میں سی بی آئی نے کیس کی تحقیقات کی اور پانچ پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ پنجاب کی خالصتان تحریک کے دوران بھارتی فورسز تشدد، جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اوردوران حراست ہلاکتوں میں ملوث رہیں ، فلم ‘‘ستلج ’’نے پنجاب کے تاریخی زخم دوبارہ تازہ کر دیے۔ سرکاری پابندی کے باوجود پنجاب، لندن، نیویارک اور ٹورنٹو میں گردواروں اور کمیونٹی ہالز میں فلم کی نمائش جاری ہے۔ تجزیہ کارروں کا کہنا ہے کہ 25ہزار افراد کی خفیہ طورپر آخری رسومات کی تحقیقات دبانا متاثرین کی اجتماعی یادداشت متاثر کرنے کے مترادف ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت سکھوں پر منظم تشدد کے پہلوؤں کو تاریخ سے اوجھل رکھنے کی کوشش کررہا ہے جو ممکن نہیں ہے۔
مقتول سکھ رہنما جسونت سنگھ کھالرا کی زندگی پرمبنی فلم پابندی کے باوجود بھارت میں نمائش کیلئے پیش کی جا رہی ہے، جسونت سنگھ کھالرا نے ماورائے عدالت ہلاکتوں کی تحقیقات کرتے ہوئے بھارت کا مکروہ چہرہ عیاں کیا۔فلم میں مرکزی کردار نبھانے والے بھارتی اداکار دلجیت دوسانجھ کا کہنا تھا کہ 1995 ء میں جسونت سنگھ کی آواز دبانے والی بھارتی حکومت 2026ء میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔اکتوبر 1984 کو اندرا گاندھی کے قتل کے بعد ہندوستان میں سکھوں کا قتل عام کیا گیااس دوران 31 ہزار سکھ کو ہلاک جبکہ سینکڑوں خواتین عصمت دری کا شکار ہوئیں۔انتہاپسند ہندوؤں نے ووٹنگ لسٹوں کے ذریعے چن چن کر سکھوں کو موت کے گھاٹ اتارا،ووٹنگ لسٹوں کے ذریعے سکھوں کا نام پتا معلوم کرکیانتہا پسند ہندو رات کے اندھیرے میں گھروں پرنشان لگا جاتے،اگلے دن انتہا پسند ہندو حملہ آور ہوکر سکھ مکینوں کو قتل اور گھروں کو نذ ر آتش کر دیتے تھے۔ ہندوستانی حکومت کی سرپرستی میں سکھوں کیخلاف باقائدہ نسل کشی کی مہم چلائی گئی،سکھوں کیخلاف قتل عام 3 دن بلا روک ٹوک تک جاری رہا،شواہد سے ثابت ہوا کہ سکھوں کیخلاف قتل و غارت کو ہندوستان حکومت کی حمایت حاصل تھی۔سمندرپارمقیم سکھوں کو بھی ہندوستانی حکومت ٹارگٹ کلنگ کیذریعے قتل کررہی ہے،18 جون 2023 کو سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجرکو کینیڈا میں گردوارے کے باہر قتل کردیا گیا تھا۔کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ہردیپ سنگھ کے قتل میں ہندوستانی حکومت کے ملوث ہونے کی تصدیق کی،بھارت کے سکھوں کے خلاف مظالم اندرون ملک اور بیرون ملک بدستور جاری ہیں۔

امریکی جریدہ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق مشرقی پنجاب کے مختلف دیہات میں سکھ تنظیموں، مقامی کارکنوں اور شہریوں نے کمیونٹی سکریننگز کا آغاز کر دیا، اس فلم کے ذریعے انسانی حقوق کی تنظیموں نے جبری گمشدگیوں، حراستی ہلاکتوں اور خفیہ تدفین کا انکشاف کیا۔مزید براں مودی حکومت ایسی فلموں کو فروغ دیتی ہے جو صرف اس کے قوم پرستانہ بیانیے کے مطابق ہو۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں