جنت نظیر وادیوں کی سیاحت سے موت کی گھاٹی میں اُتارنے والے سانحات تک!!!
شیئر کریں
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
٭ موسمِ گرما، خصوصاً جون اور جولائی کی تعطیلات کے دوران ملک بھر سے بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوان، دوستوں کے گروپ اور خاندان، جن میں بچے ، بوڑھے ، جوان اور خواتین شامل ہوتی ہیں
٭جون اور جولائی 2026 میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت سے متعلق نمایاں حادثات میں خاص طور پر سوات، کالام اور بالائی علاقوں کے واقعات سامنے آئے ہیں
٭لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر ہندل اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل میں کشتی میں سوار تھے جب یہ اُلٹ گئی، اس حادثے کے نتیجے میں اس خاندان کے چھ افراد ہلاک ہوئے
٭سوات، کالام، ناران، کاغان، گلگت بلتستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کے خوشگوار لمحات گزارنے ، ذہنی سکون حاصل کرنے اور صحت مند زندگی برقرار رکھنے کے لیے سیر و تفریح بے حد ضروری ہے ، لیکن ہرگز اس کا یہ مطلب نہیں کہ انسان اپنی اور اپنے اہلِ خانہ کی زندگی کو جان جوکھوں میں ڈال دے۔
موسمِ گرما، خصوصاً جون اور جولائی کی تعطیلات کے دوران ملک بھر سے بڑی تعداد میں طلبہ، نوجوان، دوستوں کے گروپ اور خاندان، جن میں بچے ، بوڑھے ، جوان اور خواتین شامل ہوتی ہیں، پاکستان کے حسین شمالی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔
ان میں سوات، وادی ناران، وادی کاغان، اسکردو، جھیل سیف الملوک، بابوسر ٹاپ، شوگران، سری پائے میدان، کالام، مالم جبہ، بحرین، چترال، کیلاش کی وادیاں، گرم چشمہ، وادی نیلم، کیل، ارنگ کیل، رتی گلی جھیل، فیری میڈوز، راما میڈوز، استور ویلی، پھندر ویلی، پھندر جھیل، وادی ہنزہ اور خنجراب جیسے دلکش مقامات خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ بلاشبہ یہ علاقے اپنی قدرتی خوبصورتی، سرسبز وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں، برف پوش چوٹیوں، جھیلوں اور خوشگوار موسم کی وجہ سے جنت کا منظر پیش کرتے ہیں، مگر ان حسین مناظر کے پسِ پردہ انتہائی دشوار گزار راستے ، گہری کھائیاں، خطرناک موڑ، تیز بہاؤ والے دریا، لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات اور غیر متوقع موسمی تبدیلیاں بھی موجود ہوتی ہیں، جو کسی بھی لمحے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران ان سیاحتی مقامات پر پیش آنے والے المناک ٹریفک حادثات، گاڑیوں کے کھائیوں میں گرنے ، سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور دیگر حادثات کے نتیجے میں متعدد قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، بے شمار خاندان ہمیشہ کے لیے غم اور صدمے کا شکار ہو گئے ، اور کئی خوشیوں سے بھرے سفر چند لمحوں میں دردناک سانحات میں تبدیل ہو گئے ۔جون اور جولائی 2026 میں پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں سیاحت سے متعلق نمایاں حادثات میں خاص طور پر سوات، کالام اور بالائی علاقوں کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق اہم واقعات یہ ہیں:
٭یکم جولائی کو لاہور سے تعلق رکھنے والے عامر ہندل اپنے اہلخانہ کے ہمراہ مہوڈنڈ کے علاقے میں واقع سیف اللہ جھیل میں کشتی میں سوار تھے جب یہ اُلٹ گئی، اس حادثے کے نتیجے میں اس خاندان کے چھ افراد ہلاک ہوئے جن میں سابق لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل، اُن کے 20 سالہ بیٹے عبداللہ ہندل، دو بیٹیاں 27سالہ پروا ہندل اور 23سالہ رویل ہندل، جبکہ پروا ہندل کے دو کمسن بچے بھی شامل ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل کی بڑی بیٹی امریکہ سے پاکستان چھٹیاں گزارنے آئیں تھیں، جس کے بعد ہندل فیملی نے مل کر سوات جانے کا فیصلہ کیا تاکہ پورا خاندان ایک ساتھ اچھا وقت گزار سکے ، مگر اہلخانہ کے مطابق کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا کہ اس سفر کا انجام اتنا المناک ہو گا۔
عینی شاہدین اور اہلِخانہ کے مطابق حادثہ پیش آنے کے بعد ریٹائرڈ لیفٹیننٹ کمانڈر عامر ہندل اپنے بچوں کو بچانے کی کوشش کرتے رہے اور اسی کوشش میں اپنی جان بھی گنوا بیٹھے ۔عینی شاہد کے مطابق سیف اللہ جھیل میں عام طور پر مسافروں کو کنارے پر کشتی میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے بعد کشتی کو دھکا دے کر گہرے پانی کی جانب لے جایا جاتا ہے اور کچھ فاصلے پر پہنچ کر کشتی کا انجن اسٹارٹ کیا جاتا ہے ۔ان کے مطابق متاثرہ کشتی کے ساتھ بھی یہی ہوا، لیکن جب کشتی نسبتاً گہرے پانی میں پہنچی تو ڈرائیور انجن سٹارٹ نہ کر سکا۔کشتی پانی کے بہاؤ کی وجہ سے جلد ہی اُس مقام تک پہنچ گئی تھی جہاں جھیل کا پانی دریائے ایشو میں گرتا ہے ۔ وہاں پانی کا بہاؤ بہت تیز ہوتا ہے اور اسی مقام پر یہ کشتی پانی میں ڈوبی۔اس موقع پر صورتحال کو دیکھتے ہوئے کشتی کے ڈرائیور نے مدد کے لیے آواز بھی لگائی جس پر ایک دوسری کشتی مدد کے لیے روانہ بھی ہوئی۔جیسے ہی ڈرائیور نے مدد طلب کی تو ایک دوسری لانچ لے کر پانی میں روانہ ہو گئی ، اور ایک اور لانچ متاثرہ کشتی کے قریب پہنچ چکی تھی۔عینی شاہد کے مطابق امداد کے لیے پہنچنے والی کشتی جیسے ہی متاثرہ کشتی کے قریب پہنچی تو اِس میں موجود افراد سے کہا گیا کہ وہ فوراً مدد کے لیے پہنچنے والی لانچ میں چھلانگ لگا دیں۔ اس موقع پر متاثرہ کشتی کا ڈرائیور خود چھلانگ لگا کر امدادی لانچ پر پہنچ گیا، مگر بظاہر پانی کے بہاؤ سے خوفزدہ مہمان چھلانگ نہیں لگا پا رہے تھے ۔وہ لوگ خوفزدہ تھے اور چھلانگ نہیں لگا رہے تھے ۔ خاندان کے سربراہ نے ایک مرتبہ چھلانگ لگانے کی کوشش بھی کی، مگر پھر واپس مڑ گئے اور اپنے بچوں کو سنبھالنے لگے۔
٭تفریحی مقام ناران میں سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی خواہش میں سیاحوں نے اپنی زندگی خطرے میں ڈال دی۔ ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے شوق میں سیاحوں کی گاڑی بے قابو ہو کر دریائے کنہار میں جا گری، جس کے باعث گاڑی دریا کے بیچوں بیچ پھنس گئی۔
ناران کے سیاحتی مقام پر ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کے جنون میں مبتلا 5 سیاح موت کے منہ میں جاتے جاتے بال بال بچ گئے ، دریائے کنہار کے تیز بہاؤ میں ان کی قیمتی ویگو ڈالا گاڑی بہہ گئی، خوش قسمتی سے وہاں موجود تربیت یافتہ رافٹنگ ٹیم نے بروقت ریسکیو بوٹ کے ذریعے پانچوں نوجوانوں کو معجزانہ طور پر بحفاظت نکال لیا۔اطلاعات کے مطابق پنجاب کے شہر شیخوپورہ سے ناران کی سیر کے لیے آنے والے 5 سرپھرے نوجوانوں نے دھم دھمہ کے مقام پر دریا کے اندر گاڑی لے جاکر وہاں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش کی، نوجوان ویڈیو بنانے میں مصروف تھے کہ دریائے کنہار کے اچانک تیز بہاؤ اور موجوں نے گاڑی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ویگو گاڑی دریا کے گہرے پانی میں بہہ گئی۔
٭10؍جون 2026کو مری ایکسپریس وے پر کھجٹ کے مقام پر سیاحوں کی ایک ہائی ایس وین حادثے کا شکار ہو گئی، جس کے نتیجے میں 10 افراد جاں بحق اور 13 زخمی ہو گئے ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی تیز رفتاری کے باعث بے قابو ہو کر سڑک کنارے نالے میں جا گری، جس کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی۔ موٹروے پولیس کے مطابق وین ایک طرف گرنے کے باعث اس کا سلائیڈنگ دروازہ نہ کھل سکا، جس سے مسافروں کے باہر نکلنے میں شدید دشواری پیش آئی۔ جاں بحق اور زخمی افراد کو پمز اسپتال اسلام آباد اور دیگر قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ متاثرہ افراد کا تعلق ملتان کے ایک ہی خاندان سے تھا، جو مری کی سیر کے لیے جا رہا تھا۔
٭ضلع شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح وادئ کاغان کے علاقے مہاندری میں پیش آنے والے ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئیں، جبکہ اُن کے خاندان کے سات دیگر افراد زخمی ہوگئے ، جب اُن کی کار ایک پک اَپ گاڑی سے ٹکرا گئی۔ یہ خاندان وادئ کاغان کی سیر کے بعد اپنے گھر واپس جا رہا تھا۔ ریسکیو اہلکاروں اور مقامی افراد نے زخمیوں کو تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال بالاکوٹ منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے صائمہ بی بی کو مردہ قرار دیا، جبکہ دیگر زخمیوں کو مزید علاج کے لیے کنگ عبداللہ ٹیچنگ اسپتال مانسہرہ منتقل کر دیا گیا۔ ریسکیو 1122 کے ضلعی ایمرجنسی افسر کے مطابق قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد میت پنجاب روانہ کر دی گئی۔ بالاکوٹ پولیس نے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دیں اور حادثے کے بعد فرار ہونے والے پک اَپ ڈرائیور کی تلاش بھی شروع کر دی۔ اسی دوران ناران میں ایک اور حادثے میں ایک جیپ فٹ پاتھ پر چلنے والی دو خواتین سیاحوں سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہو گئیں۔
٭محکمہ اطلاعات سندھ کے ڈپٹی ڈائریکٹر (ایڈمن) علیم الدین خان بھی 2026 میں شمالی پاکستان میں پیش آنے والے افسوسناک ٹریفک حادثات کا شکار ہوئے ۔ وہ اپنی فیملی کے ہمراہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی علاقے کالام، سوات کی سیر کے لیے گئے تھے ۔ علیم الدین خان (ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمن) اپنی فیملی کے ساتھ سوات اور کالام کے تفریحی مقامات کی سیر پر تھے ۔ سفر کے دوران سوات کے پہاڑی علاقے میں ان کی گاڑی اچانک بے قابو ہو گئی اور سڑک سے پھسل کر تقریباً 100فٹ گہری کھائی میں جا گری۔ جس کے نتیجے میں انہیں سر پر شدید چوٹیں آئیں۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں اسلام آباد کے شفاء انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ کئی روز تک انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU)میں زیرِ علاج رہے ، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے ۔ دستیاب مستند میڈیا رپورٹس کے مطابق حادثے کی وجہ کے بارے میں کسی سرکاری ادارے نے حتمی رپورٹ یا بیان جاری نہیں کیا۔ البتہ یہ امر قابلِ توجہ ہے کہ شمالی پاکستان کی پہاڑی سڑکیں، تیز موڑ، گہری کھائیاں، غیر متوقع موسمی حالات اور بعض مقامات پر محدود حفاظتی انتظامات سفر کو نسبتاً خطرناک بنا دیتے ہیں، اسی لیے متعلقہ ادارے اور ٹریفک حکام ان علاقوں میں محتاط ڈرائیونگ اور حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی مسلسل تلقین کرتے ہیں۔
اے پی پی کے مطابق، خیبر پختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی (KPCTA) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سیاحتی اعداد و شمار کے مطابق 25 جون 2026کو ناران۔کاغان خیبر پختونخوا کا سب سے زیادہ مقبول سیاحتی مقام رہا، جہاں ایک ہی دن میں 109,292 ملکی اور 30 غیر ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ اسی روز پورے خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 231,786 ملکی اور 41غیر ملکی سیاح مختلف سیاحتی مقامات پر پہنچے ۔ وادی سوات 57,704ملکی اور 7غیر ملکی سیاحوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، جبکہ گلیات میں 48,472، کمراٹ میں 15,900، کالاش و گرم چشمہ میں 312ملکی اور 4غیر ملکی، جبکہ بونی/مستوج میں 106ملکی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ اتھارٹی کے مطابق یہ اعداد و شمار پولیس اور لیویز چیک پوسٹس، خیبر پختونخوا ٹورسٹ پولیس، اسسٹنٹ کمشنرز کے دفاتر اور مختلف ترقیاتی اداروں کے فیلڈ افسران سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیے گئے ، جو صوبے میں گرمیوں کے دوران سیاحت کے نمایاں فروغ کی عکاسی کرتے ہیں۔یہی کچھ صورتحال مری کی بھی رہی۔مری بدستور پاکستان کے مقبول مصروف ترین سیاحتی مقامات میں شامل رہا۔عیدالفطر، موسمِ گرما اور تعطیلات کے دوران لاکھوں سیاح مری پہنچے ، جس کے باعث شدید ٹریفک جام، پارکنگ کی قلت اور رہائش کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
روزنامہ ڈان (24مارچ 2026) کے مطابق عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران مری میں سیاحوں کی بڑی تعداد نے رخ کیا۔ رپورٹ کے مطابق عید کے ایام میں مری میں 70,000سے زائد سیاحتی گاڑیاں داخل ہوئیں، جس کے باعث ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے ، پارکنگ کے مسائل حل کرنے اور سیاحوں کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے خصوصی انتظامات کیے ۔ حکام نے سیاحوں کو موسم اور سڑکوں کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔روزنامہ ایکسپریس ٹریبون 25مارچ 2026) کے مطابق عیدالفطر کی تین روزہ تعطیلات کے دوران مری میں سیاحوں کا غیرمعمولی رش دیکھنے میں آیا۔ رپورٹ میں سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ اس دوران 74,196گاڑیاں مری میں داخل ہوئیں جن کے ذریعے تقریباً 375,000سیاح پہنچے۔ ضلعی انتظامیہ نے ٹریفک کنٹرول، سکیورٹی اور سیاحوں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کیے تاکہ رش کے باوجود معمولات برقرار رکھے جا سکیں۔رپورٹ کے مطابق مری میں لاکھوں سیاحوں کی آمد کے باعث ٹریفک کی روانی، پارکنگ اور سیاحوں کی سہولت کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔
ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس نے اضافی اہلکار تعینات کیے ، خصوصی ٹریفک پلان نافذ کیا اور سیاحوں کو سفر سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال معلوم کرنے کی ہدایت کی۔ بارشوں اور بعض اوقات شدید موسمی حالات کے دوران بھی سیاحوں کو احتیاط برتنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات جاری کی جاتی رہیں۔حکام نے سیاحوں کو موسم اور سڑکوں کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کا اصل مقصد ذہنی سکون، خوشی اور یادگار لمحات سمیٹنا ہوتا ہے ، مگر معمولی سی غفلت، جلد بازی، غیر تربیت یافتہ ڈرائیور، خراب گاڑی، تیز رفتاری، موسم کی خرابی یا حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کرنا خوشیوں بھرے سفر کو عمر بھر کے دکھ میں بدل سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحتی سفر پر روانگی سے قبل موسم کی صورتحال، سڑکوں کی حالت، گاڑی کی مکمل فٹنس، تجربہ کار ڈرائیور کا انتخاب اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ خاص طور پر پہاڑی علاقوں میں غیر ضروری مہم جوئی، خطرناک مقامات پر سیلفیاں لینا، حفاظتی رکاوٹیں عبور کرنا، دریا کے تیز بہاؤ کے قریب جانا یا رات کے اوقات میں دشوار گزار راستوں پر سفر کرنا کسی بھی صورت دانشمندی نہیں۔ اگر سیاحت کو ذمہ داری، احتیاط اور منصوبہ بندی کے ساتھ اختیار کیا جائے تو یہی سفر زندگی کی خوبصورت یادیں بن جاتا ہے ۔شمالی علاقہ جات میں بڑھتے ہوئے سیاحتی دباؤ نے ایک اور اہم مسئلے کو بھی جنم دیا ہے ، اور وہ ہے سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں بنیادی سہولیات کی کمی۔ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کے خوبصورت پہاڑی مقامات پر جانے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ، لیکن ان علاقوں کا انفراسٹرکچر اس رفتار سے ترقی نہیں کر سکا۔ کئی مقامات پر سڑکیں اب بھی پرانی اور خستہ حال ہیں، پارکنگ کی مناسب سہولت موجود نہیں، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ریسکیو نظام محدود ہے ، جبکہ بعض دور دراز علاقوں میں طبی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسے حالات میں معمولی حادثہ بھی بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔
سیاحتی مقامات پر سب سے بڑا مسئلہ ٹریفک کا دباؤ بھی ہے ۔ چھٹیوں کے دنوں میں ہزاروں گاڑیاں ایک ہی وقت میں پہاڑی راستوں پر پہنچ جاتی ہیں جس سے نہ صرف ٹریفک جام ہوتا ہے بلکہ حادثات کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اکثر ڈرائیور پہاڑی راستوں کے اصولوں سے مکمل واقف نہیں ہوتے ۔ میدانی علاقوں میں گاڑی چلانے کا تجربہ رکھنے والے ڈرائیور جب بلند پہاڑی علاقوں میں آتے ہیں تو تنگ سڑکوں، خطرناک موڑوں اور مسلسل چڑھائی اترائی کے باعث مشکلات کا شکار ہو سکتے ہیں۔پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ کے لیے خصوصی مہارت درکار ہوتی ہے ۔ یہاں رفتار سے زیادہ احتیاط اہم ہوتی ہے ۔ ماہرین کے مطابق پہاڑی راستوں پر گاڑی چلاتے وقت
مناسب رفتار، محفوظ فاصلے ، بریک کے درست استعمال اور موسم کی صورتحال کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے ۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات سیاح جلدی منزل تک پہنچنے ، دوسروں سے آگے نکلنے یا راستے میں تصاویر بنانے کے شوق میں ایسے فیصلے کر لیتے ہیں جو خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
قدرتی آفات بھی شمالی علاقوں میں سیاحت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ مون سون بارشیں، اچانک سیلابی ریلے ، برف باری، گلیشیئر پگھلنے کے اثرات اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے عوامل ان علاقوں میں موجود خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔ خاص طور پر دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب قائم تفریحی مقامات پر موسم کی معمولی تبدیلی بھی خطرناک صورتحال پیدا کر سکتی ہے ۔ کئی حادثات میں دیکھا گیا کہ لوگوں نے مقامی افراد اور انتظامیہ کی جانب سے دی گئی وارننگز کو نظر انداز کیا، جس کے نتیجے میں قیمتی جانوں کا نقصان ہوا۔
جھیلوں اور پانی کے مقامات پر حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ کشتی رانی کے دوران لائف جیکٹ کا استعمال نہ کرنا، کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد کا سوار ہونا اور خراب موسم میں پانی میں جانے کا فیصلہ حادثات کو دعوت دیتا ہے ۔ حالیہ برسوں میں بعض سیاحتی مقامات پر کشتی حادثات نے یہ واضح کیا کہ پانی کے مقامات پر حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد ناگزیر ہے ۔اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں میں ماحولیاتی شعور پیدا کرنا بھی ضروری ہے ۔ خوبصورت وادیاں، جھیلیں اور پہاڑ صرف تفریح کے مقامات نہیں بلکہ قدرتی ورثہ ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ بعض سیاح ان علاقوں میں پلاسٹک کی بوتلیں، کھانے پینے کا کچرا اور دیگر فضلہ پھینک دیتے ہیں جس سے قدرتی حسن متاثر ہوتا ہے ۔ ایک ذمہ دار سیاح وہی ہے جو نہ صرف اپنی حفاظت کا خیال رکھے بلکہ ماحول کو بھی محفوظ رکھے ۔
سوشل میڈیا کے دور میں سیاحت کا رجحان مزید بڑھ گیا ہے ۔ خوبصورت تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر بڑی تعداد میں لوگ ان مقامات کا رخ کرتے ہیں، لیکن اکثر سوشل میڈیا پر صرف خوبصورتی دکھائی جاتی ہے جبکہ وہاں موجود خطرات کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ نوجوانوں میں بعض اوقات منفرد تصاویر بنانے کا جنون انہیں خطرناک مقامات تک لے جاتا ہے ۔ کئی ممالک میں ایسے حادثات سامنے آئے ہیں جہاں سوشل میڈیا کے لیے بنائی جانے والی تصاویر انسانی جانوں کے نقصان کا سبب بنیں۔ پاکستان میں بھی اس حوالے سے آگاہی مہم چلانے کی ضرورت ہے ۔
تعلیمی اداروں کی جانب سے تفریحی دوروں کا انعقاد بھی ایک مثبت سرگرمی ہے ، لیکن ایسے دوروں میں خصوصی منصوبہ بندی ضروری ہے۔ طلبہ کے گروپس کے ساتھ تجربہ کار اساتذہ، تربیت یافتہ ڈرائیور، ہنگامی رابطوں کی سہولت اور مکمل حفاظتی انتظامات ہونے چاہئیں۔ محض تفریح کے مقصد سے طلبہ کو ایسے مقامات پر لے جانا جہاں خطرات زیادہ ہوں، مناسب فیصلہ نہیں۔میڈیا کا کردار بھی یہاں انتہائی اہم ہے ۔ ذرائع ابلاغ کو صرف حادثات کی خبریں نشر کرنے کے بجائے عوام میں محفوظ سیاحت کا شعور اجاگر کرنا چاہیے ۔ لوگوں کو بتایا جانا چاہیے کہ کون سے موسم میں کون سے علاقے محفوظ ہیں، کن مقامات پر احتیاط ضروری ہے اور سفر کے دوران کن اصولوں پر عمل کرنا چاہیے ۔ آگاہی ہی وہ ذریعہ ہے جو بڑے حادثات کو روک سکتی ہے ۔
پاکستان کے شمالی علاقے بلاشبہ دنیا کے خوبصورت ترین مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ اگر مناسب منصوبہ بندی، جدید سہولیات اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جائے تو یہ علاقے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سیاحت کا مرکز بن سکتے ہیں۔ لیکن اگر حفاظتی پہلوؤں کو نظر انداز کیا گیا تو خوبصورتی کے یہ مقامات انسانی المیوں کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔سیاحت کا اصل مقصد زندگی میں خوشیاں، یادیں اور تجربات شامل کرنا ہے ، نہ کہ چند لمحوں کی بے احتیاطی کے باعث خاندانوں کو عمر بھر کے غم میں مبتلا کرنا۔
گزشتہ برسوں میں شمالی علاقہ جات میں پیش آنے والے مختلف حادثات نے یہ ثابت کیا ہے کہ سیاحت کے فروغ کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سوات، کالام، ناران، کاغان، گلگت بلتستان اور دیگر پہاڑی علاقوں میں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں جن میں کئی خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے ۔ کبھی گاڑیاں خطرناک موڑ کاٹتے ہوئے کھائیوں میں جا گریں، کبھی دریاؤں کے تیز بہاؤ نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کبھی اچانک موسم کی شدت نے سیاحوں کو مشکلات میں ڈال دیا۔ ان واقعات کا بنیادی سبق یہی ہے کہ قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے فطرت کے اصولوں اور مقامی حالات کو سمجھنا ضروری ہے ۔
حالیہ برسوں میں کالام کے علاقے میں پیش آنے والے کشتی حادثات نے بھی پانی کے مقامات پر حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔ جھیلوں اور دریاؤں کی خوبصورتی اپنی جگہ، لیکن ان مقامات پر معمولی غفلت بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے ۔ کشتیوں کی فٹنس، مسافروں کی تعداد، لائف جیکٹس کی دستیابی اور موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھنا بنیادی شرائط ہیں۔ اگر ان اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے تو کئی حادثات سے بچا جا سکتا ہے ۔اسی طرح پہاڑی سڑکوں پر ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ انسانی غلطیاں بھی ہیں۔ خطرناک راستوں پر اوور اسپیڈنگ، دورانِ سفر موبائل فون کا استعمال، نیند کی کمی، گاڑی کی مناسب دیکھ بھال نہ کرنا اور مقامی راستوں سے ناواقفیت حادثات کے امکانات بڑھا دیتی ہے ۔ خاص طور پر طویل سفر کے دوران ڈرائیور کا آرام کرنا اور مسلسل توجہ برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے ۔
ریاستی اداروں کو بھی اس حوالے سے اپنی ذمہ داری مزید مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوگی۔ سیاحتی علاقوں میں صرف سڑکیں اور ہوٹل تعمیر کرنا کافی نہیں، بلکہ مکمل حفاظتی نظام قائم کرنا بھی ضروری ہے ۔ خطرناک مقامات کی نشاندہی، وہاں حفاظتی رکاوٹوں کی تعمیر، جدید ریسکیو آلات کی فراہمی، مقامی رضاکاروں کی تربیت اور ہنگامی رابطوں کے نظام کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔مقامی آبادی بھی محفوظ سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے ۔ پہاڑی علاقوں کے رہنے والے افراد اپنے علاقے کے راستوں، موسم اور خطرات سے بہتر واقف ہوتے ہیں۔ اگر سیاح مقامی افراد کی ہدایات کو اہمیت دیں اور مقامی انتظامیہ کے مشوروں پر عمل کریں تو کئی خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح مقامی افراد کو بھی سیاحوں کی رہنمائی اور حفاظت کے حوالے سے تربیت دینا فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں سیاحت کو صرف آمدنی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ذمہ دار شعبے کے طور پر دیکھا جائے ۔ دنیا کے ترقی یافتہ سیاحتی ممالک میں سیاحوں کی حفاظت کو بنیادی ترجیح حاصل ہوتی ہے ۔ وہاں سفر سے قبل معلومات، خطرناک مقامات کے بارے میں آگاہی، موسم کی پیش گوئی اور ہنگامی امداد کے نظام کو مضبوط بنایا جاتا ہے ۔ پاکستان میں بھی ایسے جامع منصوبے کی ضرورت ہے جس میں وفاقی اور صوبائی ادارے ، سیاحتی محکمے ، مقامی انتظامیہ اور نجی شعبہ مل کر کام کریں۔
پاکستان کے شمالی علاقوں میں سیاحت کا بڑھتا ہوا رجحان جہاں ملک کی معیشت، مقامی روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے لیے خوش آئند ہے ، وہیں اس کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرنا ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے ۔ ہر سال موسم گرما کی تعطیلات میں لاکھوں افراد قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں، لیکن اکثر سیاح سفر سے پہلے ضروری معلومات، موسمی صورتحال، راستوں کی حالت اور حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہی غفلت بعض اوقات ایسے حادثات کو جنم دیتی ہے جن کے اثرات صرف چند افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان اور معاشرے کو طویل عرصے تک متاثر کرتے ہیں۔پاکستان کے پہاڑی علاقے جغرافیائی اعتبار سے انتہائی حساس ہیں۔ یہاں سڑکیں اکثر بلند پہاڑوں کے درمیان تعمیر کی گئی ہیں جہاں ایک طرف بلند چٹانیں اور دوسری طرف گہری کھائیاں ہوتی ہیں۔ بارشوں کے موسم میں مٹی کے تودے گرنے ، سڑکیں بند ہونے اور پتھروں کے اچانک گرنے کے واقعات عام ہیں۔ بعض مقامات پر سڑکیں انتہائی تنگ ہیں جہاں معمولی غلطی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے ۔ خاص طور پر وہ سیاح جو پہلی مرتبہ پہاڑی علاقوں کا سفر کرتے ہیں، انہیں ان خطرات کا مکمل اندازہ نہیں ہوتا۔خوبصورت مناظر کی تصاویر بنانے ، ویڈیوز ریکارڈ کرنے یا سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے شوق میں بعض افراد خطرناک مقامات تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ایک معمولی پھسلن بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے ۔ کئی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ لوگ حفاظتی رکاوٹوں کو عبور کر کے دریا کے کناروں، بلند چٹانوں یا خطرناک مقامات پر کھڑے ہو جاتے ہیں، جو کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتا ہے ۔
سیاحت صرف تفریح کا نام نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے ۔ دنیا بھر میں کامیاب سیاحتی ممالک نے محفوظ سفر کو اپنی ترجیح بنایا ہے ۔ وہاں سیاحوں کو نہ صرف خوبصورت مقامات دکھائے جاتے ہیں بلکہ انہیں ممکنہ خطرات سے بھی آگاہ کیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں بھی اگر سیاحت کو ایک مضبوط صنعت بنانا ہے تو محفوظ سیاحت کے اصولوں کو فروغ دینا ہوگا۔شمالی علاقوں کی خوبصورتی بلاشبہ پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہے ۔ یہ علاقے نہ صرف قدرتی حسن رکھتے ہیں بلکہ مقامی ثقافت، روایات اور مہمان نوازی کے حوالے سے بھی منفرد مقام رکھتے ہیں۔ تاہم ان علاقوں کا احترام اسی وقت ممکن ہے جب ہم وہاں کے قدرتی ماحول اور حفاظتی اصولوں کو اہمیت دیں۔ ایک ذمہ دار سیاح نہ صرف اپنی زندگی محفوظ رکھتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی مثال قائم کرتا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، سیاحتی ادارے ، مقامی انتظامیہ، ٹرانسپورٹ شعبہ اور خود عوام مل کر ایسا ماحول پیدا کریں جہاں لوگ بلاخوف قدرتی حسن سے لطف اندوز ہو سکیں۔ تفریح زندگی کا خوبصورت حصہ ہے ، مگر چند لمحوں کی لاپرواہی پوری زندگی کا دکھ بن سکتی ہے ۔ احتیاط، شعور اور ذمہ داری ہی وہ راستہ ہے جو خوبصورت سفر کو یادگار بنا سکتا ہے ، حادثہ نہیں۔
٭٭٭
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عبدالعلیم خان مرحوم کی حادثاتی وفات پر ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات حیدرآباد کے تاثرات
روزنامہ جرأت نے محکمہ اطلاعات کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالعلیم خان مرحوم کے قریبی دوست ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات حیدرآباد محمد یعقوب بھٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے عبدالعلیم خان مرحوم کی حادثاتی وفات پر دلی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم مہربان، محنتی، قابل اور دیانتدار افسر تھے ۔ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ اطلاعات حیدرآباد محمد یعقوب بھٹی نے سیاحتی مقامات، خاص طور پر شمالی علاقہ جات کا سفر کرنے والے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں موسم کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیشِ نظر پیشگی حفاظتی اقدامات انتہائی ناگزیر ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ مون سون میں لینڈ سلائیڈنگ اور سردیوں میں شدید برفباری کے باعث راستے بند ہونے کا خطرہ رہتا ہے ، لہٰذا سفر پر روانگی سے قبل مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ہیلپ لائنز سے راستوں کی تازہ ترین صورتحال معلوم کرنا ہرگز نہ بھولیں۔انہوں نے گاڑی کی فٹنس کو ایک لازمی عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہاڑی اور چڑھائی والے راستوں کے لیے گاڑی کے بریکس، انجن آئل اور ٹائرز کا بہترین حالت میں ہونا زندگی اور موت کا فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے ۔ اس ضمن میں انہوں نے اپنے دیرینہ دوست اور محکمہ اطلاعات کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالعلیم خان کے سوات کے قریب پیش آنے والے المناک کار حادثے کا ذکر کرتے ہوئے گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی کے بریک فیل ہونے کے باعث پیش آنے والے اس دلخراش واقعے میں عبدالعلیم خان خالقِ حقیقی سے جا ملے ، جبکہ ان کی اہلیہ، بچے ، سالہ اور ساس شدید زخمی حالت میں تاحال زیرِ علاج ہیں۔محمد یعقوب بھٹی نے اس المناک حادثے کا حوالہ دیتے ہوئے شہریوں پر زور دیا کہ وہ سفر کے دوران گاڑی کے بریکس کو بار بار چیک کریں اور گاڑی میں اضافی ٹائر (اسٹیپنی)، ضروری ٹول کٹ اور برفانی راستوں کے لیے لوہے کی زنجیر لازمی ہمراہ رکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


